ازدواجی زندگی میں ایثار اور آخرت کی فکر
درس نمبر 194: سورة النساء، آیت نمبر 131 تا 134
- کائنات پر اللہ کی مکمل ملکیت اور قدرت
- اللہ تعالیٰ کی بے نیازی اور انسان کی محتاجی
- دنیا اور آخرت کی بیک وقت بھلائی طلب کرنا
- ازدواجی معاملات میں مفادات کی قربانی اور آخرت کا ثواب
- "ٹٹ فار ٹٹ" کے رویے سے گریز اور رواداری کی ضرورت
- خاندانی جھگڑوں کا نقصان اور اسلامی اصولوں پر چلنے کا فائدہ
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔
وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِن قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَإِن تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًا ﴿131﴾ وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا ﴿132﴾ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا ﴿133﴾مَّن كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِندَ اللَّهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا ﴿134﴾ صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
ترجمہ: اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ ہم نے تم سے پہلے اہل کتاب کو بھی اور تمہیں بھی یہی تاکید کی ہے کہ اللہ سے ڈرو اور اگر تم کفر اپناؤ گے تو (اللہ کا کیا نقصان ہے؟ کیونکہ) آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے، اور اللہ ہر ایک سے بے نیاز اور بذاتِ خود لائقِ تعریف ہے۔ ﴿131﴾۔ اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے۔ ﴿132﴾
حاشیہ: یہ جملہ کہ ”آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ ہی کا ہے“ ان آیتوں میں تین بار دہرایا گیا ہے۔ پہلی مرتبہ اس کا مقصد میاں بیوی کو یہ اطمینان دلانا ہے کہ اللہ کی رحمت کے خزانے بڑے وسیع ہیں وہ دونوں کے لئے کوئی مناسب ذریعہ پیدا کرسکتا ہے، دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کی بے نیازی بیان کرنا مقصود ہے کہ کسی کے کفر سے اس کا کوئی نقصان نہیں ہے، کیونکہ ساری کائنات اس کے تابع فرمان ہے، اسے کسی کی حاجت نہیں ہے، اور تیسری جگہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور کارسازی کا بیان ہے کہ اگر تم تقویٰ اور اطاعت کا راستہ اختیار کرو تو وہ تمہارے سارے کام بنادے گا۔
جس وقت آسمان اور زمین کے بارے میں مل کے آ جاتا ہے قرآن میں تو اس کا مطلب کائنات ہوتا ہے۔ یعنی کائنات میں جو کچھ ہے وہ اللہ کا ہے۔ تو ظاہر ہے کائنات میں بہت کچھ ہمیں نظر آتا ہے بہت کچھ ہمیں نظر نہیں آتا۔ تو جو کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے وہ بھی اللہ کا ہے اور جو کچھ ہمیں نظر نہیں آ رہا وہ بھی اللہ ہی کا ہے۔ تو ایسی صورت میں پہلی دفعہ یہ جو آیا ہے کہ میاں بیوی ان کو یہ تسلی جو دی جا رہی ہے کہ اللہ کی رحمت کے خزانے بڑے وسیع ہیں اور دونوں کے لیے کوئی اور مناسب ذریعہ پیدا کر سکتا ہے تو ظاہر ہے وہ وہی کر سکتا ہے جو سب چیزوں کا مالک ہو۔ اور پھر یہ کہ انسان بعض دفعہ اپنے آپ کو overestimate کر لیتا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں اگر نہیں مانوں گا تو شاید یہ کوئی مسئلہ ہو جائے گا تو اللہ پاک کو کسی چیز کی حاجت نہیں ہے۔ یعنی دینے کے لیے تو اللہ تیار ہے اپنے قانون کے مطابق۔ اپنی رحمت کے مطابق۔ دینے کے لیے تیار ہے۔ لیکن یہ نہیں کہ -نعوذ باللہ من ذلک- وہ مجبور ہے۔ جیسے یہود نے بنا لیا تھا نا اپنے خیال میں۔ تو مجبور نہیں ہے، مہربان ہے۔ تو اس کی مہربانی کا احساس کرنا اور پھر اس کے مطابق اس کے ساتھ محبت ہونا اور پھر اس کی رضا کے لیے سارے کام کرنا یہ اس کا تقاضا ہے۔ تو جو لوگ ایسا نہیں کرتے تو اللہ کو اس کی کوئی پروا نہیں ہے۔ جو نہیں مانتے تو اپنے لیے نقصان ہے ان کا۔ اور پھر اس کے بعد یہ جو آیا ہے کہ اللہ ہی کا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ جو بھی اللہ پاک کی بات مانے گا تو اللہ تعالیٰ کے پاس اس کے لیے بہت کچھ ہے۔ تو ظاہر ہے وہ سارے کام اللہ پاک اس کے بنا سکتا ہے۔
ترجمہ: جو شخص (صرف) دُنیا کا ثواب چاہتا ہو (اسے یاد رکھنا چاہئے کہ) اللہ کے پاس دُنیا اور آخرت دونوں کا ثواب موجود ہے۔
حاشیہ: اس آیت میں یہ عمومی ہدایت دی گئی ہے کہ ایک مسلمان کو صرف دُنیوی فائدوں ہی کی فکر میں نہیں پڑا رہنا چاہئے، بلکہ اللہ سے دُنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی مانگنی چاہئے۔ اور پچھلی آیتوں سے اس کا تعلق بظاہر یہ ہے کہ میاں بیوی کو مصالحت یا علیحدگی کا فیصلہ کرتے وقت صرف دُنیا کے فائدوں پر نظر نہیں رکھنی چاہئے، بلکہ آخرت کی بھلائی بھی پیش نظر رکھنی چاہئے۔ لہٰذا اگر مرد یا عورت اپنے کچھ دُنیوی مفادات کی قربانی دے کر دوسرے کے ساتھ اچھا سلوک کریں گے تو آخرت میں بڑے ثواب کی امید ہے۔
یہ واقعتاً اگر اس aspect کو دیکھا جائے تو بہت سارے مسائل لوگ خود اپنے حل کر لیں گے۔ کیونکہ دیکھیں جب tit for tat والا معاملہ ہوتا ہے نا تو اس میں چیزیں ٹکراتی ہیں آپس میں۔ اگلا آدمی کہتا ہے بس میں نے یہ کیا تو میرے ساتھ یہ ہونا چاہیے۔ پھر اس میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن دونوں طرف سے جب ایثار کا معاملہ ہوتا ہے تو ہمیشہ قربت پیدا ہوتی ہے، محبت پیدا ہوتی ہے۔ اور کام بنتے جاتے ہیں۔ تو اس میں یہ ہے کہ tit for tat والی بات نہیں کرنی چاہیے یہ تو الفت اور محبت کی جگہ ہے۔ اس میں تو انسان accomodate کرے۔ اور خطاؤں کی بات جو ہے وہ ٹھیک ہے وہ انسان اپنے طور پر کہہ سکتا ہے کہ مجھ میں بھی خطائیں ہیں ان میں بھی خطائیں ہیں۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ مجھ میں جس قسم کی خطائیں ہیں اسی قسم کی خطائیں ان میں ہوں۔ تو ایسی صورت میں مجھے تو اپنی خطائیں اس لیے نظر نہیں آتیں کہ وہ اس وقت ہیں نہیں جس وقت میں ان کی خطائیں دیکھ رہا ہوں۔ مثلاً ایک خطا اس میں ہے ایک خطا اس میں ہے۔ تو مجھے اگر اس کی خطا نظر آ رہی ہے لیکن دوسری خطا مجھے اپنی نظر نہیں آ رہی تو میں تنقید کروں گا۔ لیکن مجھے پتہ ہے کہ اگر اس میں خطا ہے تو مجھ میں بھی ہے۔ تو اگر میں اس سے expect کر رہا ہوں کہ وہ مجھے accomodate کر لے تو اس کو مجھے accomodate کرنا چاہیے۔ تو اس سے معاملہ کافی سدھر جاتا ہے۔
اور ایسے ہی جوڑی جو ہوتی ہے وہ کامیاب ہوتی ہے۔ یہ ایک معاشرتی اصول ہے۔ کہ جس خاندان میں ایک دوسرے کے لیے ایثار ہے اور accomodation ہے تو وہ جوڑیاں کامیاب رہتی ہیں۔ اور اگر ایسا نہیں ہے برابری کا مسئلہ ہے خشک مزاجی کا مسئلہ ہے دونوں طرف سے تو پھر مسئلے بنتے نہیں ہیں پھر تو خراب ہوتے ہیں۔ اور اگر کسی ایک طرف سے ہے تو پھر ظلم ہی ہوتا رہتا ہے۔ پھر ظلم ہی ہوتا رہتا ہے۔ تو بس اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے ایک بہت ہی اہم چیز ہے اپنی زندگی کی یعنی یہاں پر کہ جو ہم لوگ اپنی زندگی کو خوشگوار بناتے ہیں یا ناخوشگوار بناتے ہیں۔
اگر کوئی اللہ جل شانہ کی ترتیب کے مطابق چلتا ہے جیسے اس میں بتایا گیا ہے تو اس کی زندگی خوشگوار ہو جاتی ہے۔ اور اگر نہیں ہوتی تو وہاں اس کا اجر ملتا ہے۔ نقصان کسی بھی صورت میں نہیں ہوتا۔ اور اگر اس کے مطابق نہیں چلتا تو وہ زندگی بھی خراب، یہ زندگی بھی خراب ہو جاتی ہے۔ ہم نے زندگیاں دیکھی ہیں اتنی ٹینشن والی زندگیاں ہوتی ہیں بعض لوگوں کی، بیچاروں کی کہ وہ بالکل نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن والی بات ہوتی ہے۔ یعنی آدمی نہ کچھ یہ کر سکتا ہے نہ کچھ یہ کر سکتا ہے، پریشانی ٹینشن۔ اور عدالتوں تک بات چلی جاتی ہے اور اپنے پردہ اٹھ جاتا ہے۔ پردہ کیا ہے چیخ چیخ کر بولتے ہیں پڑوسی سن لیتے ہیں، رشتہ دار سنتے ہیں، ایک عجیب افراتفری والا معاملہ ہوتا ہے۔ تو اس میں انسان کی ساری چیزیں ظاہر ہو جاتی ہیں، تو یہ تباہی والی بات ہے۔
اگر ہم لوگ اس بات کو سمجھیں کہ اس میں ہمارا بھی فائدہ ہے، ان کا بھی فائدہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی ہے۔ تو پھر کیوں نہ ہم ایسی چیزوں کو اختیار کر لیں جس میں ہمارے دونوں جہانوں کا فائدہ ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔