یتیم بچیوں کے حقوق، ازدواجی زندگی میں عدل اور حسنِ سلوک کے تقاضے
درس نمبر 193: سورة النساء، آیت نمبر 127 تا 130
- عورتوں اور خاص طور پر یتیم بچیوں کے شرعی حقوق اور وراثت کی اہمیت۔
- یتیم بچیوں کے مال پر قبضے کے لیے ان سے زبردستی نکاح یا جائیداد بچانے کے لیے قرآن سے شادی جیسی جاہلانہ رسوم کی مذمت۔
- میاں بیوی کے درمیان ناچاقی اور بے رخی کی صورت میں طلاق کے بجائے باہمی صلح (Mutual Concession) اور درگزر کی ترغیب۔
- ایک سے زائد بیویوں کے درمیان ظاہری حقوق (وقت اور نفقہ) میں مکمل برابری اور عدل کی فرضیت۔
- ناگزیر حالات میں، تمام کوششوں کے باوجود نباہ نہ ہونے پر، خوش اسلوبی کے ساتھ طلاق اور علیحدگی کے احکام اور اللہ کی وسعت و رحمت پر یقین۔
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ، وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ؕ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطًا ﴿126﴾ وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ؕ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ ۙ وَمَا يُتْلَى عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ ۙ وَأَنْ تَقُومُوا لِلْيَتَامَى بِالْقِسْطِ ؕ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا ﴿127﴾ وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنۢ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَأُحْضِرَتِ الْأَنفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِن تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا ﴿128﴾وَلَن تَسْتَطِيعُوا أَن تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِن تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا ﴿129﴾وَإِن يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِّن سَعَتِهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا ﴿130﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
ترجمہ: اور (اے پیغمبر!) لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں شریعت کا حکم پوچھتے ہیں﴿127﴾
یہ، بات ہو چکی ہے کہ عورتوں کے بارے میں لوگ پوچھتے تھے۔ کیونکہ، ان کے خیال میں عورتوں کا کوئی حق نہیں ہوتا۔ تو جب یہ حقوق آ گئے تو ان کے خیال میں شاید، عارضی بات تھی۔ اور، پھر اللہ پاک نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے بتایا کہ عارضی نہیں ہے بلکہ، ایسا ہی ہوگا۔
ترجمہ: کہہ دو کہ اللہ تم کو ان کے بارے میں حکم بتاتا ہے اور اس کتاب (یعنی قرآن) کی جو آیتیں جو تم کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں، وہ بھی ان یتیم عورتوں کے بارے میں (شرعی حکم بتاتی ہیں) جن کو تم ان کا مقرر شدہ حق نہیں دیتے اور ان سے نکاح کرنا بھی چاہتے ہو﴿127﴾
حاشیہ: یہ اس ہدایت کی طرف اشارہ ہے جو سورۃ النساء کی آیت نمبر تین میں گزری ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے ان آیات کا پس منظر یہ بتایا ہے کہ بعض اوقات ایک یتیم لڑکی اپنے چچا کے بیٹے کی سرپرستی میں ہوتی تھی۔ وہ خوبصورت بھی ہوتی، اس کے باپ کا چھوڑا ہوا مال بھی اچھا خاصا ہوتا تھا۔ اس صورت میں اس کا چچا زاد بھائی یہ چاہتا تھا کہ اس کے بالغ ہونے پر خود اس سے نکاح کر لے تاکہ اس کا مال اسی کے تصرف میں رہے۔ لیکن نکاح میں، اس کو اتنا مہر نہیں دیتا تھا جتنا اس لڑکی کو دینا چاہیے۔ دوسری طرف اگر لڑکی زیادہ خوبصورت نہ ہوتی تو اس کے مال کے لالچ میں اس سے نکاح تو کر لیتا تھا، لیکن اصل میں یہ کہ اس کا مہر کم رکھتا تھا، بلکہ اس کے ساتھ ایک محبوب بیوی جیسا سلوک بھی نہیں کرتا تھا۔
یہ ظلم آج کل، بھی بعض جگہوں پر ہے کہ لوگ اپنی بچیوں کو جو رہ جاتی ہیں، ان کو باہر نہیں جانے دیتے۔ تاکہ ان کی جو جائیداد کا کچھ حصہ وہ باہر نہ چلا جائے۔ حتیٰ کہ بعض کی تو یہ بات بھی ہے کہ وہ قرآن سے ان کا نکاح کر دیتے ہیں۔ یعنی گویا کہ تقدس میں اپنا جو شر ہے اس کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی بات ہے۔ تو یہ ظلم ہے عورتوں کے اوپر اور شریعت نے دیکھو قرآن پاک نے اس کو واضح طور پر بتا دیا ہے۔ تو جو لوگ ایسا کرتے ہیں وہ اپنے اوپر ظلم کر رہے ہیں کہ ان بچاریوں کا اللہ ہے اور ان کا بدلہ اللہ پاک ان سے لیں گے۔ لہٰذا اگر ان سے نکاح یعنی اس لیے کرنا چاہتے ہیں کہ وہ واقعی ان کو بیوی کے طور پر رکھنا چاہتے ہیں تو پھر تو ٹھیک ہے، حق بھی ہے۔ لیکن اگر ایسا نہیں ہے، یا وہ ان سے نہیں چاہتی مثال کے طور پر، بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے۔ تو، ایسی صورت میں زبردستی ان کو رکھنا، کہ مال کہیں باہر نہ چلا جائے، جائیداد کہیں باہر نہ چلی جائے، یہ ان کے اوپر ظلم ہے۔ اور اگر اور کوئی لوگ نہیں جانتے تو اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے۔
ترجمہ: اور اگر کسی عورت کو اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بیزاری کا اندیشہ ہو تو ان میاں بیوی کے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ آپس کے اتفاق سے کسی قسم کی صلح کرلیں۔ ﴿128﴾
حاشیہ: بعض اوقات کسی شوہر کا اپنی بیوی سے دل نہیں ملتا، اور وہ اس سے بے رخی اختیار کر کے اسے طلاق دینا چاہتا ہے۔ اس صورت میں اگر بیوی طلاق پر راضی نہ ہو، تو اپنے بعض حقوق سے دستبردار ہو کر شوہر سے صلح کر سکتی ہے۔
یعنی یہ کہہ سکتی ہے کہ میں اپنے فلاں حق کا مطالبہ نہیں کروں گی مگر مجھے اپنے نکاح میں رہنے دو۔
حاشیہ:ایسی صورت میں شوہر کو یہ ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صلح پر آمادہ ہو جائے اور طلاق پر اصرار نہ کرے، کیونکہ مصالحت کا رویہ بہتر ہے۔ نیز اگلے جملے میں احسان کی صورت فرما کر شوہر کو اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ وہ دل نہ ملنے کے باوجود بیوی سے نباہ کرنے کی کوشش کرے۔ اور اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کے حقوق ادا کرتا رہے، تو یہ اس کے لیے دنیا اور آخرت دونوں کی بہتری کا ذریعہ ہوگا۔ اصل میں، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کہ کسی اور پر دل آ جاتا ہے۔ یا، ان کے ساتھ مشکل ہوتا ہے کیونکہ وہ خوبصورت نہیں ہوتی یا بعض دفعہ بعض عادتیں ایسی ہوتی ہیں۔ تو ایسی صورت میں خوبصورت نہ ہونا یہ تو انسان کے بس میں نہیں ہے کہ خوبصورت ہو جائے۔ وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، ظاہر ہے جیسے جس کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے، اس طریقے سے بنایا ہوتا ہے۔ تو ابتدا میں اگر کوئی شادی کرنا چاہے، اس کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ اپنی پسند کی لڑکی کے ساتھ شادی کر لے۔ جیسے بھی ہو، وہ اپنی پسند کے مطابق ہو۔ تاکہ بعد میں نباہ کر سکے۔ لیکن، اگر پہلے کسی بھی وجہ سے نکاح کر لیا، رشتہ داری کی وجہ سے کر لیا، یا خود پہلے چاہتا تھا پھر بعد میں اِس، سمجھا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ تو یہ پھر اس کے اوپر ظلم ہوگا۔ کیونکہ مرد، جو ہے نا وہ تین چار تک شادیاں کر لیتے ہیں اور ان کے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں، شریعت بھی اجازت دیتی ہے۔ اور، لوگوں میں بھی اس کو وہ نہیں سمجھا جاتا۔ لیکن عورت کی ایک شادی ہو جائے نا تو اس کے لیے پھر دوسری شادی کرنا پھر بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ مسائل ہیں۔ اگرچہ شریعت نے اس کی اجازت دی ہے کہ کوئی طلاق دے دے اور عدت گزر جائے تو پھر اس کے بعد کوئی بھی اس کے ساتھ نکاح کر سکتا ہے اپنی مرضی کے مطابق۔ لیکن، ہمارے علاقوں میں اس چونکہ اس کا رواج نہیں ہے، بیواؤں کے ساتھ اور مطلقہ عورتوں کے ساتھ شادی کا، اس وجہ سے پھر، مسائل، شروع ہو جاتے ہیں۔
تو ایسی صورت میں پھر ان کو صحیح بیوی کی طرح ان کے ساتھ سلوک کرنا چاہیے کیونکہ وہ اللہ پاک کی بندی ہے۔ اور تکبر کی وجہ سے یا کسی ایسی وجہ سے جس میں اس کی اپنی غلطی نہ ہو، تو اس کے ساتھ برا سلوک نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں اس سے بچائے۔
ترجمہ: اور صلح کر لینا بہتر ہے، اور انسان کے دل میں (کچھ نہ کچھ) لالچ کا مادہ تو رکھ، ہی دیا گیا ہے﴿128﴾
یعنی مطلب بظاہر یہ ہے کہ:
حاشیہ: انسان کی طبیعت میں دنیاوی فائدوں کا کچھ نہ کچھ لالچ ہوتا ہے۔ اس لیے اگر عورت اپنے کچھ دنیاوی مفادات چھوڑ رہی ہے، تو شوہر کو یہ سوچنا چاہیے کہ اسے طلاق کی صورت میں کچھ تکلیف پیش آنے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے وہ اپنے مفادات چھوڑنے پر آمادہ ہوئی ہے۔ ایسی صورت میں صلح کر لینا بہتر ہے۔
دوسری طرف بیوی کو یہ سوچنا چاہیے کہ شوہر نے کچھ دنیاوی فائدوں کے لیے نکاح کیا تھا۔ جو اس کو میری زوجیت میں حاصل نہیں ہو رہے ہیں۔ لہٰذا وہ میری جگہ کسی اور سے نکاح کر وہ فائدے حاصل کرنا چاہتا ہے۔ اب اگر میں اپنے بعض حقوق سے دستبردار ہو کر ایسے کچھ دوسرے فوائد مہیا کر دوں، تو اس ارادے سے باز آ سکتا ہے۔
یعنی Mutual concession
ترجمہ: اور عورتوں کے درمیان مکمل برابری رکھنا تو تمہارے بس میں نہیں، چاہے تو، تم ایسا چاہتے بھی ہو﴿129﴾
حاشیہ: یعنی یہ بات انسان کے اختیار سے باہر ہے کہ وہ قلبی محبت اور لگاؤ میں، بیویوں کے درمیان پوری پوری برابری کرے۔ کیونکہ دل کا جھکاؤ انسان کے بس میں نہیں ہوتا۔ لہٰذا اگر ایک بیوی سے دلی محبت دوسری کے مقابلے میں زیادہ ہو، تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے پکڑ نہیں ہے۔ البتہ عملی سلوک میں برابری کرنا ضروری ہے۔ یعنی جتنی راتیں ایک کے، پاس گزارے اتنی دوسری کے پاس گزارے۔ جتنا خرچہ ایک کو دے، اتنا ہی دوسری کو دے۔ نیز ظاہری توجہ میں بھی ایسا نہ کرے جس سے کسی بیوی کے دل شکنی ہو، اور یہ محسوس کرنے لگے کہ وہ بیچ میں لٹکی ہوئی ہے۔
ترجمہ: البتہ، کسی ایک کی طرف پورے کے پورے نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ایسا بنا کر چھوڑو جیسے کوئی بیچ میں لٹکی ہوئی چیز ہو۔ اور اگر تم اصلاح اور تقویٰ سے کام لو گے تو، یقین رکھو کہ اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔﴿129﴾ اور اگر، دونوں جدا ہو ہی جائیں، تو اللہ اپنی (قدرت اور رحمت کی) وسعت سے دونوں کو (ایک دوسرے کی حاجت سے) بے نیاز کر دے گا﴿130﴾
حاشیہ: مصالحت کی تمام کوششوں کے باوجود ایک، مرحلہ ایسا بھی آ سکتا ہے کہ اس کے بعد نکاح کا رشتہ میاں بیوی، پر تھوپے رکھنا دونوں کی زندگی کو اجیرن بنا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں طلاق اور علیحدگی کا راستہ اختیار کرنا بھی جائز ہے۔ اور یہ آیت اطمینان دلا رہی ہے کہ جب خوش اسلوبی سے جدائی کا عمل میں آ جائے، تو اللہ تعالیٰ دونوں کے لیے ایسے راستے پیدا کر لیتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضرورت سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔
ترجمہ: اللہ بڑی وسعتوں والا بڑی حکمت والا ہے﴿130﴾
اللہ تعالیٰ ہم سب کو شریعتِ حقہ پر پورے کا پورا عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور یہ جو مشکل مسئلے ہیں، یہ میراث اور طلاق اور نکاح کے مسائل، اس میں تو بہت زیادہ خصوصی طور پر احتیاط چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں کسی پر بھی ظلم کرنے سے بچائے۔ کیونکہ وہ اپنے اوپر ہی ظلم ہوتا ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ۔