اسلام میں خواتین کے حقوق اور ان کے معاشرتی تحفظ کا نظام

درس نمبر 192: سورة النساء، آیت نمبر 121 تا 126

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • شیطان کا فریب اور اللہ کا سچا وعدہ
  • نجات کا انحصار تمناؤں پر نہیں بلکہ اعمال پر
  • حضرت ابراہیم علیہ السلام کی پیروی اور ان کا مقام
  • اسلام میں عورتوں کے حقوق کی ابدیت
  • نام نہاد آزادی بمقابلہ اسلامی تعلیمات
  • خواتین کا تحفظ اور محرم کی اہمیت

الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ۔ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ۔

أُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا۔ وَعْدَ اللهِ حَقًّا۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا۔ لَّيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ۔ مَن يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِن دُونِ اللهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا۔ وَمَن يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِن ذَكَرٍ أَوْ أُنثٰى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا۔ وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِّمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلّٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا۔ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا۔ صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

یہ گزشتہ سے جو بات چلی آ رہی ہے، یہ،

ترجمہ: جو شخص اللہ کی بجائے شیطان کو دوست بنائے، اس نے کھلے کھلے خسارے کا سودا کیا۔ وہ ان سے وعدے کرتا ہے، انہیں آرزوؤں میں مبتلا کرتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ شیطان ان سے جو بھی وعدے کرتا ہے وہ دھوکے کے سوا کچھ نہیں۔

تو کل اس پر بات ہوئی تھی کہ یہ شیطان نے تو اس کی قسم کھائی ہے کہ میں اس طرح کروں گا۔ اور اللہ پاک نے بھی پھر اس کو بتا دیا ہے کہ جو تیری بات مانیں گے تو تجھ سے اور تیرے جاننے، متبعین سے جہنم کو بھر دوں گا۔ تو فرمایا:

ترجمہ: ان سب کا ٹھکانہ جہنم ہے، اور ان کو اس سے بچنے کے لیے کوئی راہِ فرار نہیں ملے گی۔ اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم ان کو ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے۔ اور اللہ سے زیادہ بات کا سچا کون ہو سکتا ہے؟

تو یہاں وہ بات آ گئی کہ وہ شیطان جو کہتا ہے، قرآن پاک میں جو منظر کشی ہے، جس میں شیطان کہتا ہے کہ میں نے تم سے جھوٹا وعدہ کیا تھا اور اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا۔ تم لوگوں نے میرے جھوٹے وعدے پہ یقین کر لیا اور اللہ کے سچے وعدے کو بھلا دیا، تو اب میں بھی بھگت رہا ہوں تم بھی بھگتو۔ نہ میں تم سے کچھ کم کر سکتا ہوں، نہ تم مجھ سے کچھ کم کر سکتے ہو۔ تو یہ دیکھیں نا یہاں پر اللہ پاک نے سچا وعدہ کیا ہوا ہے جنت کے بارے میں، اور اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے، مطلب یہ جو قرآن پاک میں، کہ اللہ جل شانہ اگر جہنم کا ذکر کرتے ہیں تو ساتھ جنت کا بھی کرتے ہیں۔ اچھے لوگوں کا کرتے ہیں تو ساتھ بروں کا بھی کرتے ہیں، بروں کا کرتے ہیں تو ساتھ اچھوں کا کرتے ہیں۔ تو ابھی بروں کا ذکر ہو گیا، تو اس کے بعد سچوں کا ذکر آ گیا۔

ترجمہ: اور جو لوگ ایمان لائے ہیں، انہوں نے نیک عمل کیے ہیں، ہم ان کو ایسے باغات میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، یہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے، اور اللہ سے زیادہ بات کا سچا کون ہو سکتا ہے۔ نہ تمہاری تمنائیں جنت میں جانے کے لیے کافی ہیں، نہ اہل کتاب کی آرزوئیں۔ جو بھی برا عمل کرے گا، اس کی سزا پائے گا اور اللہ کے سوا اپنا کوئی یار و مددگار نہیں ملے گا۔ اور جو شخص نیک کام کرے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ وہ مومن ہو، تو ایسے لوگ جنت میں داخل ہوں گے، اور کھجور کی گٹھلی کے شگاف کے برابر بھی ان پر ظلم نہیں ہوگا۔

اب یہ دیکھیں نا، یہ اللہ جل شانہ نے جو یعنی فیصلہ کیا ہے، اور شیطان نے جو ارادہ کیا ہے، وہ بالکل کھلی کھلی بات ہے۔ شیطان نے کہا کہ میں ان کے راستے میں بیٹھ جاؤں گا، آگے سے آؤں گا، پیچھے سے آؤں گا، دائیں سے آؤں گا، بائیں سے آؤں گا، ان کو تجھ تک نہیں پہنچنے دوں گا۔ ہاں مگر وہ تیرے بعض چنے ہوئے لوگ جو مخلص ہیں، ان کے اوپر میرا داؤ نہیں چلے گا۔ اللہ پاک نے فرمایا، جو میرے ہیں ان کو تو گمراہ نہیں کر سکتا۔ اور جو تیری بات مانیں گے، تو تجھ سے اور تیرے متبعین سے جہنم کو بھر دوں گا۔ اور ساتھ یہ فرمایا۔ فَالْحَقُّ، جیسے وہ کہتے ہیں done ہو گئی، مطلب بس ہو گئی بات۔ تو فرمایا کہ اچھا ٹھیک ہے، بات ہو گئی۔ تو اللہ پاک نے پھر اپنا فیصلہ سنا دیا۔ فَالْحَقُّ وَالْحَقَّ أَقُولُ، تو بہرحال یہ یہ اسی طرح بات ہے کہ جو انسان مطلب شیطان کی مانے گا تو شیطان کے راستے پہ جائے گا، جو اللہ کی بات مانے گا تو اللہ اس کو پسندیدہ جگہ جنت میں لائے گا۔ تو یہ باتیں ایسی نہیں ہیں کہ ہم لوگ بس اس کو بھول جائیں۔ تو اس لیے فرمایا تمناؤں سے کام نہیں چلے گا۔ تمناؤں سے کام نہیں چلے گا۔ میں نے خواب دیکھا تھا۔ اور جی مجھے فلاں بزرگ نے کہا تھا۔ اور یہ تو اس طرح بات ہے، اور یہ تو میں نے یہ کام کیا، نہیں بھئی یہ باتیں نہیں چلیں گی، تمناؤں سے کام نہیں چلے گا، دو ٹوک باتیں ہیں۔ وہ کیسے، اللہ پاک نے یہ بھی بتا دیا، یہ بھی بتا دیا۔ اس کے بارے میں بتایا یہ کرو گے تو یہ ہوگا، اس کے بارے میں بتایا یہ کرو گے تو یہ ہوگا۔ اب اختیار ہے کون سا کرنا چاہتے ہو۔ یہ کرنا چاہتے ہو، بےشک کر لو لیکن بھگتو گے۔ اور یہ کرنا چاہتے ہو، تو انعام ملے گا۔ بس یہ بالکل صاف صاف باتیں ہو گئی ہیں۔ اب یہ جب تک یہ صاف صاف باتوں پر لوگوں کا یقین نہیں آئے گا، اس وقت تک مسئلہ بہت خطرناک ہے۔ کیونکہ کسی بھی وقت انسان اپنے آپ کو گڑھے میں گرا سکتا ہے۔ کیونکہ موت کے وقت کا تو پتہ نہیں ہے، اللہ بچائے، ہماری حفاظت فرمائے۔

ترجمہ: اور اس سے بہتر کس کا دین ہوگا جس نے اپنے چہرے سمیت سارے وجود کو اللہ کے آگے جھکا دیا ہو۔ جبکہ وہ نیکوکار بھی ہو، اور جس نے سیدھے سچے ابراہیم علیہ السلام کے دین کی پیروی کی ہو، ملت ابراہیم۔ اور یہ معلوم ہی ہے کہ اللہ نے ابراہیم کو اپنا خاص دوست بنا لیا تھا۔

ابراہیم علیہ السلام کے سامنے جتنی مشکلات تھیں، کیا آج کل کے لوگوں کے سامنے اتنی مشکلات ہیں؟ جس کا والد بھی ان کو مارنے کے درپے ہو۔ اور بادشاہ بھی۔ اور ساتھ آگے پیچھے بھی، یعنی گویا کہ ہر چیز مخالف۔ لیکن ابراہیم علیہ السلام بالکل سچا پیروکار، حنیف۔ اس میں کوئی کھوٹ نہیں۔ تو بس پھر اللہ پاک نے ابراہیم علیہ السلام کو فرمایا کہ اللہ پاک نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا دوست بنا لیا، خلیل۔ تو بس اس طرح ہمیں وہ کرنا چاہیے۔

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُّحِيطًا۔

ترجمہ: اور آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اللہ ہی کا ہے۔

جب کبھی آسمانوں اور زمینوں کے بارے میں بات آتی ہے قرآن میں، تو اس سے مراد کائنات ہوتی ہے۔ یعنی کائنات میں جو کچھ ہے، وہ اللہ ہی کا ہے۔

ترجمہ: اور اللہ نے ہر چیز کو اپنی قدرت کے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ یہ بات ہے۔

حاشیہ: اسلام سے پہلے عورتوں کو معاشرے میں کمتر مخلوق سمجھا جاتا تھا۔ ان کے معاشرتی اور معاشی حقوق نہ ہونے کے برابر تھے۔ جب اسلام نے عورتوں کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی اور عورتوں کو بھی میراث میں حصہ دار مقرر کیا، تو یہ بات عربوں کے معاشرے میں اتنی اجنبی تھی کہ بعض لوگ یہ سمجھتے تھے کہ عورتوں کو جو حقوق دیے گئے ہیں، وہ شاید عارضی نوعیت کے ہیں، اور کسی بھی وقت منسوخ ہو جائیں گے۔ جب ان کی منسوخی کا حکم نہیں آیا، تو ایسے حضرات نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، جس میں یہ واضح کر دیا گیا کہ احکام عارضی نہیں، ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے۔ اور قرآن کریم کی جو آیات پہلے نازل ہوئی ہیں، ان میں بہت سے احکام آ چکے ہیں، ان کے ساتھ مردوں اور عورتوں کے باہمی تعلقات کے بارے میں کچھ مزید احکام بھی بیان کر دیے گئے۔

ترجمہ: اور اے پیغمبر، لوگ تم سے عورتوں کے بارے میں شریعت کا حکم پوچھتے ہیں۔

تو اس کا مطلب ہے کہ اصل میں یہ بات ہے کہ اللہ پاک ہر چیز پر وہ قادر ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ یہ کر سکتا ہے، یہ نہیں کر سکتا۔ ہر چیز کر سکتا ہے، سب چیزوں کو اپنے احاطے میں لیا ہوا ہے۔ تو اس کے بارے پھر پوچھا ہے عورتوں کے بارے میں، کہ یعنی یہ عارضی احکامات ہیں یا for ever ہیں؟ تو اللہ پاک نے پھر فرمایا کہ یہ بالکل ہمیشہ کے لیے ہیں اور اس پر اس طرح عمل کرنا پڑے گا۔ تو اصل میں واقعتاً، یعنی عورتوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں نا لوگ آج کل، تو اُس وقت یہ حالت تھی کہ لوگ عورتوں کے حقوق کے بارے میں اتنے ignorent تھے کہ جب احکامات آ گئے پھر بھی سوچ رہے تھے کہ واپس ہو جائیں گے۔ مطلب گویا کہ ان کو un natural سمجھ رہے تھے۔ لیکن اللہ پاک نے فرمایا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہے، اللہ پاک نے تو جانوروں کے حقوق کا بھی فرمایا ہے۔ تو یہ ظاہر ہے عورتیں تو ماشاءاللہ ایک اہم رول play کرتی ہیں یعنی معاشرے کے اندر۔ لہٰذا یہ اس قسم کی باتیں جو ہیں، یہ آج کل کے پروپیگنڈے کے زور سے لوگ کر رہے ہیں۔

عورتوں کی آزادی، وہ سمجھتے ہیں کہ یہ عورتوں کے حقوق کی پاسداری ہے۔ حالانکہ عورتوں کی آزادی ان کے لیے خود نقصان دہ ہے۔ ان کے لیے خود نقصان دہ ہے۔ یہ ظاہر ہے احکامات جو ہوتے ہیں ہر قسم کے حالات کے مطابق دیکھتے ہیں۔ اب ایک عورت ہے، وہ اکیلے ڈرائیو کر رہی ہے۔ اب اس کو روکتے ہیں، نہیں اکیلے نہ جاؤ، محرم کے ساتھ جاؤ، تو کہتی ہیں مجھ پر ظلم ہو رہا ہے۔ پھر بعد میں جب اس کے ساتھ کچھ ہوتا ہے، تو پھر روتی ہے، پھر کہتی ہے جی وہ ایسا ہو گیا، ایسا ہو گیا، ایسا ہو گیا۔ بھئی یہ تو اللہ پاک نے نظام بنائے ہوئے ہیں، کشش تو موجود ہے۔ اب خدانخواستہ اگر آپ کی حفاظت نہیں ہے، تو باہر تو بھیڑیے پھر رہے ہیں۔ کسی وقت بھی کوئی بھی مسئلہ ہو سکتا ہے۔

وہ ایک خاتون تھی نا، تو وہ evening کلاسز میں ایڈمیشن لے رہی تھی۔ تو مجھ سے بیعت تھی تو مجھ سے پوچھا کہ میں evening کلاسز میں ایڈمیشن لوں اسلامک انٹرنیشنل یونیورسٹی میں؟ میں نے کہا بیٹی مجھ سے اگر نہ پوچھا ہوتا تو آپ کا اپنا کام ہوتا، لیکن اگر مجھ سے پوچھ لیا تو میں تمہیں اپنے ہاتھ سے ذبح تو نہیں کر سکتا۔ میں نے کہا: اس کی اجازت تو میں نہیں دے سکتا، خطرناک بات ہے۔ عام کلاسز اور ہیں، evening کلاسز اور ہیں۔ ظاہر ہے جس وقت آپ آئیں گی تو اس وقت اندھیرا ہوگا۔ وہ رو پڑی، کیونکہ ظاہر ہے اس کو بڑا شوق تھا پڑھنے کا۔ رو پڑی لیکن مانا اس نے، بات مان لی۔ ایڈمیشن نہیں لیا۔

تو چند دنوں کے بعد اس نے مجھے اپنا خواب سنایا۔ خواب اس نے سنایا کہ کوئی اس کو کہتا ہے کہ خبردار آپ مغرب کے بعد اپنے گھر سے نہ نکلیں، باہر بہت بھیڑیے اور پتا نہیں کیا کیا چیزیں پھر رہی ہیں، وہ کوئی بھی چیز آپ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ تو مجھے جب اس نے کہا، میں نے کہا دیکھو نا میں نے منع کیا تھا نا۔ تو بات تو ایسی ہے۔ کہتے ہیں، کاڼی ہرہ ورځ نہ پریوزی، یعنی پتھر ہر وقت نہیں گرتا۔ کسی وقت گرے گا تو پھر کیا کرو گے؟ تو حفاظت کا نظام پورا ہونا چاہیے۔ اور تمناؤں پہ نہیں رہنا چاہیے۔ کہ میرے پاس ideal conditions ہوں گی ہر وقت۔ لوگ موجود ہوں گے اور میں ڈرائیو کروں گی اور یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا، میری protection ہوگی۔ بھئی protection کی کیا بات ہے؟ اب تو اپنے رشتہ داروں سے بچنا بڑا مشکل ہے تو دوسروں سے بچنا کیا بات ہے، یہ تو آج کل دور ہی عجیب ہے۔ اس وقت تو محرمات (محرم رشتہ داروں) کا مسئلہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔

تو بس اس سے ہمیں وہ لینا چاہیے، تمناؤں پہ نہیں رہنا چاہیے، جو حقائق ہیں ان کو سامنے رکھنا چاہیے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔