انسانی جان کی حرمت: قتل کی شرعی اقسام، سزائیں اور جادو کے ذریعے قتل کی ہولناکی

درس نمبر 185: سورة النساء، آیت نمبر 92 تا 93

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

* قتلِ خطا (غلطی سے قتل ہونے) کی تعریف اور اس کی شرائط (کفارہ اور دیت)۔

* مختلف حالات میں مقتول کے احکامات: مسلم ریاست کا شہری، دارالحرب کا مسلمان، اور معاہدہ رکھنے والا غیر مسلم (ذمی)۔

* جان بوجھ کر کسی مسلمان کو قتل کرنے (قتلِ عمد) پر اللہ کے غضب، لعنت اور ہمیشہ کی جہنم کی وعید۔

* دورِ حاضر میں معمولی باتوں پر کسی کی جان لینے کی سخت مذمت۔

* حسد کی بناء پر جادو کے ذریعے قتل کروانے کی سنگینی اور اسے 'کرائے کے قاتل' سے مشابہہ قرار دینا۔

* گناہوں سے بچنے کے لیے علمِ دین کی اہمیت اور باطنی رذائل (حسد، غصہ وغیرہ) کی اصلاح کی ضرورت۔

الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔


وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَــئًـاۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَــئًـا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْاؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا (92) وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(93)

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔


کسی مسلمان کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کو قتل کرے، الّا یہ کہ غلطی سے ایسا ہو جائے۔ غلطی سے قتل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کسی انسان کو قتل کرنا مقصود نہیں تھا، بلکہ یا تو بے خیالی میں گولی چل گئی، یا مارنا تو کسی جانور کو تھا، مگر نشانہ خطا ہونے کی وجہ سے کوئی انسان مر گیا۔ اس کو اصطلاح میں "قتل خطا" کہتے ہیں۔ اس کا حکم آیت نے بتایا ہے کہ ایک تو قاتل پر کفارہ واجب ہوتا ہے، اور ایک دیت۔ کفارہ یہ ہے کہ ایک مسلمان غلام آزاد کیا جائے۔ اور اگر غلام میسر نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے جائیں۔ اور دیت کی مقدار احادیث میں سو اونٹ یا دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار مقرر کی گئی ہے۔

اور جو شخص کسی مسلمان کو غلطی سے قتل کر بیٹھے تو اس پر فرض ہے کہ وہ ایک مسلمان غلام آزاد کرے اور دیت (یعنی خون بہا) مقتول کے وارثوں کو پہنچائے، الّا یہ کہ وہ معاف کر دیں۔


اور اگر مقتول کسی ایسی قوم سے تعلق رکھتا ہو جو تمہاری دشمن ہے، مگر وہ خود مسلمان ہو، تو بس ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا فرض ہے، (خون بہا دینا واجب نہیں)۔

اس سے مراد وہ مسلمان ہے جو دارالحرب میں رہتا ہو۔ اگر اسے غلطی سے قتل کر دیا جائے تو صرف کفارہ واجب ہے، دیت واجب نہیں ہے۔

اور اگر مقتول ان لوگوں میں سے ہو جو (مسلمان نہیں، مگر) ان کے اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہے، تو بھی یہ فرض ہے کہ خوں بہا اس کے وارثوں تک پہنچایا جائے، اور ایک مسلمان غلام کو آزاد کیا جائے۔

مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی ایسا غیر مسلم غلطی سے قتل ہو جائے جو مسلم ریاست کا شہری بن کر امن سے رہتا ہو (جسے اصطلاح میں "ذمی" کہتے ہیں) تو اس میں بھی دیت اور کفارہ اسی طرح واجب ہیں جیسے کسی مسلمان کو قتل کرنے پر واجب ہوتے ہیں۔

ہاں، اگر کسی کے پاس غلام نہ ہو تو اس پر فرض ہے کہ دو مہینے تک مسلسل روزے رکھے۔ یہ توبہ کا طریقہ ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے۔

ہاں اگر کسی کے پاس غلام نہ ہو تو اس پر فرض ہے کہ دو مہینے تک مسلسل روزے رکھے۔ یہ توبہ کا طریقہ ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے، اور اللہ علیم و حکیم ہے ﴿92﴾ اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر غضب نازل کرے گا اور لعنت بھیجے گا، اور اللہ نے اس کے لئے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے ﴿93﴾


تو یہاں پر جو احکامات بیان ہوئے ہیں، یہ کسی کا کسی اور کو قتل کرنے کے بارے میں ہیں۔

تو اس میں دو possibilities ہو سکتی ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ مسلمان ہو، اور دوسرا یہ کہ وہ کافر ہو۔ تو مسلمان کو اگر قصداً قتل کیا جائے۔ تو اس کا تو آخر میں حکم بتا دیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہے گا اور اللہ پاک کا اس پر غضب ہوگا، لعنت ہوگی۔ لیکن اگر عمداً نہیں قتل کیا، خطا کے ساتھ قتل ہو گیا تو پھر کئی conditions آ سکتی ہیں۔ مطلب وہ ایسا ہے کہ جیسے کسی مسلمان کو مارنا نہیں چاہتا تھا لیکن گولی غلطی سے لگ گئی، یا کوئی اور، مثال کے طور پر، کوئی ایسی بات ہو گئی جس سے وہ قتل ہو گیا، لیکن اس کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔

تو اس قتلِ خطا کا پھر جو ہے، وہ یہ ہے کہ وہ توبہ کے طور پر غلام آزاد کرے گا، نہیں تو روزے رکھے گا دو مہینے تسلسل کے ساتھ۔ اور نہیں تو پھر کفارہ دے گا اور دوسرا یہ ہے کہ یہ خون بہا کی جو مقدار بتائی گئی ہے، دیں گے اس کے ورثاء کو۔

دوسری صورت میں وہ دارالحرب میں ہے۔ یعنی جن کے ساتھ لڑائی ہے۔ اس صورت میں اگر کسی سے کوئی قتل ہو جائے، دارالحرب والے مسلمان کے ساتھ، تو پھر یہ ہے کہ ایک مسلمان غلام کو آزاد کرنا فرض ہے، خون بہا اس کا نہیں دینا۔


اور دوسری صورت میں ایسا ہے کہ مقتول ایسا ہو جو مسلمان نہیں ہے، لیکن ایسا اس کے ساتھ ہے جیسے کہ ان کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے، یعنی امن ہے ان کے ساتھ۔ لڑائی نہیں ہے۔ دارالحرب میں تو لڑائی ہوتی ہے جیسے ہماری انڈیا کے ساتھ ہوتی ہے۔ تو ان کے ساتھ لڑائی ہوتی ہے، لیکن جو دارالحرب نہ ہو، ان کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو۔ مثال کے طور پر، کوئی ایسا ملک ہے، کافر ملک ہے، لیکن اس کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ ہے۔ تو وہ لڑائی تو نہیں ہے، تو ایسی صورت میں اگر کوئی ایسا شخص جو مسلمان نہیں ہے لیکن ان کے ساتھ معاہدہ ہے، تو پھر خون بہا ان کے وارثوں تک پہنچانا چاہیے اور مسلمان غلام کو بھی آزاد کرنا چاہیے۔ تو یہ مختلف صورتیں بتا دی گئیں۔ اس میں جو بھی واقعہ ہو، اس کے مطابق عمل کرنا لازم ہوگا۔


اللہ تعالیٰ ہمیں معاف فرمائے، اصل میں، میں اس بات پر زور دینا چاہتا تھا کہ آج کل کسی مسلمان کو معمولی، معمولی بات کے لیے قتل کیا جاتا ہے۔ یہ بہت خطرناک بات ہے، بہت خطرناک بات ہے۔ کیونکہ ایسا شخص جو ہے، یہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں رہتا ہے، اس پر اللہ پاک کی طرف سے لعنت ہوتی ہے۔ یہ بالکل یہ سزا تو کافر کی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کی کیا پوزیشن ہے، یعنی بہت خطرناک بات ہے۔ تو یہ، ایک تو اس بات کا بہت خیال رکھنا چاہیے کہ کسی مسلمان کے قتل سے اپنے آپ کو بہت زیادہ بچائیں۔


دوسرا قتل کا سلسلہ یہ ہے، یہ جادو وغیرہ جو لوگ کرتے ہیں۔ ان میں بھی تو لوگ مر جاتے ہیں۔ تو یہ چیز اس عام گولی وغیرہ سے قتل کرنے سے بھی زیادہ ہے، آج کل کے لحاظ سے، بہت زیادہ ہے۔ تو اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، اگر کوئی ایسی چیزوں میں مبتلا ہو جائے تو بہت خطرناک بات ہے۔ اب ایسا ہوتا ہے کہ خود تو جادو نہیں کر سکتے، وہ تو عامل نہیں ہوتا۔ لیکن کسی سے کرا دیتے ہیں۔ تو یہ کرائے کے قاتل سے کرا دینے والی بات ہے۔ تو وہ تو قتل تو انہی کی طرف سے ہوگا تو بات تو وہی ہے۔


تو یہ بہت خطرناک game ہے لیکن لوگ معمولی معمولی چیزوں کی وجہ سے، بلکہ کبھی صرف حسد کی وجہ سے وہ ایسی بری چیزوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ تو ہمیں بہت زیادہ احتیاط رکھنی چاہیے۔ اب دیکھو یہاں پر کیسے سخت احکامات ہیں ایسے لوگوں کے بارے میں۔


تو بس ایک تو یہ بات ہے کہ علم بھی نہیں ہوتا، علم ضروری ہے۔ اور دوسرا یہ ہے کہ انسان کی اصلاح نہیں ہوتی، جس کی وجہ سے وہ جو رذائل ہیں جن کی وجہ سے اس قسم کی چیزیں ہوتی ہیں، وہ رذائل موجود ہوتے ہیں، اور انسان غصے میں آکر پتا نہیں کہاں سے کہاں پہنچ جاتا ہے۔ اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔

انسانی جان کی حرمت: قتل کی شرعی اقسام، سزائیں اور جادو کے ذریعے قتل کی ہولناکی - درسِ قرآن - پہلا دور