درود شریف کی برکات، خواب میں زیارتِ نبوی ﷺ اور مجالسِ ذکر کی اہمیت

فضائل درود شریف، نعتیہ کلام، مناجاتِ مقبول اور دعا

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  •  مجالسِ ذکر اور درود شریف کے حلقوں کی اہمیت اور ان کے ذریعے اعمال کی توفیق۔
    •  نبی کریم ﷺ کی خواب میں زیارت کے مجرب اعمال اور درود شریف کے مختلف صیغے (حضرت تھانویؒ، شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ اور دیگر اکابر کے حوالے سے)۔
      •  زیارتِ نبوی ﷺ کے حوالے سے بزرگانِ دین کے واقعات، شرائط اور قلبی شوق کی اہمیت۔
        •  خوابوں کی تعبیر، شریعت کی پابندی، اور شیطانی وسوسوں سے بچاؤ کے اصول (خواب میں اگر کوئی بات خلافِ شرع محسوس ہو تو اس کی تاویل)۔
          •  مستند احادیث سے ثابت شدہ درود پاک کے صیغوں (چہل حدیثِ درود) کی فضیلت اور احتیاط کا پہلو۔
            •  نعت خوانی کا اصل مقصد، اس کا ادب اور اسے موسیقی (Music) یا گانے کی طرز پر پڑھنے سے سختی سے اجتناب کی تلقین۔
              •  صحابہ کرام (خلفائے راشدین)، اہل بیت اور امہات المومنین رضوان اللہ علیہم اجمعین کی صفات اور ان سے محبت کی اہمیت۔

                اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّيْنَ۔

                أَمَّا بَعْدُ!

                فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

                إِنَّ اللّٰهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِيِّ ۚ يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ آمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا

                اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔ اَللّٰهُمَّ بَارِكْ عَلٰى مُحَمَّدٍ وَّعَلٰى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَعَلٰى آلِ إِبْرَاهِيْمَ إِنَّكَ حَمِيْدٌ مَّجِيْدٌ۔


                معزز خواتین و حضرات! انتہائی مقبول گھڑیاں الحمد للہ شروع ہو چکی ہیں، اور جب بھی ایسا موقع آتا ہے تو اس موقع سے فائدہ اٹھانا یہ خوش نصیبوں کی بات ہوتی ہے۔ کیونکہ موقعے سب پر آتے ہیں، لیکن خوش نصیب لوگ وہ ہوتے ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ایک صاحب ہیں، ان کے بارے میں سنا ہے، ایک صاحب سے انہوں نے کہا، پتہ نہیں کتنا عرصہ وہ مکہ مکرمہ میں رہے اور حرم شریف میں نہیں گئے۔ اب اس کے بارے میں آپ کیا کہیں؟ یعنی مکہ مکرمہ میں کوئی رہے اور حرم شریف میں ایک دفعہ بھی نہ جائے، تو بس پھر، کم قسمتی ہو سکتی ہے۔ تو اسی طریقے سے یہ جیسے رمضان شریف کا مہینہ ہوتا ہے، یہ انسان پر آ جاتا ہے، سب پر آتا ہے، اور کچھ لوگوں کے لیے بہت ہی زیادہ برکات کا باعث ہوتا ہے، لیکن کچھ لوگوں پر ایسے گزر جاتا ہے جیسے کوئی چیز آئی ہی نہیں تھی۔ اس کے بارے میں ان کو خیال ہی نہیں ہوتا۔ تو اسی طریقے سے یہ قبولیت کے جو لمحات ہوتے ہیں، گھڑیاں ہوتی ہیں، یہ سب کے اوپر آتی ہیں لیکن کوئی اس سے فائدہ اٹھاتا ہے، کوئی اس سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔


                یہ جو درود شریف کی مجالس ہیں، یہ جو ہمارے اکابر نے شروع کرائی ہیں، یہ اصل میں اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ دیکھا دیکھی کچھ نہ کچھ ہو جاتا ہے۔ ماحول بہت بڑا ذریعہ ہے کسی بھی کام کا۔ تو ماحول سے انسان سیکھتا ہے، ماحول سے انسان ٹھیک ہوتا ہے، ماحول سے انسان خراب ہوتا ہے۔ تو یہ مجالس اصل میں ایک ماحول کی طرح ہوتی ہیں، کہ ان مجالس میں کوئی آتا ہے تو ان کو پھر توفیق ہو جاتی ہے۔ اگر اچھی مجلس ہو تو اس سے فائدہ ہو جاتا ہے۔ مثلاً ان مجالس سے جو درود شریف کی جو مجالس ہیں۔ الحمد للہ کئی حضرات کو ہم نے خود دیکھا کہ وہ ہزاروں مرتبہ درود شریف روزانہ پڑھنے کے قابل ہو گئے، حالانکہ اس سے پہلے شاید سو مرتبہ بھی نہیں پڑھتے ہوں گے، شاید، سو مرتبہ بھی زیادہ ہو گا، نہیں پڑھتے ہوں گے۔


                ایسے ذکر کی جو مجالس ہیں، اس سے ذکر کی توفیق ہوتی ہے۔ تجوید کی جو مجالس ہوتی ہیں، اس میں تجوید سیکھنے کی توفیق ہوتی ہے۔ علماء کی جو مجالس ہوتی ہیں اس میں علمی باتوں کو جاننے کی توفیق ہوتی ہے، اور جو سنت پہ چلنے والے حضرات ہوتے ہیں، ان کی جو صحبت ہے، ان کی مجالس جو ہوتی ہیں اس میں سنت پر چلنے کی توفیق ہو جاتی ہے۔ تو یہ سب اس کی برکات ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ جب تم جنت کی چراگاہوں میں پہنچو تو وہاں خوب چرو۔ تو پوچھا کہ جنت کی چراگاہیں کون سی ہیں؟ فرمایا: "ذکر کے حلقے"۔ اس کا مطلب ہے کہ یہ چونکہ ذکر کے جو حلقے ہوتے ہیں، تو اس میں بیٹھ کر انسان کو ذکر کی توفیق ہو جاتی ہے اور ذکر کیا ہے؟ یہ جنت کی آبادی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ جنت کی آبادی کا۔ یعنی جنت میں اگر چٹیل میدان جیسے فرمایا گیا ہے تو اس میں جو درخت ہیں اور اس میں جو پھل پھول ہیں وہ اس ذکر کے ذریعے سے لگتے ہیں۔ تو اس وجہ سے ان مجالس سے فائدہ بہت ہوتا ہے۔ اور بعض دفعہ نقل بھی اصل کے طور پہ قبول ہو جاتی ہے۔ یہ بھی ایک بات ہے۔ مثلاً ہمارے اکابر، جو حقیقت میں ان مجالس کا حق ادا کرتے تھے، تو ہم لوگ ان کی نقل کرتے ہیں، کوشش کرتے ہیں کہ ان جیسا کچھ کر لیں، تو یہ بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ہوتا ہے۔ اس پر بھی اللہ پاک کا کرم ہوتا ہے کہ اچھے لوگوں کی نقل کرنا یہ قبول ہو جاتا ہے بعض دفعہ۔ تو اس وجہ سے ہماری کوشش یہی ہے کہ ہم ان مواقع سے فائدہ اٹھائیں۔


                لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ۔


                فرماتے ہیں کہ:

                جو شخص یہ ارادہ کرے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھے، یہ درود پڑھے:

                اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كَمَا أَمَرْتَنَا أَنْ نُّصَلِّيَ عَلَيْهِ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كَمَا هُوَ أَهْلُهُ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ كَمَا تُحِبُّهُ وَتَرْضٰى۔


                جو شخص اس درود شریف کو طاق عدد کے موافق پڑھے گا وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کرے گا۔ اور اس پر اضافہ بھی کرنا چاہیے:

                اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى رُوْحِ مُحَمَّدٍ فِى الْأَرْوَاحِ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى جَسَدِ مُحَمَّدٍ فِى الْأَجْسَادِ، اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى قَبْرِ مُحَمَّدٍ فِى الْقُبُوْرِ۔


                حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہ زاد السعید میں تحریر فرماتے ہیں کہ سب سے زیادہ لذیذ تر اور شیریں تر خاصیت درود شریف کی یہ ہے کہ اس کی بدولت عشاق کو خواب میں حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم کی دولتِ زیارت میسر ہوتی ہے۔ بعض درودوں کو بالخصوص بزرگوں نے آزمایا ہے۔ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب "ترغیب اہل السعادات" میں لکھا ہے کہ شبِ جمعہ میں دو رکعت نمازِ نفل پڑھے اور ہر رکعت میں گیارہ بار آیۃ الکرسی، اور گیارہ بار قل ھو اللّٰہ اور بعد سلام سو بار یہ درود شریف پڑھے، ان شاء اللہ تعالیٰ تین جمعے نہیں گزرنے پائیں گے زیارت نصیب ہوگی۔ وہ درود شریف یہ ہے:

                اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ وَاٰلِهِ وَأَصْحَابِهِ وَسَلِّمْ۔

                مختصر درود پاک ہے۔


                دیگر شیخ موصوف نے لکھا ہے کہ جو شخص دو رکعت نماز پڑھے اور ہر رکعت میں بعد الحمد کے پچیس بار قل ھو اللّٰہ اور بعد سلام کے یہ درود شریف ہزار مرتبہ پڑھے، دولتِ زیارت نصیب ہو۔ وہ یہ ہے:

                صَلَّى اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ۔


                اور دیگر حضرت نیز شیخ موصوف نے لکھا ہے کہ سوتے وقت ستر بار اس درود کو پڑھنے سے زیارت نصیب ہو:

                اَللّٰهُمَّ صَلِّ عَلٰى سَيِّدِنَا مُحَمَّدٍ بَحْرِ أَنْوَارِكَ وَمَعْدَنِ أَسْرَارِكَ وَلِسَانِ حُجَّتِكَ وَعَرُوسِ مَمْلَكَتِكَ وَإِمَامِ حَضْرَتِكَ وَطِرَازِ مُلْكِكَ وَخَزَائِنِ رَحْمَتِكَ وَطَرِيقِ شَرِيعَتِكَ الْمُتَلَذِّذِ بِتَوْحِيدِكَ إِنْسَانِ عَيْنِ الْوُجُودِ وَالسَّبَبِ فِى كُلِّ مَوْجُودٍ عَيْنِ أَعْيَانِ خَلْقِكَ الْمُتَقَدِّمِ مِنْ نُورِ ضِيَائِكَ صَلَاةً تَدُوْمُ بِدَوَامِكَ وَتَبْقَى بِبَقَائِكَ لَا مُنْتَهَى لَهَا دُونَ عِلْمِكَ صَلَاةً تُرْضِيكَ وَتُرْضِيهِ وَتَرْضَى بِهَا عَنَّا يَا رَبَّ الْعَالَمِيْنَ۔


                دیگر اس کو بھی سوتے وقت چند بار پڑھنا زیارت کے لیے شیخ نے لکھا ہے:

                اَللّٰهُمَّ رَبَّ الْحِلِّ وَالْحَرَامِ وَرَبَّ الْبَيْتِ الْحَرَامِ وَرَبَّ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ أَبْلِغْ لِرُوْحِ سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ مِّنَّا السَّلَامَ۔

                مگر بڑی شرط اس دولت کے حصول میں قلب کا شوق سے پُر ہونا، اور ظاہری باطنی معصیتوں سے بچنا ہے۔


                اصل میں واقعتاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب میں زیارت کے لیے ہمارا کوئی عمل اس قابل نہیں ہو سکتا کہ اس کے ذریعے سے ہو جائے۔ اللہ کے فضل سے ہی ہوتا ہے۔ لہٰذا اللہ پاک کے فضل کو حاصل کرنے کے لیے جتنے ذرائع ہیں ان ذرائع کو استعمال کرنا چاہیے۔ جن میں سب سے بڑا ذریعہ جیسے ابھی فرمایا گیا وہ قلب کا شوق سے پُر ہونا، اور ظاہری باطنی معصیتوں سے بچنا ہے۔ قلب کا شوق سے پُر ہونا یہ مثبت ہے، یعنی گویا کہ انسان کو جو فائدہ پہنچانے والی چیز ہے۔ اور ظاہری باطنی معصیتوں سے بچنا جو ہے نقصان سے بچانے والی چیز ہے۔ لہٰذا ان دونوں چیزوں پر کوئی کسی کا عمل ہو تو اللہ پاک کا فضل ہو جاتا ہے۔


                ایک مدرسہ ہے بنات کا، ما شاء اللہ الحمد للہ ہمارے سلسلے میں جب داخل ہو گئے، اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی دولت نصیب فرمائی درود شریف کے پڑھنے کی اور ما شاء اللہ اللہ تعالیٰ نے نصیب فرمایا ان کو، بس اس کے بعد پھر اللہ پاک کا اتنا فضل ہو گیا کہ ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارتیں بھی الحمد للہ نصیب ہوئیں، اور عجیب عجیب ما شاء اللہ ان کے وہ ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بشارت باقاعدہ لے کے آ رہے ہیں، پوچھ رہے ہیں ان کے بارے میں، اس طرح۔ یہ ساری باتیں الحمد للہ، یہ عام انسان ہیں۔ ہماری طرح لوگ ہیں۔ کوئی ایسا نہیں ہے کہ کچھ عجیب مخلوق ہے۔ یہی ہماری طرح ہیں۔ لیکن شوق اور محبت قابلِ دید۔ نتیجتاً اللہ پاک نے ان کو یہ نعمتیں نصیب فرمائیں۔ ابھی ابھی کی بات ہے، اس وجہ سے میں کہتا ہوں یہ تو کتاب کی بات ہے نا پتہ نہیں کب کتاب لکھی گئی ہے۔ لیکن یہ تو بالکل ابھی ابھی کی بات ہے۔ تو یہ ما شاء اللہ یہ چیزیں ہوتی ہیں۔


                لیکن یہ بات جیسے ابھی آ رہا ہے، یہ ذرا ابھی سمجھنا چاہیے۔

                ہمارے حضرت شیخ المشائخ قطب الارشاد شاہ ولی اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے اپنی کتاب "نوادر" میں بہت سے مشائخِ تصوف اور ابدال کے ذریعے سے خضر علیہ السلام سے متعدد اعمال نقل کیے ہیں۔ اگرچہ محدثانہ حیثیت سے ان پر کلام ہے، لیکن یہ کوئی فقہی مسئلہ ہے نہیں جس میں دلیل اور حجت کی ضرورت ہو، مبشرات اور منامات ہیں۔ منجملہ ان کے لکھا ہے کہ ابدال میں سے ایک بزرگ نے حضرت خضر علیہ السلام سے درخواست کی کہ مجھے کوئی عمل بتائیں جو میں رات میں کیا کروں۔ انہوں نے فرمایا کہ مغرب سے عشاء تک نفلوں میں مشغول رہ کر کسی شخص سے بات نہ کر، نفلوں کی دو دو رکعت پر سلام پھیرتا رہ اور ہر رکعت میں ایک مرتبہ سورہ فاتحہ اور تین مرتبہ قل ھو اللّٰہ پڑھتا رہ۔ عشاء کے بعد بھی بغیر بات کیے اپنے گھر چلا جا، وہاں جا کر دو رکعت نفل پڑھ، ہر رکعت میں ایک دفعہ سورہ فاتحہ اور سات مرتبہ "قل ھو اللّٰہ"۔ نماز کا سلام پھیرنے کے بعد ایک سجدہ کر جس میں سات دفعہ استغفار، سات مرتبہ درود شریف اور سات مرتبہ: سُبْحَانَ اللّٰهِ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَاللّٰهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ۔ پھر سجدہ سے سر اٹھا کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا اور یہ دعا پڑھ: يَا حَىُّ يَا قَيُّوْمُ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ يَا إِلٰهَ الْأَوَّلِيْنَ وَالْآخِرِيْنَ يَا رَحْمٰنَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَرَحِيْمَهُمَا يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا رَبِّ يَا اَللّٰهُ يَا اَللّٰهُ يَا اَللّٰهُ۔ پھر اس حال میں ہاتھ اٹھائے ہوئے کھڑا ہو اور کھڑے ہو کر پھر یہی دعا پڑھ، پھر سجدہ میں جا، یہی دعا پڑھ، پھر دائیں کروٹ پر قبلہ کی طرف منہ کر کے لیٹ جا اور سونے تک درود شریف پڑھتا رہ۔ جو شخص یقین اور نیک نیتی کے ساتھ اس عمل پر مداومت کرے گا، مرنے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور خواب میں دیکھے گا۔ بعض لوگوں نے اس کا تجربہ کیا، انہوں نے دیکھا کہ وہ جنت میں گئے، وہاں انبیاء کرام اور سید الکونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی، ان سے بات کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس عمل کے بہت سے فضائل ہیں جن کو ہم نے اختصاراً چھوڑ دیا اور بھی متعدد اعمال اس نوع کے حضرت پیرانِ پیر رحمۃ اللہ علیہ سے نقل کیے ہیں۔ علامہ دمیری رحمۃ اللہ علیہ "حیاۃ الحیوان" میں لکھا ہے کہ جو شخص جمعہ کے دن، جمعہ کی نماز کے بعد باوضو ایک پرچہ پر مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ أَحْمَدُ رَسُوْلُ اللّٰهِ 35 مرتبہ لکھے، اس کو اپنے ساتھ رکھے، اللہ جل شانہ اس کو طاعت پر قوت عطا فرماتے ہیں، اس کی برکت سے مدد فرماتے ہیں اور شیاطین کے وساوس سے حفاظت فرماتے ہیں، اگرچہ اس پرچہ کو روزانہ طلوع آفتاب کے وقت درود شریف پڑھتے ہوئے غور سے دیکھتا رہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت خواب میں کثرت سے ہوا کرے۔


                اب تنبیہ بتائی جا رہی ہے۔ خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو جانا بڑی سعادت ہے لیکن دو امر قابلِ لحاظ ہیں۔ اول وہ جس کو حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے "نشر الطیب" میں تحریر فرمایا، حضرت فرماتے ہیں جاننا چاہیے کہ جس کو بیداری میں شرف نصیب نہیں ہوا، اس کے لیے بجائے اس کے، خواب میں زیارت سے مشرف ہو جانا سرمایۂ تسلی و فی نفسہ ایک نعمتِ عظمیٰ اور دولتِ کبریٰ ہے۔ اور سعادت میں اکتساب کو اصلاً دخل نہیں۔

                محض موہوب ہے۔

                ایں سعادت بزورِ بازو نیست

                تا نہ بخشد خدائے بخشندہ

                کسی نے کیا ہی اچھا کہا، "یہ سعادت قوتِ بازو سے حاصل نہیں ہوتی جب تک اللہ جل شانہ کی طرف سے عطا اور بخشش نہ ہو"۔ ہزاروں کی عمریں اس حسرت میں ختم ہو گئیں، البتہ غالب یہ ہے کہ کثرتِ درود شریف اور کمالِ اتباعِ سنت، اور غلبۂ محبت پر اس کا ترتب ہو جاتا ہے، لیکن چونکہ لازمی اور کلی نہیں، اس لیے اس کے نہ ہونے سے مغموم اور محزون نہیں ہونا چاہیے۔ کہ بعض کے لیے اسی میں حکمت اور رحمت ہوتی ہے۔ عاشق کو رضائے محبوب سے کام، خواہ وصل ہو یا ہجر ہو۔

                أُرِيْدُ وِصَالَهُ وَيُرِيْدُ هِجْرِيْ

                فَأَتْرُكُ مَا أُرِيْدُ لِمَا يُرِيْدُ

                اور اللہ ہی کے لیے خوبی ہے، اس کہنے والے کی، جس نے کہا کہ میں اس کا وصال چاہتا ہوں، اور وہ مجھ سے فراق چاہتا ہے، میں اپنی خوشی کو اس کی خوشی کے مقابلے میں چھوڑتا ہوں۔

                قال العارف شیرازی:

                فراقِ وصلش بَاشَد رضائے دوست طلب

                کہ حیف بَاشَد ازو غیر او تمنّائی

                فراقِ وصل کیا ہوتا ہے؟ محبوب کی رضا ڈھونڈ کہ محبوب سے اس کی رضا کے سوا تمنا کرنا ظلم ہے۔

                اسی سے یہ بھی سمجھیں کہ اگر زیارت ہو گئی، مگر طاعت سے رضا حاصل نہیں کی تو وہ کافی نہیں ہو گی۔ کیا خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عہدِ مبارک میں بہت سے صورتاً زائر، معناً مہجور، اور بعضے صورتاً مہجور، جیسے اویس قرنی، معناً قرب سے مسرور تھے؟ یعنی حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے پاک زمانے میں کتنے لوگ ایسے تھے کہ جن کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر وقت کی زیارت ہوتی تھی لیکن اپنے کفر و نفاق کی وجہ سے جہنمی رہے، اور اویس قرنی رضی اللہ عنہ، مشہور تابعی، اکابر صوفیاء میں ہیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسلمان ہو چکے تھے، لیکن اپنی والدہ کی خدمت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہو سکے۔ لیکن اس کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے ان کا ذکر فرمایا اور یہ بھی ارشاد فرمایا جو تم میں سے ان سے ملے وہ ان سے اپنے لیے دعا مغفرت کرائے۔

                ایک روایت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت اویس کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ کسی بات پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ اس کو ضرور پورا کرے، تم ان سے دعا مغفرت کرانا۔

                وہ تھے اویس، دور مگر ہو گئے قریب

                ابو جہل تھا قریب مگر دور ہو گیا


                دوسرا امر قابلِ تنبیہ یہ ہے کہ جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، اس نے یقیناً اور قطعاً حضور صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی زیارت کی، روایت صحیحہ سے ثابت ہے اور محقق ہے کہ شیطان کو اللہ تعالیٰ نے یہ قدرت عطا نہیں فرمائی کہ وہ خواب میں آ کر کسی طرح اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہونا ظاہر کرے۔ مثلاً یہ کہے کہ میں نبی ہوں یا خواب دیکھنے والا شیطان کو -نعوذ باللہ- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھ بیٹھے، اس طرح تو ہو نہیں سکتا۔ لیکن اس کے باوجود اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی اصلی ہیئت میں نہ دیکھے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسی ہیئت اور حلیہ میں دیکھے جو شانِ اقدس کے مناسب نہ ہو تو وہ دیکھنے والے کا قصور ہو گا۔ جیسے کسی شخص کی آنکھ پر سرخ یا سبز یا سیاہ عینک لگا دی جائے، تو جس رنگ کی عینک آنکھ پر ہوگی، اس رنگ کی سب چیزیں نظر آئیں گی۔ اس طرح بھینگے کو ایک کے دو نظر آتے ہیں۔ اگر نئے Time piece کی لمبائی میں کوئی شخص اپنا چہرہ دیکھے تو اتنا لمبا نظر آئے گا کہ حد نہیں۔ اور اس کی چوڑائی میں اپنا چہرہ دیکھے تو ایسے چوڑا نظر آئے گا کہ خود دیکھنے والے کو اپنے چہرے پر ہنسی آ جائے گی۔ اس طرح سے اگر خواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی ارشاد شریعتِ مطہرہ کے خلاف سنے، تو وہ محتاجِ تعبیر ہے۔ شریعت کے خلاف اس پر عمل کرنا جائز نہیں۔ چاہے وہ کتنے بڑے شیخ اور مقتدیٰ کا خواب ہو۔ مثلاً کوئی شخص دیکھے کہ اس کو خواب میں -نعوذ باللہ- حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی ناجائز کلام کے کرنے کی اجازت یا حکم دیا، تو وہ درحقیقت حکم نہیں بلکہ ڈانٹ ہے۔ جیسے کوئی شخص اپنی اولاد کو کسی برے کام سے روکے اور وہ مانتا ہی نہ ہو، اس کی تنبیہ کے طور پہ کہے اچھا کر، کر، کر، یعنی اس کا مزہ میں چکھاؤں گا۔ اس طرح سے کلام کے مطلب کا سمجھنا جس کو تعبیر کہا جاتا ہے یہ بھی ایک دقیق فن ہے۔


                "تعطیر الانام فی تعبیر المنام" میں لکھا ہے کہ ایک شخص نے خواب دیکھا کہ اس سے ایک فرشتہ نے کہا کہ تیری بیوی تیرے فلاں دوست کے ذریعے تجھے زہر پلانا چاہتی ہے۔ ایک صاحب نے اس کی تعبیر دی کہ وہ صحیح تھی کہ تیری بیوی اس میں فلاں سے زنا کرتی ہے۔ اس طرح اور بہت سے واقعات اس قسم کے فنِ تعبیر کی کتابوں میں لکھے ہیں۔ مظاہرِ حق میں لکھا ہے کہ امام نووی نے کہا کہ صحیح یہ ہے کہ جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا، اس نے حضرت ہی کو دیکھا، خواب کی صفت معروفہ پر دیکھا ہو، یا اس کے علاوہ اور اختلاف اور تفاوت صورتوں کے اعتبار، کمال و نقصان دیکھنے والے کی، جس نے حضرت رحمۃ اللہ کو اچھی صورت میں دیکھا بوجہ کمالِ دین کے اپنے دیکھا، اور جس نے برخلاف اس کے دیکھا، بوجہ نقصان اپنے دین کے دیکھا۔ اس طرح ایک نے بڈھا دیکھا، ایک نے جوان، اور ایک نے راضی، اور ایک نے خفا، یہ تمام مبنی ہیں اختلافِ حال دیکھنے والے کی ہیں۔ پس دیکھنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گویا کہ کسوٹی ہے، معرفت احوال دیکھنے والے کی، اور اس میں ضابطہ مفید ہے سالکوں کے لیے۔


                اس کے لیے میں ایک عرض کرنا چاہوں گا کہ بزرگوں نے فرمایا کہ شیخ جو ہوتا ہے یہ آئینہ ہوتا ہے۔ اگر کوئی خواب میں آئینہ دیکھے تو اس کا مطلب ہے شیخ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شیخ سے انسان کو اپنے بارے میں پتہ چلتا ہے کہ میں کیسے ہوں۔ وہ آئینہ ہوتا ہے۔ تو اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت سے تو سب کو دین نصیب ہوا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تو سب سے زیادہ اس مسئلے میں آگے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں جس طرح انسان دیکھے گا تو گویا کہ وہ اس کا آئینہ ہے۔ اچھی حالت میں دیکھا تو اچھی حالت ہے، اگر اچھی حالت میں نہیں دیکھا تو اپنی اچھی حالت نہیں ہے۔ یعنی آئینے کے طور پر ہو جائے گا۔


                سالکوں کے لئے کہ اس سے احوال اپنے باطن کا معلوم کر کے علاج اس کا کریں اور اسی قیاس پر بعض اربابِ تمکین نے کہا ہے کہ جو کلام آنحضرت ﷺ سے خواب میں سُنے تو اُس کو سُنّتِ قویمہ پر عرض کرے، اگر موافق ہے تو حق ہے اور اگر مخالف ہے تو بسبب خلل سامعہ اُس کی کے ہے۔ پس رؤیائے ذاتِ کریمہ اور اس چیز کا کہ دیکھی یا سُنی جاتی ہے حق ہے اور جو تفاوت اور اختلاف ہے تجھ سے ہے۔

                حضرت شیخ علی متقی نقل کرتے تھے کہ ایک فقیر نے فقرائے مغرب سے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ اُس کو شراب پینے کے لئے فرماتے ہیں، اُس نے واسطے رفع اس اشکال کے علماء سے استفسار کیا کہ حقیقتِ حال کیا ہے۔ ہر ایک عالم نے محمل اور تاویل اس کی بیان کی۔ ایک عالم تھے مدینہ میں نہایت متبعِ سُنّت ، ان کا نام شیخ محمد عرات تھا۔ جب وہ استفسار ان کی نظر سے گزرا فرمایا یوں نہیں جس طرح اُس نے سُنا ہے، آنحضرت ﷺ نے اُس کو فرمایا کہ لَا تَشْرَبِ الْخَمْرَ یعنی شراب نہ پیا کر۔ اُس نے لَا تَشْرَب کو اِشْرَب سُنا۔ حضرت شیخ (عبدالحق) نے اس مقام کو تفصیل سے لکھا ہے اور میں نے مختصراً۔


                یہ بات بالکل صحیح ہے، انسان خواب میں غلطی کر سکتا ہے، سماعت غلط ہو سکتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک تو شیطان درمیان میں خلل اندازی کر سکتا ہے، یعنی سماعت میں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے میں نہیں، سماعت میں، جاگتے میں بھی صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کو یعنی اس میں ہو گئی تھی، غلط فہمی ہو گئی تھی۔ تو یہ سماعت میں مسئلہ پڑ سکتا ہے۔ تو اس وجہ سے اگر کوئی اس طرح "لا تشرب" کو "اشرب" سمجھے تو یہ ممکن ہے۔ ایک دفعہ میں نے خواب دیکھا تو اس کی تعبیر حضرت حلیمی صاحب رحمۃ اللہ نے دی تھی اور وہ اسی قسم کی بات تھی۔ کہ میں نے تین حضرات کو دیکھا تھا، شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ، خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ، اور ایک اور صاحب تھے جو مجھے نظر نہیں آ رہے تھے، لیکن محسوس ہو رہے تھے کہ ہیں لیکن وہ مجھے نہیں پتہ کون تھے۔ تو اس میں کوئی مجھے کہتا ہے، خواب میں کہتا ہے، کہ دونوں حضرات کے بارے میں فرمایا نا، کہ یہ اہل حدیث کے امام ہیں۔ میں نے پوچھا کہ یہ دوسرا کون ہے؟ ایک تو شیخ عبدالقادر جیلانی، یہ دوسرا کون ہے؟ کہتا ہے یہ خواجہ شہاب اللہ لودی ہے، اور یہ اہل حدیث کے امام ہیں۔ اب میں جو جاگا میں نے کہا کمال ہے، اہل حدیث کے امام کہاں ہوتے ہیں، اہل حدیث تو بغیر امام کے چل رہے ہوتے ہیں، تو یہ کونسی بات ہے؟ بڑا حیران، بڑا حیران ہو گیا۔ تو میں نے حلیمی صاحب سے پوچھا۔ حلیمی صاحب نے فرمایا، یہ خواجہ شہاب الدین سہروردی ہے۔ آپ نے خواب میں غلط سنا۔ اور اہل حدیث کے امام اس لیے کہا ہے کہ یہ دونوں حنابلہ میں سے ہیں۔ شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت خواجہ شہاب الدین سہروردی رحمۃ اللہ علیہ یہ دونوں حنابلہ میں سے ہیں اور حنابلہ کو ہمارے احناف، جو متقدمین ہیں، وہ کتابوں میں "اہل حدیث" لکھتے ہیں۔ کیونکہ وہ ظاہر حدیث پہ عمل کرتے تھے نا امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ، وہ ظاہر حدیث پہ عمل کرتے تھے۔ یہ جو، یہاں اس وقت اہل حدیث ہے یہ اہل حدیث نہیں ہے، تو انگریزوں نے ان کا نام اہل حدیث رکھا ہوا ہے، ان سے Request پر۔ تو اہلِ ہوا ہیں۔ یہ اہل حدیث نہیں، اہل حدیث وہ تھے۔ یعنی حنابلہ۔ چونکہ وہ ظاہر حدیث پہ عمل کرتے تھے باقاعدہ، یعنی وہ یہ کہتے تھے کہ حدیث شریف میں بس جو بات ہے بس وہ کافی ہے۔ ہم اس میں ادھر ادھر کی باتیں کیوں کریں؟ تو وہ حضرات ان کا نقطہ نظر یہی تھا، اور اس میں وہ سچے بھی تھے اس میں یہ بات نہیں تھی کہ اپنے نفس کو دخل دیتے تھے۔ وہ اس مسئلے میں سچے تھے۔ تو فرمایا کہ ہمارے حضرات جو ہیں نا ان کو اہل حدیث لکھتے ہیں۔ لہٰذا آپ نے اس طرح بیان کیا، تو اس طرح خواب میں انسان کو غلط فہمی ہو سکتی ہے، سننے میں مسئلہ ہو سکتا ہے۔



                جیسا کہ حضرت شیخ نے فرمایا کہ لَا تَشْرَب کو اِشْرَب سُن لیا محتمل ہے لیکن جیسا اس ناکارہ نے اُوپر لکھا اگر اِشْرَبِ الخمر ہی فرمایا ہو، یعنی پی شراب تو یہ دھمکی بھی ہو سکتی ہے، جیسا کہ لہجے کے فرق سے اس قسم کی چیزوں میں فرق ہو جایا کرتا ہے۔ سہارنپور سے دہلی جانے والی لائن پر آٹھواں اسٹیشن کھتولی ہے، مجھے خوب یاد ہے کہ بچپن میں جب مَیں ابتدائی صرف و نحو پڑھتا تھا اور اسٹیشن پر گزر ہوتا تھا تو اس کے مختلف معنی بہت دیر تک دل میں گھوما کرتے تھے۔ یہ مضمون مختصر طور پر رسالہ فضائلِ حج اور شمائلِ ترمذی کے ترجمہ خصائل میں بھی گزر چکا ہے ؎

                يَارَبِّ صَلِّ وَ سَلِّمْ دَائِمًا اَبَدًا ۞ عَلٰى حَبِيْبِكَ خَيْرِ الْخَلْقِ كُلِّهِمِ

                ﴿١٠﴾ حضرت تھانوی نور اللہ مرقدہٗ نے زاد السعید میں درود و سلام کی ایک چہل حدیث تحریر فرمائی ہے اور اسی سے نشر الطیب میں بھی حوالوں کے حذف کے ساتھ نقل فرمائی ہے، اس کو اس رسالہ میں ترجمہ کے اضافہ کے ساتھ نقل کیا جاتا ہے تاکہ وہ برکت حاصل ہو جو حضرت نے تحریر فرمائی ہے۔

                زاد السعید میں حضرت نے تحریر فرمایا ہے کہ یوں تو مشائخ کرام سے صدہا صیغے اس کے منقول ہیں، دلائل الخیرات اس کا ایک نمونہ ہے مگر اس مقام پر صرف جو صیغے صلوٰۃ و سلام کے احادیثِ مرفوعہ حقیقیہ یا حکمیہ میں وارد ہیں ان میں سے چالیس صیغے مرقوم ہوتے ہیں

                حکمیہ والی بات، یعنی اس سے یعنی استدلال کیا جا سکتا ہو کہ اس کا مطلب یہی ہو گا۔ جیسے وصَلَّى اللّٰهُ عَلَى النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ۔ یہ اسی طرح نہیں موجود لیکن اس کے مختلف حصے جوڑ کر یہ سارے احادیث شریفہ سے ۔ تو یہ حکمیہ جو بات آ گئی نا، تو اس کی طرف اشارہ ہو گیا۔ ٹھیک ہے نا۔ حقیقیہ اور حکمیہ۔

                ان میں سے 40 صیغے مرقوم ہوتے ہیں، جن میں سے 25 صلاۃ اور 15 سلام کے۔ گویا یہ مجموعہ درود شریف کی چہل حدیث ہے، جس کے باب میں بشارت آئی ہے کہ جو شخص امرِ دین کے متعلق 40 حدیثیں میری امت کو پہنچا دے، اس کو اللہ تعالیٰ زمرۂ علماء میں محشور فرمائیں گے۔ اور میں اس کا شفیع ہوں گا۔ درود شریف کا امرِ دین سے ہونا بوجہ اس کا مامور بہِ ہونے کے ظاہر ہے۔ تو ان احادیث شریفہ کے جمع کرنے سے مضاعف ثواب، اجرِ درود اور اجرِ تبلیغِ چہل حدیث کی توقع ہے۔

                یہ دیکھ حضرت سے، یہ بات ثابت ہو گئی۔ حضرت نے کیا فرمایا؟

                یعنی ان احادیث شریفہ کے جمع کرنے سے مضاعف ثواب، یعنی زیادہ، کئی گنا ثواب۔ اجرِ درود، اور اجرِ تبلیغِ چہل حدیث۔ یہ دونوں کے، یعنی درود پاک کا بھی اجر ملتا ہے اس میں اور جو چہل حدیث کا جو ہے وہ بھی اجر ملتا ہے۔


                ان احادیث سے قبل دو صیغے قرآن مجید سے تبرّکاً لکھے جاتے ہیں جو اپنے عمومِ لفظی سے صلوٰۃ نبویہ کو بھی شامل ہیں۔ اگر کوئی شخص ان سب صیغوں کو روزانہ پڑھ لیا کرے تو تمام فضائل و برکات جو جدا جدا ہر صیغے کے متعلق ہیں بتمامہا اُس شخص کو حاصل ہو جائیں گے۔


                تو اللہ کا شکر ہے الحمد للہ کہ ہمارا یہ معمول ہے، کہ ہم یہ چہل حدیث شریف پڑھتے ہیں۔ اور جن کا بھی معمول ہے، بڑا مبارک معمول ہے۔ کیونکہ 40، 25 صیغے صحیح احادیث، حکمیہ اور مطلب جو حقیقیہ ہیں، وہ موجود ہیں۔ اس وجہ سے اس کو پڑھنے سے اس حدیث شریف کے پڑھنے کا ثواب بھی ملے گا، اور ساتھ یہ ہے کہ آپ کو ما شاء اللہ، یہ درود پاک اس کے پڑھنے کا ثواب بھی ملے گا۔ تو دونوں طرح، ما شاء اللہ۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ مستند احادیث شریفہ ہیں۔ یعنی میں ایک دفعہ حضرت تسنیم الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ جا رہا تھا۔ تو میں نے ویسے پوچھا میں نے کہا حضرت میرا ذوق ہے کہ میں کبھی کبھی پڑھتا ہوں:

                بلغ العلی بِكَمَالِهِ كَشَفَ الدُّجٰى بِجَمَالِهِ

                حَسُنَتْ جَمِيْعُ خِصَالِهِ صَلُّوْا عَلَيْهِ وَآلِهِ

                تو یہ مجھے بڑا پسند ہے۔ فرمایا ما شاء اللہ بہت اچھا، بہت اچھا، مبارک ذوق ہے۔ لیکن اس سے بھی اچھا ذوق بتا دوں؟ میں نے کہا جی ضرور بتا دیں۔ فرمایا ایک افسر کے ساتھ آپ کا کوئی کام پڑا۔ آپ اس کے پاس گئے۔ آپ نے کام کے بارے میں کہا۔ انہوں نے فرمایا کہ اس طرح الفاظ میں، الفاظ بھی بتا دئیے۔ درخواست لکھ دو میں منظور کر لوں گا۔ اب جو الفاظ انہوں نے بتائے ہیں اس پہ تو پکا وعدہ ہے، منظور ہو جائے گی۔ آپ نے اپنے طور سے بڑے خوشنما الفاظ میں درخواست لکھی۔ لیکن وہ الفاظ نہیں تھے۔ عین ممکن ہے کہ انعام دے دے کہ آپ نے بڑی کوشش کی ہے۔ عین ممکن ہے کہہ دے کیا ان الفاظ میں کوئی کمی تھی، جو آپ نے ان الفاظ میں نہیں لکھا؟ تو پھر کیا کرو گے؟ فرمایا کہ بس جن الفاظ میں حدیث شریفہ میں درود پاک آیا ہے، ان الفاظ میں پڑھ لیا کرو۔ اس میں بڑا فائدہ ہے۔ اور واقعتاً محتاط لوگوں کا ذوق تو یہی ہے۔ کہ وہ اپنے اوپر کوئی Risk والی بات نہیں کرتے۔ کہ جس سے دوسری طرف بھی انسان جا سکتا ہو۔ تو جو پکی بات ہے، اس کو کیوں نہ حاصل کیا جائے؟ اللہ پاک ہم سب کو زیادہ سے زیادہ بہترین یعنی صحیح احادیث شریف کے مطابق درود شریف پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

                تو یہ ما شاء اللہ اس وقت کی جو محفل ہے، یہ اسی کے لیے ہے کہ اس میں ہم لوگ درود پاک پڑھتے ہیں۔ اور خواتین جو ہیں ما شاء اللہ اپنی اپنی جگہوں پہ قرآن پڑھ رہی ہیں۔ الحمد للہ تین ختم پورے ہو جاتے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے۔ مختلف، یہ بھی دیکھیں نا برکت ہے۔ ایک نظام کی برکت ہے۔ ورنہ ویسے ہی وقت گزر جاتا۔ لیکن چونکہ سب نے باقاعدہ، ان کو Allot ہو چکے ہیں۔ یہ پارہ آپ کا ہے، یہ پارہ آپ کا ہے، یہ پارہ آپ کا ہے۔ وہ جمعہ کے دن ما شاء اللہ اس سے پہلے پہلے، وہ پڑھ لیتی ہیں۔ اور اطلاع کر لیتی ہیں کہ ہم نے اتنے پڑھ لیے۔ تو ما شاء اللہ بس ان کو فائدہ ہو گیا۔ اور اس کے وسیلے سے ہم دعا بھی کر لیتے ہیں۔ اور اس طرح درود شریف بھی یہاں پڑھا جاتا ہے۔ درود شریف بھی پڑھا جاتا ہے۔ تو ما شاء اللہ یہ بھی مطلب ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ اور ساتھ ساتھ الحمد للہ کہ پھر دعا بھی کی جاتی ہے۔ تو یہ سارے اسباب ہیں۔ اور آخری مطلب ایسے وقت میں، آخری گھڑی میں، وہ جو جمعہ کی ہے، اس میں بزرگوں کے مطلب اس میں ہے کہ، فرماتے ہیں کہ اماں فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا، وہ بھی اس وقت کے بارے میں فرماتی تھیں کہ اگر یہ وقت آ جائے تو بے شک میں کسی کام میں مشغول بھی ہوں، مجھے بتا دیا جائے تاکہ میں کٹ کٹا کے اللہ کی طرف متوجہ ہو جایا کروں۔


                تو الحمد للہ اللہ کا شکر ہے الحمد للہ کہ یہ گھڑیاں آ چکی ہیں۔ تو ایک مختصر سی نعت شریف کے بعد پھر ان شاء اللہ دعا کر لیں گے۔


                نعت شریف کا بھی میں اکثر بتایا کرتا ہوں کہ یہ کوئی ایسا نہیں ہے کہ ہم اس کے ساتھ سر دھنیں۔ یا کوئی شوقیہ بات ہے۔ یہ اصل میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلق کو حاصل کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف اور وہ بھی ایسے الفاظ میں جو دل کو کھینچنے والے ہوں۔ ان الفاظ میں اگر وہ تعریف کی جائے۔ تو ما شاء اللہ اس کا اثر ہوتا ہے۔ اور اسی اثر کے ساتھ پھر جب دعا کی جائے تو ما شاء اللہ پھر بہت زیادہ فائدہ ہوتا ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو زیادہ سے زیادہ توفیق عطا فرمائے کہ ایک تو شوق کے ساتھ نعت شریف پڑھیں یا سنیں۔ اور اس کے ذریعے سے پھر سنتوں پر چلنے کی توفیق ہو جائے۔ اصل بات یہی ہے۔ کیونکہ عمل سے انسان بنتا ہے۔ تو یہ جو اعمال ہیں وہ بھی کسی حال کی وجہ سے آتے ہیں۔ اور یہ جو کیفیات ہیں یہ اشعار کے ذریعے سے تو حاصل ہوتے ہیں۔ تو اگر ہم اشعار کے ذریعے سے کیفیت حاصل کر لیں۔ اور کیفیت کے ذریعے سے عمل کر لیں تو کتنا فائدہ ہو گا؟ تو فائدہ تو ہوتا ہے۔ تو اب ان شاء اللہ مختصر نعت شریف۔



                نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے

                یہی تو بات ہے ایسی کہ جو سب کو سکھانی ہے


                صحابہ نے جو سیکھا آپ سے کر کے وہ دکھلایا

                تبھی تو مشعلِ راہ ان کی ساری زندگانی ہے


                نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



                جو پیکر تھے سراپا صدق کے، صدیق کہلائے

                جو عشق و سوز سے پُر ہے، یہی ان کی کہانی ہے


                نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



                فراست سے کہ جن کا کام ہر اک پُر تھا، تھے عمر

                تھی دور اندیشی ان کی جو وہ دشمن نے بھی مانی ہے


                نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



                حیا اور جود کے پیکر مجھے عثمان یاد آئے

                وفا کے سامنے ان کی جھکی جو حکمرانی ہے


                نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



                شجاعت علم میں آگے علی کا نام رہتا ہے

                قلم ہے ہاتھ میں دشمن پہ تلوار بھی چلانی ہے


                نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



                صحابہ اہل بیت و امہات المومنین سب کی

                محبت دل میں ہو نسبت رسول کی جس نے پانی ہے


                نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے



                یہ در وہ ہے کہ جس در کی، کی جبرائیل نے دربانی

                شبیر بن اک خدا کے، آپ کی عظمت کس نے جانی ہے


                نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے

                یہی تو بات ہے ایسی کہ جو سب کو سکھانی ہے


                نبی کی اتباع میں کامیابی دو جہاں کی ہے۔


                نعت شریف کے بارے میں ذوق کو بہتر کرنا بہت ضروری ہے۔ اور ذوق یہ ہے کہ ایک تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح اور مستند تعریف ہو، اور ایسی بات نہ ہو جو غیر مستند ہو اور اس پہ بات کوئی کر سکے۔ دوسری طرف بات یہ ہے کہ اس کو اس انداز میں پڑھا گیا ہو کہ اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کی مخالفت نہ ہوتی ہو۔ کیوں؟ آج کل بعض نعتیں لوگوں نے گانے کی طرز پر پڑھی ہیں۔ اور یقین جانیے کہ بڑے بڑے مجمعوں میں نے دیکھا ہے، سنا ہے، کسی کو خیال نہیں ہوتا کہ کیا ہم کر رہے ہیں۔ وہ گانے کی طرز پر نعتیں پڑھوائے جا رہے ہیں اور سن رہے ہیں۔ اور ذرا بھر بھی ان کے اوپر اس بات کی حقیقت نہیں کھل رہی کہ یہ کتنی بڑی جسارت ہے۔ بالکل یہ ایسی بات ہے جیسے -نعوذ باللہ من ذالک- کوئی Toilet میں قرآن پڑھ رہا ہو۔ اب قرآن تو قرآن ہے نا، لیکن Toilet میں پڑھنے کا تو ظاہر ہے مطلب بہت بڑی جسارت ہے۔ تو اس طرح نعت جیسا مقدس کام اس کو اس گندگی کے ساتھ ملانا، Music کے ساتھ یا Music کی طرح، یا گانے والے کی طرز پر، حالانکہ احادیث شریفہ موجود ہیں کہ جس نے بھی جس قوم کی مشابہت کی وہ ان میں سے اٹھایا جائے گا۔ تو ایسی چیزوں سے اپنے آپ کو بہت زیادہ بچانا چاہیے، بہت زیادہ بچانا چاہیے۔ اگر صحیح معنوں میں نعت شریف مستند طریقے سے لکھی گئی ہو، اچھے انداز میں اچھی آواز میں پڑھی گئی ہو اور ان کے اندر یہ چیزیں نہ ہوں جو اس کے اثر کو نقصان پہنچا رہی ہوں، تو ما شاء اللہ اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے، بہت فائدہ ہوتا ہے۔ بہت اعلیٰ ذوق ہے اللہ تعالیٰ ہم سب کو نصیب فرمائے۔

                اب ہم دعا کریں گے ان شاء اللہ۔

                درود شریف کی برکات، خواب میں زیارتِ نبوی ﷺ اور مجالسِ ذکر کی اہمیت - جمعہ، آخری وقت کی دعا - اشاعت اول