شہداء اور انبیاءِ کرام کی حیات اور منافقین کا طرزِ عمل

درس نمبر 148: سورۃ ال عمران، آیت نمبر 166 تا 171

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • جنگِ احد میں منافقین کا کردار، ان کی بزدلی اور جنگ سے فرار کے کھوکھلے بہانے۔
    • منافقین کے دل اور زبان کے تضاد کو اللہ تعالیٰ کا ظاہر کرنا۔
      • شہداء کی عظیم فضیلت اور اللہ کے ہاں ان کا زندہ ہونا اور رزق پانا۔
        • شہداء کے اجسام کا قبروں میں محفوظ رہنا (تازہ خون نکلنے کے مشاہدات)۔
          • اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت (مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالنا)۔
            • شہداء کی حیات کی دلیل سے انبیاءِ کرام علیہم السلام کی حیاتِ برزخی کا شاندار اور عقلی اثبات۔

              الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَىٰ خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

              وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ (166) وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا ۚۖ-وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْاؕ-قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْؕ-هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَىٕذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِۚ-یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْؕ-وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ (167) اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْاؕ-قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ(168) وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًاؕ-بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ (169) فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖۙ-وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْۙ-اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ (170) یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍۙ-وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ﮎ(171)

              صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

              اور تمہیں جو مصیبت اُس دن پہنچی جب دونوں لشکر ٹکرائے تھے، وہ اللہ کے حکم سے پہنچی، تاکہ وہ مؤمنوں کو بھی پرکھ کر دیکھ لے ﴿166﴾ اور منافقین کو بھی دیکھ لے۔ اور ان (منافقوں) سے کہا گیا تھا کہ "آؤ اللہ کے راستے میں جنگ کرو یا دفاع کرو" تو انہوں نے کہا تھا کہ: "اگر ہم دیکھتے کہ (جنگ کی طرح) جنگ ہوگی تو ہم ضرور آپ کے پیچھے چلتے۔"

              یعنی ان کا مطلب یہ تھا کہ اگر کوئی برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور اس میں شریک ہوتے، لیکن یہاں تو مسلمانوں کا دشمن سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ دشمن کی تعداد تین گنے سے بھی زیادہ ہے، لہٰذا یہ جنگ نہیں، خودکشی ہے، اس میں ہم شامل نہیں ہو سکتے۔

              اُس دن (جب وہ یہ بات کہہ رہے تھے) وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنے منہ سے وہ بات کہتے ہیں جو اُن کے دلوں میں نہیں ہوتی

              یعنی زبان سے تو یہ کہتے ہیں کہ اگر برابر کی جنگ ہوتی تو ہم ضرور شامل ہوتے، لیکن یہ صرف ایک بہانہ ہے، درحقیقت ان کے دل میں یہ ہے کہ برابر کی جنگ میں بھی مسلمانوں کا ساتھ نہیں دینا۔

              مطلب یہ محض ایک بہانہ کر رہے ہیں نہ جانے کا۔ تو ظاہر ہے اللہ پاک کو تو سب کا پتہ ہے۔

              اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے ﴿167﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے (شہید) بھائیوں کے بارے میں بیٹھے بیٹھے یہ باتیں بناتے ہیں کہ اگر وہ ہماری بات مانتے تو قتل نہ ہوتے۔ کہہ دو کہ: "اگر تم سچے ہو تو خود اپنے آپ ہی سے موت کو ٹال دینا" ﴿168﴾ اور (اے پیغمبر!) جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے ﴿169﴾ اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے، وہ اس پر مگن ہیں، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ (شہادت میں) شامل نہیں ہوئے، اُن کے بارے میں اس بات پر بھی خوشی مناتے ہیں کہ (جب وہ ان سے آ ملیں گے تو) نہ اُن پر کوئی خوف ہوگا، اور نہ وہ غمگین ہوں گے ﴿170﴾ وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر بھی خوشی مناتے ہیں اور اس بات پر بھی کہ اللہ مؤمنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ﴿171﴾


              یعنی یہاں پر وہ جو آیت ہے مشہور... وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ۚ بَلْ أَحْيَاءٌ عِندَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ۔ یعنی ان کو مردہ گمان بھی نہ کرو جو اللہ کے راستے میں شہید کیے جائیں۔ تو... بلکہ وہ اپنے رب کے ساتھ زندہ ہیں اور انہیں رزق دیا جاتا ہے۔

              تو یہ وہی والی بات ہے نا حیات والی بات۔ کہ اللہ جل شانہ شہیدوں کو یہ اعزاز دیتے ہیں کہ وہ زندہ ہوتے ہیں۔ یعنی ان کا جو ہے نا جسم اس کو مٹی نہیں کھاتی اور اور بھی بہت ساری چیزیں ہیں جیسے یہاں فرمایا کہ ان کو رزق دیا جاتا ہے۔ بارہا اس قسم کے واقعات ہوئے ہیں کہ کسی شہید کی قبر کھول دی گئی تو ان سے بالکل تازہ خون نکلا۔ اور اس طریقے سے اور بہت ساری باتیں ہیں۔

              تو اللہ جل شانہ سب چیزوں پر قادر ہیں۔ اللہ جل شانہ مشکل سے مشکل حالات میں آسانی پیدا فرمائے، آسانی کی حالت کو مشکل پیدا فرمائے، زندہ سے مردہ نکالے، مردہ سے زندہ نکالے، جو مردہ نظر آ رہے ہیں وہ زندہ ہوں، جو زندہ نظر آ رہے ہیں وہ مردہ ہوں، مطلب یہ ہے کہ وہ لاش کی طرح ہوں۔ تو مقصد یہ ہے کہ یہ اللہ پاک کی قدرت میں ہے۔

              تو جو شہیدوں کو زندہ رکھ سکتا ہے تو انبیاء کو کیسے نہیں؟ انبیاء کا درجہ تو ان سے اونچا ہے۔ صدیقوں کا، انبیاء کا درجہ تو ان سے اونچا ہے۔ تو جو لوگ کہتے ہیں کہ انبیاء زندہ نہیں ہیں اپنی قبروں میں، تو وہ اسی غلطی میں مبتلا ہیں، کہ ان کو یہ پتہ نہیں ہے کہ شہیدوں سے تو ان کا مقام اونچا ہے۔

              تو اللہ جل شانہ ہم سب کو سمجھ کی توفیق عطا فرما دے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الحمد للہ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔



              ---


              **تجزیہ اور خلاصہ:**


              **بمقام:** خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)


              **سب سے جامع اور بہترین عنوان:** شہداء اور انبیاءِ کرام کی حیات اور منافقین کا طرزِ عمل

              **متبادل عنوان:** جنگِ احد کے تناظر میں شہادت کا مقام، اللہ کی قدرت اور عقیدۂ حیاتِ انبیاء


              **اہم موضوعات:**

              * جنگِ احد میں منافقین کا کردار، ان کی بزدلی اور جنگ سے فرار کے کھوکھلے بہانے۔

              * منافقین کے دل اور زبان کے تضاد کو اللہ تعالیٰ کا ظاہر کرنا۔

              * شہداء کی عظیم فضیلت اور اللہ کے ہاں ان کا زندہ ہونا اور رزق پانا۔

              * شہداء کے اجسام کا قبروں میں محفوظ رہنا (تازہ خون نکلنے کے مشاہدات)۔

              * اللہ تعالیٰ کی کامل قدرت (مردہ سے زندہ اور زندہ سے مردہ کو نکالنا)۔

              * شہداء کی حیات کی دلیل سے انبیاءِ کرام علیہم السلام کی حیاتِ برزخی کا شاندار اور عقلی اثبات۔


              **خلاصہ:**

              اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورہ آلِ عمران کی آیات مبارکہ کی تلاوت اور تفسیر بیان فرمائی ہے۔ آپ نے جنگِ احد کے تناظر میں منافقین کے اس رویے کو واضح کیا کہ کس طرح انہوں نے ظاہری اسباب کو دیکھ کر جنگ سے فرار اختیار کیا اور جھوٹے بہانے بنائے۔ اس کے بعد حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے شہداء کے مقام و مرتبے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ شہداء اللہ کے ہاں زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے اور ان کے جسم مٹی میں محفوظ رہتے ہیں۔ آخر میں آپ نے اس عقیدے کی انتہائی خوبصورت اور منطقی تشریح فرمائی کہ جب اللہ تعالیٰ کی قدرت سے شہداء قبروں میں زندہ رہ سکتے ہیں، تو انبیاءِ کرام اور صدیقین، جن کا درجہ شہداء سے کہیں بلند ہے، وہ بھی یقیناً اپنی قبروں میں حیات ہیں، اور اس حوالے سے شکوک و شبہات میں مبتلا ہونا فہم کی کمی ہے۔

              شہداء اور انبیاءِ کرام کی حیات اور منافقین کا طرزِ عمل - درسِ قرآن - پہلا دور