حجِ بیت اللہ کی فرضیت و برکات اور زیارتِ روضہ اقدس ﷺ کی اہمیت

آیات: سورۃ البقرہ

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

ماہِ ذی قعدہ میں عمرہ کرنے کی سنت، فضیلت اور توہمات (منحوس سمجھنے) کا رد

حج اور عمرہ کی کثرت: فقر (غریبی) اور گناہوں کو دور کرنے کا بہترین ذریعہ

نفلی حج و عمرہ پر اعتراض کرنے والوں کو جواب اور اکابرینِ دین کا طرزِ عمل

مدینہ منورہ جانے کا اصل مقصد اور روضہ اقدس ﷺ کی زیارت کی نیت و فضیلت

خانقاہی ماحول کی افادیت، آن لائن بیانات کے نقصانات اور خواتین کے ماہانہ جوڑ کے لیے ہدایات

حج کی فرضیت، اہمیت اور اس کی بے پناہ برکات

استطاعت کے باوجود حج نہ کرنے والوں کے لیے احادیث میں سخت وعید

حج میں تاخیر کے لیے دنیوی کاموں (جیسے بچوں کی شادی) کے بہانے اور ان کی حقیقت

ایامِ حج میں رفث، فسوق اور جدال (گناہوں اور جھگڑوں) سے بچنے کی تاکید

خانہ کعبہ کی روحانیت اور مجمع کے باوجود حاجیوں کی باطنی تربیت

 


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

أَمَّا بَعْدُ.

أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِجَالًا وَّعَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ (الحج: 27).

وَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ فِي قَوْلِهِ: الْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ شَوَّالٌ وَذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ.

وَقَالَ اللهُ تَعَالٰى فِي الْحَجِّ:

وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا (آل عمران: 97).

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:

مَنْ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنَ الْحَجِّ حَاجَةٌ ظَاهِرَةٌ أَوْ سُلْطَانٌ جَائِرٌ أَوْ مَرَضٌ حَابِسٌ فَمَاتَ وَلَمْ يَحُجَّ، فَلْيَمُتْ إِنْ شَاءَ يَهُودِيًّا وَإِنْ شَاءَ نَصْرَانِيًّا.

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:

فَمَنْ حَجَّ لِلّٰهِ فَلَمْ يَرْفُثْ وَلَمْ يَفْسُقْ رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهٗ.

وَاعْتَمَرَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَرْبَعَ عُمَرٍ كُلُّهُنَّ فِي ذِي الْقَعْدَةِ إِلَّا الَّتِي كَانَتْ مَعَ حَجَّتِهٖ.

وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:

تَابِعُوْا بَيْنَ الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فَإِنَّهُمَا يَنْفِيَانِ الْفَقْرَ وَالذُّنُوْبَ.

وَمِنْ مُكَمِّلَاتِ الْحَجِّ زِيَارَةُ سَيِّدِ الْقُبُورِ لِسَيِّدِ أَهْلِ الْقُبُورِ، وَوَرَدَ فِي فَضْلِهَا السُّنَنُ إِسْنَادُ بَعْضِهَا حَسَنٌ، كَمَا قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ:

مَنْ زَارَ قَبْرِي وَجَبَتْ لَهٗ شَفَاعَتِي.

وَأَنَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَمْرٍ يُهِمُّكُمْ، وَهُوَ أَنَّ ذِي الْقَعْدَةِ الَّتِي يَلِي شَوَّالًا لَمَّا كَانَ مِنْ أَشْهُرِ الْحَجِّ وَوَقْتًا لِوُقُوعِ عُمَرِ النَّبِيِّ ﷺ فَأَيُّ شَكٍّ فِي يُمْنِهٖ وَأَيُّ كَلَامٍ؟ فَمَا أَشَدَّ شَنَاعَةَ مَنْ يَعْتَقِدُ فِيهِ شُؤْمًا كَبَعْضِ مَنْ لَا خِبْرَةَ لَهٗ بِالْأَحْكَامِ.

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

معزز خواتین و حضرات، الحمد للہ رمضان شریف کا مہینہ عافیت کے ساتھ گزرا، اللہ کا شکر ہے الحمد للہ۔ روزوں کی توفیق اللہ پاک نے نصیب فرمائی، اللہ پاک اس کی جملہ برکات ہم سب کو نصیب فرما کر اس کو قائم رکھے۔ اس کے بعد شوال شروع ہے، شوال کا مہینہ۔ شوال کے مہینہ کی ابتدا عید الفطر سے ہوتی ہے، اس کے اپنے احکام ہیں۔ اور وہ احکام الحمد للہ آخری جمعہ میں جو رمضان شریف کا تھا اس میں بیان کیے گئے تھے۔ پھر عید الفطر کے موقع پر بھی بیان ہو چکے ہیں۔ اب یہ تین مہینے ہیں، شوال کا مہینہ جو باقی ہے، ذی قعدہ ہے اور ذوالحج ہے۔ یہ تین مہینے جو کہ ہیں یہ ایام الحج ہیں۔ لہٰذا اس میں حج کے بارے میں بات کرنا بہت مناسب ہے۔

حج یہ ایک بہت بڑا عمل ہے۔ اس کی برکات بہت زیادہ ہیں۔ لیکن چونکہ یہ مشکل عمل ہے، دونوں طرح جانی اور مالی لحاظ سے۔ لہٰذا پوری عمر میں صرف ایک دفعہ فرض ہے، صاحبِ استطاعت پر۔ جو صاحبِ استطاعت ہو وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے کہ اللہ پاک نے مجھے اس کی طاقت عطا فرمائی، کہ اتنی بڑی برکت کو حاصل کر سکوں۔ تو اگر کسی کی استطاعت ہو، اور وہ حج نہ کرے، تو یہ بہت خطرناک بات ہے۔ ایمانی لحاظ سے بھی، اعمال کے لحاظ سے بھی۔ ایمانی لحاظ سے جیسا کہ ابھی حدیث شریف گزری ہے، وہ آپ سب حضرات نے سنی ہے۔ جس میں بڑی تنبیہ ہے۔ چونکہ عربی میں گزری ہے تو میں اس کا ترجمہ بیان کرتا ہوں تاکہ آپ کو پتہ چل جائے کہ اس میں کیا کہا گیا ہے۔

تو ارشاد فرمایا آپ ﷺ نے کہ "جس شخص کو حج سے کھلم کھلا ضرورت، یا ظالم بادشاہ، یا رکاوٹ کے قابلِ مرض رکاوٹ کے قابل مرض نے حج سے نہ روکا ہو، اور پھر بھی باوجود فرض ہونے کے اس نے حج نہ کیا ہو، پس خواہ وہ یہودی ہو کر مرے خواہ نصرانی۔"

تو ایمان کے لحاظ سے کتنی اہم بات ہے یہ! اس وجہ سے حج کرنے میں اگر صاحبِ استطاعت ہو تو ہرگز سستی نہیں کرنی چاہیے۔ اولین اولین چیز جو ہو سکتی ہے وہ یہی ہو۔ لیکن اس سے بہت غفلت برتی جاتی ہے۔ بعض لوگ بہت زیادہ اہمیت نہیں دیتے اور کہتے ہیں بس ٹھیک ہے کر لیں گے۔ حالانکہ زندگی کا کوئی پتہ نہیں۔ اور کچھ ایسی بھی باتیں ہیں جو کہ ذرا تھوڑی سی یعنی ہے تو ناسمجھی کی بات، لیکن رواج میں ہونے کی وجہ سے اس کی ناسمجھی محسوس نہیں کی جا رہی۔

بعض چیزیں ہوتی ہیں جو اردو گرامر کے لحاظ سے، محاورے کے لحاظ سے، روزمرہ کے بول چال کے لحاظ سے اس کو فرض کہتے ہیں۔ شرعاً فرض نہیں ہوتا۔ تو لوگ اس کو شرعاً فرض مراد لیتے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں جی، جب ہم بیٹی کی شادی سے کے فرض سے فارغ ہو جائیں گے تو پھر وہ بھئی یہ شرعاً فرض نہیں ہے، یہ الفاظ کے لحاظ سے یقیناً شادی کرنی چاہیے اس کا مطلب یہ نہیں کہ شادی نہیں کرنی۔ تو بہت اہم بات ہے۔ لیکن یہ بات ہے کہ حج کے مقابلے میں اس کو کیوں لایا جا رہا ہے؟ بھئی میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ٹھیک ہے جی میں پہلے نماز پڑھنا شروع کر لوں پھر روزے رکھوں گا، خدا کے بندے نماز بھی فرض ہے روزہ بھی فرض ہے۔ یہ کیا کونسی بات ہے؟ ایک فرض کے لیے دوسرے فرض کو چھوڑنا، یہ کونسی بات ہے؟ تو یہ تو میں نے بتایا دونوں فرض ہیں۔ تو وہ تو صرف الفاظ کے لحاظ سے فرض ہے۔

ایک صاحب تھے، وہ America میں کام کرتے تھے۔ اور ہر سال میں دو دفعہ وہ آتے تھے یعنی اپنے ملک، پھر جاتے تھے۔ تو ظاہر ہے ایسے لوگوں کے لیے تو transit میں حج ہو جاتا ہے۔ اگر اس طرح manage کر لیں ان دنوں آنا جانا، تو ادھر سے جائیں مکہ مکرمہ حج کر کے، پھر وہیں سے America چلے جائیں، ticket ایسا بنا دیں، visa لے لیں حج کا۔ اور یہ بات بڑی justification ہوتی ہے کہ بھئی میں جا رہا ہوں تو مجھے ایسا ہوتا ہے۔ تو اس صاحب سے میں نے کہا جی آپ نے حج کیا؟ کہتے ہیں نہیں۔ میں نے کہا اب ظاہر ہے جو America آ سکتا ہے، جا سکتا ہے تو اس کے تو اتنے وسائل ہوتے ہیں نا کہ وہ تو حج کر سکتا ہے۔ اور وہ ہو بھی transit میں! کہتے ہیں، اس دفعہ تو میرا program نہیں ہے۔ یہ میں بیٹی کی شادی کروں گا، اس کے بعد پھر اگلی دفعہ میں ان شاء اللہ تو کیا اب اگلے تک سال تک وہ زندہ رہیں گے؟ کون کہہ سکتا ہے؟

تو یہ ہوتا ہے مطلب ظاہر ہے کہ اس قسم کا اور یہ میں آپ کو بات بتاؤں قسمت کی بات ہوتی ہے اللہ پاک بچائے، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ مثال کے طور پر اس سال وہ ٹھیک ہے صحت کے لحاظ سے، اور استطاعت بھی ہے۔ اگلے سال وہ ایسا بیمار ہو گیا کہ بالکل جا ہی نہیں سکا۔ اور وہ بیماری ایسی ہے کہ وہ۔۔۔ اب اس کے ساتھ، اس سال کا جس سال وہ ٹھیک تھا اس نے حج نہیں کیا تو اس کا تو حساب ہو سکتا ہے نا۔ پھر اس کے لیے چاہیے کہ وہ حجِ بدل کروائے۔ اب حجِ بدل ہو تو جاتا ہے لیکن وہاں کی جملہ برکات جو ہیں، جو خود جانے سے ملتی ہیں، وہ کیسے ملیں گی؟ حج فرض تو آپ کا ادا ہو جائے گا لیکن وہ جو وہاں کی برکات ہیں وہ تو پھر وہاں جانے والے کو ملتی ہیں۔

تو یہ بات ہے کہ ان چیزوں کو اگر ہم سوچیں، تو ہمارا پہلا target اگر صاحبِ استطاعت ہو یہ ہونا چاہیے کہ ہم نے اسی سال ہی حج کرنی ہے، try کرنی ہے۔ تو اس طریقے سے، پھر وہ ٹھیک ہے پھر بعد میں قرعہ نہ نکلے نا مثال کے طور پر، یا کوئی اور visa نہ لگے تو وہ ایک عذر ہے۔ وہ ایک عذر ہے۔ لیکن یہ جو بات ہے کہ آپ نے apply ہی نہیں کیا تو یہ تو پھر خطرناک بات ہے۔

حج کے جو احوال ہیں وہ تو میں بعد میں بتاؤں گا ان شاء اللہ۔ سب سے پہلے حدیث شریف میں جو آیا ہے وہ میں عرض کرتا ہوں۔ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ "جس شخص نے خاص اللہ کے لیے حج کیا"۔ یعنی اس میں کوئی اور دنیائی وہ مقصد نہیں تھا۔ خاص اللہ کے لیے حج کیا، اور اس میں نہ فحش گوئی کی اور نہ گناہ کیا۔ یعنی رفث اور گناہ فسق سے بچا رہا۔ قرآن پاک میں ہے نا، اَلْحَجُّ أَشْهُرٌ مَّعْلُومَاتٌ ۚ فَمَنْ فَرَضَ فِيهِنَّ الْحَجَّ فَلَا رَفَثَ وَلَا فُسُوقَ وَلَا جِدَالَ فِي الْحَجِّ (البقرۃ: 197)۔ یعنی تین باتوں کی خصوصی طور پر ممانعت ہے۔ رفث، یعنی اپنے آنکھوں کی حفاظت اور فحش گوئی ان سے بچنا۔ اور گناہ، فسوق۔ اور جدال لڑائی جھگڑے سے۔

اچھا کمال کی بات یہ ہے کہ حج میں ان تینوں کا ہی بہت بڑا chance ہوتا ہے۔ ان تینوں کا بہت بڑا chance ہوتا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ کہ اب ظاہر ہے عورتوں نے بھی حج کرنا ہے، وہ تو حج تو کریں گی۔ اور طواف ایک ہی جگہ ہو رہا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ بالکل ساتھ ساتھ ہی جا رہی ہوں گی نا۔ ان کے لیے کوئی لائینیں تو نہیں بنا سکتا۔ اسی طرح ہی جائیں گی نا۔ تو ساتھ ساتھ ہی جا رہی ہوں گی۔ پھر آپ کے ساتھ ہوٹلوں میں بھی رہیں گی، آنے جانے راستوں میں بھی، راستوں میں بھی رش ہوتا ہے اچھا خاصا۔ تو گویا کہ maximum chance، interaction کا ہو جاتا ہے۔ کسی بھی بازار سے زیادہ، interaction کا chance بہت بڑھ جاتا ہے۔ تو رفث کا امکان بہت ہو جاتا ہے۔

جدال کا اس وجہ سے کہ اتنے سارے لوگ۔۔۔ ایک دفعہ Germany میں میرے ایک دوست ہیں، Alfred، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، بہت نیک آدمی ہیں، نو مسلم بھائی تھے۔ انہوں نے حج کیا تھا تو میں نے اس سے اس کا حج کا experience پوچھا، میں نے کہا آپ کا حج کا experience کیا ہے؟ تو practical لوگ ہیں۔ تو ان کے اس انداز میں بات کرتے ہیں۔ تو انگریزی میں کہا کہ،

Karlsruhe that's 0.2 million, and Makkah is also 0.2 million.

کہتے ہیں کہ Karlsruhe کی آبادی دو لاکھ کی ہے اور مکہ مکرمہ کی بھی دو لاکھ کی ہے۔ ان دنوں دو لاکھ تھی۔ اب تو زیادہ ہو گئی ہو گی۔ پھر فرمایا: اگر دو لاکھ پہ آپ بیس لاکھ بٹھا دیں نا، یہاں Karlsruhe میں، تو ایک دوسرے کو کھا جائیں گے! یہ ایک دوسرے کو کھا جائیں گے!

کیونکہ ظاہر ہے وسائل اور سب شئر ہو رہی ہیں۔ بازار میں food، دوسری چیزیں، چلنا پھرنا، گاڑیوں کا یہ ساری چیزیں مشکل ہو جاتی ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں وہاں پر مکہ مکرمہ میں، کہ آخری دنوں میں کتنی دور گاڑی park کرنی ہوتی ہے۔ بس اب بھی آگے نہیں جاتی، کہتے ہیں بس اب پیدل جاؤ۔ تو ظاہر ہے سارے مسائل سب کے لیے ہوتے ہیں، صرف حاجیوں کے لیے تو نہیں ہوتے۔ سب کے لیے مسائل ہوتے ہیں۔ تو تنگ تو ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ، وہاں لوگ manage کر لیتے ہیں۔ یہ بہت بڑا experience ہے میرا۔ وہاں لوگ manage کر لیتے ہیں۔

اور گناہ اس لیے کہ اب ظاہر ہے چیزیں لوگوں کی بکھری پڑی ہیں، اب کوئی بھی کسی کی بھی چیز اٹھا لے تو اس کو کون روک سکتا ہے، وہ تو پوری دنیا ہے اب۔ تو اگر کسی کے دل میں گڑبڑ ہو تو بہت ساری غلطیاں اس سے ہو سکتی ہیں۔ تو اس سے یہ جو چیز ہے انسان کا کہ یہ تینوں بہت زیادہ possible ہو جاتی ہیں حج میں۔ لیکن ایک بات اللہ پاک مہیا فرماتے ہیں، بچنے کے لیے۔ اور وہ خانہ کعبہ ہے۔ اور وہاں روضہ اقدس ہے۔

خانہ کعبہ کی نورانیت اور روحانیت اتنی زیادہ ہے، کہ اس کے سامنے یہ جو ظلمات ہیں، وہ سارے دور ہو سکتے ہیں۔ تو ان ظلمات کے دور ہونے کی وجہ سے، وہ جو گناہ دوسری جگہوں پہ ہو سکتے ہیں، وہاں اس کا chance بہت کم ہو جاتا ہے۔ تبھی تو Alfred صاحب نے کہا نا کہ بھئی بیس لاکھ لوگ یہاں Karlsruhe میں آ جائیں، تو Karlsruhe میں تو خانہ کعبہ نہیں ہے نا، تو یہ ایک دوسرے کو کھا جائیں گے! وہاں لوگ برداشت کس لیے کر رہے ہیں؟ خانہ کعبہ ہے۔ اس کی نورانیت ہے، روحانیت ہے۔ اور وہاں روضہ اقدس ہے۔

تو اس کا مطلب ہے کہ یعنی گویا کہ علاج کس طرح کیا گیا؟ وہی جذب اور سلوک والی بات ہے۔ جذب آیا خانہ کعبہ سے۔ اور سلوک یہ تین چیزوں کا روکنا، یہ اس کے اپنی ہمت سے اور ارادے سے اپنے آپ کو بچانا، یہ سلوک ہے۔ تو سلوک طے کرا دیا جاتا ہے نا اچھا خاصا، ان پانچ چھ دنوں میں بہت کچھ ہو جاتا ہے، اگر صحیح معنوں میں کوئی حج کرے۔ بہت زبردست تربیت ہو جاتی ہے۔

پھر حجرِ اسود کا معاملہ الگ ہے کہ حجرِ اسود کے سامنے جو جس کیفیت میں گزرا، تو اس کیفیت پہ stamp لگ جاتا ہے۔ وہ اگر اچھی حالت ہے تو اچھی حالت continue رہے گی۔ اگر بری حالت ہے تو پھر وہی continue رہے گی۔ اس لیے کہتے ہیں: بعض حاجیوں کے جو عیوب چھپے ہوئے ہوتے ہیں، حج کے بعد ظاہر ہو جاتے ہیں۔ کیونکہ وہاں خیال نہیں کرتے بچنے کے، نتیجتاً اس پہ stamp لگ جاتا ہے، یہاں آ کر کھل جاتے۔ تو یہ جو بات میں عرض کر رہا ہوں کہ، وہاں پر یہ بات ہے روحانیت تو ہے۔ پھر حجرِ اسود کی اپنی خاصیت وہ بھی ہے۔ تو اس لحاظ سے حج کے موقع پر اپنے آپ کو کنٹرول رکھنا، اور ایسی چیزوں سے بچنا، یہ تین چیزوں کا جس کا ذکر ہے، ان چیزوں سے بچنا۔

اب دیکھو نا، روزے میں بھی تو تین چیزیں ممنوع ہیں نا، اور حج میں بھی یہ تین چیزیں ممنوع ہیں اس وقت۔ یہ نہیں کہ باقی چیزیں آزاد ہیں! نہیں، یہ تین چیزوں کا تو حکم ہے، باقی چیزیں تو اس کے ساتھ خود شامل ہیں۔ تو اسی طرح روزے میں بھی جو ہے۔ تو بہرحال یہ میں عرض کرتا ہوں کہ، حج ماشاء اللہ، فرمایا: جس نے، شخص نے خاص اللہ کے لیے حج کیا، اس میں نہ فحش گوئی کی نہ گناہ کیا، تو وہ شخص اس دن کی مانند لوٹتا ہے، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنا تھا۔ یہ حدیث شریف، متفق علیہ حدیث شریف ہے۔

سبحان اللہ پاک ہو جاتا ہے، پاک ہو جاتا ہے۔ اور بہت بڑی بات ہے۔

"آپ ﷺ نے چار عمرے کیے۔ وہ سب ذی قعدہ میں تھے۔ سوائے ایک کے جو حج کے ساتھ تھا۔ یعنی ذوالحجہ کے موقع پر ہوا تھا۔ یہ بھی متفق علیہ حدیث شریف"۔ اس وجہ سے وہاں اگر کوئی جا کر، پہلی دفعہ حج پہ جائے، کوشش کر لے کہ چار عمرے بھی ساتھ کر لے۔ تاکہ سنت پوری ہو جائے۔ پھر بعد میں موقع ملتا ہے نہیں ملتا کس کو پتہ ہے۔ تو آپ ﷺ نے بھی ایک ہی حج کیا تھا۔ اور چار عمرے کیے تھے۔ تو جس شخص کو توفیق مل جائے اور حج کر لے، تو ساتھ چار عمرے بھی کر لے۔ تو ماشاء اللہ وہ ہو جائیں گے۔

یہاں پر ایک قابلِ تنبیہ بات حضرت بیان فرما رہے ہیں کہ عوام لوگ ماہِ ذی قعدہ کو منحوس سمجھتے ہیں۔ یہ بڑی سخت بات ہے۔ اس کو ہمارے پشتو میں "خالی" کہتے ہیں خالی۔ خالی میاشت۔ یعنی اس میں کچھ نہیں ہے۔ دیکھئے آپ ﷺ نے اس میں تین عمرے کیے! اس میں کتنی برکت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ ماہِ ذی قعدہ حج کے مہینوں میں سے ہے، ایامِ حج میں سے ہے، جیسے کہ حدیثِ اول میں گزر چکا۔ تو اس کے جو برکات ہیں وہ اپنے طور پر ہیں۔

اب ایک بہت بڑی بات میں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ حدیث شریف کی زبانی۔ وہ جو ہم کہتے ہیں کہ بھئی فلاں چیز اپنے طور پہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہ حج اور عمرہ کو ملا کر کرو۔ کیونکہ وہ دونوں فقر اور گناہوں کو اس طرح دور کرتے ہیں جیسے کہ بھٹی لوہے اور چاندی اور سونے کے میل کو دور کرتی ہے۔ اور حجِ مبرور یعنی مقبول حج کی جزا، یہ تو جنت کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اب ان لوگوں کی جو کہتے ہیں جی اتنا پیسہ خرچ کر لیں گے پھر کیا ہو گا؟ ان کے لیے بہت زبردست میسج ہے۔ کہ جو حج عمرہ ہے یہ فقر کو بھی دور کرتا ہے فقر کو بھی دور کرتا ہے۔ اور گناہوں کو بھی دور کرتا ہے۔ مجھے جب اللہ پاک نے حج کی توفیق عطا فرمائی، حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی معیت میں، تو مولانا فقیر محمد صاحب رحمۃ اللہ ان دنوں وہیں پر ہوتے تھے۔ تو حاجی عبد المنان صاحب نے مجھے حضرت کی خدمت میں لگا دیا تھا۔ حضرت کو میں چائے پہنچاتا تھا یہ میری duty تھی۔ تو حضرت کا یہ ذوق تھا کہ حضرت ستون کے ساتھ اس طرح بیٹھے رہتے تھے، پاؤں اس طرح کھڑے کر کے، اور اس طرح تسبیح کرتے تھے۔ تسبیح ہاتھ میں ہوتی تھی اور تسبیح کرتے جاتے تھے۔ تو میں ان کے حضرت کے پیچھے بیٹھ جاتا، کہ کیونکہ حضرت ناراض ہوتے تھے کہ ان کے اور خانہ کعبہ کے درمیان کوئی آ جائے۔ تو اس پہ حضرت ناراض ہوتے۔ تو میں حضرت کے یا side میں، یا پیچھے بیٹھ جاتا۔

تو خیر اس میں کبھی کبھی موقع بھی مل جاتا تھا بات کرنے کا پوچھنے کا، کیونکہ حضرت میں جلال بہت تھا۔ تو جب حج ہو گیا الحمد للہ، تو حج کے بعد جو حضرت سے پہلی ملاقات ہوئی حرم شریف میں، تو فرمایا: شبیر اب تو نے حج کر لیا، الحمد للہ، اب تجھے اللہ نے حج نصیب فرما دیا، اب تو غنی ہو جائے گا! اب تو غنی ہو جائے گا! یہ بات ہے، کہ حج کے ساتھ لوگ غنی ہوتے ہیں۔ پیسہ لگتا نہیں، پیسہ آتا ہے۔

یہ عام لوگوں کا خیال ہے جی بڑا حج مہنگا ہو گیا، بھئی ٹھیک ہے جی صحیح ہے، آج کل کے حالات کے مطابق ایسا ہی ہونا تھا۔ اب ticket ہی ایک لاکھ دس ہزار کے روپے کا ہو گیا تو اس کے علاوہ وہاں کی stay اور وہاں ساری چیزیں، تو اس میں تو پیسے تو لگتے ہیں۔ لیکن یہ بات ہے کہ ایک دفعہ کر لو نا، تو ماشاء اللہ عمر بھر کے لیے اللہ پاک راستے کھول دے گا۔ یہ بات ہے۔ تو یہ ان لوگوں کے لیے بات ہے۔ اور پے در پے کرنا اس کے لیے فرمایا۔ تو یہ ان لوگوں کو جواب ہے جو کہتے ہیں کہ یہ نفلی حج جو لوگ کرتے ہیں، یہ پیسے لوگوں پہ خرچ کیوں نہیں کرتے۔ آج کل یہ جو دوسرے لوگوں کے طوطے ہیں نا وہ بولنے شروع کر لیتے ہیں۔ مفت میں بولنا شروع کر لیتے ہیں۔ اور بولتے کیا ہیں؟ اوہ یہ حج تم کرتے ہو فلاں بیمار ہے اس کو دے دو۔ لیکن جو لوگ یہ باتیں کرتے ہیں، کیا وہ بیماروں کی خدمت کرتے ہیں؟ کیا وہ غریبوں کی خدمت کرتے ہیں؟ کیا وہ غریب کی بیٹی کی شادی کا بندوبست کرتے ہیں؟ جو مشورے دیتے ہیں دوسرے لوگوں کو۔ اور وہ کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں عام لوگ نہیں ہوتے۔ ان کے گھروں میں دو دو گاڑیاں کھڑی ہوتی ہیں۔ جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔

تو کیا یہ صرف باتیں ان کے لیے ہیں آپ کے لیے نہیں ہیں؟ کیا تو اپنے آپ کو مسلمان نہیں سمجھتا؟ یہ صرف بغض کی باتیں ہیں۔ اور کچھ نہیں ہے۔ ان کو حج کے ساتھ بغض ہے۔ بدقسمت لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ ان کو خوش قسمت بنا دے۔ جو اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ بھئی تم کرو کہ حج بھی کرو، عمرے بھی کرو، اور لوگوں کی خدمت بھی کرو۔ میں جیسے کہتا ہوں کہ بھئی نماز بھی پڑھو اور روزے بھی رکھو، زکوٰۃ بھی دو، حج بھی کرو۔ تو یہ ساری چیزیں اپنے اپنے طور پر ہیں نا۔ تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ ہم کسی نیک عمل کو دوسرے نیک عمل کے مقابلے میں نہ لائیں۔ یہ غلط بات ہے۔ ہاں برے عمل کو نیک عمل کے مقابلے میں لاؤ۔ اور کہو کہ برے عمل کو چھوڑ دو، نیک عمل کرو۔

اب ایک آدمی نفل پڑھ رہا ہے اوابین، کہتے ہیں آپ ادھر بازار میں جا کر جو غریب لوگ ہیں ان کا سودا سلف اٹھا کے کیوں نہیں لاتے؟ اب یہ نفل کیوں پڑھتے ہیں؟ اس کو کیا جواب دیا جائے گا؟ خدا کے بندے، وہ بھی کرنا ہے یہ بھی کرنا ہے۔ تو یہ اصل میں، ان کی فطرت کی بات ہے، کہ اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔ ورنہ صحیح بات ہے، میں کہتا ہوں مسلمانوں میں، جو غیر صحابی ہیں، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ جتنے ہوشیار کتنے ہوں گے؟ فقیہ تھے، اور فقیہ بھی عجیب، کہ ان کا ذہن ان کی عقل، یہ ضرب المثل ہے۔ اس نے کتنے حج کیے تھے؟ 52 حج کیے تھے۔

اور 52 حج اس طرح نہیں کیے تھے کہ چار گھنٹے میں ادھر پہنچ جاتے ہیں۔ یعنی ہمارے لوگ تو چار گھنٹے میں پہنچ جاتے ہیں نا جدہ۔ وہ کافی دنوں کی مسافت ہوتی تھی۔ یا گھوڑوں پہ جاتے تھے یا اونٹوں پہ جاتے تھے۔ یا پیدل لوگ جاتے تھے۔ ٹھیک ہے عراق سے جانا تھا، لیکن عراق سے جانا یہاں کے مقابلے میں تقریباً نصف بنتا ہے۔ تو ظاہر ہے ہم تو ابھی چار گھنٹے میں پہنچ جاتے ہیں، وہ تو بہت زیادہ وقت لگتا تھا۔ لیکن ہر سال جاتے تھے۔ ان کا جو شاگرد تھا عبد اللہ بن مبارک رحمۃ اللہ، وہ ایک سال حج کرتے تھے ایک سال جہاد کرتے تھے۔ یہ ان کا یہ معمول تھا۔ ایک سال جہاد کرتے ایک سال حج کرتے تھے۔

اس طرح اور بہت ساری مثالیں موجود ہیں۔ تو اب ہم ان کی باتیں سنیں یا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا عمل کو دیکھیں؟ اور مجھے بتاؤ امام حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے زیادہ انفاق کس نے کیا ہے؟ حج بھی کرتے تھے، عمرے بھی کرتے تھے، اور انفاق بھی کرتے تھے۔ اور ایسا انفاق کہ اس کی مثال کوئی نہیں دے سکتا۔ یعنی کسی کو قرض دیا تو اس کا راستہ بدل لیتے ہیں۔ کہ کہیں ان کو شرمندگی نہ ہو۔ اس طریقے سے ماشاء اللہ انہوں نے انفاق کیے ہیں۔ لیکن اللہ پھر دیتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اللہ دیتے بھی ہیں۔ جب دل بھی دیتے ہیں تو ساتھ مال بھی دیتے ہیں۔

تو یہ میں اس لیے عرض کرتا ہوں، یعنی الحمد للہ دیکھیں یہ مثال یہ جو میں واقعہ بیان کر رہا ہوں امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا، سن لو بڑی عجیب بات ہے۔ ان کی دکان تھی نا کوفہ میں کپڑوں کا کاروبار تھا۔ بہت بڑا کاروبار تھا حضرت کا۔ تو دکان تھی تو وہ کوئی شخص آیا اس نے کوئی تھان پسند کیا، پوچھا جی کتنے کا ہے جی؟ جو اس نے جو طے کر، وہ جو کارندہ تھا، اس نے جی، ہزار درہم کا۔ اس نے ہزار درہم دے دیے اور وہ چلا گیا۔ حضرت کو جب حساب دیا شام کو، تو انہوں نے کہا یہ آپ نے ہزار درہم، یہ تو ساڑھے سات سو درہم کا ہے! آپ نے ڈھائی سو درہم زیادہ لے لیے؟ اب اس کا کیا ہو گا؟ پریشان ہو گئے۔

انہوں نے کہا، اچھا بتاؤ وہ کہاں کا تھا؟ کہتے ہیں، حضرت مجھے کیا پتہ، وہ ظاہر ہے گاہک تھا مجھے کیا پتہ کہ کہاں کا ہے۔ کہتے ہیں، نہیں، کچھ غور کرو۔ اس نے کہا حضرت، آپس میں جو باتیں کر رہے تھے اس میں کچھ مدینہ منورہ کی بات تھی بار بار آتی تھی۔ انہوں نے کہا، نوٹ کر لیا کہ ٹھیک ہے۔ اب حج پہ تو جاتے تھے ہر سال۔ اور مدینہ منورہ بھی جانا ہوتا تھا۔ تو مدینہ منورہ گئے، تو ان سے حلیہ وغیرہ سارا پوچھا تھا۔ باقی چیزیں۔ تو اس جیسا کوئی شخص ان کو نظر آ گیا تو پوچھا جی، آپ کوفہ آئے تھے؟ ہاں میں آتا ہوں۔ تو آپ نے نعمان بن ثابت ان کے دکان سے کچھ لیا تھا؟ کہتے، ہاں ہاں ہاں، میں نے ایک چادر لی تھی۔ اچھا حضرت بڑے خوش ہوئے، جیب سے ڈھائی سو درہم نکال کے جی اس کو دے دیے۔ کہتے یہ کیا؟ کہتے، وہ چادر ساڑھے سات سو درہم کی تھی۔ اور مجھے بہت پریشانی تھی کہ آپ کو ہزار درہم کا دیا تھا، تو اچھا ہوا کہ ملاقات ہو گئی، آپ لے لیں۔

تو اس نے کہا حضرت، ٹھیک ہے میرا بنتا ہے، لیکن اب میں نہیں لیتا۔ انہوں نے کہا، کیوں؟ انہوں نے کہا، آپ نے جتنا احسان کیا، تو میں بھی ظاہر ہے یہ احسان کرنا چاہتا ہوں کہ اب یہ آپ کے۔ کہتے، نہیں نہیں بھئی، احسان دوسرے پہ کر لے، یہ پیسہ آپ کے ہیں۔ اس کو پیسے دے کے چھوڑا۔ یہ ہیں وہ لوگ! تو پھر اللہ پاک نے ان کو کتنا دیا؟ انفاق فی سبیل اللہ اگر آپ نے دیکھنا ہے تو اپنے بزرگوں سے دیکھو۔ کیسے انفاق کیا، عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھو۔ اس طرح اور ہمارے اکابرین گزرے ہیں، وہ کیا کرتے تھے؟ ہمارا انفاق ان کے مقابلے میں کیا ہے؟

لیکن بہرحال میں بتاتا ہوں کہ، جن کو حج کی توفیق ہوتی ہے، عموماً وہی لوگ مسجدوں میں بھی وقت لگاتے ہیں، بھئی پیسے دیتے ہیں۔ غریب غرباء کی خدمت بھی وہی لوگ کرتے ہیں۔ کیونکہ خدا سے ڈرنے والے یہ کام کرتے ہیں۔ جو حج جیسا عمل نہیں کرتا، اور مالدار ہو، تو خدا تعالیٰ سے کب ڈرتا ہے وہ؟ جب وہ ڈرتا نہیں ہے تو انفاق کیا کرے گا؟ وہ تو صرف باتیں کرے گا۔ تو اس وجہ سے، اس قسم کے لوگ جو باتیں کرتے ہیں کہ بھئی یہ غریبوں کی مدد کر لو، حج کے پیسے ان کو دے دو، ٹھیک ہے بھئی بات یہ ہے، غریبوں کی مدد کرنا ضروری ہے اس میں کوئی شک نہیں، لیکن اس کے لیے کسی ایسے چیز کو روکنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ جل شانہ دے دے، اور بہت زیادہ، آپ اس کو خرچ کر لے لوگوں پہ۔

پھر آگے یہ بات آتی ہے۔ حج ہو جاتا ہے نا الحمد للہ، اس کے بعد ایک بہت بڑا عمل ہے، مدینہ منورہ حاضری کا۔ اس پہ بھی آج کل لوگ باتیں بناتے ہیں۔ پتہ نہیں لوگوں کو کیا ہو گیا ہے۔ ہمارے پشتو میں ایک ضرب المثل ہے کہتے ہیں، "ما مهٔ شميره درګډ يم"۔ یعنی مجھے گنو مت، میں درمیان میں آتا ہوں۔ شامل ہوتا ہوں، مفت میں۔ بھئی نہ عالم، نہ فقیہ نہ کوئی اور اس پہ وہ کرتے رہتے ہو۔

اب یہ حدیث شریف کو سن لو۔

"ارشاد فرمایا رسولِ کریم ﷺ نے: کہ جس شخص نے میری قبر کی زیارت کی، اس کے لیے میری شفاعت ضرور ہو گی"۔

اب اس حدیث شریف کے مطابق، مدینہ منورہ جانے کی نیت کیا ہونی چاہیے؟ قبر شریف کی، زیارت کی نیت ہونی چاہیے نا! کیونکہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری قبر کی زیارت کی تو ان کے لیے میری شفاعت ضرور ہو گی۔ تو کون نہیں چاہتا کہ میری شفاعت ہو؟ ظاہر ہے میں بھی چاہتا ہوں، الحمد للہ، سب سے پہلے چاہتا ہوں۔ اور میرے خیال میں کوئی بھی اس طرح نہیں ہو گا جو کہے میں شفاعت نہیں چاہتا آپ ﷺ کی۔ تو جو بھی آپ ﷺ کی شفاعت چاہتا ہے، اس کے لیے ایک بہت بڑی بات ہے۔ آپ ﷺ کے قبر شریف کی زیارت۔

ایک یہ بات ہے۔ دوسری بات دنیا میں واحد ایسی جگہ ہے مدینہ منورہ کی مسجدِ نبوی، جہاں آپ ﷺ خود سنتے ہیں سلام۔ باقی جگہوں سے پہنچا دیا جاتا ہے۔ یہاں میں پڑھتا ہوں "وصلی اللہ علی النبی الامی"، پہنچ گیا الحمد للہ، پہنچا دیا گیا۔ وہاں پر میں جب پڑھتا ہوں، وہ خود آپ ﷺ سنتے ہیں۔ بلکہ پوری مسجدِ نبوی، چاہے کتنی بڑی ہو جائے، آپ ﷺ نے فرمایا: چاہے کتنی بڑی ہو جائے یہ مسجدِ نبوی، اس میں وہ خود سنتے ہیں۔ تو اب دیکھ لیں، اتنے سارے لوگوں کی، ماشاء اللہ، درود پاک آپ ﷺ خود سنتے ہیں۔ یہ معمولی بات ہے! بہت بڑی بات ہے۔ اس کے لیے اگر میں حاضر ہو جاؤں تو کتنی بڑی بات ہے۔ کہ میں اللہ تعالیٰ کی توفیق سے، وہاں حاضر ہو جاؤں، اور میں سلام خود پیش کروں، اور آپ ﷺ اس کو خود سنیں۔

دوسری ایک بات میں بتاتا ہوں آثارِ صحابہ میں سے۔ آثارِ صحابہ میں ہے کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ جس وقت آپ ﷺ دنیا سے تشریف لے گئے، تو چونکہ ہر وقت حاضر ہوتے تھے، اذان بھی حضرت دیا کرتے تھے، تو ان سے رہا نہیں گیا کہ اب میں کیسے آ رہا ہوں؟ جب وہ اذان دیتے، اشہد ان محمدا رسول اللہ، میں اشارہ کرتے تھے آپ ﷺ کی طرف۔ اشارہ کرتے تھے۔ اب وہ بات نہیں رہی۔ تو شام چلے گئے۔ وہاں پر شادی کی، اولاد ہو گئی ان کی۔ اور وہیں رہنے لگے۔

تو ایک رات آپ ﷺ کی خواب میں زیارت ہوئی۔ آپ نے فرمایا: بلال یہ کیا بے وفائی ہے؟ کہ ہمارے پاس نہیں آتے ہو۔ اب جب صبح اٹھے تو ظاہر ہے صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین سے زیادہ عاشق اور کون ہو گا؟ تو ایک تیز رفتار اونٹنی کا بندوبست کیا، اور دوڑے دوڑے دوڑے دوڑے دوڑے، جتنا جلدی ہو سکتا تھا مدینہ منورہ پہنچ گئے۔ اور پہلا کام یہ کیا کہ جا کر آپ ﷺ کے روضہ اقدس میں قبر شریف پر حاضر ہوئے۔ فوراً، اس کے بعد، صحابہ کو پتہ چلا کہ حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے ہیں، تو ان کی تو عید ہو گئی۔ ماشاء اللہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آ گئے۔

اب نماز کا وقت آ گیا، اذان کا وقت آ گیا تو صحابہ کرام نے خواہش کی کہ حضرت اذان آپ دے دیں۔ ظاہر ہے مؤذنِ رسول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے میں معذور ہوں۔ خیر بہت کوشش کی لیکن حضرت تیار نہیں ہوئے تو انہوں نے حسنین کریمین اس وقت موجود تھے تو ان سے request کی کہ آپ حضرت سے درخواست کر لیں آپ کی بات مان جائیں گے۔ تو انہوں نے بھی کہا کہ آپ اذان دے دیں۔ تو پھر وہ ان کو قریب اپنے لپٹا دیا اور کہا کہ شہزادوں کی بات تو ٹالی نہیں جا سکتی۔

اور پھر اذان کے لیے تیار ہو گئے۔ اب جب اذان کی آواز مدینہ منورہ میں گونج اٹھی نا، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، تو ایک کہرام مچ گیا۔ اور آپ ﷺ کی زندگی کا دور یاد آ گیا۔ حتیٰ کہ عورتیں وہ چھتوں پہ چڑھ گئیں۔ تو یہ بات تھی کہ، بس صرف "اشہد ان محمدا رسول اللہ" تک پہنچ گئے۔ اور اس کے بعد پھر کچھ نہیں کر سکے۔ وہ حال ان کا ایسا ہو گیا۔

اب اس میں نقطے کی بات یہ ہے کہ بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا مسجدِ نبوی کی زیارت کی نیت سے آئے تھے؟ خواب کو نہ دیکھو، خواب تو جو بھی ہے، خواب ظنی ہے، لیکن صحابی کا عمل کیا ہے؟ وہ اس کی بنیاد پر کس نیت سے آئے تھے؟ روضہ اقدس کی نیت سے آئے تھے۔ یہ بات ہے۔ تو ہم لوگوں کو یہ جاننا چاہیے کہ ٹھیک ہے اختلافات ہوتے ہیں، ہم لوگ اختلافات میں بڑے وسیع ظرف رکھتے ہیں الحمد للہ۔ لیکن دلائل دلائل ہوتے ہیں، ہر طرف سے دلائل ہوتے ہیں۔

تو جو ہمارے دلائل ہیں وہ یہی ہیں۔ کہ ہم کہتے ہیں کہ وہاں جاؤ کس وجہ سے؟ کیوں؟ اگر آپ مسجدِ نبوی کی نیت سے جاتے ہیں نا، تو پھر بتاتا ہوں پھر کبھی نہیں جا سکیں گے۔ کیسے؟ مسجدِ نبوی میں ایک روایت کے مطابق ہزار نمازوں کا ثواب ہے۔ اور ایک روایت کے مطابق پچاس ہزار نمازوں کا ثواب ہے۔ اور مکہ مکرمہ میں، متفق علیہ روایت متفق اس کے قول کے مطابق ایک لاکھ نمازوں کا ثواب ہے۔ مجھے بتاؤ اگر مسجدِ نبوی کی نیت سے کوئی جائے گا تو وہ مکہ مکرمہ حرم شریف چھوڑے گا؟ ایک لاکھ کو چھوڑ کے کیسےوہ جائے گا ایک ہزار کے لیے؟ ایک لاکھ کو کوئی ہزار کے لیے تو نہیں چھوڑ سکتا، نہ پچاس ہزار کے لیے چھوڑ سکتا ہے۔

اور یہ میں نے دیکھا ہے۔ دیکھا ہے، یہ کوئی سنی سنائی بات نہیں، میں الحمد للہ پہلی دفعہ جب حج پہ گئے، تو ایک عرب سے مصری تھے، وہ ہمارے دوستی ہو گئی، ہمارا ملنا جلنا ہوتا تھا روزانہ۔ یہ مولانا محمد مکی صاحب ان کے بیان میں ہم بیٹھے ہوتے تھے۔ تو میں خیر الحمد للہ حج سے پہلے بھی گیا تھا مدینہ منورہ، چونکہ میرے پاس دن کافی تھے۔ اور پھر جب حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ تشریف لائے، تو حج کے بعد حضرت نے جانا تھا، تو میں ان کے ساتھ پھر چلا گیا یعنی دو دفعہ گیا۔ جب دوسری دفعہ جا رہا تھا تو ان سے ملاقات ہوئی اس عرب سے۔ تو پوچھا کہ کیا program ہے؟ میں نے کہا مدینہ منورہ۔ کہتا، آپ پہلے ہو کے تو آئے تھے؟ میں نے کہا، الحمد للہ دوسری دفعہ جا رہا ہوں۔ تو مجھے کہتے ہیں کہ میں تو اتنا عرصہ ادھر ہوں ادھر رہا ہوں میں ایک دفعہ بھی نہیں گیا۔ میں نے کہا یہ آپ کی قسمت ہے، میں اس پہ کچھ نہیں کہہ سکتا۔ یہ آپ کی قسمت ہے۔

اب اس وجہ سے، دیکھو نا، نیت کے تبدیل ہونے سے کتنا فرق پڑ گیا؟ چونکہ نیت مسجدِ نبوی کی بن گئی، تو اب مسجدِ نبوی کے لیے کیوں جائیں پھر؟ ہزار نمازوں کے لیے ایک لاکھ نمازیں کیسے چھوڑیں؟ پھر ہمارے پاس سب سے بڑا ثبوت ہے۔ مجھے بتائیں، آپ ﷺ کی زندگی اور آپ ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام زیادہ تر مکہ مکرمہ میں تھے یا مدینہ منورہ میں تھے؟ ظاہر ہے ہمیں معلوم ہونا چاہیے نا کہ کیا ہے۔ کیا ان کو یہ مسئلے معلوم نہیں تھے؟ مسئلے تو معلوم تھے ان کو بھی۔ پھر کیا بات تھی؟ بلکہ خود آپ ﷺ، جس وقت مکہ مکرمہ فتح ہو گیا، تو جو نئے نئے مسلمان ہوئے تھے ان کی خوشی کے لیے، تالیفِ قلب اس کو کہتے ہیں۔ تالیفِ قلب کے لیے ان کو بہت کچھ غنیمت سے دلوایا۔ کچھ انصار کے نوجوان تھے ان کی زبان سے بات نکلی جب مشکل وقت تھا تو ہم کام آ رہے تھے، اب جب انعام و اکرام کا وقت آ گیا تو اپنے رشتہ داروں کو یہ بات حضرت تک پہنچ گئی۔

حضرت نے فوراً خیمہ لگوایا، اور اعلان کروایا کہ جمع ہو جائیں صحابہ، انصار صحابہ۔ جمع ہو گئے جی۔ اور آپ ﷺ نے خطبہ دیا۔ اور اس میں یہ فرمایا کہ کیا تم جو ہدایت پہ نہیں تھے تو میرے ذریعے سے تمہیں اللہ پاک نے ہدایت نہیں دی؟ سب نے کہا: "کیوں نہیں"۔ تم مخالف تھے ایک دوسرے کے۔ کیا میری وجہ سے ایک دوسرے کے بھائی بھائی نہیں ہوئے؟ (سب نے کہا:) "ہاں جی بلکل ایسے ہی ہوا" گویا کہ آپ ﷺ نے اپنی وہ باتیں بتائیں، پھر فرمایا: نہیں تم لوگ یہ کہو، کہ جب تمہیں کوئی نہیں مان رہا تھا، ہم تمہارے ساتھ یہ یہ کر رہے تھے، اور میں "ہاں ہاں" کروں گا، میں ہاں ہاں کروں گا، لیکن اے انصار! کیا یہ سودا تمہیں منظور نہیں ہے کہ لوگ جانور لے جائیں، بھیڑ بکریاں لے جائیں، اور تم مجھے لے جاؤ ساتھ؟

اس پر دھاڑیں مار مار کر رو پڑے وہ بڑے جو تھے۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ! یہ تو نوجوانوں کی بیوقوفی کی باتیں تھیں، ہماری کوئی اس قسم کی بات نہیں ہے۔ ہم تو آپ ہی کے ساتھ ہیں۔ آپ جہاں ہوں گے ہم وہاں پر ہیں۔ تو مقصد یہ ہے کہ دیکھو نا، یہ سمجھ لو، اشارے کافی ہیں۔ اشارے کافی ہیں۔ اس وجہ سے ان باتوں کو سمجھنا چاہیے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ایک حج کیا ہے، اور وہ بھی ڈرتے ڈرتے کیا ہے۔ ڈرتے ڈرتے کیا ہے۔ حج سے بس ہو کے نا، فوراً بھاگے بھاگے مدینہ منورہ پہنچے۔ تو کسی نے کہا حضرت کیوں کیا مسئلہ تھا؟ کہتے، مجھے ڈر تھا کہیں میری موت مدینہ منورہ سے باہر نہ آ جائے۔ میری موت مدینہ منورہ سے باہر نہ آ جائے۔

اب بتاؤ امام مالک رحمۃ اللہ معمولی شخصیت ہیں؟ اب بھی دیکھیں -اللہ اکبر- ہمارے بڑے بڑے لوگ جنت البقیع میں دفن ہیں۔ مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ، مولانا بدرِ عالم صاحب رحمۃ اللہ علیہ، یہ ہماری آج کل کے دور کی باتیں ہیں۔ اس طرح اور ماشاء اللہ بڑے حضرات، آدم بن نوری رحمۃ اللہ علیہ، یہ حضرات جو تھے وہاں اس نیت سے ٹھہرے ہوئے تھے، اس نیت سے ٹھہرے ہوئے تھے کہ ہمیں وہاں موت آ جائے۔ اور ہم وہیں دفن ہو جائیں، جنت البقیع میں دفن ہو جائیں۔

یہ مری کے مولانا غلام محمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ، آپ لوگوں کو تو پتہ ہو گا، یہ اخیر میں گئے تھے مدینہ منورہ میں۔ تو بس وہیں پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ تو کچھ حضرات نے یہی مری سے جا کے، ان سے درخواست کی کہ حضرت آپ کی وجہ سے بہت سارے مدرسے چل رہے تھے، اور آپ مہربانی کر کے اگر تشریف لے آئیں تو آپ کی وجہ سے کافی رونق تھی۔ تو انہوں نے کہا کہ اجازت ہو تو پھر تو پھر اس کے بعد ان میں سے کسی نے کہا کہ اس دیوانے کو یہیں چھوڑ دو۔ اس دیوانے کو یہیں چھوڑ دو۔ وہی والی بات ہے قبولیت کی بات تھی، قبولیت کی بات، قبولیت جب ہو جاتی ہے تو پھر علیحدہ بات ہوتی ہے۔

اب بھی ما شاء الله ایسے حضرات موجود ہیں۔ الحمد لله وہاں پر موجود ہیں، جن کی زیارت ہم کرتے ہیں جب جاتے ہیں الحمد لله ان کی زیارت جو وہاں اسی نقطہ نظر سے ٹھہرے ہوئے ہیں۔ وہاں کی مشکلات، تمام چیزیں برداشت کرتے ہیں۔ یہ ہمارے صوفی اقبال صاحب رحمۃ اللہ علیہ، وہ بھی وہیں ٹھہرے ہوئے تھے نا۔ صوفی اقبال صاحب کے بڑے بھائی 12 سال عمر میں زیادہ تھے، وہ حضرت کے کافی عمر کے بعد فوت ہوئے، انہوں نے ہمیں یہ واقعہ خود سنایا ہے۔

کہتے ہیں کہ حضرت چونکہ doctor تھے، dentist تھے۔ مولانا زکریا صاحب نے اپنے دانت ان سے بنوائے تھے۔ تو dentist تھے تو اس وجہ سے بڑا مکان تھا ان کا لاہور میں، بڑے posh area میں۔ تو مدینہ منورہ تشریف لے گئے، ظاہر ہے۔ حج کے لیے گئے ہوں گے۔ تو مولانا بدر عالم صاحب اس وقت حیات تھے، ان سے ملاقات ہوئی۔ تو باتوں باتوں میں اس نے کہا کہ حضرت یہ میرا بھائی، کیا میں بتاؤں آپ کو حضرت، میں ان کو کہتا ہوں کہ آپ یہاں جھونپڑی میں رہتے ہیں، جھونپڑی بھی نہیں تھی پتہ نہیں کواڑ بھی نہیں تھا اس کا۔ جس جگہ پہ رہتے تھے۔ تو آپ جھونپڑی میں رہتے ہیں، میرے پاس اتنا زبردست accommodation موجود ہے۔ آپ ادھر تشریف لائیں۔ میرے ساتھ رہیں۔ کہتے مولانا بدر عالم لیٹے ہوئے تھے، کہتے غصے سے بیٹھ گئے، کہتے کیا کہا تو نے؟ کیا کہا تو نے؟ تم کہتے ہو آپ کا مکان بڑا ہے، تمہیں کیا پتہ کہ یہ کیا اور وہ کیا ہے! خبردار جو ایسی بات کی! آپ اپنے بھائی سے کیا آگاہ ہیں کہ وہ کون ہے؟ اور اس کے ساتھ کیا ہے؟

تو یہ جو بات ہے، جو جاننے والے وہ جانتے ہیں نا اب وہ فقر کی عالم میں اللہ تعالیٰ نے ان کو کیا دیا ہوا ہے! یعنی جس کی کنڈی بھی نہیں تھی نا مکان کی، وہ بھی جب نماز کے لیے جاتے اور آتے تو اس کو چومتے، اس کواڑ کو۔

یہ، عالمِ فقر میں رہنا کوئی معمولی بات تو نہیں ہے۔ لیکن یہ سارے معاملات جو ہوتے ہیں یہ دل کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں، عقل سے نہیں۔ عقل یہاں بہت پیچھے رہ جاتا ہے۔ وہ سوچتا رہ جاتا ہے، وہ تو دو دو چار والا ہے نا، دو دو چار کرتا ہے۔ جبکہ عشق والی بات کہتا ہے


"بے خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق

عقل ہے محوِ تماشائے لبِ بام ابھی"۔


تو وہ والی بات الگ ہے خیر۔

جو آیت شریفہ میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ جل شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ "ابراہیم علیہ السلام سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ لوگوں میں حج کے فرض ہونے کا اعلان کر دو۔ لوگ تمہارے پاس حج کے لیے چلے آئیں گے پیدل بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی، جو کہ دور دراز راستوں سے پہنچی ہوں گی"۔ ابراہیم علیہ السلام سے فرمایا گیا کہ اعلان کر دو۔ اس نے عرض کیا کہ یا اللہ میری آواز کہاں تک جائے گی؟ پہلے وقت میں، یہ خانہ کعبہ جو تھا نا، یہ چاروں طرف پہاڑ تھے درمیان میں وادی تھی۔ تو بالکل اس کے، یعنی cavity سی تھی، اس کے بالکل تہہ میں خانہ کعبہ ہے۔ اب بھی خانہ کعبہ، سب سے نیچے مقام پر ہے مکہ مکرمہ میں۔ اگر وہاں کے پانی کو drain نہ کیا جائے دوسری طرف، تو سب ادھر آ جائے۔ تو خیر ایسا ہے کہ وہ بالکل چاروں طرف پہاڑ تھے، میری آواز تو ان سے بھی آگے نہیں جائے گی۔ اللہ پاک نے فرمایا کہ تیرا کام ہے آواز دینا، پہنچانا میرا کام ہے۔

تو اللہ پاک نے اس آواز کو اتنا پہنچایا، اتنا پہنچایا، کہ عالمِ ارواح تک پہنچ گیا۔ اور اب فرماتے ہیں کہ اُس وقت عالمِ ارواح میں جس نے جتنی دفعہ اس پہ لبیک کہا ہے اتنی دفعہ وہ حج کرے گا۔ جس نے ایک دفعہ کیا ہے تو ایک دفعہ کرے گا، جس نے ایک دفعہ بھی نہیں کیا وہ نہیں کرے گا، جس نے دس دفعہ کیا وہ دس دفعہ حج کرے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کے لیے اپنا نظام بنایا ہوا ہے۔ تو بہرحال یہ ہے کہ، یہ اللہ پاک نے بتا دیا۔ تو اب آپ دیکھ لیں دور دراز لوگوں سے، تیمور یہ آسٹریلیا سے بھی آگے کا جزیرہ ہے، وہاں سے بھی لوگ آتے ہیں۔ اور اس طریقے سے پیدل بھی لوگ آتے ہیں۔ اب بھی اس دور میں، اس دور میں پیدل بھی لوگ آتے ہیں۔ گاڑیوں سے بھی آتے ہیں۔ کشتیوں میں بھی آتے ہیں، ships میں آتے ہیں، ہوائی جہازوں میں آتے ہیں، ہر طرح سے۔ یعنی اس وقت اگر آپ جدہ airport کو دیکھیں تو آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ وہ جہاز جس طرح اتر رہے ہوتے ہیں، جس طرح اڑ رہے ہوتے ہیں نا، آدمی حیران ہو جاتا ہے حج کے ایام میں۔ اسی ما شاء الله وہ ہے۔ تو یہ میں عرض کرتا ہوں کہ اللہ پاک نے پھر اس کا انتظام کیا۔ ایک تو یہ بات، دوسری چونکہ ابراہیم عليه السلام نے دعا کی تھی کہ اے اللہ میں ان کو ایک وادیِ غیر ذی زرع میں چھوڑ رہا ہوں تو ان کی پھلوں کے ذریعے سے، اس کے ذریعے سے مدد فرما۔ تو اب بھی دنیا میں جو پھل جہاں ہوتا ہے، وہ مکہ مکرمہ میں پہنچ جاتا ہے۔

ہر قسم کی سبزی، ہر قسم کا پھل، ہر قسم کا ہر چیز پہنچ جاتی ہے۔ یہ ہمارے پکوڑے نہیں ہیں، یہ بھی وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ افطار کے وقت میں ہمارے پکوڑے کی وہ نا، تو باہر جا کے دیکھیں تو پکوڑے والے بھی مل جائیں گے۔ تو ہر چیز اللہ تعالیٰ نے وہاں پر وافر رکھی ہے۔ اور آدمی کو سہولت کے ساتھ میسر ہوتی ہے۔

ارشاد فرمایا رسولِ کریم ﷺ نے کہ جو شخص حج کا ارادہ رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ جلدی کرے۔

جلدی کرے۔ موت کا کیا پتہ؟ حج جلدی کرنا چاہیے۔

اور آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: شیطان عرفہ کے دن سے زیادہ ذلیل اور راندھا ہوا، اور حقیر رنجیدہ نہیں دیکھا گیا۔ اور نہیں ہے، مگر یہ مگر اس کی وجہ سے کہ جو کہ رحمت کا نازل ہونا اور خدا تعالیٰ کا بڑے بڑے گناہوں سے درگزر فرمانا دیکھتا ہے۔ سوائے جنگِ بدر کے، اس میں تو یومِ عرفہ کے برابر یا زیادہ اس کی خواری وغیرہ دیکھی گئی۔

کیونکہ اس روز اس نے جبرائیل علیہ السلام کو فرشتوں کی صفیں ترتیب دیتے ہوئے دیکھا تھا۔

اس وقت بھی راندہ درگاہ ہو گیا تھا، بہت زیادہ پریشان تھا، اپنے سر پہ خاک ڈال رہا تھا، اور یومِ عرفہ کو بھی اپنے سر پہ خاک ڈالتا ہے۔ کیونکہ جب اللہ تعالیٰ معمولی معمولی چیزوں سے لوگوں کی بخششیں فرماتا ہے نا، تو پھر یہ کہتا ہے یہ میرے ساتھ کیا ہوا؟ میں نے اتنے مشکل سے گناہ ان سے کروا دیے اور یہ اللہ پاک اب ان سب کو معاف کر رہے ہیں۔ تو یہ ماشاء اللہ، یعنی جو عرفات ہے، یہ بڑی عجیب جگہ ہے۔ بڑی عجیب جگہ ہے۔ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللَّهُ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللهِ.

ارشاد فرمایا رسولِ کریم ﷺ نے کہ، ایک عمرہ دوسرے عمرے تک کفارہ ہے ان دونوں کے درمیان کے گناہوں کا۔

اب عمرے کرنے چاہئیں یا نہیں کرنے چاہئیں؟

اچھا ایک بات اور بھی بتاؤں، آج کل دور پتہ نہیں، میں سمجھتا نہیں ہوں کہ کس قسم کا دور آ گیا ہے۔ مسجدِ عائشہ جہاں سے ہوتا ہے عمرے کی نیت عام طور پر لوگ کرتے ہیں، ویسے پورے مکہ مکرمہ کا جو boundary ہے نا، ہر جگہ سے نیت کی جا سکتی ہے۔ کیونکہ اس سے باہر حل ہے اور اندر حرم ہے۔ تو حل سے آپ داخل ہوتے ہیں تو نیت کریں گے بس، boundary سے پہلے پہلے نیت کرنی چاہیے۔ تو مسجدِ عائشہ بھی حل اور حرم کی boundary پر ہے۔ لہٰذا وہ چونکہ سب سے قریب ہے، تو لوگ جو دوسرے یا تیسرے عمرے کرتے ہیں نا، تو ان کے لیے آسان یہ ہے کہ وہیں جا کر نیت کر کے پھر آ جائیں تو۔ اور سعودی گورنمنٹ نے وہاں پورے انتظامات کیے ہیں۔ انہوں نے وہیں toilets بنائے ہیں، احرام کے، تمام چیزوں کی سہولتیں انہوں نے دی ہیں۔ لیکن آج کل یہ ٹرانسپورٹ والے نہیں ہیں، پتہ نہیں، اللہ نہ کرے، پیسہ بہت خبیث چیز ہے، انسان کو بہت گمراہ کرتا ہے۔

تو یہ وہاں کے جو taxi والے انہوں نے کہا جی بڑا عمرہ بڑا عمرہ بڑا عمرہ۔ بھئی بڑا عمرہ چھوٹا عمرہ کی کیا بات ہے؟ یا حج ہے یا عمرہ ہے! اس کے درمیان کونسی چیز ہے؟ یا تو حج کرو گے تو حج تو حج ہے، اور جو عمرہ ہے وہ عمرہ ہے۔ اس کا یہ ہے کہ آپ boundary سے جہاں سے بھی نیت کریں گے، تو وہ سب سے دور جو مقام ہے نا، اس کو کہتے ہیں یہ بڑا عمرہ ہے۔ وہاں جاتے ہیں، وہاں چونکہ پیسے بنتے ہیں۔ یہ مشہور کیا ان لوگوں نے۔ جیسے وہاں وادیِ جن کو مشہور کیا، مدینہ منورہ میں، وہ بھی ٹرانسپورٹروں کی باتیں ہیں۔ وادیِ جن مشہور کیا ہے۔ حالانکہ وہاں وادیِ جن نہیں ہے، اس کا باقاعدہ سائنسی طور پر ہم نے test کیا ہوا ہے۔ وہ ڈھلوان ہے لوگوں نے مشہور کیا کہ نہیں چڑھائی ہے۔ اس کو ہم کہتے ہیں "سراب" آنکھوں کا مسئلہ ہے۔

تو خیر بہرحال یہ میں عرض کر رہا تھا کہ لوگوں نے اس قسم کی چیزیں مشہور کیں، بڑا عمرہ بڑا عمرہ، بھئی بڑا نہیں چھوٹا، یا حج ہے یا عمرہ ہے۔ اس کے درمیان کونسی چیز ہے؟ یا تو حج کرو گے تو حج تو حج ہے، اور جو عمرہ ہے وہ عمرہ ہے۔ عمرہ کرنا ہے تو جہاں سے بھی بس آپ کو access ہو، اب مثال کے طور پر آپ کو اس کے opposite side پر access ہے تو آپ خواہ مخواہ مسجد عائشہ نہیں آنا چاہیے۔ کیونکہ وہ آپ کے لیے وہی ہے۔ تو آپ ادھر سے آ جائیں عمرہ کر لیں۔ اور دوسری طرف یہ ہے کہ آپ حرم شریف سے جاتے ہیں اور پھر آتے ہیں تو آپ کے لیے پھر قریب ترین یہی ہے۔ تو پھر وہیں جا کر وہ کر لو۔ اور اب دیکھیں کمال کی بات ہے کہ ان کو جب دلیل دی جاتی ہے کہ آپ ﷺ نے خود عائشہ صدیقہ رضي اللهُ عنها کو ان کے بھائی کے ساتھ بھیجا تھا اس کے لیے، تبھی تو اس کا نام مسجد عائشہ ہے تو آپ ﷺ کے عمل کا انکار کرتے ہو؟ کہتے ہیں نہیں وہ special case تھا۔ خدا کے بندو، اچھا چلو یہ special case ہو گیا۔ تو عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ، جب خانہ کعبہ تعمیر ہو گیا، اس وقت شکرانے کے طور پر مسجدِ عائشہ جا کے جو موجود صحابہ تھے اور جو تابعین تھے، سب کے ساتھ جا کر انہوں نے عمرے کی نیت کی اور وہاں سے جا کر عمرہ کیا۔ اب یہ بتاؤ، مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي، اس سے کیا بنتا ہے پھر؟

تو ایک طرف آپ ﷺ کا عمل، دوسری طرف تابعین، صحابہ کا عمل، اور ساتھ تابعین کا عمل، اور ایک طرف تم ڈرائیوروں کا عمل، ہم کس کی مانیں؟ تم ڈرائیوروں کی بات مان لیں ہم؟ لیکن بیوقوف لوگ ان کی باتوں میں آ جاتے ہیں۔ اور آہستہ آہستہ یہ چیز مشہور ہونے لگی ہے۔ حالانکہ اس کی کوئی سند نہیں ہے۔ سب ایک ہی بات ہے۔

اور ارشاد فرمایا رسولِ کریم ﷺ نے کہ حج کرنے والے، عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں۔ اگر وہ دعا مانگیں گے تو خدا قبول کرتا ہے اور اگر وہ استغفار کریں تو خدا ان کی مغفرت کر دیتا ہے۔

بعض دفعہ تو صحیح بات ہے، اللہ جل شانہ دکھا دیتا ہے کہ تو مہمان ہے۔ بعض دفعہ، سب دفعہ تو نہیں۔ پھر تو امتحان والا معاملہ ہوتا ہے نا۔ لیکن بعض دفعہ اللہ پاک دکھا دیتا ہے۔ کہ تو مہمان ہے، اور مہمان جیسا معاملہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ۔

ہمارے ساتھ ایک خالہ گئی تھیں تو بیمار تھیں تو ان کو چائے کی ضرورت تھی تو انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں میں چائے کہاں سے (پیوں) تو عین اسی وقت آیا وہ پورا تھرماس (لے کے) کہتے، اس کے لیے ڈالی، اب کیا مطلب ہے اس کا؟ چیزیں ہیں، ہوتی ہیں۔ تو وہاں پر معاملہ بالکل مختلف ہے، مکہ مکرمہ میں مدینہ منورہ میں، وہ معاملہ اور ہے۔ لیکن آپ ذرا اپنے دل صاف کر لیں تاکہ دل کی ظلمت کی وجہ سے وہ چیزیں رک نہ جائیں۔ اپنے دلوں کو صاف کرنا چاہیے۔ اللہ پاک ہم سب کو، وہاں کے جملہ برکات نصیب فرمائے۔ آمین۔

رمضان شریف کے مہینے میں ہمارا طریقہ یہ تھا کہ رمضان شریف میں ہر جمعہ جو آتا تھا، تو اس سے متعلق مسائل بیان ہوتے تھے۔ اب چونکہ اس کے بعد جو بڑا event ہے وہ یہی حج ہی ہے۔ شوال میں، شوال کے بعد، اس وجہ سے حج ہی کے بارے میں باتیں ہوں گی انشاء اللہ ہر اتوار کو۔ ہر اتوار کو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس وقت لوگ حج پہ جا رہے ہیں۔ یا اگر نہیں جا رہے تو جا سکتے ہیں۔ ذہن بنا سکتے ہیں نا۔ تو اگر کسی کو توفیق ہو جائے، اور چلے جائیں اس کی وجہ سے، تو کتنا فائدہ ہے؟ اللہ ہم سب کو نصیب فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (يونس: 10)۔

السلام علیکم، اچھا ٹھیک ہے۔

جو اہم بات ہے وہ یہ ہے کہ، جوڑ ہمارا، یہ اگلا اتوار کو ان شاء اللہ ہمارا خواتین کا جوڑ۔ تو نو بجے سے لے کے 12 بجے تک ہو گا۔ تو چاہیے کہ تو خواتین کا جوڑ ان شاء اللہ 29 تاریخ کو ہے۔ تو تیاری کر لیں، اور ویسے پہلے سے اپنا ذہن بنا لیں، اس کی میں آپ کو بات بتاؤں اب چونکہ وہ corona والے مسائل ختم ہو گئے ہیں، اللہ کا شکر ہے، اس پر اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیے، کیونکہ شکر کرنے سے نعمت بڑھتی ہے۔

تو ویسے یہ بات ہے کہ چونکہ لوگ online کے عادی ہو چکے ہیں نا، ہمارے کالجوں اور سکولوں میں بھی مسئلہ ہے۔ کہ وہ بڑے پریشان ہیں جو online ختم ہو گیا ہے۔ تو یہ بات ہے کہ جیسے میں نے آپ کو بتایا نا حج کے بارے میں ہم بات کر رہے تھے تو، مکہ مکرمہ کے جو برکات ہیں وہ تو وہاں جا کر ہی حاصل ہوتے ہیں نا۔ ان کی باتیں کریں تو اس کا بھی فائدہ آتا ہے، اس میں لیکن وہ اس کے برابر تو نہیں ہوتا نا۔ تو online میں تو صرف بات پہنچتی ہے نا، وہ جو خانقاہ کی جو برکت ہے وہ تو ساتھ نہیں ہوتی۔ تو اس وجہ سے کوشش کرنی چاہیے کہ وہ یہاں پر آیا کریں، کیونکہ یہاں کے ماحول کا بھی اثر ہوتا ہے۔

تو اس ماحول کا ساتھ اثر ہو گا، ان شاء اللہ العزیز۔ تو اپنے ساتھ بچوں کو نہ لائیں، بچے تو ان کے باپ ہوتے ہیں ان کو دے دیا کریں، اور خود آ جایا کریں، وقت پر۔ 9 بجے سے لے کے 12 بجے تک۔ تاکہ پورا جتنا بھی جوڑ ہے، اس سے استفادہ کیا جا سکے۔ بعض لوگ بالکل 11 بجے والے بیان ہوتا ہے نا اس وقت آ جاتے ہیں۔ بھئی وہ تو ٹھیک ہے صحیح ہے لیکن وہ تو عام دنوں کی بات ہے نا، عام اتوار کی بات ہے۔ جوڑ کے دن تو آپ کو 9 بجے آنا چاہیے۔ کیونکہ آپ کو ساری چیزیں، تبھی تو پتہ چلے گا، کیونکہ اس میں sequential ہوتا ہے، ساری چیزیں آپس میں inter-related ہوتی ہیں۔ تو بالکل اخیر میں آپ آ گئے تو آپ کو کس چیز کا پتہ چلے گا کہ اس سے پہلے کیا ہوا تھا؟

تو اس وجہ سے 9 بجے ٹھیک آ جایا کریں، تاکہ آپ سب کو اس کا مکمل فائدہ ہو۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (يونس: 10)۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ (البقرۃ: 127-128).

سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الصافات: 180-182) بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.


حجِ بیت اللہ کی فرضیت و برکات اور زیارتِ روضہ اقدس ﷺ کی اہمیت - خواتین کیلئے اصلاحی بیان - اشاعت اول