الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَيْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا يَّغْشٰى طَآىِٕفَةً مِّنْكُمْ ۙ وَطَآىِٕفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ يَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِيَّةِ ۭ يَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَيْءٍ ۭ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ ۭ يُخْفُوْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا يُبْدُوْنَ لَكَ ۭ يَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَيْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا ۭ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِيْ بُيُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِيْنَ كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ ۚ
وَلِيَبْتَلِيَ اللّٰهُ مَا فِيْ صُدُوْرِكُمْ وَلِيُمَحِّصَ مَا فِيْ قُلُوْبِكُمْ ۭ وَاللّٰهُ عَلِيْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ﴿154﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا ۚ وَلَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِيْمٌ ﴿155﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ.
معزز خواتین و حضرات! اصل میں یہ رکوع، اس رکوع کا کچھ حصہ جو ہے یہ رہ گیا تھا، مطلب اس کا ترجمہ، اس کے ترجمے سے۔ تو مجھے ساتھیوں نے اس کے بارے میں بتا دیا تو میں نے کہا کہ پہلے اس کو پورا کر لوں کہ قرآن پاک کے پورا کرنے میں کمی نہ رہے۔
پھر اس غم کے بعد اللہ جل شانہ نے تم پر طمانیت نازل کی، ایک اونگھ جو تم میں سے کچھ لوگوں پر چھا رہی تھی۔
یہ جنگِ احد کا واقعہ ہے۔ جنگِ اُحد میں جو غیر متوقع شکست ہوئی، اس پر صحابہ صدمے سے مغلوب ہورہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دشمن کے جانے کے بعد بہت سے صحابہ پر اُونگھ مسلط فرمادی جس سے غم غلط ہوگیا۔
دیکھیے اللہ جل شانہ بغیر کسی سبب کے بھی کام کر سکتے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ ساری چیزوں پہ قادر ہیں۔ لیکن اللہ جل شانہ مسبب الاسباب ہیں، اسباب کو اختیار فرماتے ہیں اکثر۔ ہاں، یہ ہوتا ہے کہ بعض دفعہ اسباب کے بغیر بھی کام کر لیتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ خیال نہ ہو کہ اللہ جل شانہ بھی اسباب کے پابند ہیں۔ وہ اسباب کے مالک ہیں، اسباب سے وہ مجبور نہیں ہیں۔ تو اس لحاظ سے یہاں پر بھی ایک سبب کو اختیار کر دیا۔ اور وہ سبب یہی تھا کہ اونگھ طاری کی، اس اونگھ طاری کرنے سے بہت ساری چیزیں وہ وہ set ہو گئیں۔
ہم لوگ اس طرح کرتے ہیں computer پہ یا mobile پہ بھی اس طرح کرتے ہیں کہ جب اس میں کوئی information بڑھ جائے اور وہ stuck ہونے لگے computer یا mobile، تو اس کو reset کر لیتے ہیں۔ تو reset کر لیتے ہیں تو اس تو restart کر لیتے ہیں، پہلے تو restart ہوتا ہے تو restart کر لیتے ہیں، اس سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ اور reset کرنے سے تو بالکل ہی صاف ہو جاتا ہے، جو کچھ اس میں ہوتا ہے تو آگے پیچھے جو جو آ گیا ہوتا ہے وہ ختم ہو جاتا ہے، تو اس سے دوبارہ وہ کر لیتے ہیں۔
تو اس طرح ہماری memory کے اوپر جو چیزیں ہوتی ہیں، وہ memory کی چیزیں کچھ چیزیں آپس میں ایک دوسرے کو اگر disturb کرنے لگیں، تو ایسی صورت میں اگر وہ جو memory ہے وہ اگر صاف ہو جائے تو ظاہر ہے مسئلہ حل ہو جائے گا وہ reset ہو جائے گا۔ تو یہاں پر اونگھ والا معاملہ بالکل ایسا تھا جیسے کہ کوئی resetting ہو رہی ہے، اور دوبارہ سے اپنی پہلی condition پہ صحابہ کرام آ گئے۔
اور ایک گروہ وہ تھا جسے اپنی جانوں کی پڑی ہوئی تھی۔ وہ لوگ اللہ کے بارے میں ناحق ایسے گمان کر رہے تھے جو جہالت کے خیالات تھے۔ وہ کہہ رہے تھے : ”کیا ہمیں بھی کوئی اختیار حاصل ہے؟“ کہہ دو کہ: ”اختیار تو تمام تر اللہ کا ہے۔“ یہ لوگ اپنے دلوں میں وہ باتیں چھپاتے ہیں جو آپ کے سامنے ظاہر نہیں کرتے۔
یہ منافقین کا ذکر ہے۔ وہ جو کہہ رہے تھے کہ ”کیا ہمیں بھی کوئی اختیار حاصل ہے؟“ اس کا ظاہری مطلب تو یہ تھا کہ اللہ کی تقدیر کے آگے کسی کا اختیار نہیں چلتا، اور یہ بات صحیح تھی، لیکن ان کا اصل مقصد وہ تھا جو آگے قرآن کریم نے دُہرایا ہے، یعنی یہ کہ اگر ہماری بات مانی جاتی اور باہر نکل کر دشمن کا مقابلہ کرنے کے بجائے شہر میں رہ کر دفاع کیا جاتا تو اتنے سارے آدمیوں کے قتل کی نوبت نہ آتی۔
حدیث شریف میں آتا ہے، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہ کہتے ہیں کہ یعنی ہمیں بھی وسوسہ آتا ہے لیکن ہم اس کو توکل سے بھگا دیتے ہیں۔ اس طریقے سے یہ فرمایا گیا کہ تم اگر کچھ واقع ہو جاؤ خلافِ مرضی، تو اس وقت اگر تمہیں کوئی بات اس طرح آنے لگے ذہن میں، تو یہ نہ سوچو کہ اگر میں ایسا کرتا تو ایسا ہو جاتا۔ یقیناً جتنے بھی accident ہوتے ہیں، وہ ایک second کی بات ہوتی ہے۔ تو اگر آدمی کہتا ہے اگر ایک second میں پیچھے ہوتا یا ایک second میں آگے ہوتا تو یہ accident نہ ہوتا، تو بات تو صحیح ہے ایسا نہ ہوتا، لیکن اللہ پاک نے ایسا مقرر کیا ہوا تھا۔ ایسا ہونا تھا۔ تو مطلب یہ ہے کہ جو چیز مقرر ہوتی ہے وہ ہو جاتی ہے۔ یا انسان مطلب بعض دفعہ کوئی ایسی چیز کھا لیتا ہے جس سے بیمار ہو جاتا ہے، وہ کہتا ہے اوہ! کاش میں نہ کھاتا۔ اگر میں نہ کھاتا تو ایسا نہ ہو جاتا۔ بھئی نہیں، وہ ہونا تھا وہ مقرر تھا۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ توکل کے چونکہ خلاف ہے، لہٰذا ہمیں ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ اگر ایسا ہوتا تو پھر ایسا۔
یہ ہمارے جو ابھی آ رہا ہے نا صفر کا مہینہ جو آ رہا ہے۔ تو صفر کے مہینے میں لوگ بہت اس قسم کے خیالات جو ہے نا وہ ذہن میں لاتے ہیں، تو ان کے بارے میں یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ نہ کہو۔ لَا صَفَرَ۔ "صفر میں کچھ نہیں ہے"۔ تو یہ اصل میں انسان کو شیطان گمراہ کرتا ہے۔
تو فرمایا کہ یہ جو لوگ کہہ رہے تھے کہ اگر یہ ہماری بات مان لیتے تو یہ بات نہ ہوتی۔ نہیں بھئی، اگر طے ہونا تھا تو وہاں پر بھی ہو جاتا، وہاں پر کچھ اور طریقے سے ہو جاتا۔ ہر ایک کے لیے تو ایک جیسا طریقہ تو نہیں ہوتا۔ تو اگر اللہ پاک نے کرنا ہوتا تو یہ ایسا ہو جاتا۔
اور یہ سب اس لئے ہوا تاکہ جو کچھ تمہارے سینوں میں ہے اللہ اسے آزمائے، اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کا میل کچیل دُور کردے
اشارہ اس طرف ہے کہ اس طرح کے مصائب سے ایمان میں پختگی آتی ہے اور باطنی بیماریاں دُور ہوتی ہیں۔
ایک تو یہ، اور دوسرے جو منافقین ہیں وہ علیحدہ ہو جاتے ہیں، پتہ چل جاتا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ اللہ جل شانہ بعض دفعہ امتحان اور آزمائش بھیجتے ہیں کہ ان میں سے کون کامیاب ہوتا ہے کون کامیاب نہیں ہوتا۔ ہم لوگ بعض دفعہ امتحان گاہ میں بیٹھے ہوتے ہیں نا، وہ تو کوئی سوال آتا ہے۔ تو وہ سوال کرنا ہوتا ہے، جیسے بھی ہو، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ سوال اس وقت کیوں آیا یا مطلب یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا، ایسا کیوں۔ نہیں، ممتحن کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ جس قسم کا سوال بھی دے دے۔ تو وہ سوال تو ایک مقرر وقت میں آتا ہے لیکن یہاں جو ہمارا نظام ہے مطلب اسباب کی دنیا میں، تو یہاں پر کوئی وقت مقرر نہیں ہے، وہ مطلب یہ ہے کہ کسی بھی وقت کوئی بھی حالت ہمارے اوپر آ سکتی ہے اور اس میں آزمائش ہوتی ہے۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے، اس نظام میں ہم کچھ نہیں کر سکتے بس یہ بات ہے کہ ہم لوگ وہ چیزیں اپنے سینوں میں پکی کر دیں، یعنی توکل اور صبر اور اللہ کی رضا، جو کہ ان چیزوں کا علاج ہے۔
اللہ دلوں کے بھید کو خوب جانتا ہے ﴿154﴾
تم میں سے جن لوگوں نے اُس دن پیٹھ پھیری جب دونوں لشکر ایک دوسرے سے ٹکرائے، درحقیقت ان کے بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان نے ان کو لغزش میں مبتلا کر دیا تھا
یعنی جنگ سے پہلے ان سے کچھ ایسے قصور ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر شیطان کو حوصلہ ہوا اور اس نے انہیں بہکا کر مزید غلطی میں مبتلا کردیا۔
مطلب یہ ہے کہ وہ وَلَقَدْ عَفَا اللهُ عَنْهُمْ ۗ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ حَلِيمٌ۔ اور یقین رکھو کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا ہے۔ یقیناً اللہ بہت معاف کرنے والا، بڑا بردبار ہے ﴿155﴾
مطلب یہ ہے کہ اگر غلطی سے کوئی کام ہو جائے تو اللہ تعالیٰ غلطی معاف کرتا ہے اور اگر گناہ بھی ہو جائے، توبہ کر لے تو پھر بھی معاف ہو جاتا ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک، جو مومن ہے اس کے ساتھ بڑے کرم والا معاملہ فرماتے ہیں۔ وہ غفور ہے، حلیم ہے۔ تو اللہ جل شانہ ہم سب کو اپنا تعلق نصیب فرما دے اور جن باتوں کے کرنے سے اللہ خوش ہوتا ہے ان کو کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔
---