قرآنی دعائیں، توبہ کی اہمیت اور احکاماتِ الہیٰ کی بجا آوری

درس نمبر 154: سورۃ ال عمران، آیت نمبر 192 تا 195

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • سورہ آل عمران کی آخری آیات (آیاتِ معرفت) کی تلاوت اور تفسیر۔
    • کائنات کی تخلیق میں غور و فکر اور ہر حال میں اللہ کا ذکر۔
      • جہنم کی رسوائی سے پناہ مانگنا اور نیک لوگوں میں شمولیت کی دعا۔
        • انسان کے خطا کار ہونے اور سچی توبہ کی فضیلت کا بیان۔
          • ہجرت کرنے، دین کی خاطر تکلیفیں سہنے اور جہاد کرنے والوں کے لیے اللہ کے انعامات۔
            • کفار کی دنیاوی خوشحالی کی حقیقت اور اس کا انجام۔
              • بروقت احکاماتِ الہیٰ (نماز، روزہ، زکوۃ، حج، جہاد) پر عمل کرنے کی تلقین۔

                اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ،

                وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،

                أَمَّا بَعْدُ:

                فأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ

                بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

                رَبَّنَاۤ إِنَّكَ مَن تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنصَارٍ ﴿192﴾ رَّبَّنَاۤ إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ اٰمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئٰتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ﴿193﴾ رَبَّنَاۤ وَاٰتِنَا مَا وَعَدتَّنَا عَلٰی رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ ﴿194﴾ فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ ۖ بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ ۖ فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَأُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأُوذُوا فِي سَبِيلِي وَقَاتَلُوا وَقُتِلُوا لَأُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيِّئَاتِهِمْ وَلَأُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ثَوَابًا مِّنْ عِندِ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عِندَهُ حُسْنُ الثَّوَابِ ﴿195﴾

                صَدَقَ اللهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِیُّ الْكَرِیْمُ.


                یہ قرآنی دعائیں ہیں جو یہاں آئی ہیں۔ اور چونکہ، آیتِ معرفت گزر گئی ہے۔ یعنی آیتِ معرفت میں اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ بے شک کائنات کی تخلیق میں اور دنوں کے الٹ پھیر میں عقلمندوں کے لیے نشانیاں ہیں۔ اور یہ وہ لوگ ہیں جو کھڑے، بیٹھے، لیٹے ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور کائنات کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں: رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا، اے رب ہمارے! تو نے نہیں پیدا کیا ان سب کو فضول، بے شک تو پاک ہے، پس ہمیں عذابِ جہنم سے نجات عطا فرما۔


                تو یہاں سے گویا کہ دعا شروع ہو گئی: سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ اب یہ ما شاء اللہ مزید دعائیں کہ

                اے ہمارے رب! آپ جس کو کسی، جس کسی کو دوزخ میں داخل کر دیں، اسے آپ نے یقیناً رسوا ہی کر دیا۔

                یعنی دوزخ سے میں جو امان مانگ رہا ہوں، اس لیے مانگ رہا ہوں کہ دوزخ کی جگہ جو ہے وہ آپ کی ناراضی کی جگہ ہے اور رسوائی کی جگہ ہے۔

                اور ظالموں کو کسی قسم کے مددگار نصیب نہیں ہوں گے۔ اے ہمارے پروردگار! ہم نے ایک منادی کو سنا جو ایمان کی طرف پکار رہا تھا، کہ "اپنے پروردگار پر ایمان لے آؤ"۔ چنانچہ ہم ایمان لائے، لہٰذا اے ہمارے پروردگار! ہماری خاطر، ہمارے گناہ بخش دیجیے، ہماری برائیوں کو ہم سے مٹا دیجیے، اور ہمیں نیک لوگوں میں شامل کر کے اپنے پاس بلائیے۔


                یہ انسان کے دل کی آواز ہے کہ اللہ جل شانہ گناہ ہمارے مٹا دیں اور جو برائیاں ہیں وہ ختم فرما دیں اور نیک لوگوں میں شامل ہو کر اللہ پاک ہم سب کو، کیونکہ خطائیں تو سب سے ہو سکتی ہیں۔ کون ہے جو خطاؤں سے پاک ہے؟ تو جیسے حدیث شریف میں ہے: كُلُّكُمْ خَطَّاءٌ تم سب خطاکار ہو مگر تم میں بہتر خطاکار وہ ہے جو کہ توبہ کرتا ہے۔ تو جو توبہ کر لیتا ہے تو وہ اپنے گناہ معاف کر لیتا ہے، کروا لیتا ہے۔ تو ایسے لوگ جو ہیں نا خوش نصیب لوگ ہوتے ہیں۔ اور اللہ پاک جب ان کے گناہ معاف فرماتے ہیں، ان کی برائیاں بھی مٹاتے ہیں تو نیک لوگوں میں شامل فرما کر پھر ان کو اپنے پاس بلاتے ہیں۔ اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنْهُمْ۔


                اور اے ہمارے پروردگار! ہمیں وہ کچھ بھی عطا فرمائیے جس کا وعدہ آپ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے ہم سے کیا ہے۔ اور ہمیں قیامت کے دن رسوا نہ کیجیے، یقیناً آپ وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کیا کرتے۔ چنانچہ ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کی (اور کہا )کہ: میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع نہیں کروں گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، تم سب آپس میں ایک جیسے ہو۔ لہٰذا جن لوگوں نے ہجرت کی، انہیں اپنے گھروں سے نکالا گیا، اور میرے راستے میں ان کوتکلیفیں دی گئیں، اور جنہوں نے دین کی خاطر لڑائی لڑی اور قتل ہوئے، میں ان سب کی برائیوں کا ضرور کفارہ کر دوں گا اور انہیں ضرور بالضرور ایسے باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔


                یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انعام ہوگا۔ اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بہترین انعام ہے۔


                تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں وہ اس بات پر یعنی زیادہ زور دینا چاہیے کہ گناہ نہ کریں اور گناہ اگر ہو جائے تو فوراً توبہ کریں۔ اور اللہ تعالیٰ کا حکم جس وقت جو بھی ہو اس پر عمل کریں۔ جیسے نماز کا وقت آ گیا تو نماز پڑھیں۔ روزے کا وقت آ گیا، روزے کریں۔ زکوٰۃ کا وقت آ گیا، زکوٰۃ دیں۔ حج کا وقت آ گیا، حج کریں۔ جہاد کا وقت آ گیا، جہاد کریں۔ کسی بھی حکم کا وقت آ گیا تو اس وقت اسی حکم پر عمل کر لیں۔ اور اگر کوئی کمی بیشی ہو، اس کو اللہ پاک سے معاف کروا دیں، توبہ کر کے۔ اور اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ ہم یاد رکھیں۔ تو ایسے لوگوں کو اللہ جل شانہ، ما شاء اللہ، وہاں پر بہترین جگہوں پہ رکھے گا اور جو بری جگہیں ہیں دوزخ، اور اس سے اللہ تعالیٰ محفوظ فرما دے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان میں سے فرما دے۔

                وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ









                قرآنی دعائیں، توبہ کی اہمیت اور احکاماتِ الہیٰ کی بجا آوری - درسِ قرآن - پہلا دور