تکوینی اور تشریعی احکاماتِ الٰہی کا فرق اور میثاقِ انبیاء

درس نمبر 126: سورۃ ال عمران، آیت نمبر 81

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مدینہ منورہ - مدینہ منورہ
  • سورہ آل عمران کی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت اور ترجمہ (میثاقِ انبیاء)۔
    • کائنات کی ہر مخلوق کا خوشی یا ناچاری سے اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنا۔
      • احکامات کی دو بڑی اقسام: تشریعی احکامات اور تکوینی احکامات۔
        • تشریعی احکامات کی نوعیت: یہ مکلف مخلوقات (انسان و جن) کے ارادے پر منحصر ہیں، جن پر عمل سے ثواب اور خلاف ورزی پر عذاب ہوتا ہے۔
          • تکوینی احکامات کی نوعیت: یہ کائنات کے انتظامی فیصلے ہیں (جیسے بیماری، طوفان، مصیبت) جن پر سب انسان بے بس ہیں اور یہ نافذ ہو کر رہتے ہیں۔
            • تکوینی حالات پر انسان کے ردعمل (صبر یا شکر) کا تشریعی پہلو اور اس کا اجر و نقصان۔

              اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔

              وَإِذْ أَخَذَ اللهُ مِيْثَاقَ النَّبِيِّينَ لَمَٓا اٰتَيْتُكُمْ مِنْ كِتٰبٍ وَحِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُصَدِّقٌ لِمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهِ وَلَتَنْصُرُنَّهُ ۚ قَالَ أَأَقْرَرْتُمْ وَأَخَذْتُمْ عَلٰی ذٰلِكُمْ إِصْرِي ۖ قَالُوْٓا أَقْرَرْنَا ۚ قَالَ فَاشْهَدُوْا وَأَنَا مَعَكُمْ مِنَ الشٰهِدِيْنَ﴿81﴾

              اور (ان کو وہ وقت یاد دلاؤ) جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ: "اگر میں تم کو کتاب اور حکمت عطا کروں، پھر تمہارے پاس کوئی رسول آئے جو اس (کتاب) کی تصدیق کرے جو تمہارے پاس ہے، تو تم اس پر ضرور ایمان لاؤ گے، اور ضرور اس کی مدد کرو گے۔" اللہ نے (ان پیغمبروں سے) کہا تھا کہ: "کیا تم اس بات کا اقرار کرتے ہو اور میری طرف سے دی ہوئی یہ ذمہ داری اٹھاتے ہو؟" انہوں نے کہا تھا: "ہم اقرار کرتے ہیں۔" اللہ نے کہا: "تو پھر (ایک دوسرے کے اقرار کے) گواہ بن جاؤ، اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہی میں شامل ہوں۔"

              فَمَن تَوَلّٰی بَعْدَ ذٰلِكَ فَأُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ ﴿82﴾

              اس کے بعد بھی جو لوگ ہدایت سے منہ موڑیں گے، تو ایسے لوگ ہی نافرمان ہیں۔

              أَفَغَيْرَ دِيْنِ اللهِ يَبْغُونَ وَلَهُ أَسْلَمَ مَن فِی السَّمٰوٰتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَإِلَيْهِ يُرْجَعُوْنَ ﴿83﴾

              اب کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جتنی مخلوقات ہیں، ان سب نے اللہ ہی کے آگے گردن جھکا رکھی ہے، کچھ نے خوشی سے اور کچھ نے چار و ناچار۔ اور اسی کی طرف وہ سب لوٹائے جائیں گے۔

              مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں حکم اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے۔ اہلِ ایمان اللہ کے ہر حکم کو دل و جان سے (تسلیم کرتے ہیں)۔

              اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو مانتے بھی نہ ہوں، ان کو بھی چار و ناچار اللہ کے ان فیصلوں کے آگے سر جھکانا پڑتا ہے جو وہ اس کائنات کے انتظام کے لیے کرتا ہے۔ مثلاً اللہ تعالیٰ اگر کسی کو بیمار کرنے کا فیصلہ فرما لے تو کوئی اسے پسند کرے یا ناپسند، ہر حال میں وہ فیصلہ نافذ ہوکر رہتا ہے اور مومن ہو یا کافر، ایسے فیصلے کے آگے سر جھکائے بغیر کسی کے پاس کوئی چارہ نہیں۔

              یہاں اصل میں ہمیں معلوم ہورہا ہے کہ دو قسم کی باتوں کا ارشاد فرما رہے ہیں۔ ایک تشریعی احکامات ہیں جو مکلف مخلوقات ہیں ان پر ہوتے ہیں اور وہ جو ہے نا مطلب یہ کہ جو اللہ پاک نے ان کو بتایا ہے، اس کی طرف اس پر عمل کرتے ہیں اور اجر پاتے ہیں۔ اور جو نہیں عمل کرتے تو ظاہر ہے ان کو گناہ ہوتا ہے اس کی سزا پائیں گے۔ لیکن جو تکوینی احکامات ہیں وہ ہر مخلوق پر جو ہے نا وہ لاگو ہوتے ہیں چاہے وہ مطلب چاہے، چاہے وہ نہ چاہے۔ جیسے طوفان ہے، بیماریاں ہیں، اور بلائیں ہیں، اور اس طرح مطلب یہ کہ مختلف قسم کی چیزیں ہیں۔ تو یہ جو ہے نا وہ یہ ساری چیزیں انسان کے بس میں نہیں ہے، چاہے وہ خوشی سے مانے یا نہ مانے اسے جو ہے نا مطلب ہے کہ فرق نہیں پڑتا وہ چیزیں ہوکر رہتی ہیں۔

              تو دو قسم کے احکام ہیں، تشریعی احکامات اور تکوینی احکامات۔ تشریعی احکامات میں انسان، مکلف مخلوقات جو ہے نا ان کے ان کے اوپر وہ احکامات نافذ ہوتے ہیں اور جو تکوینی احکامات ہیں وہ سب پر نافذ ہوتے ہیں اور اس میں کسی کے ارادے کا کوئی دخل نہیں ہوتا، نہ ان پر کسی کو ثواب اور عذاب ہوتا ہے۔ ہاں البتہ اس میں جو تشریعی حکم ہوتا ہے اس پر ثواب اور عذاب ہوتا ہے۔ جیسے بیماری میں تو کسی کا بس نہیں چلتا، لیکن کوئی بیمار ہوجائے تو اس پر صبر کرتا ہے تو اجر پاتا ہے، اور اگر بے صبری کرتا ہے تو اس کو نقصان ہوتا ہے۔ یا کسی کو کوئی فائدے کی بات واقعہ ہوجائے تو اس پر شکر کرتا ہے تو اس کو فائدہ ہوتا ہے، اور اگر شکر نہیں کرتا تو اس کو نقصان ہوتا ہے۔

              اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اللہ پاک کے تمام احکامات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)


              تکوینی اور تشریعی احکاماتِ الٰہی کا فرق اور میثاقِ انبیاء - درسِ قرآن - پہلا دور