اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ۔
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيْمِ۔
مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللهُ الْكِتٰبَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللهِ وَلٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِيّٖنَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَبِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَ ﴿79﴾ وَلَا يَأْمُرَكُمْ أَن تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَالنَّبِيّٖنَ أَرْبَابًا ۗ أَيَأْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ إِذْ أَنتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿80﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ
معزز خواتین و حضرات! یہ جو ہمارا جو روزمرہ کا پروگرام ہوتا ہے، قرآن پاک کے درس کا، تو اس کے لیے مسجدِ نبوی ﷺ سے الحمد للہ ریکارڈ کر کے یہاں آپ کو بھیج رہے ہیں، تاکہ آپ بھی اس میں شامل ہو جائیں، اور یہاں کی برکتیں آپ بھی حاصل کر لیں۔ اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرمائے۔
یہ کسی بشر کا کام نہیں کہ اللہ تو اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کرے، اور اس کے باوجود لوگوں سے کہے کہ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ اس کے بجائے، وہ تو یہی کہے گا کہ اللہ والے بن جاؤ۔ کیونکہ تم جو کتاب پڑھاتے رہے ہو اور جو کچھ پڑھتے رہے ہو، اس کا یہی نتیجہ ہونا چاہیے۔
اصل میں عیسائیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا کہا، بلکہ بعض نے خدا کہا، تین میں سے ایک کہا۔ تو۔۔
یہ عیسائیوں کی تردید ہو رہی ہے، جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا مان کر گویا یہ دعویٰ کرتے تھے کہ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ہی ان کو اپنی بات کا حکم دیا ہے۔ یہی حال ان بعض یہودی فرقوں کا تھا جو حضرت عزیر علیہ السلام کو خدا کا بیٹا مانتے تھے۔
اصل میں اللہ جل شانہ کی ذاتِ عالی، وراء الوریٰ ذات ہے۔ اور اللہ پاک کے لیے وہ چیزیں نہیں ثابت کی جا سکتیں جو کہ انسان کے لیے ہیں۔ انسان کے لیے بعض اچھائیاں، جو سمجھی جاتی ہیں، وہ اللہ پاک کے لیے اگر کوئی ثابت کرے گا تو عیب ہوگا۔ جیسے، ایک آدمی کو اچھی نیند آتی ہے، تو Medically Fit ہے، کہتے ہیں کہ اچھا ہے۔
لیکن اللہ پاک کو نیند نہیں آتی۔ اللہ پاک کو اونگھ بھی نہیں آتی۔ اچھا، اللہ جل شانہ کی اب ظاہر ہے، اس کی بیوی بھی نہیں، اللہ پاک کی اولاد بھی نہیں ہے۔ اللہ پاک کو نہ کسی نے جنا، نہ اس نے کسی کو جنا۔ تو یہ ساری باتیں جو ہیں نا، یہ مخلوق کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے لیے ان کو کہنا، یہ اللہ تعالیٰ کی شان میں بہت بڑی بے ادبی ہے اور بہت بڑی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سے بچائے۔
بہر حال عیسائیوں میں اور یہودیوں میں اس قسم کی باتیں چلی تھیں، تو اللہ پاک نے اس کی تردید فرمائی ہے۔
"اور نہ وہ تمہیں یہ حکم دے سکتا ہے کہ فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا قرار دے لو"
ظاہر ہے پیغمبر آتا اس لیے ہے کہ اللہ پاک کا حکم لوگوں کو سمجھائے، اللہ پاک کا حکم لوگوں کو بتائے۔ یہ تو، ظاہر ہے کہ ان کا کام ہے۔ تو وہ کیسے یہ کر سکتا ہے کہ کسی اور کے بارے میں کہہ دے کہ ان کو خدا بنا لو؟ یہ تو پیغمبرانہ وظیفے کے خلاف ہے۔ تو یہ جنہوں نے بھی کیا ہے، یہ لوگوں کی حماقت اور جہالت اور قساوت ہے۔
" اور جب تم مسلمان ہو چکے، تو کیا اس کے بعد وہ تمہیں کفر اختیار کرنے کا حکم دے گا؟
اللہ پاک ہم سب کو ایسے غلط عقائد اور غلط نظریات سے محفوظ فرمائے، اور صحیح عقائد پر استقامت نصیب فرمائے۔ اور ہمارے تمام عقیدوں کو بہترین کر لے، اور پھر اسی پہ قائم رکھے، اور ہماری موت بھی اسی پر کرے، اور اللہ جل شانہ ہم سے اس پر راضی ہو، اور ایسے راضی ہو کہ کبھی ناراض نہ ہو۔
اَللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ اَللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا وَاسِعًا وَشِفَاءً مِنْ كُلِّ دَاءٍ۔ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ۔ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ۔ اَللّٰهُمَّ ارْزُقْنِي شَهَادَةً فِي سَبِيلِكَ وَاجْعَلْ مَوْتِي فِي بَلَدِ رَسُولِكَ۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ