امتِ محمدیہ ﷺ کے لیے رمضان المبارک کے پانچ خصوصی انعامات

فضائل رمضان، فصل اول، رمضان کی فضیلت

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • رمضان میں امتِ محمدیہ ﷺ کی پانچ خصوصیات۔
    • روزہ دار کے منہ کی بدبو (خلوف) کی اللہ کے ہاں قدر و قیمت۔
      • مچھلیوں اور ملائکہ کا روزہ داروں کے لیے استغفار۔
        • جنت کی آرائش اور اللہ تعالیٰ کی بندوں کو ترغیب۔
          • سرکش شیاطین کی قید اور گناہوں میں کمی کی وجوہات۔
            • شبِ قدر اور مزدور کی مزدوری (شبِ عید) میں فرق۔
              • رمضان کے بعد اعمال میں سستی کا مشاہدہ۔

                الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خاتم النبيين. أما بعد! فاعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم.

                معزز خواتین و حضرات! یہ فضائلِ اعمال میں جو فضائلِ رمضان ہے، اس سے ایک حدیث شریف ہم بیان کرتے ہیں تاکہ رمضان شریف کے بارے میں ہمیں پتہ چل جائے۔ کہ اس کے کیا فضائل ہیں۔

                2- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم ﷺ سے نقل کیا کہ میری امت کو رمضان شریف کے بارے میں پانچ چیزیں مخصوص طور پر دی گئی ہیں جو پہلی امتوں کو نہیں ملی ہیں:

                (1) یہ کہ ان کے منہ کی بدبو اللہ کے نزدیک مشک سے زیادہ پسندیدہ ہے۔

                (2) یہ کہ ان کے لئے دریا کی مچھلیاں تک دعا کرتی ہیں اور افطار کے وقت تک کرتی رہتی ہیں۔

                (3) جنت ہر روز ان کیلئے آراستہ ہو جاتی ہے پھر حق تعالیٰ شانہٗ فرماتے ہیں کہ قریب ہے کہ میرے نیک بندے (دنیا کی) مشقتیں اپنے اوپر سے پھینک کر تیری طرف آویں۔

                (4)اس میں سرکش شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں کہ وہ رمضان میں ان برائیوں کی طرف نہیں پہنچ سکتے جن کی طرف غیر رمضان میں پہنچ سکتے ہیں۔

                (5) رمضان کی آخری رات میں روزہ داروں کے لئے مغفرت کی جاتی ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ یہ شبِ مغفرت شبِ قدر ہے؟ فرمایا: نہیں، بلکہ دستور یہ ہے کہ مزدور کو کام ختم ہونے کے وقت مزدوری دے دی جاتی ہے۔"

                نبی کریم ﷺ نے اس حدیثِ پاک میں پانچ خصوصیتیں ارشاد فرمائی ہیں، جو اس امت کے لئے حق تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے مخصوص انعام ہوئیں اور پہلی امت کے روزہ داروں کو مرحمت نہیں ہوئیں۔ کاش! ہمیں اس نعمت کی قدر ہوتی اور ان خصوصی عطایا کے حصول کی کوشش کرتے۔

                اول یہ کہ روزہ دار کے منہ کی بدبو جو بھوک کی حالت میں ہو جاتی ہے، حق تعالیٰ شانہٗ کے نزدیک مشک سے بھی زیادہ پسندیدہ ہے۔ شُراحِ حدیث کے اس لفظ کے مطلب میں آٹھ قول ہیں جن کو 'موطا' کی شرح میں بندہ مفصل نقل کر چکا ہے، مگر بندہ کے نزدیک ان میں سے تین قول راجح ہیں: اول یہ کہ حق تعالیٰ شانہٗ آخرت میں اس بدبو کا بدلہ اور ثواب خوشبو سے عطا فرمائیں گے، جو مشک سے زیادہ عمدہ اور دماغ پرور ہوگی، یہ مطلب تو ظاہر ہے اور اس میں کچھ بُعد بھی نہیں، نیز "دُرِ منثور" کی ایک روایت میں اس کی تصریح بھی ہے، اس لئے یہ بمنزلہ متعین کے ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ قیامت میں جب قبروں سے اٹھیں گے تو یہ علامت ہوگی کہ روزہ دار کے منہ سے ایک خوشبو جو مشک سے بھی بہتر ہوگی وہ آئے گی۔ تیسرا مطلب جو بندہ کی ناقص رائے میں ان دونوں سے اچھا ہے، وہ یہ کہ دنیا ہی میں اللہ کے نزدیک اس بو کی قدر مشک کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے اور یہ امر باب المحبت سے ہے، جس کو کسی سے محبت و تعلق ہوتا ہے اس کی بدبو بھی فریفتہ کے لئے ہزار خوشبوؤں سے بہتر ہوا کرتی ہے۔

                اے حافظِ مسکین چہ کنی مشکِ ختن را

                از گیسوئے احمد بستان عطرِ عدن را

                مطلب حافظ شیرازی رحمۃ اللہ علیہ کا ہے کہ تجھے مشک سے کیا وہ ہے... آپ ﷺ کی جو زلف ہیں اس کی جو خوشبو ہے وہ تو عطرِ عدن اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔

                مقصود روزہ دار کا کمالِ تقرب ہے کہ بمنزلہ محبوب کے بن جاتا ہے۔ روزہ حق تعالیٰ شانہٗ کی محبوب ترین عبادتوں میں سے ہے، اسی وجہ سے ارشاد ہے کہ ہر نیک عمل کا بدلہ ملائکہ دیتے ہیں، مگر روزہ کا بدلہ میں خود عطا کرتا ہوں، اس لئے کہ وہ خالص میرے لئے ہے۔ بعض مشائخ سے منقول ہے کہ یہ لفظ "اُجْزٰی بِہٖ" ہے۔

                سبحان اللہ! "اَجْزِي" اور "اُجْزٰی"۔

                یعنی یہ کہ اس کے بدلے میں میں خود اپنے کو دیتا ہوں اور محبوب کے ملنے سے زیادہ اونچا بدلہ اور کیا ہو سکتا ہے۔

                ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ ساری عبادتوں کا دروازہ روزہ ہے ، یعنی روزہ کی وجہ سے قلب منور ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے ہر عبادت کی رغبت پیدا ہوتی ہے، مگر جب ہی کہ روزہ بھی روزہ ہو، صرف بھوکا رہنا مراد نہیں، بلکہ آداب کی رعایت رکھ کر جن کا بیان حدیث نمبر 9 کے ذیل میں مفصل آئے گا۔

                اس جگہ ایک ضروری مسئلہ قابلِ تنبیہ یہ ہے کہ اس منہ کی بدبو والی حدیثوں کی بناء پر بعض ائمہ روزہ دار کو شام کے وقت مسواک کرنے کو منع فرماتے ہیں۔ حنفیہ کے نزدیک مسواک ہر وقت مستحب ہے، اس لئے کہ مسواک سے دانتوں کی بو زائل ہوتی ہے اور حدیث میں جس بو کا ذکر ہے، وہ معدہ کے خالی ہونے کی ہے نہ کہ دانتوں کی۔ حنفیہ کے دلائل اپنے موقع پر کتبِ فقہ و حدیث میں موجود ہیں۔

                دوسری خصوصیت مچھلیوں کے استغفار کرنے کی ہے، اس سے مقصود کثرت سے دعا کرنے والوں کا بیان ہے۔ متعدد روایات میں یہ مضمون وارد ہوا ہے، بعض روایات میں ہے کہ ملائکہ اس کیلئے استغفار کرتے ہیں ، میرے چچا جان کا ارشاد ہے کہ مچھلیوں کی خصوصیت بظاہر اس وجہ سے ہے کہ اللہ جل شانہٗ کا ارشاد ہے ﴿اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا﴾ (مریم: 96) "جو لوگ ایمان لائے اور اچھے اعمال کئے حق تعالیٰ شانہٗ ان کے لئے (دنیا میں) محبوبیت فرمادیں گے۔" اور حدیثِ پاک میں ارشاد ہے کہ جب حق تعالیٰ شانہٗ کسی بندے سے محبت فرماتے ہیں تو جبرئیل علیہ السلام سے ارشاد فرماتے ہیں کہ مجھے فلاں شخص پسند ہے تم بھی اس سے محبت کرو، وہ خود محبت کرنے لگتے ہیں اور آسمان پر آواز دیتے ہیں کہ فلاں بندہ اللہ کا پسندیدہ ہے، تم سب اس سے محبت کرو۔ پس اس آسمان والے اس سے محبت کرتے ہیں اور پھر اس کے لئے زمین پر قبولیت رکھ دی جاتی ہے۔ اور عام قاعدہ کی بات ہے کہ ہر شخص کی محبت اس کے پاس رہنے والوں کو ہوتی ہے، لیکن اس کی محبت اتنی عام ہوتی ہے کہ آس پاس رہنے والوں ہی کو نہیں، بلکہ دریا کے رہنے والے جانوروں کو بھی اس سے محبت ہوتی ہے، کہ وہ بھی دعا کرتے ہیں اور گویا برّ (زمین) سے متجاوز ہو کر بحر تک پہنچنا محبوبیت کی انتہا ہے، نیز جنگل کے جانوروں کا دعا کرنا بطریقِ اولٰی معلوم ہو گیا۔

                تیسری خصوصیت جنت کا مزین ہونا ہے، یہ بھی بہت سی روایات میں وارد ہوا ہے، بعض روایات میں آیا ہے کہ سال کے شروع ہی سے رمضان کے لئے جنت کو آراستہ کرنا شروع ہو جاتا ہے، اور قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص کے آنے کا جس قدر اہتمام ہوتا ہے، اتنا ہی پہلے سے اس کا انتظام کیا جاتا ہے۔ شادی کا اہتمام مہینوں پہلے سے کیا جاتا ہے۔

                چوتھی خصوصیت سرکش شیاطین کا مقید ہو جانا ہے کہ جس کی وجہ سے معاصی کا زور کم ہو جاتا ہے۔ رمضان المبارک میں رحمت کے جوش اور عبادت کی کثرت کا مقتضیٰ (تقاضا) یہ تھا کہ شیاطین بہکانے میں بہت ہی ان تھک کوشش کرتے اور ایڑی چوٹی کا زور ختم کر دیتے، اور اس وجہ سے معاصی کی کثرت اس مہینہ میں اتنی ہو جاتی کہ حد سے زیادہ، لیکن باوجود اس کے یہ مشاہدہ ہے اور محقق کہ مجموعی طور سے گناہوں میں بہت کمی ہو جاتی ہے، کتنے شرابی کبابی ایسے ہیں کہ رمضان میں خصوصیت سے نہیں پیتے اور اسی طرح اور گناہوں میں بھی کھلی کمی ہو جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود گناہ ہوتے ضرور ہیں، مگر ان کے سرزد ہونے سے حدیث پاک میں تو کوئی اشکال نہیں، اس لئے کہ اس کا مضمون ہی یہ ہے کہ سرکش شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں، اس بناء پر اگر وہ گناہ غیر سرکشوں کا اثر ہو، تو کچھ خلجان نہیں۔ البتہ دوسری روایات میں سرکش کی قید کے بغیر مطلقاً شیاطین کے مقید ہونے کا ارشاد بھی موجود ہے، پس اگر ان روایات سے بھی سرکش شیاطین کا ہی قید ہونا مراد ہے، کہ بسا اوقات لفظِ مطلق بولا جاتا ہے مگر دوسری جگہ سے اس کی قیودات (شرائط) معلوم ہو جاتی ہیں، تب بھی کوئی اشکال نہیں رہا۔ البتہ اگر ان روایات سے سب شیاطین کا محبوس ہونا مراد ہو، تب بھی ان معاصی کے صادر ہونے سے کچھ خلجان نہ ہونا چاہیئے، اس لئے کہ اگرچہ معاصی (گناہ) عموماً شیاطین کے اثر سے ہوتے ہیں، مگر سال بھر تک ان کے تلبس اور اختلاط اور زہریلے اثر کے جماؤ کی وجہ سے نفس ان کے ساتھ اس درجہ مانوس اور متاثر ہو جاتا ہے، کہ تھوڑی بہت غَیبت (غیر موجودگی) محسوس نہیں ہوتی، بلکہ وہی خیالات اپنی طبیعت بن جاتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ بغیر رمضان کے جن لوگوں سے گناہ زیادہ سرزد ہوتے ہیں، رمضان میں بھی انہی سے زیادہ تر صادر ہوتا ہے اور آدمی کا نفس چونکہ ساتھ رہتا ہے، اسی لئے اس کا اثر ہے۔

                یہ بات... جو ہے نا... ہم خود مشاہدہ کرتے ہیں کہ جیسے ہی رمضان شریف شروع ہو جاتا ہے تو مسجدیں بھر جاتی ہیں۔ اور 29 رکعات پڑھنے والے آ جاتے ہیں۔ اور جس وقت عید ہوتی ہے نا، عید کی رات، تو 29 سے 9 ہو جاتی ہیں۔ لیکن شیطان کُھل جاتا ہے تو... جب آٹھ صفیں ہوتی ہیں مسجد میں تو اس میں دو صفیں یا ڈھائی صفیں رہ جاتی ہیں پھر۔ یعنی 25 فیصد لوگ رہ جاتے ہیں، 75 فیصد اُڑ جاتے ہیں۔ تو بس اس کا مطلب ہے کہ کوئی چیز تو ہے نا جس کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔

                تو بس ہم لوگوں کو اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرمائے کہ رمضان شریف کی قدر کریں۔ اور رمضان شریف کے جتنے بھی اعمال ہیں ان میں سستی نہ کریں۔

                وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين. رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

                امتِ محمدیہ ﷺ کے لیے رمضان المبارک کے پانچ خصوصی انعامات - فضائل رمضان