الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبیین
اما بعد فاعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
إِنَّ أَوْلَى النَّاسِ بِإِبْرَاهِيْمَ لَلَّذِيْنَ اتَّبَعُوْهُ وَهٰذَا النَّبِيُّ وَالَّذِيْنَ آمَنُوا وَاللهُ وَلِيُّ الْمُؤْمِنِيْنَ ﴿68﴾ وَدَّت طَّآئِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَوْ يُضِلُّوْنَكُمْ وَمَا يُضِلُّوْنَ إِلَّا أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُوْنَ ﴿69﴾ يَآ أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِآيَاتِ اللهِ وَأَنتُمْ تَشْهَدُوْنَ ﴿70﴾ يَآ أَهْلَ الْكِتَابِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَأَنتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿71﴾
صدق اللہ العلی العظیم۔
ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تعلق کے سب سے زیادہ حق دار وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی، نیز یہ نبی (آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم) اور وہ لوگ ہیں جو (ان پر) ایمان لائے ہیں۔ اور اللہ مومنوں کا کارساز ہے ﴿68﴾ (مسلمانو!) اہل کتاب کا ایک گروہ یہ چاہتا ہے کہ تم لوگوں کو گمراہ کردے، حالانکہ وہ اپنے سوا کسی اور کو گمراہ نہیں کررہے، اگرچہ انہیں اس کا احساس نہیں ہے ﴿69﴾ اے اہل کتاب! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود (ان کے من جانب اللہ ہونے کے) گواہ ہو؟ ﴿70﴾ اے اہل کتاب! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں گڈ مڈ کرتے ہو اور کیوں جان بوجھ کر حق بات کو چھپاتے ہو؟ ﴿71﴾
ان آیات سے جو کہ ابھی اس کا ذکر ہوا ہے، سے مراد تورات اور انجیل کی وہ آیتیں ہیں جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تشریف آوری کی خبر دی گئی تھی، اور مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تم تورات اور انجیل کے من جانب اللہ ہونے کی گواہی دیتے ہو، اور دوسری طرف ان پیشینگوئیوں کے مصداق یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار کرتے ہو جو بالواسطہ ان آیتوں کا انکار ہے۔
یہ اصل میں حسد ایک ایسی عجیب بیماری ہے، جو انسان کو جان بوجھ کر غلط طرف لے جاتا ہے۔ یعنی انسان جانتا ہے پھر بھی غلط طرف جاتا ہے۔ سب سے بڑی مثال شیطان ہے۔ شیطان کو آدم عليه السلام کے ساتھ حسد ہوا۔ اس حسد کی وجہ سے وہ جانتا تھا کہ یہ تو اللہ پاک کا برگزیدہ بندہ ہے، اور نبی ہیں۔ لیکن چونکہ حسد تھا لہٰذا سخت مخالفت کی یعنی اس کو غلط طریقے کی طرف لے جانے کی کوشش کی۔
اور اب بنی آدم کی اولاد اس کے بارے میں جو اس نے کہا تھا کہ میں دائیں سے آؤں گا، بائیں سے آؤں گا، آگے سے، پیچھے سے، ان کو تجھ تک نہیں پہنچنے دوں گا، اس کے اوپر لگا ہوا ہے۔ حالانکہ وہ جانتا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔
دوسرے وہ جو اہل کتاب ہیں، جو اپنی کتابوں میں آپ ﷺ کی پیشین گوئیاں خود پڑھ چکے ہیں۔ اور جانتے ہیں کہ یہ وہی نبی ہیں۔ اس کے باوجود وہ ان کی مخالفت کر رہے ہیں۔ تو سمجھو کہ وہ تو جان بوجھ کر ہی کر رہے ہیں۔ یعنی ان کو یہ بات تو نہیں کہ لاعلمی ہے۔ لاعلمی کی وجہ سے ہونا اور علم کی وجہ سے ہونے کی ایک بڑی مثال ہے۔
وہ عیسائیوں کا ایک وفد آ رہا تھا۔ ان میں ایک پادری تھے۔ اس کا بھائی تھا۔ پادری جانتے تھے اور وہ بھائی نہیں جانتا، وہ جاہل تھا۔ ان کے ہاں رواج یہ تھا کہ جب گھوڑا کسی کا بدکتا تھا تو وہ اپنے دشمن کو گالی دیتے تھے۔ تو اس کا گھوڑا بدکا تو -نعوذ باللہ من ذلک- اس نے آپ ﷺ کو گالی دی۔ تو بے ساختہ اس پادری نے کہا کہ ان کو گالی نہ دو، وہ نبی ہیں۔ اب جب اس نے یہ کہہ دیا تو اس نے سوال کیا کہ اچھا اگر وہ نبی ہے تو پھر ان کی مخالفت کیوں کرتے ہو؟ پھر ان کو مانتے کیوں نہیں؟ تو اس سے کوئی جواب نہیں پڑا تو اس نے کہا کہ پھر یہ ساری چیزیں جو ہماری ہیں وہ تو نہیں رہیں گی۔ مطلب ہمیں یہ Privileges نہیں حاصل ہوں گی۔
تو اس بھائی کو پتہ چل گیا کہ یہ تو دنیا کی بات ہے، یہ تو حق کی بات نہیں ہے۔ لیکن تھا وہ straightforward، لہٰذا فوراً اس نے گھوڑے کی باگیں کھینچ لیں اور مدینہ منورہ کی طرف دوڑنا شروع کیا۔ وہ چیختے رہ گئے لیکن وہ نہیں واپس آیا۔ وہ سیدھا مدینہ منورہ جا کے آپ ﷺ پر ایمان لایا۔ اور پھر بعد میں ایک جہاد میں شہید ہوئے۔
اب دیکھ لیں۔ یہ لاعلم تھے۔ ان کو پتہ نہیں تھا۔ پتہ نہ ہونے کی وجہ سے مخالفت کر رہے تھے۔ تو اس کو جب پتہ لگ گیا تو فوراً ایمان لائے۔ دوسرا اس کے بھائی کو پتہ تھا، لہٰذا وہ ایمان نہیں لایا۔ وہ اپنی جہالت پہ جمے رہے۔
جو جہالت علم اور حسد کی وجہ سے ہو وہ پھر ابوجہل بنتا ہے۔ سمجھ میں آ گئی بات؟ پھر وہ جاہلوں کا باپ بنتا ہے۔ اس طرح ابوجہل بھی تو جانتا تھا۔ لیکن یہ ہے کہ وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتا تھا۔ جانتا تھا لیکن تسلیم نہیں کرتا تھا۔
تو یہاں پر یہ بات ہے کہ ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ حالانکہ تم ان کو جانتے ہو لیکن اس کے باوجود تم ان کی مخالفت کرتے ہو۔
پھر یہ فرمایا، اے اہل کتاب! تم حق کو باطل کے ساتھ کیوں گڈمڈ کرتے ہو؟ باطل کے ساتھ حق کو گڈمڈ کرنا یعنی تم حق بات بھی کرتے ہو اور باطل بات بھی کرتے ہو۔ یہ کیوں کرتے ہو؟ اور کیوں جان بوجھ کر حق بات کو چھپاتے ہو؟
وَقَالَت طَّائِفَةٌ مِّنْ أَهْلِ الْكِتَابِ آمِنُوْا بِالَّذِيْ أُنزِلَ عَلَى الَّذِيْنَ آمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَاكْفُرُوْا آخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ ﴿72﴾
اہل کتاب کے ایک گروہ نے (ایک دوسرے سے) کہا ہے کہ: "جو کلام مسلمانوں پر نازل کیا گیا ہے، اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آؤ، اور دن کے آخری حصے میں اس سے انکار کر دینا، شاید اس طرح مسلمان (بھی اپنے دین سے) پھر جائیں۔ ﴿72﴾
یہ ایک نفسیاتی حربہ تھا۔ کہ یہود نے، جو کہ بہت شاطر ہیں، ابھی بھی اس طرح کرتے ہیں وہ سارا کچھ۔
بعض یہودیوں نے مسلمانوں کو اسلام سے برگشتہ کرنے کے لیے یہ اسکیم بنائی تھی کہ ان میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت اسلام لانے کا اعلان کر دیں، اور پھر شام کو یہ کہہ کر اسلام سے پھر جائیں کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قریب سے جا کر دیکھ لیا، آپ وہ پیغمبر نہیں ہیں جن کی خبر تورات میں دی گئی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح کچھ مسلمان یہ سوچ کر اسلام سے برگشتہ ہو سکتے ہیں کہ یہ لوگ جو تورات کے عالم ہیں جب اسلام میں داخل ہونے کے بعد بھی اس نتیجے پر پہنچے ہیں تو ان کی بات میں ضرور وزن ہوگا۔
یہ دیکھو یہ اب بھی اس طرح کرتے ہیں، نفسیاتی حربے استعمال کرتے ہیں۔ اور یہ سوشل میڈیا تو اس کا بہت زبردست Tool ہے کہ وہ اس طریقے سے بات کرتے ہیں نا کہ سب باتیں Favor کی کریں گے، کریں گے، کریں گے، درمیان میں ایک بات ایسی ہوگی جس میں شک کے پہلو ڈال لیں گے۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ یہی ہے۔ اس پر Research کرنا چاہیے۔ تو Research کرنے کا مطلب یہ ہے کہ یعنی ایمان ہے نا ایمان۔ ایمان اور شک ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جب شک ہو گیا تو ایمان تو نہیں رہا نا۔ جب کسی چیز میں شک ہو گیا تو ایمان تو پھر نہیں رہا نا۔ تو یہی بات ہے کہ وہ صرف شک ڈالنا چاہتے ہیں۔ شک ڈال دیا تو بس انہوں نے کام اپنا کر لیا۔
تو یہ اس وجہ سے ان کی باتوں میں نہیں آنا چاہیے۔ ہم ماشاءاللہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے، اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دی ہے اس مسئلے میں۔ اور الحمدللہ ہم حق پر ہیں۔ ہم بجائے کہ ان کی باتیں سنیں ہم کیوں نہ قرآن اور سنت کی بات سنیں؟
اصل میں یہ بھی ایک ان کا ہے حیلہ. تو اس طرح یہ بھی ان کا ایک حیلہ ہے، "Broad-minded" یہ ایک اصطلاح انہوں نے نکالی ہے۔ جیسے دہشت گرد ایک اصطلاح نکالی ہے نا، ہر وہ آدمی جو ان کا مخالف ہو وہ دہشت گرد ہے۔ اور Broad-minded جو ان کی باتوں کو صحیح جانے وہ Broad-minded ہے۔ اور جو ان کی باتوں کو صحیح نہ جانے وہ تنگ نظر ہے۔ یہ ان لوگوں نے یہ اصطلاح نکالی ہے۔
تو ہم ان کی باتوں میں نہ جائیں، ہم کہتے ہیں بھئی ٹھیک ہے اگر وہ ہمیں تنگ نظر کہتے ہیں تو ہم کہتے ہیں بھئی سو بار ہم تنگ نظر ہیں۔ ہم اتنے وسیع النظر نہیں ہو سکتے کہ ہم اسلام کے خلاف بات کر لیں۔ یہ تو ہماری ہے اس کو تو ہمیں ماننا ہے۔ اس میں تو ہمیں کوئی دوسری بات نہیں کرنی۔ یہ بات ہے۔ یہی ان کا توڑ ہے۔ کیوں، وجہ کیا ہے؟ کہ Broad-minded بننے کے لیے اگر خدانخواستہ اسلام کی کسی بات کے خلاف ہم بات کریں، تو اپنا کباڑہ کر دیں گے۔ وہ اگر ہماری تعریف بھی کر دیں گے تو کیا کریں گے؟ کیا فائدہ؟
تو یہ بات ضروری ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو ان کے ہتھکنڈوں سے محفوظ فرمائے۔
واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔