غزوہِ احد کے اسباق: اسباب کا اختیار اور شہادت کی فضیلت

درس نمبر 142: سورۃ ال عمران، آیت نمبر 140 تا 143

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ - نزد گاڑہ، خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، جہانگیرہ
  • سورہ آل عمران کی آیات کی روشنی میں غزوہ احد کے نقصانات کی حکمت۔
    • اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان والوں کا امتحان اور ان کا تزکیہ (صفائی)۔
      • تجارت اور سود کی مثال کے ذریعے اسباب اور محنت (effort) کا بیان۔
        • دینی اور دنیاوی امور میں اسباب کو اختیار کرنے کی اہمیت اور مسبب الاسباب پر بھروسہ۔
          • مسلمان کے لیے غازی اور شہید ہونے کے بے مثال درجات اور کفار کے مقابلے میں اس کا فرق۔
            • موت اور شہادت کی تمنا اور اللہ کی طرف سے اس کی قبولیت۔

              الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ. أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ. إِنْ يَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ ۗ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ. وَلِيُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ. أَمْ حَسِبْتُمْ أَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِينَ جَاهَدُوا مِنْكُمْ وَيَعْلَمَ الصَّابِرِينَ. وَلَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَلْقَوْهُ فَقَدْ رَأَيْتُمُوهُ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ. صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

              اگر تمہیں ایک زخم لگا ہے، تو ان لوگوں کو بھی اسی جیسا زخم پہلے لگ چکا ہے۔ یعنی ہمارے، یعنی مسلمانوں کے جو حضرات شہید ہوئے تھے، تو اتنے ہی جنگ بدر میں کفار کے بھی مارے گئے تھے، اور ستر قید بھی کیے گئے تھے۔ یہ تو آتے جاتے دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان باری باری بدلتے رہتے ہیں۔ اور مقصد یہ تھا کہ اللہ ایمان والوں کو جانچ لے، اور تم میں سے کچھ لوگوں کو شہید قرار دے۔

              اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ اصل میں تجارت ہے نا تجارت، یہ جائز ہے، اس میں نفع بھی ہوتا ہے، نقصان بھی ہو جاتا ہے۔ سود ناجائز ہے کیونکہ اس میں، مطلب، جو ظاہری نقصان ہے وہ نہیں ہوتا؛ یعنی اس پر ہمیشہ وہ پیسے مزید لیتے ہیں۔ پیسوں کی بنیاد پر پیسے لیتے ہیں۔ اس میں کوئی مزید effort نہیں ہوتا۔

              تو یہ جو، مطلب، اگر صرف کفار کو شکست ہوتی رہتی تو امتحان ختم ہو جاتا۔ یعنی امتحان والی بات تو پھر نہ رہتی۔ تو امتحان والی بات کو سامنے لانے کے لیے حالات ایسے بن گئے کہ مسلمانوں کو بھی نقصان ہوا۔ تو اس میں ایک تو یہ فائدہ ہوا کہ جس غلطی کی وجہ سے ہوا تھا، اس پر تنبیہ ہو گئی۔ اور یہ بھی بات ہو گئی کہ مطلب یہ ہے کہ کوشش جاری رکھنی چاہیے، یہ نہیں کہ صرف اس بنیاد پر فتح ہوگی کہ ہم مسلمان ہیں۔ جو اسباب ہیں، ان کو بھی اختیار کرنے کے لیے فرمایا کہ بھئی اسباب کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔ جیسے: وَأَعِدُّوا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ؛ یعنی جتنی تمہیں مطلب، یعنی وہ ہے، مطلب استطاعت ہے، اتنی، جو ہے نا، کوشش کرنی چاہیے۔ سامان، یعنی اسباب جمع کرنے چاہئیں۔

              تو یہ بات ضروری ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ جب دنیا میں کوئی کام کرتا ہے نا دنیا میں، تو اس میں تو اسباب والا پہلو غالب رہتا ہے۔ آدمی کسی سبب کو چھوڑتا نہیں ہے۔ جب دین کا کام کرتے ہیں، کہتے ہیں بس یہ خدائی کرے گا۔ مطلب، ہم اپنے لوگوں کی بات کر رہے ہیں، ہم ظاہر ہے ان کی بات تو نہیں کرتے۔ لیکن یہ ہے کہ اپنے لوگوں کی بات کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں بس ٹھیک ہے جی، اب تو دین کا کام ہے، وہ تو خدائی کرے گا۔ اس میں اسباب کی طرف نہیں جاتے۔ نہیں، وہاں بھی اسباب کو اختیار کرنا چاہیے، اور پھر اس کے بعد اللہ پاک سے مانگنا بھی چاہیے۔ یہ سنت ہے۔

              یا اللہ! پھر اس میں ایک اور فائدے کا بتایا کہ شہید... تو شہید کا تو بہت بڑا مرتبہ ہے۔ تو یہ مرتبہ جب اللہ پاک نے... کفار تو ویسے ہی چلے جاتے ہیں نا، مطلب، وہ تو ختم ہو گئے بلاوجہ ہی، جس کو کہتے ہیں مطلب، نقصان ہی نقصان ہے۔ لیکن مسلمانوں کا تو یہ ہے کہ مسلمان اگر غازی ہے تب بھی فائدہ ہے، شہید ہے تب بھی، تب بھی فائدہ ہے۔ ان کے لیے کوئی نقصان نہیں ہے۔ اور مقصد یہ بھی تھا کہ اللہ ایمان والوں کو میل کچیل سے نکھار کر رکھ دے اور کافروں کو ملیا میٹ کر ڈالے۔ بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یوں ہی جنت کے اندر جا پہنچو گے؟ حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا جو ثابت قدم رہنے والے ہیں۔

              وہی امتحان والی بات جو میں نے عرض کی تھی۔ اور تم تو خود موت کا سامنا کرنے سے پہلے شہادت کی موت کی تمنا کیا کرتے تھے۔ یعنی یہ والی بات کہ مسلمانوں کو تو شہادت کی موت کا انتظار رہتا تھا۔ جو لوگ جنگ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، وہ شہدائے بدر کی فضیلت سن کر تمنا کیا کرتے تھے کہ کاش ہمیں بھی شہادت کا رتبہ نصیب ہوتا۔ تو یہ بات ہے کہ اللہ پاک تو دلوں کا مالک ہے، سب چیزیں جانتا ہے۔ تو اللہ پاک نے یہ بھی فرما... بات فرما دی کہ تم تو خود تمنا کرتے تھے، اب تمہاری تمنا پوری ہو گئی تو بس۔ چنانچہ اب تم نے کھلی آنکھوں اسے دیکھ لیا ہے۔

              اللہ جل شانہٗ ہم سب کو اسباب کو اختیار کرنا اور پھر مسبب الاسباب پر بھروسہ کرنا، یہ ہمیں سکھا دے، اور اس پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ پاک اب اس سب پر ہم سے راضی ہو جائے۔

              تجزیہ اور خلاصہ: بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org) سب سے جامع عنوان: غزوۂ احد کے اسباق: اسباب کا اختیار اور شہادت کی فضیلت متبادل عنوان: دین اور دنیا کے کاموں میں اسباب اور توکل کا توازن اہم موضوعات: سورۂ آل عمران کی آیات کی روشنی میں غزوۂ احد کے نقصانات کی حکمت۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایمان والوں کا امتحان اور ان کا تزکیہ (صفائی)۔ تجارت اور سود کی مثال کے ذریعے اسباب اور محنت (effort) کا بیان۔ دینی اور دنیاوی امور میں اسباب کو اختیار کرنے کی اہمیت اور مسبب الاسباب پر بھروسہ۔ مسلمان کے لیے غازی اور شہید ہونے کے بے مثال درجات اور کفار کے مقابلے میں اس کا فرق۔ موت اور شہادت کی تمنا اور اللہ کی طرف سے اس کی قبولیت۔

              خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورۂ آل عمران کی آیات کی تشریح کرتے ہوئے غزوۂ احد میں مسلمانوں کو پہنچنے والے جانی نقصان کی حکمتیں بیان فرمائی ہیں۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سمجھایا کہ اللہ تعالیٰ ان حالات کے ذریعے ایمان والوں کا امتحان لیتا ہے، انہیں گناہوں سے پاک کرتا ہے اور انہیں شہادت کے عظیم رتبے پر فائز کرتا ہے۔ انہوں نے اس غلط فہمی کا ازالہ کیا کہ دینی کاموں میں اسباب کی ضرورت نہیں ہوتی؛ بلکہ انہوں نے واضح کیا کہ جس طرح انسان دنیاوی کاموں میں محنت (effort) اور اسباب اختیار کرتا ہے، اسی طرح دین کے کاموں میں بھی اسباب اختیار کرنا اور پھر اللہ کی ذات (مسبب الاسباب) پر توکل کرنا سنت ہے۔ آخر میں، حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے مسلمانوں کے لیے غازی اور شہید دونوں صورتوں کو سراسر نفع قرار دیتے ہوئے اسباب اختیار کرنے اور اللہ کی رضا حاصل کرنے کی دعا فرمائی ہے۔


              غزوہِ احد کے اسباق: اسباب کا اختیار اور شہادت کی فضیلت - درسِ قرآن - پہلا دور