اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
إِذْ قَالَ اللهُ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَرَافِعُكَ إِلَيَّ وَمُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا وَجَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ ثُمَّ إِلَيَّ مَرْجِعُكُمْ فَأَحْكُمُ بَيْنَكُمْ فِيمَا كُنتُمْ فِيهِ تَخْتَلِفُونَ﴿55﴾ فَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا فَأُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِيدًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَا لَهُم مِّن نَّاصِرِينَ﴿56﴾ وَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَاللهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴿57﴾ ذَالِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ ﴿58﴾ إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهٗ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُن فَيَكُونُ﴿59﴾ اَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلَا تَكُن مِّنَ الْمُمْتَرِينَ﴿60﴾ فَمَنْ حَآجَّكَ فِيهِ مِن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنفُسَنَا وَأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ ﴿61﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
(اس کی تدبیر اس وقت سامنے آئی) جب اللہ نے کہا تھا کہ: "اے عیسیٰ! میں تمہیں صحیح سالم واپس لے لوں گا۔
یہ اس واقعے کے ساتھ ہے، جس میں کافروں نے حضرت عیسیٰ عليه السلام کو شہید کرنے کے لیے سولی پر چڑھانے کا ارادہ خفیہ طور پر کیا تھا۔ تو اللہ جل شانہ نے بھی اس کی ایک خفیہ تدبیر فرمائی، اور وہ یہ کہ جو لوگ عیسیٰ عليه السلام کو سولی پر چڑھانے والے تھے، انہی میں سے ایک آدمی کو عیسیٰ عليه السلام کا ہم شکل بنا دیا، اور عیسیٰ عليه السلام کو اللہ پاک نے آسمانوں کی طرف اٹھا دیا۔
اب عیسیٰ عليه السلام تو تھے نہیں ادھر۔ جو تھے وہ انہی کا اپنا آدمی تھا۔ تو وہ ان کو سولی پر چڑھا... وہ چیخ رہا تھا کہ میں تو عیسیٰ نہیں ہوں، لیکن وہ ان کے اوپر کون باور کرتا؟ وہ تو کہتے تھے کہ یہ تو صرف اپنی جان چھڑانے کے لیے کر رہے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے اس کو سولی پر چڑھا دیا۔ اور عیسیٰ عليه السلام تو محفوظ آسمانوں پر چلے گئے۔
لیکن اب ظاہر ہے ان کی جب مت ماری گئی، تو انہوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ عیسیٰ عليه السلام اگر یہ ہے تو پھر ان کا اپنا آدمی کدھر چلا گیا؟ کر سکتے تھے اس کی تحقیق، لیکن بس دماغ Lock ہو گئے اور نہیں کر سکے۔
اس کے بعد پھر جو اصل تھے عیسیٰ عليه السلام کے حواری۔ ان کے بعد پھر ایسے لوگ آئے جو یہودی تھے لیکن وہ سازش کے طور پر عیسائی بن گئے تھے۔ تو ان لوگوں نے پھر یہ بات چلائی کہ عیسیٰ عليه السلام کو سولی پر چڑھایا گیا ہے۔ اور یہ سلسلہ آج تک عیسائیوں میں آ چکا ہے۔ اس کے لیے انہوں نے بڑی بڑی تھیوریاں بنائی ہیں۔ لیکن یہاں قرآن نے اس کی پوری بات بیان کی ہے کہ۔۔۔
اللہ نے کہا تھا کہ: "اے عیسیٰ! میں تمہیں صحیح سالم واپس لے لوں گا اور تمہیں اپنی طرف اٹھا لوں گا، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان (کی ایذا) سے تمہیں پاک کر دوں گا۔ اور جن لوگوں نے تمہاری اتباع کی ہے، ان کو قیامت کے دن تک ان لوگوں پر غالب رکھوں گا جنہوں نے تمہارا انکار کیا ہے۔
یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ماننے والے (خواہ انہیں صحیح طور پر مانتے ہوں جیسے مسلمان، یا غلو کے ساتھ مانتے ہوں جیسے عیسائی) ان کے مخالفین پر ہمیشہ غالب رہیں گے۔ چنانچہ تاریخ میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے، البتہ صدیوں کی تاریخ میں اگر کچھ مختصر عرصے کے لئے جزوی طور پر کہیں ان کے مخالفین کا غلبہ ہوگیا ہو تو وہ اس کے منافی نہیں ہے۔
پھر تم سب کو میرے پاس لوٹ کر آنا ہے، اس وقت میں تمہارے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کروں گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے ﴿55﴾
یعنی دیکھیں نا! کچھ لوگوں نے کہا کہ عیسیٰ عليه السلام کو سولی پر چڑھایا گیا، کچھ نے کہا کہ ایسا تو نہیں ہے۔ اس طرح اور بہت ساری باتوں میں جو اختلاف کیا، تو اس اختلاف کا فیصلہ اللہ پاک قیامت کے روز کریں گے جب سب کو وہاں جمع کریں گے۔
چنانچہ جو لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے کفر اپنا لیا ہے، ان کو تو میں دنیا اور آخرت میں سخت عذاب دوں گا، اور ان کو کسی طرح کے مددگار میسر نہیں آئیں گے ﴿56﴾ البتہ جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک عمل کئے ہیں، ان کو اللہ ان کا پورا پورا ثواب دے گا، اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا ﴿57﴾ (اے پیغمبر!) یہ وہ آیتیں اور حکمت بھرا ذکر ہے جو ہم تمہیں پڑھ کر سنا رہے ہیں ﴿58﴾
اب یہاں پر اللہ جل شانہ نے ایک اور بات فرمائی ہے جو ان کی بہت ساری باتوں کا جواب ہے۔ چونکہ عیسیٰ عليه السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے، تو ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو Normal طریقہ نہیں ہے، تو یہ خاص بات ہے۔ لہٰذا یہ -نعوذ باللہ من ذالک- خدا کا بیٹا ہے۔ اور کچھ لوگوں نے خدا بھی مان لیا۔ گویا کہ تین کا عقیدہ رکھا، تثلیث فی التوحید اور توحید فی التثلیث۔ یعنی تینوں ایک ہیں، یعنی اللہ اور عیسیٰ عليه السلام اور روح القدس جبرائیل عليه السلام، تینوں ایک ہیں اور ایک میں تین ہیں۔ ان کا یہ عقیدہ ہے، تثلیث، اس کو عقیدہِ تثلیث کہتے ہیں۔
تو تثلیث کے عقیدے کو توڑنے کے لیے اللہ پاک نے فرمایا کہ عیسیٰ عليه السلام کی مثال آدم عليه السلام کی طرح ہے۔ عیسیٰ عليه السلام تو بغیر باپ کے پیدا ہوئے، آدم عليه السلام تو بغیر ماں باپ کے پیدا ہوئے! تو اس وجہ سے تمہاری یہ باتیں کتنی بھونڈی ہیں کہ اس کو تو نہیں کہتے ہو لیکن اِن کو کہتے ہو۔ تو بس وہ نہ مانوں والی بات ہی ہوتی ہے پھر، پھر جب یہ سلسلہ شروع ہو جائے پھر آدمی کو سمجھ نہیں آتا۔
اللہ کے نزدیک عیسیٰ (علیہ السلام) کی مثال آدم (علیہ السلام) جیسی ہے؛ اللہ نے انہیں مٹی سے پیدا کیا، پھر ان سے کہا: "ہو جاؤ،" بس وہ ہو گئے ﴿59﴾ حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے آیا ہے، لہٰذا شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو جانا ﴿60﴾ تمہارے پاس (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے واقعے کا) جو صحیح علم آگیا ہے اس کے بعد بھی جو لوگ اس معاملے میں تم سے بحث کریں تو ان سے کہہ دو
یہ اصل میں وہ پھر عیسائی جو آئے تھے اس کے لیے... تو ان سے پھر اللہ پاک نے آپ ﷺ سے فرمایا کہ تم ان سے کہ دو "آؤ، ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، اور ہم اپنی عورتوں کو اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے لوگوں کو اور تم اپنے لوگوں کو، پھر ہم سب مل کر اللہ کے سامنے گڑگڑائیں، اور جو جھوٹے ہوں ان پر اللہ کی لعنت بھیجیں۔﴿61﴾
اس عمل کو "مباہلہ" کہا جاتا ہے۔ جب بحث کا کوئی فریق دلائل کو تسلیم کرنے کے بجائے ہٹ دھرمی پر تل جائے تو آخری راستہ یہ ہے کہ اسے مباہلہ کی دعوت دی جائے جس میں دونوں فریق اللہ تعالیٰ سے یہ دُعا کریں کہ ہم میں سے جو جھوٹا یا باطل پر ہو وہ ہلاک ہو جائے۔ جیسا کہ اس سورت کے شروع میں بیان ہوا ہے، شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا، اس نے آپ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خدائی پر بحث کی جس کا اطمینان بخش جواب قرآن کریم کی طرف سے پچھلی آیتوں میں دے دیا گیا۔ جب وہ کھلے دلائل کے باوجود اپنی گمراہی پر اصرار کرتے رہے تو اس آیت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ وہ انہیں مباہلے کی دعوت دیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو یہ دعوت دی اور خود اس کے لئے تیار ہو کر اپنے اہل بیت کو بھی جمع فرما لیا، لیکن عیسائیوں کا وفد مباہلے سے فرار اختیار کر گیا۔
ان کو اصل میں حقیقت کا تو پتا ہوتا ہے۔ جتنے بھی باطل فرقے ہوتے ہیں نا، ان کے جو علماء ہوتے ہیں ان کو صحیح چیز کا پتا ہوتا ہے۔ جو جاہل ہوتے ہیں وہ ان کے پیچھے چلتے ہیں۔ جتنے بھی باطل فرقے ہیں، ان کے علماء کو اپنی حیثیت کا پتا ہوتا ہے۔ صرف وہ دنیاوی آن بان کے لیے جیسے پنڈت ہیں ہندوؤں کے، ان کو بھی اصل بات کا پتا ہوتا ہے۔ عیسائیوں کے، یہودیوں کے، شیعوں کے، جتنے بھی باطل فرقے ہیں سب کو اصل بات کا پتا ہوتا ہے۔ انہوں نے کتابیں پڑھی ہوتی ہیں ان کو دلائل سے بھی پتا ہوتا ہے، ساری چیزیں معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن وہ صرف اپنی اس جھوٹی انا کے لیے، اور ان دنیاوی Facilities کے لیے جو کہ ان کو اس کی وجہ سے حاصل ہوتی ہیں، وہ حق کو نہیں Accept کرتے۔ اور جو باقی جاہل ہیں وہ ان کے پیچھے چلتے ہیں۔
تو یہاں پر بھی یہی بات ہے کہ ان کو پتا تو تھا کہ یہ معاملہ گڑبڑ ہے، ہم تو ٹھیک نہیں ہیں، تو انہوں نے مباہلے سے فرار اختیار کر لیا اور جھوٹے بہانے کر کے آگے پیچھے ہو گئے۔ تو اس طرح ہی ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح راستے پر استقامت کے ساتھ چلنے کی توفیق عطا فرمائے، دونوں جہانوں میں کامیاب فرما دے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔