غزوہ احد کے اسباق، سود کی ممانعت اور امیر کی اطاعت کی اہمیت

درس نمبر 141: سورۃ ال عمران، آیت نمبر 130 تا 139

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ - نزد گاڑہ، خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، جہانگیرہ
  • سورۂ آل عمران کی آیات کی تلاوت، ترجمہ اور سود (ربا) کی قطعی حرمت۔
  • سود کے حوالے سے بہانے بنانے والوں اور کم شرحِ سود کو جائز سمجھنے والوں کی غلط فہمیوں کا ازالہ۔
  • اللہ کی راہ میں خرچ کرنے، غصہ پینے، معاف کرنے اور گناہوں پر فوراً توبہ کرنے والوں کی صفات اور ان کے لیے جنت کی خوشخبری۔
  • غزوۂ احد کا تاریخی پس منظر اور جبلِ رماۃ (تیر اندازوں کے ٹیلے) کا واقعہ۔
  • وقتی شکست کے اسباب: امیر (حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ) کی نافرمانی اور احکاماتِ نبوی ﷺ کو چھوڑنا۔
  • غلطیوں کو تجربہ (experience) بنا کر آئندہ کے نقصانات سے بچنے کی حکمت۔
  • اجتماعیت کو برقرار رکھنے کے لیے امیر کی اطاعت کی ناگزیر ضرورت (steering اور پہیے کی مثال)۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً۪- وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ (130) وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ (131) وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ (132) وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ (133) الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْـكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ (134) وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ۫-وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ ﳑ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ(135) اُولٰٓىٕكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَﭤ(136) قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌۙ-فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ(137) هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ(138)صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

اے ایمان والو، کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود مت کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو۔

امام رازی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی تفسیرِ کبیر میں فرمایا کہ جنگِ احد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرضے لے کر جنگ کی تیاری کی تھی۔ اس لیے کسی مسلمان کے دل میں بھی یہ خیال ہو سکتا ہے کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیار کرے۔ اس آیت نے انہیں خبردار کیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے۔ یہاں سود کو کئی گنا بڑھا کر کھانے کا تو ذکر، اس کا یہ مطلب نہیں کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے، بلکہ اس وقت جو، جو، جو سودی قرضوں میں بکثرت یہ ہوتا تھا کہ سود اصل سے کئی گنا بڑھ جاتا تھا، اس لیے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ہے ورنہ سورۂ بقرہ کی آیات نمبر 270، 278 میں صاف واضح کیا گیا ہے کہ اصل قرض پر جتنا بھی سود ہو، زیادتی ہو، وہ سود میں داخل اور حرام ہے۔

یہ اصل میں ایک اہم اصول کی طرف بھی اس میں اشارہ ہے۔ زائغین جو ہوتے ہیں نا زائغین، جن کے دلوں میں زیغ ہوتا ہے، وہ کسی نہ کسی ٹیڑھ کے لیے بہانہ ڈھونڈتے ہیں۔ وہ ظاہر ہے، وہ سمجھنا نہیں چاہتے، بلکہ وہ تو خود سمجھ کر، کر رہے ہوتے ہیں۔ لہٰذا جو جاہل لوگ ہوتے ہیں، جو ناسمجھ ہوتے ہیں، ان کے دعووں میں آجاتے ہیں اور، مطلب، ان کی بات سن کے کنفیوز ہو جاتے ہیں کہ یہ کیا ہے۔ حالانکہ جو علماء ہیں، ان سے وہ بھاگتے ہیں۔ ان کے بارے میں، ان سے، جو ہے نا، وہ بات نہیں کرتے۔ ان کو پتہ ہوتا ہے کہ یہ تو ہمیں جواب دے سکتے ہیں۔ تو یہ جو سود والی بات ہے، تو یہ صرف، مطلب، کوئی ایک آیت کی بنیاد پر نہیں ہے کہ جی یہ آیت ہے اور اس کی باتوں پر غور کرنے کا کوئی حرج، کوئی ارتھ نہیں ہے۔ جیسے کہ حضرت نبی ﷺ نے فرمایا کہ اس کی دو آیتیں اور ہیں، جو اس میں، یعنی محض جو سود ہے، یعنی اپنی اصل رقم سے جو زیادتی ہوتی ہے وہ حرام ہے، وہ سود میں شامل ہے۔ تو بعض لوگ جو ہے نا مطلب ہے، اس سے یہ مراد لیتے ہیں کہ جو ہے نا مطلب ہے، جو زیادہ سود ہے وہ تو حرام ہے لیکن جو تھوڑا سود ہے وہ جائز ہے۔ حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔

اے ایمان والو، کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود مت کھاؤ، اور اللہ سے ڈرو تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو جائے۔ اور اس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور اللہ اور رسول کی بات مانو تاکہ تم سے رحمت کا برتاؤ کیا جائے۔ اور اپنے رب کی طرف سے مغفرت، اور وہ جنت حاصل کرنے کے لیے ایک دوسرے سے بڑھ کر تیزی دکھاؤ جس کی چوڑائی اتنی ہے کہ اس میں تمام آسمان اور زمین سما جائیں، وہ ان پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔

جو خوشحالی میں بھی اور بدحالی میں بھی اللہ کے لیے مال خرچ کرتے ہیں، اور جو غصے کو پی جانے اور لوگوں کو معاف کر دینے کے عادی ہیں۔ اللہ ایسے نیک لوگوں سے محبت کرتا ہے۔ اور یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر کبھی کوئی بے حیائی کا کام کر بیٹھتے ہیں، یا کسی اور طرح اپنی جان پر ظلم کر گزرتے ہیں، تو فوراً اللہ کو یاد کرتے ہیں، اور اس کے نتیجے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں۔ اور اللہ کے سوا ہے بھی کون جو گناہوں کی معافی دے؟ یا اپنے کیے پر جانتے بوجھتے اصرار نہیں کرتے۔ یہی ہیں وہ لوگ جن کا صلہ ان کے پروردگار کی طرف سے مغفرت ہے اور وہ باغات ہیں جن کے نیچے دریا بہتے ہوں گے، جن میں انہیں دائمی زندگی حاصل ہوگی، کتنا بہترین بدلہ ہے جو کام کرنے والوں کو ملنا ہے۔

تم سے پہلے بہت سے واقعات گزر چکے ہیں، اب تم زمین میں چل پھر کر دیکھ لو جنہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا تھا ان کا انجام کیسا ہوا۔ یہ تمام لوگوں کے لیے واضح اعلان ہے، اور پرہیزگاروں کے لیے ہدایت بھی، ہدایت اور نصیحت ہے۔
یعنی:
وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
اور مسلمانوں، تم نہ تو کمزور پڑو اور نہ غمگین رہو، اگر تم واقعی مومن ہو تو تم ہی سربلند ہو گے۔

یہ جنگِ احد کا واقعہ مختصراً یہ ہے کہ شروع میں مسلمان کافر حملہ آوروں پر غالب آ گئے اور کفار کا لشکر پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔ آپ ﷺ نے جنگ شروع ہونے سے پہلے پچاس تیر اندازوں، صحابہ کا ایک دستہ، میدانِ جنگ کے ایک عقبی ٹیلے پر متعین فرمایا تھا تاکہ دشمن پیچھے سے حملہ نہ کر سکے۔ جب دشمن پسپا ہوا اور میدانِ جنگ خالی ہوا تو صحابہ کرام نے ان کا چھوڑا ہوا سازوسامان مالِ غنیمت کے طور پر اکٹھا کرنا شروع کر دیا۔ تیر اندازوں کے جس دستے نے جب دیکھا کہ دشمن بھاگ چکا ہے، تو وہ سمجھے کہ اب ہماری ذمہ داری پوری ہو چکی ہے اور ہمیں بھی مالِ غنیمت جمع کرنے میں حصہ لینا چاہیے۔

ان کے امیر حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ، ان کے چند ساتھیوں نے ٹیلہ چھوڑنے کی مخالفت کی، اور اپنے ساتھیوں کو یاد دلایا کہ آپ ﷺ نے ہمیں ہر حال میں یہاں جمے رہنے کی ہدایت فرمائی تھی۔ مگر ان میں سے اکثر نے وہاں ٹھہرنے کو بے مقصد سمجھ کر ٹیلہ چھوڑ دیا۔ دشمن نے جب دور سے دیکھا کہ ٹیلہ خالی ہو گیا اور مسلمان مالِ غنیمت جمع کرنے میں مشغول ہو گئے، تو انہوں نے موقع پا کر ٹیلے پر ہلکا حملہ کر دیا۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہ، ان کے چند ساتھیوں نے اپنی بساط کے مطابق ڈٹ کر مقابلہ کیا، مگر وہ سب شہید ہو گئے، اور دشمن اس ٹیلے سے اتر کر، ان بے خبر مسلمانوں پر حملہ آور ہو گیا جو مالِ غنیمت جمع کرنے میں مصروف تھے۔

یہ حملہ اس قدر غیر متوقع، ناگہانی تھا کہ مسلمانوں کے پاؤں اکھڑنے لگے۔ اس دوران کسی نے یہ افواہ اڑا دی کہ آپ ﷺ شہید ہو گئے ہیں۔ اس افواہ سے بہت سے مسلمانوں کے حوصلے جواب دے گئے۔ ان میں سے بعض میدان چھوڑ گئے، بعض جنگ سے کنارہ کش ہو کر ایک طرف کھڑے رہ گئے۔ البتہ آپ ﷺ کے جان نثار صحابہ کی ایک جماعت آپ کے ارد گرد ڈٹ کر مقابلہ کرتی رہی۔ کفار کا حملہ اتنا سخت تھا کہ اس کشمکش میں آپ ﷺ کا مبارک دانت بھی شہید ہو گیا اور چہرۂ مبارک لہولہان ہو گیا۔ بعد میں صحابہ کو پتہ چلا کہ آپ کی شہادت کی خبر غلط تھی، ان کے حواس بحال ہوئے، تو ان میں سے بیشتر میدان میں لوٹ آئے۔ اور پھر کفار کو بھاگنا پڑا۔ لیکن اس درمیانی عرصے میں ستر صحابہ کرام شہید ہو چکے تھے۔

ظاہر ہے کہ اس واقعے سے تمام مسلمانوں کو شدید صدمہ ہوا۔ قرآنِ کریم نے ان آیات میں انہیں تسلی دے رکھی ہے۔ یہ زمانے کے نشیب و فراز ہیں جن سے مایوس ہو کر شکستہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس طرف بھی متوجہ کر رہا ہے کہ یہ شکست کچھ غلطیوں کا نتیجہ تھی، جن سے سبق لینے کی ضرورت ہے۔

اصل میں انسان سے غلطی تو ہو سکتی ہے۔ لیکن اس کے بعد بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس غلطی سے سبق حاصل کیا جائے۔ اور اس کو Experience بنا دیا جائے۔ یعنی اگر اس کو Experience بنا دیا جائے تو اس کی گویا کہ Compensation ہو جاتی ہے، آئندہ کے لیے۔ اس کے جو مسائل ہیں، ان سے محفوظ ہو جاتا ہے آدمی۔ تو یہاں پر بھی یہ بات ہے کہ اگرچہ تسلی دی جا رہی ہے، لیکن ساتھ یہ تاثر بھی کہ ایسا پھر نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ آپ ﷺ نے جو فرمایا تھا کہ کس طریقے سے بھی اس میدان کو نہیں چھوڑنا چاہیے، تو اگر اس پر عمل ہوتا تو بظاہر یہی لگتا ہے کہ ایسی بات نہ ہوتی۔

تو ہمیں بھی جب کبھی اس کی ضرورت پیش آئے، تو اپنے امیر کی اطاعت کرنی چاہیے۔ کیونکہ امیر کو شرحِ صدر جو ہوتا ہے، وہ منجانب اللہ ہوتا ہے۔ لہٰذا کبھی بھی ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ امیر کی بات پر، وہ انسان غالب آجائے۔ یہ ہر، یہ قانون بہت عام ہے، ہر چیز کے اندر ہے۔ اگر کوئی اس پر عمل نہیں کرتا تو ان کو مسائل کا شکار ہونا پڑتا ہے۔ وہ جو، جس کو اجتماعیت کہتے ہیں نا، وہ، وہ جو ہے نا وہ، Disturb ہو جاتی ہے۔ کیونکہ امیر جو ہے نا، اس کا کنٹرولنگ، مطلب ہوتا ہے وہ Force ہوتا ہے۔ تو اگر امیر کو کوئی مطلب وہ کر دے کہ نہ مانے، تو اس کا مطلب ہے کہ جیسے Steering ہے۔ وہ Steering جو ہے نا، مطلب ہے کہ، وہ اس طرف موڑنے کو کہے اور، اور جو پہیہ ہے وہ اس طرف مڑ جائے، تو نتیجہ کیا ہوگا؟ تو ظاہر ہے پہیے کو ان کے ساتھ Intact مطلب، Intact ہونا چاہیے، کہ جس طرف Steering موڑ دے اس طرف مڑنا چاہیے۔ ورنہ پھر کیا ہوگا؟ Accident تو کبھی بھی امیر کی خلاف ورزی نہیں کرنی چاہیے، ورنہ پھر اس کے نتائج بھیانک ہو سکتے ہیں۔
یا کریم...