اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ ﴿121﴾ اِذْ هَمَّتْ طَّآىٕفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَاۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَاؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴿122﴾ وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ﴿123﴾ اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُنْزَلِیْنَﭤ﴿124﴾ بَلٰۤىۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓىٕكَةِ مُسَوِّمِیْنَ ﴿125﴾وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَىٕنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ ﴿126﴾ لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآىٕبِیْنَ﴿127﴾صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
(اے پیغمبر! جنگِ اُحد کا وہ وقت یاد کرو) جب تم صبح کے وقت اپنے گھر سے نکل کر مسلمانوں کو جنگ کے ٹھکانوں پر جما رہے تھے،
جنگِ اُحد میں تین ہزار کفارِ مکہ کا ایک لشکر مدینہ منورہ پر حملہ آور ہوا تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مقابلے کے لیے اُحد پہاڑ کے دامن میں تشریف لے گئے تھے جہاں یہ جنگ لڑی گئی۔ آنے والی آیات میں اس کے متعدد واقعات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
اور اللہ سب کچھ سننے جاننے والا ہے۔ ﴿121﴾ جب تمہی میں کے دو گروہوں نے یہ سوچا تھا کہ وہ ہمت ہار بیٹھیں
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مقابلے کے لیے مدینہ منورہ سے نکلے تو آپ کے ساتھ ایک ہزار آدمی تھے، لیکن منافقین کا سردار عبداللہ بن ابی راستے میں یہ کہہ کر اپنے تین سو آدمیوں سمیت واپس چلا گیا کہ ہماری رائے یہ تھی کہ دشمن کا مقابلہ شہر کے اندر رہ کر کیا جائے۔ ہماری رائے کے خلاف آپ باہر نکل آئے ہیں، اس لئے ہم جنگ میں شریک نہیں ہوں گے۔ اس موقع پر سچے مسلمانوں کے دو قبیلے بنو حارثہ اور بنو سلمہ کے دل بھی ڈگمگا گئے، اور ان کے دل میں بھی خیال آیا کہ تین ہزار کے مقابلے میں صرف سات سو افراد بہت تھوڑے ہیں، اور ایسے میں جنگ لڑنے کے بجائے الگ ہو جانا چاہئے، لیکن پھر اللہ نے مدد فرمائی، اور وہ جنگ میں شامل ہوئے۔ اس آیت میں انہی کی طرف اشارہ ہے۔
حالانکہ اللہ ان کا حامی و ناصر تھا، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ ﴿122﴾ اللہ نے تو (جنگِ) بدر کے موقع پر ایسی حالت میں تمہاری مدد کی تھی جب تم بالکل بے سرو سامان تھے۔
جنگِ بدر میں مسلمانوں کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی، اور ان کے پاس ستر اونٹ، دو گھوڑے اور صرف آٹھ تلواریں تھیں۔
لہٰذا (صرف) اللہ کا خوف دل میں رکھو، تاکہ تم شکر گزار بن سکو۔ ﴿123﴾
جب (بدر کی جنگ میں) تم مومنوں سے کہہ رہے تھے کہ: "کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتے اتار کر تمہاری مدد کو بھیج دے؟ ﴿124﴾ ہاں! بلکہ اگر تم صبر اور تقویٰ اختیار کرو اور وہ لوگ اپنے اسی ریلے میں اچانک تم تک پہنچ جائیں تو تمہارا پروردگار پانچ ہزار فرشتے تمہاری مدد کو بھیج دے گا جنہوں نے اپنی پہچان نمایاں کی ہوگی" ۔ ﴿125﴾
یہ سارا حوالہ جنگِ بدر کا ہے۔ اس جنگ میں شروع میں تین ہزار فرشتوں کی بشارت دی گئی تھی، لیکن بعد میں صحابہ کرام کو یہ اطلاع ملی کہ کرز بن جابر اپنا لشکر لے کر کفارِ مکہ کے ساتھ شامل ہونے کے لئے آ رہا ہے۔ کفار کی تعداد پہلے ہی مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھی، اب اس لشکر کے آنے کی اطلاع ملی تو مسلمانوں کو تشویش (لاحق) ہوئی۔ اس موقع پر یہ وعدہ کیا گیا کہ اگر کرز کا لشکر اچانک آ گیا تو تین ہزار کے بجائے پانچ ہزار فرشتے بھیجے جائیں گے۔ لیکن پھر کرز کا لشکر نہیں آیا، اس لئے پانچ ہزار فرشتے بھیجنے کی نوبت نہیں آئی۔
اللہ نے یہ انتظام صرف اس لئے کیا تھا تاکہ تمہیں خوشخبری ملے، اور اس سے تمہارے دلوں کو اطمینان نصیب ہو، ورنہ فتح تو کسی اور کی طرف سے نہیں، صرف اللہ کے پاس سے آتی ہے جو مکمل اقتدار کا بھی مالک ہے، تمام تر حکمت کا بھی مالک ﴿126﴾ (اور جنگِ بدر میں یہ مدد اللہ نے اس لئے کی) تاکہ جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے ان کا ایک حصہ کاٹ کر رکھ دے، یا ان کو ایسی ذلت آمیز شکست دے کہ وہ نامراد ہو کر واپس چلے جائیں۔ ﴿127﴾
یہاں پر اصل میں جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا کہ اطمینانِ قلب کے لیے یہ وعدہ کیا گیا تھا۔ ورنہ جو اللہ جل شانہٗ کی مدد ہے، اس کے لیے ان چیزوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ اللہ تعالیٰ کسی طریقے سے بھی مدد فرما سکتے ہیں۔ اتنا ایسا، بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ صرف رعب سے ہی میدان فتح ہو جاتے ہیں۔ ہاں جی ابھی افغانستان کی جنگ میں کیا ہوا تھا؟ یعنی صرف تین افراد تھے اور ان کی وہ منتیں کر رہے تھے کہ آپ ہمیں commitment دیں کہ ہمارے کسی فوجی پر حملہ نہیں کیا جائے گا۔ اور وہ پتا نہیں کتنے تھے؟ سینکڑوں تھے۔ تو یہ کیا بات تھی؟ یہ صرف رعب سے ماشاءاللہ وہ اللہ تعالیٰ مدد کروا دیتے ہیں۔ تو یہ جو ہے نا، مطلب ضروری نہیں ہے، لیکن بہرحال چونکہ جیسے کہ اطمینانِ قلب، اللہ تعالیٰ براہِ راست بھی بھیج سکتے ہیں اور اس طرح کسی وعدے کی بنیاد پر بھی کر سکتے ہیں کہ اللہ پاک نے وعدہ فرمایا اور اس کے ذریعے سے مطلب، اطمینان ہو جائے۔ تو یہ اطمینان کے لیے تھا۔
باقی جو مسلمان تھے، وہ باہمت ہو کر لڑے اور اللہ پاک نے ان کو فتح نصیب فرمائی۔ جنگِ بدر میں مکمل فتح نصیب ہوئی تھی۔ ستر کفار کے سرکردہ لوگ جو ہیں نا، مطلب ہے کہ مارے گئے تھے۔ تو یہ ان کو ذلت آمیز شکست ہوئی تھی۔ تو اللہ جل شانہٗ جب چاہتا ہے تو کسی طریقے سے بھی مدد کروا سکتا ہے۔
تجزیہ اور خلاصہ:بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)سب سے جامع عنوان: جنگِ بدر اور اُحد: اللہ کی غیبی مدد اور اطمینانِ قلبمتبادل عنوان: توکل علی اللہ، فرشتوں کا نزول اور فتوحات کا اصل سرچشمہ
اہم موضوعات:
سورۃ آل عمران کی روشنی میں غزوہ اُحد کا پس منظر اور منافقین کی سازش۔
غزوہ بدر میں مسلمانوں کی بے سروسامانی اور اللہ کی طرف سے نصرت۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے لیے تین ہزار اور پانچ ہزار فرشتوں کی بشارت کا واقعہ۔
غیبی اسباب اور فرشتوں کی مدد کا اصل مقصد: مومنین کے قلوب کا اطمینان۔
افغانستان کی حالیہ تاریخ سے مثال: دشمن پر محض رعب کے ذریعے اللہ کی مدد۔
اصل فتح اور کامیابی کا مکمل دارومدار صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہے۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیات (121-127) کی تلاوت اور تشریح کرتے ہوئے غزوہ اُحد اور غزوہ بدر کے ایمان افروز واقعات بیان فرمائے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ غزوہ اُحد میں منافقین کی پسپائی کے سبب بعض مخلص مسلمانوں کے قدم بھی ڈگمگانے لگے تھے، لیکن اللہ نے ان کی مدد فرمائی۔ اسی طرح غزوہ بدر کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا گیا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے بے سروسامان مسلمانوں کی مدد کے لیے فرشتوں کے نزول کا وعدہ فرمایا۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اس بات پر زور دیا کہ فرشتوں کا نزول دراصل مسلمانوں کے اطمینانِ قلب کے لیے تھا، ورنہ اللہ تعالیٰ تو اسباب کا محتاج نہیں اور محض اپنے رعب سے بھی دشمنوں کو شکست دے سکتا ہے، جس کی تازہ مثال آپ نے افغانستان کی حالیہ جنگ کے تناظر میں پیش کی۔ بیان کا لبِ لباب یہ ہے کہ نصرت اور کامیابی محض اللہ کی عطا کردہ ہے اور مسلمانوں کو صرف اسی ذات پر توکل کرنا چاہیے۔