اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
هٰۤاَنْتُمْ اُولَآءِ تُحِبُّوْنَهُمْ وَلَایُحِبُّوْنَكُمْ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِالْكِتٰبِ كُلِّهٖۚ وَ اِذَا لَقُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ اِذَا خَلَوْا عَضُّوْا عَلَیْكُمُ الْاَ نَامِلَ مِنَ الْغَیْظِؕ قُلْ مُوْتُوْا بِغَیْظِكُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ(119) اِنْ تَمْسَسْكُمْ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ وَ اِنْ تُصِبْكُمْ سَیِّئَةٌ یَّفْرَحُوْا بِهَاؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا لَا یَضُرُّكُمْ كَیْدُهُمْ شَیْــٴًـاؕ اِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ (120)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
دیکھو! تم تو ایسے ہو کہ ان سے محبت رکھتے ہو، مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے، اور تم تو تمام (آسمانی) کتابوں پر ایمان رکھتے ہو، اور (ان کا حال یہ ہے کہ) وہ جب تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم (قرآن پر) ایمان لے آئے، اور جب تنہائی میں جاتے ہیں تو تمہارے خلاف غصے کے مارے اپنی انگلیاں چباتے ہیں۔ (ان سے) کہہ دو کہ "اپنے غصے میں خود مر رہو۔ اللہ سینوں میں چھپی ہوئی باتیں خوب جانتا ہے"۔ ﴿119﴾ اگر تمہیں کوئی بھلائی مل جائے تو ان کو برا لگتا ہے، اور اگر تمہیں کوئی گزند پہنچے تو یہ اس سے خوش ہوتے ہیں۔ اگر تم صبر اور تقویٰ سے کام لو تو ان کی چالیں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچائیں گی۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں وہ سب اللہ کے (علم اور قدرت کے) احاطے میں ہے۔ ﴿120﴾
مثلاً یہ لوگ ظاہر کرتے تھے کہ مسلمان ہو گئے ہیں، لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف خوب بغض بھرا ہوتا تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مسلمان ان کی دوستی پر بھروسہ کرتے ہوئے سادگی میں انہیں مسلمانوں کا کوئی راز بتا دیتے تھے۔ اس آیتِ کریمہ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ ان پر بھروسہ نہ کریں، انہیں رازدار بنانے سے مکمل پرہیز کریں۔
یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو مسلمان نہیں ہوئے تھے، اہل کتاب۔ اور چونکہ ہم لوگ تو سارے پیغمبروں کو مانتے ہیں، ساری کتابوں کو مانتے ہیں، لیکن یہ لوگ قرآن کو نہیں مانتے تھے اور سارے یعنی آپ ﷺ کو بھی پیغمبر نہیں مانتے تھے۔ تو اس وجہ سے ظاہر ہے ہم تو... مطلب مسلمان جو تھے وہ تو ان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچا پاتے تھے کیونکہ ظاہر ہے مسلمان تو سب کو مانتے تھے۔ لیکن وہ لوگ اس سے انکار کر کے مسلمانوں کو تکلیف پہنچاتے تھے۔
پھر بعض لوگ منافق ہو جاتے، یعنی ظاہراً اسلام لانے کا دعویٰ کرتے لیکن حقیقت میں دشمن ہوتے تھے۔ ایسی صورت میں مسلمان اگر ان کو کوئی راز کی بات بتاتے تھے اپنی، تو اس سے یہ لوگ پھر ظاہر ہے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے۔ البتہ نصیحت یہ ہوئی اس میں کہ تم صبر اور تقویٰ سے کام لو۔
کیونکہ یہ دونوں ایسی چیزیں ہیں کہ اس میں ایک تو صبر کے ساتھ اللہ کی معیت ہوتی ہے: ﴿إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِيْنَ﴾ اور تقویٰ ایسی چیز ہے کہ جس کے... جس کے ذریعے سے اللہ پاک راستہ دیتا ہے: ﴿يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا﴾۔ اس وجہ سے مطلب اگر صبر اور تقویٰ سے کام لیا جائے تو پھر اللہ پاک راستہ دے دیتے ہیں۔
بزدلی نہیں ہونی چاہیے لیکن تحمل اور صبر ضروری ہے۔ بزدلی تو بری چیز ہے لیکن صبر اچھی چیز ہے۔ تو ہمیں بھی اس سبق کو حاصل کرنا چاہیے کہ صبر اور تقویٰ کے ذریعے سے ہم اللہ تعالیٰ کی مدد کو حاصل کر لیا کریں۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)سب سے جامع عنوان: دشمنوں کی سازشوں کا توڑ: صبر اور تقویٰ کی اہمیتمتبادل عنوان: اہل کتاب اور منافقین کی عداوت اور مسلمانوں کے لیے قرآنی حکمتِ عملی
اہم موضوعات:
سورہ آل عمران کی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت اور بامحاورہ ترجمہ۔
اہل کتاب اور منافقین کا مسلمانوں کے خلاف دلی بغض اور حسد۔
مسلمانوں کی سادگی اور غیروں کو اپنا رازدار بنانے کی ممانعت۔
مخالفین کی سازشوں اور تکلیف دہ رویوں پر قرآنی لائحہ عمل۔
صبر کی فضیلت (اللہ کی معیت) اور تقویٰ کے ثمرات (مشکلات سے نکلنے کا راستہ)۔
بزدلی کی مذمت اور صبر و تحمل کی اہمیت کے درمیان فرق۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورہ آل عمران کی آیات کی روشنی میں منافقین اور اہل کتاب کے مسلمانوں کے خلاف چھپے ہوئے بغض اور عداوت کا پردہ چاک کیا ہے۔ آپ نے نشاندہی کی ہے کہ مسلمان اپنی صاف دلی اور سادگی کے باعث تمام انبیاء اور آسمانی کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ کسی سے بغض نہیں رکھتے، جب کہ مخالفین اسلام اور نبیِ کریم ﷺ کا انکار کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ دشمنوں کو اپنا رازدار نہ بنائیں اور ان کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے اللہ کے بتائے ہوئے دو اہم ہتھیاروں—صبر اور تقویٰ—کو اپنائیں۔ آپ نے واضح فرمایا کہ بزدلی ایک بری چیز ہے مگر صبر ایک بہترین صفت ہے جس سے انسان کو اللہ کی معیت اور مصائب سے نکلنے کا راستہ نصیب ہوتا ہے۔