یہودِ مدینہ کی سازشیں اور مسلمانوں کے لیے احتیاط کا قرآنی درس

درس نمبر 138: سورۃ ال عمران، آیت نمبر 112 تا 118

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ - نزد گاڑہ، خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، جہانگیرہ
  • اہل کتاب کے دو گروہوں کا تذکرہ (نافرمان اور فرماں بردار جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ)۔
    • سچے مؤمنین کی صفات: اللہ اور آخرت پر ایمان، تہجد گزاری اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔
      • کفار کے خیراتی اعمال کی مثال (تیز آندھی اور برباد کھیتی) اور ان کا دنیاوی صلہ۔
        • اوس اور خزرج کے مسلمانوں کی یہود سے دوستی کی تاریخ اور منافقین کی سازشیں۔
          • قرآن کی جانب سے غیروں کو رازدار بنانے کی سختی سے ممانعت۔
            • دورِ حاضر کے مسلمانوں کے لیے دشمنوں سے محتاط رہنے اور صرف مروتاً تعلقات رکھنے کی تلقین۔

              اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ

              فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

              بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

              ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ ﴿112﴾ لَیْسُوْا سَوَآءًؕ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اُمَّةٌ قَآىٕمَةٌ یَّتْلُوْنَ اٰیٰتِ اللّٰهِ اٰنَآءَ الَّیْلِ وَ هُمْ یَسْجُدُوْنَ﴿113﴾ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِؕ وَ اُولٰٓىٕكَ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ﴿114﴾ وَ مَا یَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ فَلَنْ یُّكْفَرُوْهُؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ﴿115﴾ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْــٴًـاؕ وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ﴿116﴾ مَثَلُ مَا یُنْفِقُوْنَ فِیْ هٰذِهِ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَثَلِ رِیْحٍ فِیْهَا صِرٌّ اَصَابَتْ حَرْثَ قَوْمٍ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَاَهْلَكَتْهُؕ وَ مَا ظَلَمَهُمُ اللّٰهُ وَ لٰـكِنْ اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ﴿117﴾ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا بِطَانَةً مِّنْ دُوْنِكُمْ لَا یَاْلُوْنَكُمْ خَبَالًاؕ وَدُّوْا مَا عَنِتُّمْۚ قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوَاهِهِمْ وَ مَا تُخْفِیْ صُدُوْرُهُمْ اَكْبَرُؕ قَدْ بَیَّنَّا لَكُمُ الْاٰیٰتِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْقِلُوْنَ﴿118﴾

              صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

              اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے تھے، اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے تھے۔ (نیز) اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے، اور ساری حدیں پھلانگ جایا کرتے تھے ﴿112﴾ (لیکن) سارے اہل کتاب ایک جیسے نہیں ہیں۔ اہل کتاب ہی میں وہ لوگ بھی ہیں جو (راہ راست پر) قائم ہیں، جو رات کے اوقات میں اللہ کی آیتوں کی تلاوت کرتے ہیں، اور جو (اللہ کے آگے) سجدہ ریز ہوتے ہیں ﴿113﴾

              اس سے مراد وہ اہل کتاب ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آئے تھے، مثلاً یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ۔

              یہ لوگ اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، اچھائی کی تلقین کرتے اور برائی سے روکتے ہیں، اور نیک کاموں کی طرف لپکتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شمار صالحین میں ہے ﴿114﴾ وہ جو بھلائی بھی کریں گے، اس کی ہرگز ناقدری نہیں کی جائے گی، اور اللہ پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے ﴿115﴾ (اس کے برعکس) جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اللہ کے مقابلے میں نہ ان کے مال ان کے کچھ کام آئیں گے، نہ اولاد۔ وہ دوزخی لوگ ہیں؛ اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے ﴿116﴾جو کچھ یہ لوگ دنیوی زندگی میں خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سخت سردی والی تیز ہوا ہو جو ان لوگوں کی کھیتی کو جا لگے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کر رکھا ہو، اور وہ اس کھیتی کو برباد کر دے ۔

              کافر لوگ جو کچھ خیرات وغیرہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کا صلہ انہیں دنیا ہی میں دے دیتے ہیں، ان کے کفر کی وجہ سے اس کا ثواب آخرت میں نہیں ملتا۔ لہٰذا ان کے خیراتی اعمال کی مثال ایک کھیتی کی سی ہے، اور ان کے کفر کی مثال اس تیز آندھی کی ہے جس میں پالا بھی ہو اور وہ اچھی خاصی کھیتی کو برباد کر ڈالے۔

              ان پر اللہ نے ظلم نہیں کیا، بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔ ﴿117﴾

              اے ایمان والو! اپنے سے باہر کے کسی شخص کو راز دار نہ بناؤ، یہ لوگ تمہاری بدخواہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے ۔

              مدینہ منورہ میں اوس اور خزرج کے جو قبیلے آباد تھے، زمانہ دراز سے یہودیوں کے ساتھ ان کے دوستانہ تعلقات چلے آتے تھے۔ جب اوس اور خزرج کے لوگ مسلمان ہو گئے تو وہ ان یہودیوں کے ساتھ اپنی دوستی نبھاتے رہے، مگر یہودیوں کا حال یہ تھا کہ ظاہر میں تو وہ بھی دوستانہ انداز میں ملتے تھے اور ان میں سے کچھ لوگیہ بھی ظاہر کرتے تھے کہ وہ بھی مسلمان ہو گئے ہیں، لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کے خلاف بغض بھرا ہوا تھا۔ کبھی ایسا بھی ہوتا کہ مسلمان ان کی دوستی پر بھروسہ کرتے ہوئے سادہ لوحی میں انہیں مسلمانوں کی کوئی راز کی بات بھی بتا دیتے تھے۔ اس آیت کریمہ نے مسلمانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ ان پر بھروسہ نہ کریں اور انہیں راز دار بنانے سے مکمل پرہیز کریں۔

              تو یہ اصل میں ہم لوگوں کو بھی اس بات سے یعنی عبرت لینی چاہیے کہ ہم دوسرے لوگوں کو اپنا رازدار نہ بنائیں۔ کیونکہ وہ اپنے مطلب کے ہوتے ہیں اور ہمارے رازوں کو لے کر ہمارے خلاف استعمال کرتے ہیں۔

              اس وجہ سے اس معاملے میں کافی یعنی احتیاط سے کام لینا چاہیے اور جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ہمارے دشمن ہیں یا دشمن ہو سکتے ہیں، تو ان سے ہم لوگ زیادہ نہ کھلا کریں۔ ٹھیک ہے مروتاً یا مدارتاً ان کے ساتھ ہمارے بے شک تعلقات ہوں، لیکن دلی تعلق ان کے ساتھ نہ ہو۔ یہ بات ضروری ہے۔

              وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔


              تجزیہ اور خلاصہ: بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

              سب سے جامع اور بہترین عنوان: سورہ آل عمران کی روشنی میں: اہل کتاب کا رویہ، اعمالِ کفار کی حقیقت اور غیروں کو رازدار بنانے کی ممانعت

              متبادل عنوان: یہودِ مدینہ کی سازشیں اور مسلمانوں کے لیے احتیاط کا قرآنی درس

              اہم موضوعات:

              اہل کتاب کے دو گروہوں کا تذکرہ (نافرمان اور فرماں بردار جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ)۔

              سچے مؤمنین کی صفات: اللہ اور آخرت پر ایمان، تہجد گزاری اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر۔

              کفار کے خیراتی اعمال کی مثال (تیز آندھی اور برباد کھیتی) اور ان کا دنیاوی صلہ۔

              اوس اور خزرج کے مسلمانوں کی یہود سے دوستی کی تاریخ اور منافقین کی سازشیں۔

              قرآن کی جانب سے غیروں کو رازدار بنانے کی سختی سے ممانعت۔

              دورِ حاضر کے مسلمانوں کے لیے دشمنوں سے محتاط رہنے اور صرف مروتاً تعلقات رکھنے کی تلقین۔

              خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورہ آل عمران کی آیات (112 تا 118) کا ترجمہ و تفسیر بیان فرمائی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تمام اہل کتاب نافرمان نہیں تھے، بلکہ ان میں حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ جیسے نیک لوگ بھی شامل تھے جو راتوں کو عبادت کرتے اور نیک کاموں میں جلدی کرتے تھے۔ اس کے بعد کافروں کے خیراتی اعمال کی مثال ایک ایسی کھیتی سے دی گئی ہے جسے کفر کی سرد آندھی تباہ کر دیتی ہے اور انہیں آخرت میں کوئی اجر نہیں ملتا۔ بیان کے دوسرے حصے میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے مدینہ کے یہودیوں اور منافقین کے پس منظر میں مسلمانوں کو خبردار کیا کہ اغیار کو کبھی اپنے راز نہ بتائیں۔ آخر میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے امت مسلمہ کو نصیحت کی ہے کہ دشمنوں یا مشکوک افراد کے ساتھ ظاہری اور مروتاً تعلقات ضرور رکھے جا سکتے ہیں، لیکن ان سے دلی تعلق اور راز کی باتیں شیئر کرنے سے مکمل گریز کیا جائے۔


              یہودِ مدینہ کی سازشیں اور مسلمانوں کے لیے احتیاط کا قرآنی درس - درسِ قرآن - پہلا دور