الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ۔
كُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ تَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِؕ وَ لَوْ اٰمَنَ اَهْلُ الْكِتٰبِ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْؕ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ اَكْثَرُهُمُ الْفٰسِقُوْنَ﴿110﴾ لَنْ یَّضُرُّوْكُمْ اِلَّاۤ اَذًىؕ وَ اِنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ یُوَلُّوْكُمُ الْاَدْبَارَ ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ﴿111﴾ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الذِّلَّةُ اَیْنَ مَا ثُقِفُوْۤا اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ حَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ وَ بَآءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ ضُرِبَتْ عَلَیْهِمُ الْمَسْكَنَةُؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا یَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ یَقْتُلُوْنَ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّؕ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّ كَانُوْا یَعْتَدُوْنَۗ ﴿112﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيْمُ۔
(مسلمانو!) تم وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کے فائدے کے لئے وجود میں لائی گئی ہے۔ تم نیکی کی تلقین کرتے ہو، برائی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ تو مؤمن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے ﴿110﴾ وہ تھوڑا بہت ستانے کے سوا تمہیں کوئی بڑا نقصان ہرگز نہیں پہنچا سکیں گے۔ اور اگر وہ تم سے لڑیں گے بھی تو تمہیں پیٹھ دکھا جائیں گے، پھر انہیں کوئی مدد بھی نہیں پہنچے گی ﴿111﴾ وہ جہاں کہیں پائے جائیں، ان پر ذلت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے، الّا یہ کہ اللہ کی طرف سے کوئی سبب پیدا ہو جائے یا انسانوں کی طرف سے کوئی ذریعہ نکل آئے جو ان کو سہارا دے دے؛ انجام کار وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں، اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی ہے۔
اہلِ کتاب کا معاملہ قرآن پاک نے کافی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ یہ یہود اور نصاریٰ کی طرف اشارہ ہے۔ یہود جو تھے، یہ... ان کے ساتھ اللہ پاک نے بڑے کرم کا معاملہ فرمایا تھا۔ ان میں بہت سارے انبیاء کرام علیہم السلام تشریف لائے ہیں اور ان کو کتابیں بھی دی گئیں یعنی تورات اور انجیل۔ لیکن یہ... اس مقام کو جو اللہ نے ان کو عطا فرمایا تھا، اس کی قدر نہیں کر سکے۔ اور بجائے شکر کرنے کے، انہوں نے اپنے آپ کو کچھ سمجھا، کہ ہم منتخب لوگ ہیں، اور ہم ایسے، اور ہم ایسے۔ کچھ باتیں تو ان میں صحیح تھیں، منتخب تو تھے اس وقت۔ لیکن کچھ انہوں نے اپنی طرف سے بھی بنا لیں۔
مثلاً انہوں نے کہا کہ اللہ پاک ہمیں عذاب نہیں دیں گے، مگر بس چند دن۔ چاہے ہم کچھ بھی کریں۔ اور... یہ باقی لوگ تو ہمارے سامنے کیڑوں مکوڑوں کی طرح ہیں، ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ ان باتوں کی اجازت تو اللہ تعالیٰ نے ان کو نہیں دی تھی۔ اس وجہ سے یہ اپنے راستے سے ہٹ گئے، الاّ کے تھوڑے سے لوگ، جن کے بارے میں اللہ پاک نے فرمایا، یہ اہلِ ایمان تھے، یا مخلص تھے، اپنے دین پر قائم تھے۔ چونکہ ان کے دین میں یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ جب تشریف لائیں گے تو ان پر ایمان لائیں گے۔ لہٰذا وہ لوگ ایمان لے آئے۔ جیسے عبداللہ بن سلام رضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ لیکن جو لوگ اپنی ان چیزوں میں پھنسے ہوئے تھے، racism میں، اور اپنے آپ کو کچھ سمجھنے میں، وہ ایمان نہیں لا سکے۔ نتیجتاً وہ گمراہ ہو گئے۔
تو ان کے بارے میں پھر اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ اگر اہل کتاب ایمان لے آتے تو یہ ان کے حق میں کہیں بہتر ہوتا۔ ان میں سے کچھ تو مؤمن ہیں، مگر ان کی اکثریت نافرمان ہے ﴿110﴾ وہ تھوڑا بہت ستانے کے سوا تمہیں کوئی بڑا نقصان ہرگز نہیں پہنچا سکیں گے۔ اور اگر وہ تم سے لڑیں گے بھی تو تمہیں پیٹھ دکھا جائیں گے، پھر انہیں کوئی مدد بھی نہیں پہنچے گی ﴿111﴾ وہ جہاں کہیں پائے جائیں، ان پر ذلت کا ٹھپہ لگا دیا گیا ہے، الّا یہ کہ اللہ کی طرف سے کوئی سبب پیدا ہو جائے یا انسانوں کی طرف سے کوئی ذریعہ نکل آئے جو ان کو سہارا دے دے؛ انجام کار وہ اللہ کا غضب لے کر لوٹے ہیں، اور ان پر محتاجی مسلط کر دی گئی ہے۔
اس میں ہمارے لیے بڑی عبرت ہے۔ کہ اللہ پاک نے جن کو کوئی فضیلت دی ہو، مثلاً علم کی فضیلت دی ہو، اس پر نہ اترائیں۔ نسب کی فضیلت دی ہو، اس پر نہ اترائیں۔ کسی کو خوبصورت بنایا ہو، اس پہ نہ اترائیں، کسی کو طاقتور بنایا ہو، اس پہ نہ اترائیں، بلکہ اس کو اللہ پاک کا فضل سمجھیں اور اس پر اللہ پاک کا شکر ادا کریں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو وہی چیز ان کے خلاف استعمال ہو جائے گی۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: امتِ مسلمہ کی فضیلت، بنی اسرائیل کا زوال اور تکبر کا انجاممتبادل عنوان: نعمتوں کی ناقدری اور نسلی برتری (Racism) کے نقصانات
اہم موضوعات:• امتِ مسلمہ کا خیرِ امت ہونا اور ان کی بنیادی ذمہ داریاں (امر بالمعروف اور نہی عن المنکر)۔• اہلِ کتاب (یہود و نصاریٰ) پر اللہ کے انعامات اور ان کی ناقدری۔• یہود کا خود کو برتر سمجھنا، نسلی تکبر (Racism) اور گمراہی کے اسباب۔• حق پرست اہلِ کتاب کا آپ ﷺ پر ایمان لانا (مثلاً حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ)۔• نافرمان اہلِ کتاب پر ذلت اور محتاجی کا مسلط ہونا۔• علم، نسب، حسن یا طاقت جیسی نعمتوں پر اترانے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرنے کی تلقین۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورہ آل عمران کی آیات کی روشنی میں امتِ مسلمہ کی فضیلت بیان کی ہے کہ یہ امت نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کے لیے پیدا کی گئی ہے۔ آپ نے اہلِ کتاب بالخصوص یہود کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں انبیاء اور کتابیں عطا کر کے فضیلت بخشی، مگر انہوں نے شکر ادا کرنے کے بجائے نسلی برتری (Racism) اور تکبر کا راستہ اپنایا اور دوسروں کو حقیر سمجھا۔ اسی تکبر کے باعث وہ نبی کریم ﷺ پر ایمان نہ لائے اور ان پر اللہ کی طرف سے ذلت، رسوائی اور محتاجی مسلط کر دی گئی۔ آخر میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے کہ ان واقعات میں ہمارے لیے بڑی عبرت ہے؛ انسان کو علم، نسب، خوبصورتی یا طاقت ملنے پر تکبر کرنے کے بجائے اسے اللہ کا فضل سمجھ کر شکر ادا کرنا چاہیے، ورنہ یہ نعمتیں انسان کے لیے وبال بن سکتی ہیں۔