تبلیغِ دین کے مختلف طریقے اور ہماری ذمہ داریاں

درس نمبر 136: سورۃ ال عمران، آیت نمبر 104 تا 109

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
جامع مسجد ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ - نزد گاڑہ، خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، جہانگیرہ
  • سورہ آل عمران کی آیات (104 تا 109) کا ترجمہ اور مفہوم۔
    • امر بالمعروف اور نہی عن المنکر: فرضِ کفایہ یا فرضِ عین کی بحث۔
      • دعوت و تبلیغ کے وسیع مفاہیم: قرآن کی تعلیم، دلائل سے دین سکھانا، اذان، اور مشائخ کا تزکیہ۔
        • حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمة الله عليه کی کتاب "فضائلِ اعمال" اور تبلیغ کی وسعت پر دلائل۔
          • امت میں پھوٹ اور اختلاف ڈالنے کے نقصانات اور وعیدیں۔
            • دینی محاذوں (مدارس، خانقاہوں، تبلیغی جماعت) کی اہمیت اور حاجی عبدالوہاب رحمة الله عليه کا قول۔
              • امت میں جوڑ پیدا کرنے کی اہمیت اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل۔
                • قیامت کے دن چہروں کی سفیدی و سیاہی اور اعمال کے انجام کا بیان۔

                  الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، أَمَّا بَعْدُ!

                  فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،

                  بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

                  وَ لْتَكُنْ مِّنْكُمْ اُمَّةٌ یَّدْعُوْنَ اِلَى الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِؕ وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ﴿104﴾ وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَ اخْتَلَفُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْبَیِّنٰتُؕ وَ اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ ﴿105﴾ یَّوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْهٌ وَّ تَسْوَدُّ وُجُوْهٌۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْهُهُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ ﴿106﴾ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ ابْیَضَّتْ وُجُوْهُهُمْ فَفِیْ رَحْمَةِ اللّٰهِؕ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ﴿107﴾ تِلْكَ اٰیٰتُ اللّٰهِ نَتْلُوْهَا عَلَیْكَ بِالْحَقِّؕ وَ مَا اللّٰهُ یُرِیْدُ ظُلْمًا لِّلْعٰلَمِیْنَ ﴿108﴾ وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ ﴿109﴾ صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

                  معزز خواتین و حضرات! آج چونکہ ہمارا خواتین کے لیے جوڑ کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جو کہ ظاہر ہے ہم یہیں سے کر رہے ہیں مجبوراً کیونکہ ہم تو اعتکاف میں ہیں۔ اور اس وجہ سے یہ جوڑ جو ہے online ہوگا، 9 بجے سے لے کر 12 بجے تک۔ اس وجہ سے اعلان بھی تاخیر سے groups میں چلا گیا۔ تو جو جو خواتین اس کو سنیں، تو اس اعلان کو دوسروں تک پہنچائیں، تمام groups میں پہنچائیں۔

                  اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں، اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں ﴿104﴾ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آ چکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑ گئے۔ ایسے لوگوں کو سخت سزا ہو گی ﴿105﴾ اس دن جب کچھ چہرے چمکتے ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ پڑ جائیں گے! چنانچہ جن لوگوں کے چہرے سیاہ پڑ جائیں گے اُن سے کہا جائے گا کہ: ”کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر اختیار کر لیا؟ لو پھر اب مزہ چکھو اس عذاب کا، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔“ ﴿106﴾ دوسری طرف جن لوگوں کے چہرے چمکتے ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں جگہ پائیں گے۔ وہ اسی میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ﴿107﴾ یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں، اور اللہ دنیا جہان کے لوگوں پر کسی طرح کا ظلم کرنا نہیں چاہتا ﴿108﴾ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے، اللہ ہی کا ہے اور اسی کی طرف تمام معاملات لوٹائے جائیں گے ﴿109﴾

                  بہت بڑا، اہم کام، لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا، بھلائی کی طرف بلانا، نیکی کی تلقین کرنا اور برائی سے روکنا۔ لیکن اس میں ساتھ یہ بھی ہے کہ تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے، سب کا نہیں فرمایا، تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو یہ کام کرے۔ اب اگر یہ باتیں بھی ہم سمجھائیں تو بعض لوگ ناراض ہو جاتے ہیں۔ ہاں جی، یعنی کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو فرضِ کفایہ ہوتے ہیں، اور کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو فرضِ عین ہوتے ہیں۔ مثلاً جنازہ یہ فرضِ کفایہ ہے، اور جو ہماری پانچ نمازیں دن کی ہیں، یہ فرضِ عین ہیں۔ تو فرضِ عین کو ہم فرضِ کفایہ نہیں کہہ سکتے، فرضِ کفایہ کو ہم فرضِ عین نہیں کہہ سکتے، جیسے حلال کو ہم حرام نہیں کہہ سکتے، حرام کو ہم حلال نہیں کہہ سکتے۔ کیونکہ اللہ پاک کا حکم جیسے ہے بس اسی طرح ماننا چاہیے، اپنی طرف سے ہم کیوں درمیان میں مداخلت کریں، اپنے آپ کو خراب کریں؟

                  تو أَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ کا جو کام ہے، أَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ کا کام کیا ہے یہ کچھ جماعت کے لیے ہے کہ مطلب ہے کچھ، کچھ لوگ ایسے ہونے چاہیے جو یہ کام ضرور کریں۔ کام بہت بڑا ہے، اس میں نہیں کہ مطلب ہے کام چھوٹا ہے، ظاہر ہے انبیاء کرام علیہم السلام بھی یہی کرتے تھے۔ لیکن انبیاء کرام علیہم السلام اور کام بھی کرتے تھے۔ مثلاً جو پیغمبر ﷺ، ان کے بارے میں ابراہیم علیہم السلام کی دعا ہے، تو کیا اس میں مانگا گیا تھا؟ "اے اللہ ان میں سے ایک پیغمبر ایسا بھیج دے جو کتاب کی تلاوت ان کے سامنے کرے، ان کو کتاب و حکمت کی تعلیم دے دے، اور ان کا تزکیہ کرے۔" تو نبی کے یہ بھی کام ہیں۔

                  تو اب یہ جو قاری صاحبان نماز پڑھا رہے ہیں، نہیں سوری، یہ جو قرآن پڑھاتے ہیں، یا قرآن سکھاتے ہیں، تو یہ بھی انبیاء کا شعبہ تھا نا۔ مطلب یہ کہ قرآن سکھانا جیسے اترا ہے۔ علماء کرام جو دلائل دیتے ہیں دین کی اور مسائل بتاتے ہیں، یہ بھی انبیاء کرام علیہم السلام کا کام تھا نا۔ اور جو مشائخ تزکیہ کرتے ہیں، یہ بھی انبیاء کرام علیہم السلام کا کام ہے نا۔ تو جو قرآن میں جن کے بارے میں آیا ہے تو اس میں ہم تبدیلی تو نہیں کر سکتے، ایسے ہی ہے جس طرح آیا ہے، اللہ تعالیٰ نے جیسے بنایا ہے تو ہم بھی اس طرح بتائیں گے۔ اپنی جذباتیّت کی وجہ سے ہم لوگ اس چیز کو تبدیل نہیں کر سکتے، جیسے ہے اسی طرح ہمیں بیان کرنا پڑے گا۔

                  مقصود میرا یہ ہے کہ ایک تو اس أَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ کے کام کو سب کے اوپر لازم ہم نہیں کر سکتے کہ یہ فرضِ عین ہے جیسے بعض لوگ کہتے ہیں۔ سب کے لیے نہیں ہے، بلکہ نَہی عَنِ المُنکَر کا جو کام ہے وہ تو میرے خیال میں یہ حضرات خود بھی نہیں کرتے جو اس بات کی دعوت دیتے ہیں، تو کہتے ہیں وہ نَہی عَنِ المُنکَر تو نہیں کرتے ہم، صرف أَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ کرتے ہیں۔ تو ظاہر ہے آدھا کام ہے۔ اور اس کی وجہ کیا ہے کہ نَہی عَنِ المُنکَر ہر ایک نہیں کر سکتا، اس کے لیے بہت علم کی، فہم کی، حکمت کی، دانائی کی ضرورت ہے، ہر شخص نہیں کر سکتا۔ تو جو کرتے ہیں، وہ ایک اہم کام کر رہے ہیں، جیسے یہ اہم کام ہے، أَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ جیسے اہم کام ہے اس طرح نَہی عَنِ المُنکَر بھی بہت اہم کام ہے، تو کچھ لوگ وہی کریں گے۔ تو ظاہر ہے ہم کہیں گے کہ وہ بھی انبیاء کا کام ہے اور بہت اہم کام ہے۔

                  یہ ایک بات ذیل میں آ گئی کہ أَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ کا جو کام ہے، یہ بہت اہم کام ہے، انبیاء کا کام ہے، لیکن کچھ لوگ اس کو مطلب کریں تو گویا کہ ایک جماعت کی شکل بن جائے گی۔ لیکن ہے بہت اونچا کام۔ اور فرمایا: وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اور یہی وہ لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔ لہٰذا ایک بہت اونچا کام کر رہے ہیں۔ لیکن اس کی وجہ سے کسی اور دین کے کام کی تنقیص نہیں کی جا سکتی۔ مثلاً قاری صاحبان قرآن پڑھا رہے ہیں، اور ہم کہتے ہیں یہ کچھ بھی نہیں کر رہے، ہم جو کر رہے ہیں اصل کام تو ہم کر رہے ہیں۔ بھئی قرآن پاک جب اس کے بارے میں بتاتا ہے تو آپ کیا کون ہیں تبدیل کرنے والے؟

                  یا علماء کرام، اسی وجہ سے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب رحمة الله عليه جو ان تمام چیزوں کو جانتے تھے، ایک تو شیخ الحدیث تھے اور دوسرا اسی فن کے تھے۔ تو حضرت کے فضائلِ اعمال میں، فضائلِ تبلیغ میں، فصلِ اول پہ، پہلے صفحے پہ... جو لکھا ہے سنا دوں؟ بھئی یہاں پر فضائلِ اعمال ہے؟ جی... فضائلِ اعمال ہے نا؟ کوئی اور کتاب تو میں نے نہیں اٹھائی! آج کل بہت زیادہ محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔ صحیح! ہاں یہ آ گیا۔ یہ فصلِ اول ہو گیا، فصلِ اول 598 صفحہ ہے۔ ٹھیک ہے نا، 598 صفحے پہ فصلِ اول۔ فرماتے ہیں: "اس میں تبرکاً اللہ پاک کے بابرکت کلام میں سے چند آیات کا ترجمہ جن میں تبلیغ و امر بالمعروف کی تاکید و ترغیب فرمائی ہے۔" میرے خیال میں اب تو سب باتیں اکٹھی ہو گئی نا، سمجھ میں آ گئی بات۔

                  پیش کرتا ہوں: "جس سے اس کا اندازہ ہو سکتا ہے کہ خود حق سبحانہ و تعالیٰ کو اس کا کتنا اہتمام ہے کہ جس کے لیے بار بار مختلف عنوانات سے اپنے پاک کلام میں اس کا اعادہ کیا ہے۔ تقریباً 60 آیات تو میری کوتاہ نظر سے اس کی ترغیب اور توصیف میں گزر چکی ہیں، کوئی دقیق النظر غور سے دیکھے تو نہ معلوم کس قدر اور آیات معلوم ہوں۔ چونکہ ان سب آیات کا اس جگہ جمع کرنا طول کا سبب ہوگا اس لیے چند ہی آیات پر اکتفاء کرتا ہوں۔"

                  اب پہلی آیت جو فرما رہے ہیں: قال اللہ عزَّ اسْمُہ: وَمَنْ أَحْسَنُ قَوْلًا مِّمَّنْ دَعَا إِلَى اللهِ وَعَمِلَ صَالِحًا وَقَالَ إِنَّنِي مِنَ الْمُسْلِمِينَ آیت کریمہ: "اور اس سے بہتر کس کی بات ہو سکتی ہے جو خدا کی طرف بلائے اور نیک عمل کرے اور کہے میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔" بیان القرآن۔

                  آگے حضرت فرماتے ہیں: "مفسرین نے لکھا ہے کہ جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کی طرف کسی کو بلائے وہ اس بشارت اور تعریف کا مستحق ہے۔ ٹھیک ہے؟ خواہ کسی طریقے سے بلائے۔ خواہ کسی طریقے سے بلائے۔ مثلاً انبیاء علیہ السلام معجزہ وغیرہ سے بلاتے ہیں، علماء دلائل سے، مجاہدین تلوار سے، مؤذنین اذان سے..." وہ یہی مؤذن ہے وہ چلا گیا ہے موجود؟ ہاں حسین! یہ بھی تبلیغ ہے۔ ظاہر ہے مؤذن ہے نا۔ ٹھیک ہے؟

                  "غرض جو بھی کسی شخص کو دعوت الی الخیر کرے، وہ اس میں داخل ہے خواہ اعمالِ ظاہرہ کی طرف بلائے، یا اعمالِ باطنہ کی طرف، جیسے کہ مشائخ صوفیہ معرفت اللہ کی طرف بلاتے ہیں۔" اب کوئی شک رہ گیا؟ ہاں جی! تو اس کا مطلب ہے کہ تبلیغ کا لفظ جو ہے، عام ہے۔ تبلیغ یہ آپ ﷺ کی ایک حدیث شریف بَلِّغُوا عَنِّي وَلَوْ آيَةً پہنچا دو میری طرف سے لوگوں کو چاہے وہ ایک آیت کیوں نہ ہو۔ اب جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ صرف عالم ہی یہ کام کر سکتا ہے، وہ بھی صحیح نہیں کہہ رہے کیونکہ اس میں صرف ایک آیت کا بتایا ہے، تو ایک آیت کا تو کوئی عالم تو نہیں کہتا نا عام طور پر۔ تو کسی نے اگر ایک عالم سے ایک آیت سیکھی ہے اور وہ اس کو دوسروں کو بتاتا ہے تو جائز ہوگا یا نہیں ہوگا؟ حدیث شریف سے ثابت ہو گیا نا۔ تو لہٰذا جو ایک آیت کو بھی جانتا ہے، وہ بھی اگر دوسرے کو پہنچاتا ہے تو یہ بھی تبلیغ ہے۔کوئی ایک حدیث شریف جانتا ہے وہ دوسروں کو پہنچاتا ہے یہ بھی تبلیغ ہے۔

                  کوئی کوئی، کوئی سی بھی اچھی بات کسی اور کو پہنچاتا ہے تو کیا ہے، یہ بھی تبلیغ ہے۔ اب یہ تو ہو گیا تبلیغ کا گویا کہ ڈھانچہ۔ اب طریقے، تو طریقے بھی کئی بتا دیے حضرت نے۔ انبیاء کرام معجزوں کے ذریعے سے، علماء کرام دلائل سے، اور مؤذنین اذان سے، مجاہدین تلوار سے، اور مشائخ جو اعمالِ قلب کی طرف بلاتے ہیں، یہ بھی تبلیغ ہے۔

                  تو اس پر ہم اب اتفاق کرتے ہیں کہ یہ سارے أُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ میں آتے ہیں۔ یعنی سارے لوگ فرمایا ہاں، ماشاءاللہ! کہ جو فلاح پانے والے ہیں۔ اب آگے بات ہے: "ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جن کے پاس کھلے، کھلے دلائل آ چکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑ گئے، اور ایسے لوگوں کو سخت سزا ہوگی۔" اب مجھے بتاؤ، اگر میں کہتا ہوں میں یہ کام جو کر رہا ہوں یہ کام ہے اور دوسرا نہیں ہے، تو پھوٹ ڈالنا ہے یا نہیں ہے؟ تو اس سے بچنا چاہیے یا نہیں بچنا چاہیے؟ اس سے بچنا چاہیے۔

                  سمجھ میں آ گئی نا بات؟ مطلب ہم لوگ جوڑ پیدا کریں، جوڑ پیدا کریں۔ حضرت مولانا یوسف کاندھلوی صاحب رحمة الله عليه، تبلیغی جماعت کے دوسرے امیر ہیں، حضرت مولانا الیاس رحمة الله عليه کے صاحبزادے ہیں۔ ان کے وقت میں تبلیغ کے کام کو بہت ترقی ہوئی تھی۔ حضرت کا آخری بیان، آخری بیان چھپ بھی چکا ہے، اس میں حضرت نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا: "افسوس، امت سے امت پنا چلا گیا! امت سے امت پنا چلا گیا۔" فرمایا: "جو لوگ، جو اچھا شخص ہو، لیکن اس کی زبان سے کوئی ایسا کلمہ نکلے جس میں امت میں توڑ پیدا ہو، جہنم جائے گا۔ اور کوئی عام شخص، اس کی زبان سے کوئی ایسا کلمہ نکلا جس سے امت میں جوڑ پیدا ہو گیا، وہ جنت جائے گا۔"

                  امت میں توڑ پیدا کرنا کتنی خطرناک بات ہے! اس وجہ سے ہم سب کو جوڑ پیدا کرنا چاہیے۔ ہم کہتے ہیں سبحان اللہ، یہ سارے ماشاءاللہ فلاح پانے والے ہیں۔ میں قاری صاحب کو بہت اہم کام والا سمجھتا ہوں، علماء کو بہت اہم کام والا سمجھتا ہوں، مجاہدین کو بہت اہم کام کرنے والا سمجھتا ہوں، اور مشائخ کو بھی بہت اہم کام کرنے والا سمجھتا ہوں۔ اس کی وجہ ہے کہ سارے اپنے، اپنے مورچے ہیں۔ کسی مورچے کو بھی ہم خالی نہیں چھوڑ سکتے۔

                  مجھے خوب یاد ہے رائیونڈ میں، ایک عرب بچے کی حفظِ قرآن ہوا تھا مدرسے میں، اس پر حاجی عبدالوہاب صاحب رحمة الله عليه نے بیان فرمایا تھا، اس میں، اس وقت میں موجود تھا۔ حضرت نے بیان میں فرمایا کہ دیکھو یہ مدرسے ہمارے ہیں، اگر علماء علم نہیں پھیلائیں گے تو ہمارے اندر تو جہالت آ جائے گی۔ اور یہ خانقاہیں ہماری ہیں، اگر خانقاہیں نہیں ہوں گی تو پھر تو ہم وہ دل کی صفائی کیسے حاصل کریں گے؟ اس طرح کئی ذکر کیے حاجی صاحب نے، مجھے دو یاد ہیں۔ پتہ نہیں یہ باتیں لوگ کیسے بھول جاتے ہیں؟ یہ سب باتیں ہیں ضروری۔

                  اور ہمیں سب کو لے، لے کر چلنا ہے۔ قرآن کہتا ہے: تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ آجاؤ اس کلمے کی طرف جو ہم میں اور آپ میں مشترک ہے۔ تو اللہ تعالیٰ تو ہمیں جوڑ کی طرف بلا رہا ہے، ہاں جی! اور تبلیغ بھی جوڑ کے ذریعے سے ہو سکتا ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ طریقہ تھا کہ وہ جب کوئی آتا باہر سے، تو اس سے پوچھتے آپ کون سے قبیلے کے ہیں؟ ان کو شجرہِ نسب بہت یاد تھے، تو وہ بتاتے کہ ہم فلاں قبیلے سے ہیں، تو پھر وہ اوپر شجرہ پہنچا کے نا، اپنا شجرہ ان کے ساتھ ملا کے کہ ان کو اپنا رشتہ دار دکھاتے ہیں۔ اور پھر اس کے بعد ان کو دعوت دیتے۔ یہ طریقہ تھا۔ تو کیا یہ کام ہم نہیں کر سکتے؟ ہاں جی! تو جوڑ پیدا کرو، اس میں ہمارا فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں نصیب فرمائے۔

                  پھر آگے فرمایا: "اس دن جب کچھ چہرے چمکتے ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ پڑ جائیں گے۔ چنانچہ جن لوگوں کے چہرے سیاہ پڑ جائیں گے ان سے کہا جائے گا کہ کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر اختیار کیا تھا؟" یہ چہروں کا روشن ہونا اور سیاہ ہونا، یہ اصل میں گویا کہ ان کے اندرون کا اظہار ہے۔ اس وقت ہو جائے گا، ادھر تو نہیں ہوتا نا، ادھر تو اللہ نے پردہ ڈالا ہوا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بہت با ایمان شخص بالکل سیاہ ہو، جیسے حبشی ہو، اور ہو سکتا ہے کہ بالکل کافر آدمی بہت سرخ و سفید ہو۔ تو یہاں تو پردہ ڈالا ہوا ہے۔ لیکن وہاں یہ پردے اتر جائیں گے۔ جو جیسا ہوگا اس طرح نظر آئے گا۔ اندرون میں جیسا ہوگا اس طرح وہ نظر آ جائے گا، تو پھر ان کو خطاب بھی کیا جائے گا۔

                  "اور جن لوگوں کے چہرے چمکتے ہوں گے وہ اللہ کی رحمت میں جگہ پائیں گے، وہ اسی میں ہمیشہ، ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کی آیتیں ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک، ٹھیک پڑھ کر سنا رہے ہیں، اور اللہ دنیا جہان کے لوگوں پر کسی طرح کا ظلم نہیں چاہتا۔ آسمان اور زمین میں جو کچھ ہے وہ اللہ ہی کا ہے۔" اصل میں جب آسمان اور زمین دونوں کا ذکر آتا ہے نا، اس کا مطلب پورا کائنات ہوتا ہے۔ یعنی پورے کائنات میں جو کچھ ہے، وہ اللہ ہی کا ہے، اور اسی کی طرف تمام معاملات لوٹائے جائیں گے۔ اللہ پاک ہم سب کو برے انجام سے بچائے۔


                  تجزیہ اور خلاصہ

                  بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

                  سب سے جامع عنوان: دعوتِ الی الخیر، امر بالمعروف اور امت کا اتحاد متبادل عنوان: تبلیغِ دین کے مختلف طریقے اور ہماری ذمہ داریاں

                  اہم موضوعات:

                  سورہ آل عمران کی آیات (104 تا 109) کا ترجمہ اور مفہوم۔

                  امر بالمعروف اور نہی عن المنکر: فرضِ کفایہ یا فرضِ عین کی بحث۔

                  دعوت و تبلیغ کے وسیع مفاہیم: قرآن کی تعلیم، دلائل سے دین سکھانا، اذان، اور مشائخ کا تزکیہ۔

                  حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمة الله عليه کی کتاب "فضائلِ اعمال" اور تبلیغ کی وسعت پر دلائل۔

                  امت میں پھوٹ اور اختلاف ڈالنے کے نقصانات اور وعیدیں۔

                  دینی محاذوں (مدارس، خانقاہوں، تبلیغی جماعت) کی اہمیت اور حاجی عبدالوہاب رحمة الله عليه کا قول۔

                  امت میں جوڑ پیدا کرنے کی اہمیت اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا طرزِ عمل۔

                  قیامت کے دن چہروں کی سفیدی و سیاہی اور اعمال کے انجام کا بیان۔

                  خلاصہ: اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورہ آل عمران کی آیات کی روشنی میں دعوت الی الخیر، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی اہمیت و وسعت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے واضح کیا کہ امر بالمعروف فرضِ عین نہیں بلکہ فرضِ کفایہ ہے، اور دعوت و تبلیغ کا کام صرف کسی ایک مخصوص شکل تک محدود نہیں، بلکہ قرآن پڑھانا، اذان دینا، دلائل سے دین سمجھانا اور تزکیہ نفس بھی تبلیغ کے ہی مختلف طریقے ہیں۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا رحمة الله عليه اور دیگر اکابرین کا حوالہ دیتے ہوئے امت کو خبردار کیا کہ دین کے مختلف شعبوں (مدارس، خانقاہوں وغیرہ) کو ایک دوسرے کی مخالفت نہیں کرنی چاہیے، بلکہ آپس میں جوڑ پیدا کرنا چاہیے، کیونکہ امت میں پھوٹ ڈالنا اور فتوے لگانا جہنم کی طرف لے جانے والے اعمال ہیں۔ اللہ کی طرف بلانے اور جوڑ پیدا کرنے میں ہی دنیا اور آخرت کی فلاح ہے۔



                  تبلیغِ دین کے مختلف طریقے اور ہماری ذمہ داریاں - درسِ قرآن - پہلا دور