الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، أَمَّا بَعْدُ!
فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
معزز خواتین و حضرات! اللہ کا شکر ہے کہ آج ہمارا اعتکاف شروع ہو چکا ہے، یعنی رات سے۔ اور ہمارے معمولات اس کے مطابق اب چل رہے ہیں۔ لیکن یہ دو معمولات ہمارے پرانے جو چل رہے ہیں، یہ اس کے ساتھ شامل ہو چکے ہیں، یعنی قرآن پاک کا جو درس ہے، آسان ترجمہ، اور سیرت کا جو مطالعہ ہے سوال کے ذریعے سے۔ لیکن تیسری بات جو اس میں بہت زیادہ اہم ہے اعتکاف کے لحاظ سے، وہ عقائد کا بیان ہے۔ تو ان شاءاللہ یہ تینوں ابھی ہوں گی اور یہ online چل رہی ہے۔
یعنی دور کے لوگ بھی اس کو سن رہے ہیں، اس لیے میں نے درمیان میں کہا خواتین و حضرات۔ کیونکہ وہ بھی سن رہی ہیں باقاعدہ، اور شاید خواتین سننے والی زیادہ ہیں، جو ہمیں report ملتی ہے۔ تو ظاہر ہے دین تو سب تک پہنچانا ہے۔ تو ابھی پہلے ان شاءاللہ العزیز وہ درسِ قرآن کا سلسلہ ہے۔ وہ ان شاءاللہ العزیز شروع کرتے ہیں، اللہ جل شانہٗ ہمیں قرآن پاک کے جملہ انوارات نصیب فرمائے۔
یہ ہم نے آسان ترجمہ جو ہے، لیا ہے حضرت مولانا مفتی تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم کا۔ واقعی آسان ترجمہ ہے آج کل کے لحاظ سے۔ ترجمہ تبدیل ہوتا رہتا ہے، قرآن تبدیل نہیں ہوتا، قرآن ویسا ہی رہتا ہے لیکن ترجمہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زبان تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ تو یہی ہماری ادھر جہانگیرہ ہے نا، اور دریا کے پیچھے جو ہے نا وہ نڑئی ہے۔ یہ دو مطلب ہے یعنی اب صرف دریا درمیان میں حائل ہے۔ تو یہاں "کمینہ" کا جو لفظ ہے نا، کمینہ کا، وہ وہی ہے جو اردو میں ہے۔ اور وہاں کمینہ "خاکسار" کو کہتے ہیں۔
ہمارے ایک ساتھی تھے تو وہ کہہ رہے تھے، وہ بھائی خان وہاں پر ایک بڑا نیک آدمی گزرا ہے، مالدار تھے، تو لوگ اس کے بڑے معترف تھے۔ تو اس نے کسی کو lift دی ہوگی، دیہاتی لوگ ہیں، تو اس نے کہا بھائی خان بڑا کمینہ ہے۔ تو یہاں کے آدمی کے تو کان کھڑے ہو گئے کہ بھئی اس کو کمینہ کہا ہے! قریب تھا کہ لڑائی ہو جاتی، ہاں جی۔ تو اس نے کہا نہیں، وہ گاڑی پہ آ رہے تھے تو میرے لیے گاڑی روک دی، تو فوراً سمجھ گیا کہ بھئی کوئی عزت والے الفاظ استعمال کر رہے ہیں، ہاں جی۔ تو وہ لڑائی رک گئی۔
تو دیکھو نا زبان کی تبدیلی سے کتنا فرق پڑتا ہے؟ تو اس وجہ سے ترجمہ جو ہوتا ہے، یہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ شاہ عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ نے سب سے پہلے اردو ترجمہ کیا تھا، لیکن وہ اردو کا ترجمہ آج کل لوگوں کو آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا، کیونکہ وہ اس وقت کی اردو میں تھا۔ ہاں جی، تو پھر حضرت شیخ الہند رحمۃ اللہ علیہ نے کیا، ماشاءاللہ۔ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے کیا با محاورہ ترجمہ کیا ہے، ہاں جی۔ اور میرے خیال میں حضرت کا جو، مولانا تقی عثمانی صاحب کا جو ہے، یہ حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے ترجمے کی ایک extension ہے، یعنی اس کے لحاظ سے۔ اور چونکہ حضرت نے اشرف التفاسیر بھی لکھی ہے، جو حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کے جو مواعظ ہیں، اس سے تفسیری نکات کو جمع کر دیا ہے۔ تو بہت اچھی combination ماشاءاللہ، بہت اچھی collection ہے کہ حضرت نے ماشاءاللہ جو اپنے مواعظ میں تشریحات کیے تھے، تو الحمدللہ انہوں نے اس کو جمع کیا ہے۔
أَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ:یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقٰتِهٖ وَ لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ ﴿102﴾ وَ اعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ اللّٰهِ جَمِیْعًا وَّ لَا تَفَرَّقُوْا وَ اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ كُنْتُمْ اَعْدَآءً فَاَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِكُمْ فَاَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهٖۤ اِخْوَانًاۚ وَ كُنْتُمْ عَلٰى شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَاَنْقَذَكُمْ مِّنْهَاؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اٰیٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ﴿103﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِيْمُ۔
اے ایمان والو! اللہ میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے، اور خبردار! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے، بلکہ اسی حالت میں آئے کہ تم مسلمان ہو ﴿102﴾ اور اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، اور اللہ نے تم پر جو انعام کیا ہے اسے یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ نے تمہارے دلوں کو جوڑ دیا اور تم اللہ کے فضل سے بھائی بھائی بن گئے، اور تم آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے؛ اللہ نے تمہیں اس سے نجات عطا فرمائی۔ اسی طرح اللہ تمہارے لئے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے، تاکہ تم راہِ راست پر آ جاؤ ﴿103﴾
یہ آیت چونکہ جس وقت اتری تھی اس وقت صحابہ کرام کا زمانہ تھا، تو اس میں جو اشارہ کیا گیا ہے وہ صحابہ کرام کی طرف کیا گیا ہے، لیکن حکم عام ہے، یعنی اللہ کی رسی کو سب مل کر مضبوطی سے تھامے رکھو یہ حکم عام ہے سب کے لیے ہے۔ اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو، یہ بھی سب کے لیے ہے۔ اور اللہ پاک نے ہم پر جو انعام کیا ہے ایمان کا، وہ بھی سب کے لیے ہے۔ البتہ یہ جو حوالہ دیا گیا ہے کہ "یاد رکھو کہ ایک وقت تھا جب تم ایک دوسرے کے دشمن تھے"، یہ صحابہ کرام کا واقعہ ہے۔ یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین اوس اور خزرج جیسے تھے، تو اس وقت یہ آپس میں ان میں لڑائیاں ہوتی تھیں اور بڑی لمبی لمبی لڑائیاں ہوتی تھیں، معمولی معمولی بات پر لڑائی شروع ہو جاتی اور وہ پھر سالوں چلتی۔ تو یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے، پھر اللہ جل شانہٗ نے اسلام کی برکت سے ان کا، ان کے دلوں کو آپس میں جوڑ دیا، اور آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔
اور اگر یہ خدانخواستہ یہ مسلمان نہ ہوتے تو یہ آگ کے گڑھے کے کنارے پر تھے، مطلب موت ہی ان کے لیے بس صرف وہ تھی، کہ موت آنی تھی اور ظاہر ہے آگ میں ان کو پڑنا تھا، لیکن اللہ پاک نے ایمان کے ذریعے سے، اسلام کے ذریعے سے ان کو اس سے نجات عطا فرمائی، ہاں جی۔ تو اللہ جل شانہٗ نے پھر فرمایا کہ اس طرح اللہ پاک تمہارے لیے اپنی نشانیاں کھول کھول کر واضح کرتا ہے تاکہ تم راہِ راست پر آ جاؤ۔
اس سے پہلے جو فرمایا کہ "دل میں اللہ کا ویسا ہی خوف رکھو جیسا خوف رکھنا اس کا حق ہے" یہ اصل میں، اور فرمایا "خبردار! تمہیں کسی اور حالت میں موت نہ آئے بلکہ اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو"۔ اصل میں ایمان، یہ اتنی بڑی دولت ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔ کیونکہ خدانخواستہ اگر کوئی اہلِ ایمان نہیں ہے، مسلمان نہیں ہے، اور وہ بے شک دنیا کا سب سے زیادہ شریف آدمی ہو، یعنی اخلاق کے لحاظ سے، لوگوں کے ساتھ مطلب ہے یعنی اخلاق سے پیش آتا ہو، لوگوں کی خدمت کرتا ہو، ہاں جی، کبھی کسی کی چغلی نہ کرتا ہو، غیبت نہ کرتا ہو، یعنی گویا کہ نیک لوگوں کے جو جتنے بھی صفات ہیں وہ سب اس کے اندر پائی جائیں، لیکن ایمان نہ ہو، تو ان کی ان چیزوں کا اس کو فائدہ دنیا میں تو ملے گا، آخرت میں بالکل نہیں ملے گا۔ کیونکہ اس کے پاس ایمان نہیں ہے۔
اس کے مقابلے میں ایک شخص کے پاس ایمان ہے اور دنیا کا سب سے بڑا گنہگار ہے! دنیا کا سب سے بڑا گنہگار ہے۔ ان گناہوں کی وجہ سے اگر اللہ نے چاہا اور معاف نہیں ہوا تو اس کو سزا تو ملے گی جس کی وجہ سے وہ جہنم میں جائے گا، لیکن ایک وقت ایسا آئے گا کہ وہ جہنم سے نکال دیا جائے گا اور وہ ہمیشہ کے لیے پھر جنت میں رہے گا۔ اب ذرا مقابلہ کر لیں کہ وہ ایمان کے بغیر نیکیاں کی مطلب ہے جو نا اچھے کام کرنے والا اس کی حالت کیا ہے، اور ایمان کے ساتھ جو گنہگار ترین آدمی ہے اس کی حالت کیا ہے؟ تو اب پتہ چل گیا نا کہ ایمان کیا چیز ہے!
تو ایمان بہت بڑی دولت ہے اور اس پر اللہ پاک کا ہمیں بہت شکر کرنا چاہیے۔ "وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ" تمہیں موت اس حالت میں آنی چاہیے، یعنی گویا کہ جس وقت مطلب تم مسلمان ہو، یعنی ایمان کے بغیر تمہیں مرنا نہیں چاہیے۔ یعنی ہر وقت مومن رہنا چاہیے۔ ایک لمحے کے لیے بھی آپ تصور نہ کر سکیں کہ ایمان کے بغیر رہیں۔
جرمنی میں میں تھا تو وہاں پر ایک پاکستانی تھے، تو ظاہر ہے پاکستانیوں کے ساتھ ہمارا ملنا جلنا تھا۔ تو کسی بات پہ ان کے ساتھ کوئی بحث ہو گئی۔ تو اس نے کہا آپ تھوڑی دیر کے لیے اسلام کی بات نہ کریں۔ میں نے کہا یہ کیا بات کی؟ میں ایک second کے لیے بھی اسلام سے نہیں نکل سکتا! یہ کیسے تصور کر لوں کہ اسلام کی بات نہ کروں؟ ناممکن ہے! ظاہر ہے مجھے کوئی orthodox کہے، مجھے کوئی تنگ نظر کہے، چاہے مجھے کچھ کچھ بھی کہہ دے، کہہ دے نا، اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ لیکن یہ ہےکہ اسلام کی بات میں نہیں چھوڑ سکتا۔
ایک دفعہ اسی قسم کا ایک ساتھی تھے وہ جو ہے نا وہ ترکوں کے ساتھ ذرا تھوڑا سا ان کی اَن بَن ہو گئی تھی، اور ہمارے ترکوں کے ساتھ بڑی محبت ہے،وہ تو ظاہر ہے۔ تو میں نے ترکوں کی تعریف کی تو اس نے کہا اچھا ، آپ نئے نئے آئے ہوئے ہو اس لیے اس طرح باتیں کرتے ہو، تمہیں پتہ چل جائے گا۔ تو میں نے کہا اچھا، میں نے کہا زیادہ سے زیادہ آپ یہ ثابت کریں گے کہ یہ گنہگار ہیں۔ اس سے زیادہ تو نہیں کہہ سکتے نا؟ گنہگار ہیں، بس ٹھیک ہے، مان لیا۔ لیکن ان سارے کافروں کو جو جرمنی کے کافر ہیں ان کو ایک پلڑے میں رکھ دیں اور ایک گنہگار سے گنہگار ترک کو دوسرے پلڑے میں رکھ دیں، اللہ کے نزدیک وہ ان سب سے بھاری ہے۔ کیونکہ اس کے دل میں ایمان ہے۔ اور ایمان کا مقابلہ...؟
اچھا بھئی جو ریاضی جانتے ہیں، میں اس سے ایک سوال کرتا ہوں، ایک کو صفر پہ تقسیم کرو کیا جواب آتا ہے؟ ہاں؟ infinity! یعنی ایک کو صفر پہ تقسیم کر لو تو ایک اہلِ ایمان ہے اور صفر کافر ہے، تو کتنا فرق ہوا؟ ہاں جی؟ تو اس وجہ سے ایمان کی بہت زیادہ قدر کرنی چاہیے۔
حُسنِ خاتمہ کی جو دعا ہے یہ کیوں اتنی زیادہ مانگی جاتی ہے؟ اس لیے کہ اس کے بغیر ہمارا چارہ نہیں ہے۔ اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے اگر کوئی بغیر ایمان کے چلا گیا، اور یہ میں آج کل اس لیے بہت زیادہ اس پر بات کرتا ہوں کہ آج کل فتنے کا دور ہے! اور حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ صبح انسان مسلمان ہوگا، ایماندار ہوگا، اور شام کو کافر ہو چکا ہوگا۔ شام کو ایمان والا ہوگا، صبح کافر ہو چکا ہوگا۔ ایسی حالت آ جائے گی۔ آج کل یہ حالت تقریباً آ چکی ہے۔
کیونکہ social media ہے نا، یہ بہت بڑا زہر پھیلا رہا ہے۔ اب اس کو دیکھ کر لوگ بعض دفعہ ناسمجھی میں ان کی ہاں میں ہاں ملا دیتے ہیں۔ اور اللہ نہ کرے کہ کوئی غلط party میں چلا جائے، پھر تو بچنا بڑا مشکل ہے۔ خدانخواستہ اگر کوئی یعنی ایسے لوگوں کی party میں چلا گیا جن کو ایمان کی کوئی پرواہ نہ ہو تو ان کی ہاں میں ہاں ملا کر تو کسی وقت بھی لڑھک سکتا ہے۔ ہاں جی؟ بے شک آپ کو دنیا کے بڑے فائدے اس سے حاصل ہوں۔ بہت فائدہ بھی اگر آپ کو حاصل ہو، لیکن اگر آپ کے ایمان پر بات آ گئی تو آپ کو کچھ بھی نہیں ملا، تباہی ہی تباہی مل گئی۔
اس وجہ سے party بازی سے بھی بچنا چاہیے۔ party بازی آج کل بہت خطرناک ہے۔ کیونکہ بعض لوگ، بھئی ہم نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے نا، بڑے شریف شریف لوگ، داڑھی والے، تسبیح والے، غلط party میں جا کر ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہیں۔ آدمی حیران ہو جاتا ہے بھئی یہ کون سا دور آ گیا؟ ہاں جی، کس قسم کی باتیں ہم سن رہے ہیں؟ ہاں جی، کس قسم کی باتیں ہم دیکھ رہے ہیں؟ تو یہ جو ہے نا بہت خطرناک بات ہے کہ ایک تو politics میں انسان کو حصہ لیتے ہوئے... میں یہ نہیں کہتا ہوں کہ politics میں حصہ نہیں لینا چاہیے، وہ ایک ضرورت بھی ہے۔ لیکن احتیاط کے ساتھ۔
حضرت مولانا اشرف صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھ ملاقات ہوئی، مولانا فضل الرحمان صاحب کی، تو حضرت نے ان کو نصیحت فرمائی۔ فرمایا کہ سیاست جو ہے، یہ کالا ناگ ہے۔ سیاست جو ہے یہ کالا ناگ ہے۔ اس کو وہی ہاتھ لگائے جو منتر جانتا ہو اس کا۔ یعنی جو اس کا دَم جانتا ہو اس کو وہی ہاتھ لگائے۔ ہر ایک اس کو ہاتھ نہ لگائے کیونکہ اس کے ذریعے سے بعض دفعہ معاملہ گول ہو جاتا ہے۔ ہاں جی؟ تو یہ بات سب کے لیے ہے۔ خود حضرت بھی پہلے سیاست میں تھے۔
تو مقصد میرا یہ ہے کہ یہ جو بات ہے کہ آج کل کے دور میں یہ politics بہت زیادہ، بہت زیادہ، بہت زیادہ خطرناک level پہ چلے گئے ہیں۔ سوچنا چاہیے۔ تو اس وجہ سے میں عرض کرتا ہوں کہ اب آج کل بہت محتاط رہنا چاہیے، آج کل بہت محتاط رہنا چاہیے، اپنے ایمانوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔
ورنہ خدانخواستہ کسی بھی وجہ سے چلا گیا، تو اگر دوبارہ واپس آ بھی گیا، ایمان دوبارہ واپس آ بھی گیا، نقصان کیا ہوگا؟ بیوی طلاق ہو جائے گی (نکاح ٹوٹ جائے گا)۔ نمازیں ساری ختم ہو جائیں گی۔ روزے ختم ہو جائیں گے۔ زکوٰتیں ختم ہو جائیں گی۔ حج ختم ہو جائیں گے۔ ساری نیکیاں ختم ہو جائیں گی۔ نئے سرے سے کام شروع کرنا پڑے گا، اب بتاؤ کتنا نقصان ہے؟
تو اپنے ایمانوں کو بچانا چاہیے، ہاں جی، اپنے ایمانوں کو بچانا چاہیے۔ اور یہ جو ہمارا دل ہے نا، یہ صرف اللہ کے لیے بنا ہوا ہے، کسی اور کے لیے نہیں ہے۔ اس وجہ سے اس میں اللہ ہی کی محبت ہونی چاہیے، یا پھر اللہ والوں کی محبت آنی چاہیے۔ ظاہر ہے بس یہی مطلب ہمارے پاس ہے نا، اس کے علاوہ تو کچھ نہیں ہے۔
تو اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع اور بہترین عنوان: ایمان کی عظیم الشان دولت اور موجودہ دور کے فتنوں سے حفاظتمتبادل عنوان: پارٹی بازی اور سیاست کے خطرات: ایمان کی بقاء کی اہمیت
اہم موضوعات:
اعتکاف کے معمولات اور درسِ قرآن کا طریقہ کار۔
قرآن پاک کے اردو تراجم کا ارتقاء اور وقت کے ساتھ زبان کے الفاظ کا بدلتا مفہوم۔
ایمان کی بے مثال اور عظیم الشان دولت کی اہمیت۔
گناہ گار ترین مسلمان اور اچھے اخلاق والے غیر مسلم کے انجام کا فرق (1 اور صفر کی تقسیم سے infinity کی مثال)۔
موجودہ دور کے فتنے اور Social media کے تباہ کن نقصانات۔
Party بازی اور politics کو "کالا ناگ" قرار دینا۔
ایمان سلب ہونے کے خوفناک نتائج (نکاح کا ٹوٹنا اور زندگی بھر کے اعمال کا zero ہو جانا)۔
حُسنِ خاتمہ کی فکر اور دل میں صرف اللہ کی محبت بسانے کی تلقین۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے اعتکاف کے معمولات کا ذکر کرتے ہوئے درسِ قرآن کا آغاز کیا اور اردو تراجم کے ارتقاء اور زبان کی تبدیلی پر روشنی ڈالی۔ سورہ آل عمران کی آیات (102-103) کی تلاوت اور تفسیر بیان کرتے ہوئے حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے ایمان کی اہمیت پر انتہائی زور دیا۔ آپ نے واضح کیا کہ کفر کی حالت میں کی گئی بڑی سے بڑی نیکی آخرت میں بے کار ہے، جبکہ ایک گناہ گار ترین مسلمان بھی اپنے ایمان کی بدولت بالآخر جنت میں جائے گا۔ آپ نے اس فرق کو صفر اور ایک کی ریاضیاتی مثال (infinity) سے سمجھایا۔ مزید برآں، حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے موجودہ دور کے فتنوں بالخصوص Social media، اندھی party بازی اور politics کو کالا ناگ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ان کی وجہ سے انسان کا ایمان خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ آپ نے متنبہ کیا کہ ایمان سلب ہونے کی صورت میں انسان کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے اور زندگی بھر کی عبادات ضائع ہو کر zero ہو جاتی ہیں۔ آخر میں آپ نے حُسنِ خاتمہ اور دل کو صرف اللہ کی محبت کے لیے خاص کرنے کی تلقین فرمائی۔