الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔
قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ شَهِیْدٌ عَلٰى مَا تَعْمَلُوْنَ (98) قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ مَنْ اٰمَنَ تَبْغُوْنَهَا عِوَجًا وَّ اَنْتُمْ شُهَدَآءُؕ-وَ مَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ(99) یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوْا فَرِیْقًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ یَرُدُّوْكُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ كٰفِرِیْنَ(100) وَ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ وَ اَنْتُمْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ اٰیٰتُ اللّٰهِ وَ فِیْكُمْ رَسُوْلُهٗؕ وَ مَنْ یَّعْتَصِمْ بِاللّٰهِ فَقَدْ هُدِیَ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ (101)
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔
کہہ دو کہ اے اہل کتاب! اللہ کی آیتوں کا کیوں انکار کرتے ہو؟ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ ان سب کا گواہ ہے۔ کہہ دو کہ اے اہل کتاب! اللہ کے راستے میں ٹیڑھ پیدا کرنے کی کوشش کر کے ایک مومن کے لیے اس میں کیوں رکاوٹ ڈالتے ہو؟ جبکہ تم خود حقیقتِ حال کے گواہ ہو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو، اللہ پاک اس سے غافل نہیں ہے۔
یہاں سے آیت نمبر 108 تک کی آیات ایک خاص واقعے کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ مدینہ منورہ میں دو قبیلے اوس اور خزرج کے نام سے آباد تھے۔ اسلام سے پہلے ان کے درمیان سخت دشمنی تھی، اور دونوں میں وقتاً فوقتاً جنگیں ہوتی رہتی تھیں جو بعض اوقات سالہا سال جاری رہتی تھیں۔ جب ان قبیلوں کے لوگ مسلمان ہو گئے تو اسلام کی برکت سے ان کی یہ دشمنی ختم ہو گئی اور اسلام کے دامن میں آ کر وہ شیر و شکر ہو کر رہنے لگے۔ بعض یہودیوں کو ان کا یہ اتحاد ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ ایک مرتبہ دونوں قبیلوں کے لوگ ایک مجلس میں جمع تھے، ایک یہودی شاس بن قیس نے ان کے پیار محبت کا یہ منظر دیکھا تو اس سے نہ رہا گیا، اور اس نے ان کے درمیان پھوٹ ڈالنے کے لئے یہ ترکیب کی کہ ایک شخص سے کہا کہ اس مجلس میں وہ اشعار سناؤ جو زمانہ جاہلیت میں اوس اور خزرج کے شاعروں نے ایک لمبی جنگ کے دوران ایک دوسرے کے خلاف کہے تھے۔ اس شخص نے وہ اشعار سنانے شروع کر دیئے، نتیجہ یہ ہوا کہ ان اشعار سے پرانی باتیں تازہ ہو گئیں، شروع میں دونوں قبیلوں کے لوگوں میں زبانی تکرار ہوئی، پھر بات بڑھ گئی اور آپس میں نئے سرے سے جنگ کی تاریخ اور وقت مقرر ہونے لگا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ کو سخت صدمہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور انہیں تنبیہ فرمائی کہ یہ سب شیطانی حرکت تھی۔ بالآخر آپ کے سمجھانے سے یہ فتنہ ختم ہوا۔ ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے پہلے تو یہودیوں سے خطاب کر کے فرمایا ہے کہ اوّل تو تم کو خود ایمان لانا چاہئے، اور اگر خود اس سعادت سے محروم ہو تو کم از کم ان لوگوں کے راستے میں رکاوٹ تو نہ ڈالو جو ایمان لا چکے ہیں۔ اس کے بعد بڑے مؤثر انداز میں مسلمانوں کو نصیحت فرمائی ہے، اور آخر میں باہمی جھگڑوں سے بچنے کا علاج یہ بتایا ہے کہ اپنے آپ کو دین کی تبلیغ اور دعوت میں مصروف کر لو تو اس سے اشاعت اسلام کے علاوہ یکجہتی بھی پیدا ہو گی۔
شیطان جو ہے نا، اس کی زندگی کو اگر آپ تھوڑا سا غور کر لیں۔ اس کی سرشت کیا ہے؟ شیطان بھی پہلے عبادت گزار تھا۔ اور معلم الملکوت کہلایا جاتا تھا۔ اور فرشتے ان سے اپنے لیے دعائیں کرواتے تھے۔ اتنا اونچا مقام تھا اس کا۔ لیکن جب حسد کی وجہ سے آدم علیہ السلام کی مخالفت اختیار کی، تو اس کے بعد اس کو پتہ چل گیا کہ میں راندہ درگاہ تو ہو گیا ہوں۔ مطلب ظاہر ہے اب تو میرے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ تو اس کے بعد انسان کا جو نفس ہوتا ہے نا، وہ پھر کھل کے مخالفت پر آ جاتا ہے۔ تو شیطان کا جو نفس ہے وہ بھی کھل کے مخالفت پر آ گیا، اور جان بوجھ کر وہ سارے کام کرنے لگا جو کہ کرنے نہیں چاہیے تھے۔
بعینہٖ اسی طرح یہود کا معاملہ ہے۔ یہود بھی چنے ہوئے لوگ تھے۔ ان کو منتخب کیا گیا تھا۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ اس کے بارے میں ارشادات فرمائے گئے ہیں۔ لیکن حسد کی وجہ سے جب وہ اسلام نہیں لائے۔ پہلے تو انتظار کر رہے تھے نا کہ وہ نبی آئے گا تو ان کا خیال تھا کہ بنی اسرائیل میں ہو گا۔ تو وہ بنی اسماعیل میں آ گیا۔ تو حسد کی وجہ سے جل کے، ہمارے پشتو میں اس کو تربورولي کہتے ہیں نا۔ تربورولي؟ وہ جو چچا زاد بھائیوں میں آپس میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔ تربورولي؟ اردو میں اس کو کیا کہتے ہیں؟ وہی چچا زاد بھائیوں میں جو لڑائی ہوتی ہے نا تو یہ بھی چچا زاد بھائی تھے نا۔ مطلب اسحاق علیہ السلام کی اولاد، اور اسماعیل علیہ السلام کی اولاد۔ تو دونوں تو ظاہر ہے مطلب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کی ہی اولاد میں آتے ہیں نا۔ تو وہی تربورولي، مطلب ظاہر ہے اس نے ان کو جلا دیا۔
اور پھر وہ ایسے مخالف ہو گئے کہ کوئی موقع ایسا نہیں چھوڑتے تھے جس میں مسلمانوں کے اندر تفرقہ نہ ڈالیں۔ اب بھی اسی طرح یہی کر رہے ہیں۔ اب بھی یہی کر رہے ہیں۔ لیکن بس اللہ پاک جب بچاتے ہیں تو بچاتے ہیں، ورنہ پھر... اب ہمارے پاکستان کا کیا حال کر دیا انہوں نے؟ آخر ان لوگوں نے، پیچھے سے سازش تو ان لوگوں نے شروع کی تھی۔ چنا کس کو گیا تھا؟ کس نے چنا تھا؟ یہ سب کچھ تو معلوم ہے نا۔ تو مطلب ظاہر ہے وہ سارا وہ ہمارے اندر کتنا گند ڈال دیا۔ تو وہ چلتا ہے۔ مطلب اس طریقے سے وہ کرتے ہیں۔ کام ہے ان کا۔ تو یہ مطلب یہ ہے کہ، وہ اس وقت بھی ان لوگوں نے یہ کیا کہ اوس اور خزرج کے درمیان جب شیر و شکر ہو گئے تھے، تو ان سے رہا نہیں گیا اور انہوں نے ان کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی۔
تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہ جو شعر ہے نا، وہ کہتے ہیں:إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ لَسِحْرًامطلب بیان جو ہے وہ جادو کی ایک قسم ہے۔ اور شعر میں جب وہ تو پھر تو اور مزید بڑھ جاتا ہے۔ باقاعدہ پہلے گزشتہ جنگوں میں شاعر لوگ ہوتے تھے۔ جو باقاعدہ اس قسم کی شاعری کیا کرتے تھے جس سے جذبات کو ابھارا جاتا تھا۔ اور یہ باقاعدہ قریش کی جو تھے مسلمانوں کے خلاف جو لڑتے تھے۔ تو عورتیں باقاعدہ ان کو گاتی تھیں:
نَحْنُ بَنَاتُ طَارِقْ
وہ اس طرح ان کے اشعار تھے۔ تو اس قسم کی باتیں ہوتی تھیں۔ اب بھی، ہندوستان اور پاکستان کی جنگ میں، وہ نور جہاں کے جو گانے ہوتے تھے۔ وہ کافی اس لحاظ سے مشہور تھے، اس مسئلے میں کہ وہ کرتے تھے اس طرح۔ تو یہ طریقہ ان کا تھا۔ تو انہوں نے پھر یہ ہے کہ وہ اشعار جو ان کو یاد تھے کیونکہ عربوں کو اشعار بہت یاد ہوتے تھے۔ ہزاروں ہزاروں اشعار لوگوں کو یاد ہوتے تھے۔ تو انہوں نے وہ اشعار جو کہ ایسے موقع پر لمبی جنگ میں، وہ ایک دوسرے کے خلاف پڑھے گئے تھے۔ تو کسی ایک کے بارے میں، ان کو کسی کو کہا کہ ان کو یہ اشعار سنا دو۔ تو دوسرے کے پاس بھی اس کو اپنے یاد تھے۔ تو انہوں نے اپنے سنا دیے۔ تو پہلے تو ذرا تھوڑے سے تفریح طبع والی بات تھی۔ لیکن بعد میں بڑھتے بڑھتے بڑھتے، معاملہ کہاں تک پہنچ گیا؟ لڑائی ہونے لگی۔ لڑائی ہونے لگی تو آپ ﷺ تشریف لائے اور آپ ﷺ نے ان کو کہا کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ تو جاہلیت کی بات ہے۔ تو اس طرح معاملہ رفع دفع ہو گیا اور اس کے بارے میں قرآن پاک کی جو آیات مبارکہ ہیں، وہ آ گئیں۔
جس میں یہود کو تنبیہ بھی تھی، اور ساتھ ساتھ مسلمانوں کو نصیحت بھی تھی۔ اب مسلمانوں کو نصیحت ہو رہی ہے:
اے ایمان والو! اگر تم اہل کتاب کے گروہ کی بات مان لو گے، تو تمہارے ایمان لانے کے بعد تم کو دوبارہ کافر بنا کر چھوڑیں گے۔
وَلَنۡ تَرۡضٰی عَنۡکَ الۡیَہُوۡدُ وَلَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمۡ- وہ تو ہے نا۔
اور تم کیسے کفر اپناؤ گے؟ جبکہ اللہ کی آیتیں تمہارے سامنے تلاوت کی جاتی ہیں۔ اور اس کا رسول تمہارے درمیان میں موجود ہے۔ اور اللہ کی سنت یہ ہے کہ جو شخص اللہ کا سہارا مضبوطی سے تھام لے، اسے سیدھے راستے تک پہنچا دیا جاتا ہے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔
تو یہ تو ماشاءاللہ آج کے لحاظ سے وہ جو قرآن پاک کا آسان ترجمہ ہے۔ لیکن جنہوں نے یہ آسان ترجمہ کیا ہے نا، مولانا تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم۔ تو ان کے بارے میں ابھی مجھے کسی نے ایک بڑا اچھا جو ہے نا وہ کیا ہے، text کیا ہے، اور ساتھ مولانا تقی عثمانی صاحب کے الفاظ میں، جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ وہ، مطلب یہ ایک، مطلب audio بھیجی ہے۔ اس میں، اہ، فرمایا گیا ہے کہ یہ جو تیسرا جمعہ ہے، اس میں ایک خاص وظیفہ ہے بزرگوں کے ہاں۔ جیسے نہیں ہوتے شبِ برات میں ہم جو ایک وظیفہ کرتے ہیں بزرگوں کا، بتایا ہوا ہے۔ اس طرح یہ بھی ایک وظیفہ ہے۔ تو میں خود نہیں سناتا، میں ذرا حضرت کے الفاظ میں ہی سنا دیتا ہوں۔ تو آپ بھی سن لیں۔
(Audio plays)"بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ میں یہ بتا رہا تھا کہ، ایک وظیفہ ہے، بزرگوں سے بہت زیادہ تعریف کیا ہوا، تصدیق کیا ہوا ہے۔ اور پہلے..."(Audio ends)
اچھا میں بتا دیتا ہوں... کسی کو مفتی صاحب کی تردید آ گئی؟ (Audience speaks) اس کے اوپر مفتی صاحب کی تردید ہے کہ یہ میری آواز نہیں ہے۔ اچھا؟ اچھا اچھا۔ اچھا ٹھیک ہے، صحیح ہے۔ بہرحال یہ ہے کہ، جو ماشاءاللہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بھی، مطلب اس سے، مجھے بھی رہنمائی فرمائی۔ مقصد یہ ہے کہ یہ تو، یہ آواز وقت لگتی بھی نہیں ان کی۔ لگتا ہے کہ مجھے بھی خود بھی تھا کہ بھئی حضرت کی آواز کو تو، دیکھ لوں، میں نے کہا ممکن ہے دانت کچھ زیادہ گر گئے ہوں۔ آخر ساٹھ، اٹھتر سال عمر ہے نا، تو اس وجہ سے ممکن ہے کہ دانت آج کل کچھ زیادہ گر گئے ہوں تو ان کی آواز ایسی ہو گئی ہو۔ لیکن بہرحال اگر ان کا نہیں ہے تو پھر ٹھیک ہے، پھر سناتے بھی نہیں۔ تاکہ بات ہی ختم ہو جائے۔
بہرحال یہ ہے کہ جمعۃ المبارک تو ہے۔ اور جمعۃ المبارک، یہ ایسا مبارک جمعۃ المبارک ہے۔ کہ اس کے فوراً بعد، عشرہ مبارک شروع ہو رہا ہے۔ یعنی آج کا جو، ان شاءاللہ مغرب کا وقت ہو گا۔ یعنی، افطار۔ تو یہ قرانِ سعدین اس کو صحیح کہا جا سکتا ہے، قرانِ سعدین۔ کہ عصر کے بعد وہ جو مبارک گھڑیاں شروع ہو جاتی ہیں جمعہ کی۔ جس میں دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ اور اس کے بعد پھر، آخری عشرہ شروع ہو رہا ہے۔ اعتکاف شروع ہو رہا ہے۔ اسی میں امکان ہے لیلۃ القدر کا۔ اور لیلۃ القدر طاق راتوں میں زیادہ بتائی جاتی ہے، تو طاق رات یہی ہے۔ اکیسویں رات ہے۔ تو گویا کہ یوں سمجھ لیں دونوں کا سنگم ہے وہ افطار۔ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ کی طرف پوری متوجہ ہونے کی کوشش کی جائے۔
اصل میں کیا بتاؤں میں آپ کو۔ یہ انسان کو اللہ پاک نے عقل بھی دی ہے۔ اور اللہ پاک نے نفس بھی دیا ہوا ہے۔ اللہ پاک نے دل بھی دیا ہوا ہے۔ دل محبت اور نفرت کی آماجگاہ ہے۔ نفس خواہشات، سستی اور غفلت کی آماجگاہ ہے۔ ہاں جی؟ اور جو عقل ہے، وہ سمجھداری کی طرف راہ لے جاتا ہے۔ تو بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان سمجھ بھی لیتا ہے۔ یعنی علم اس کو ہو جاتا ہے۔ اور دل سے چاہتا بھی ہے۔ یعنی اس کی، عقل کی وجہ سے وہ convince ہو چکا ہوتا ہے۔ اور ذکر اذکار کیا ہوتا ہے، لہٰذا دل چاہتا بھی ہے۔ لیکن نفس کی جب تک اصلاح نہ ہو نا، اس وقت تک وہ خطرے میں ہوتا ہے۔ کیونکہ نفس اس کو کرنے نہیں دیتا۔ اگرچہ وہ اس کا دل چاہتا ہے، لیکن نفس اس کو کرنے نہیں دیتا۔ تو ایسی صورت میں، جب تک نفس کی اصلاح نہ ہو، تو انسان کو ہمت، اور جیسے زور لگا کے نہیں ہوتے؟ وہ پشتو... وہ ہمارے جو مزدور لوگ نہیں ہوتے؟ کہتے ہیں "اے ہوں!"۔ "اے ہوں" کے ساتھ وہ جو ہے نا، زور لگاتے ہیں اور کام، مطلب ہو جاتا ہے۔ تو "اے ہوں" سے کام چلانا پڑتا ہے۔ مطلب اس میں جو ہے نا مسلسل، زور لگا لگا کر، جو ہے نا اپنا کام کرنا ہوتا ہے۔ تو بس یہ سلسلہ ان شاءاللہ آج، وہ شروع ہونے والا ہے۔ تو اس میں جو ہے نا مطلب، سستی نہ کی جائے۔ سستی کی وجہ سے انسان رہ جاتا ہے۔ پھر بعد میں افسوس کرتا ہے۔
پتہ تو اس کو ہوتا ہے نا۔ یعنی میں نے آپ سے عرض کیا نا کہ عقل convince ہو چکا ہوتا ہے۔ اور دل مطمئن ہو چکا ہے، مطلب اس کے لیے، وہ کرنا چاہتا ہے۔ نفس نہیں کرنا چاہتا۔ تو ایسی صورت میں پھر یہی بات ہے کہ نفس کو زبردستی کروانا ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ کو پتہ تو ہے کہ بھئی کرنا تو ہے۔ لیکن وہی والی بات ہے۔ تو اس، اس پر اجر بھی پھر بہت ملتا ہے۔ کیونکہ اپنے نفس کی مخالفت آپ کر رہے ہیں اللہ پاک کے لیے۔ تو ماشاءاللہ، وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ تو پھر اللہ پاک راستے بھی دیتا ہے۔ تو بس اس وجہ سے ہمیں ہمت دکھانی ہو گی۔ وہ اس میں جو کلام پڑھا گیا تھا پچھلی دفعہ، تو اس میں جو رات درمیاں میں، تو اس میں تمہیں ہمت، مردانگی دکھانی ہے۔ ہاں مطلب جو ہے نا، وہ مردانگی والی بات ہے کہ آپ، وہ دکھانی ہو گی۔ اس میں جو ہے نا آپ نے کچھ کرنا ہے۔
یعنی، آپ یقین کیجیے ہم اپنے شیخ کے طریقے کو یاد کریں، حضرت کی ساری باتیں ایسی تھیں۔ وہ جو حضرت کے ہاں ہم نے، ایک رات میں، ہم نے قرآن پاک ختم میں شرکت کی تھی۔ ایک رات میں! اور عادی بالکل نہیں تھے۔ عادی ایک سپارے سے بھی زیادہ نہیں، سوا سپارے سے زیادہ نہیں۔ عادی تو اس کے تھے۔ اب نفس کو سستی تو تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن شیخ کی برکت سے اس میں ہم جم کے کھڑے ہو گئے۔ اور ایک ختم ہم نے حضرت کے ساتھ پوری رات میں کر لیا۔ اس کے بعد الحمدللہ مانتے تو پہلے سے تھے۔ جانتے تھے کہ یہ کام اچھا ہے۔ اور ماشاءاللہ، یہ ہے کہ دل بھی ساتھ دے رہا تھا۔ لیکن نفس کی گویا کہ رکاوٹ تھی۔ تو حضرت کی برکت سے الحمدللہ جو ایک دفعہ شامل ہو گئے، تو اس سے وہ ٹوٹ گیا۔ مطلب وہ جو، اس کا جمود تھا نا، وہ ٹوٹ گیا۔ جمود ٹوٹ گیا تو پھر بعد میں ہم، وہ سوا سپارے والے ختموں میں، شریک ہی نہیں ہوئے۔ اس سے اگلے دفعہ، دن جو ہے نا وہ دو، دو دنوں والا تھا۔ اس میں شریک ہوئے۔ الحمدللہ۔ اور پھر اس کے بعد ہر سال۔ تو حضرت کے ہاں شریک ہوتے تھے۔ یہ کیا چیز ہے؟
تو اس وجہ سے ایک تو قبولیت ہو جاتی ہے الحمدللہ۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک نظام ہے۔ اور دوسرا یہ ہے کہ انسان کا وہ جب جمود ٹوٹ جاتا ہے نا، تو پھر نفس بھی سیدھا ہو جاتا ہے۔ پھر آدمی، وہ پھر وہ نفس مان لیتا ہے۔ مجھے خود یاد، ہمارے ساتھی تھے وہ فیصل مسجد میں وہ اعتکاف کیا کرتے تھے۔ اس دفعہ ان کو turn نہیں ملا۔ وہ نہیں، وہ ظاہر ہے وہ قرعہ ڈالتے ہیں۔ ان کا نہیں آیا۔ ان کا نہیں آیا تو مجبوراً وہ ہمارے ساتھ اعتکاف میں شامل ہو گئے۔ ہاں جی۔ مجبوراً اعتکاف میں شامل ہو گئے۔ قاری صاحب، قاری نور اللہ صاحب ماشاءاللہ پڑھاتے تھے۔ تو، وہ یہ تھا مطلب وہ بھی کافی ماشاءاللہ ظاہر ہے وہ یعنی آخری عشرے میں زیادہ پڑھتے تھے۔ مطلب تین ختم قرآن ہوتے تھے۔ تو وہ تقریباً ایک پارہ، وہ ماشاءاللہ یعنی، سنانا تھا ان کو، تو، یعنی ایک رکعت میں۔ وہ پتہ نہیں مزے میں آ گئے، ان کو پتہ ہی نہیں چلا پانچ سپارے پڑھ دیے۔
تو وہ ساتھی وہ کہنے لگے کہ تکلیف تو اس وقت بہت ہوئی! ظاہر ہے عادی جو نہیں تھے۔ تکلیف تو بہت ہوئی۔ لیکن جب وہ پڑھ لیا نا، تو کہتے ہیں پھر ایک پارہ تو بالکل وہ پھول بن گیا۔ بس آسان ہو گیا کہ ایک پارہ جو بعد میں پڑھتے تھے۔ وہ پھر کچھ بھی مشکل نہیں رہا۔ بس adjust ہو گئے۔ جب adjust ہو گئے، اس کے بعد وہ کبھی فیصل مسجد نہیں گئے۔ پھر ہمارے ساتھ اعتکاف کرتے تھے۔ ہاں، یہ بات وہاں موجود ہے، مرتضیٰ وغیرہ تو، یہ حضرات۔ تو مطلب اس کا تھا۔ تو مقصد میرا یہ ہے کہ دیکھو نا اللہ جل شانہٗ، پھر دیتے ہیں نا، وَالَّذِيْنَ جَاهَدُوْا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔ یہ تو چیزیں ہیں۔ تو ہمیں بھی کوشش کرنی پڑے گی۔ پڑے گی۔ ہاں جی؟ مطلب یعنی، ہمت کرنی پڑے گی۔ پھر ان شاءاللہ اللہ پاک راستے دے دیں گے۔ بالکل مطلب ہماری مدد کی جائے گی۔ اللہ پاک ہم سب کو نصیب فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: باہمی اتفاق، نفس کی شرارتیں اور رمضان المبارک کی برکاتمتبادل عنوان: یہود و شیطان کا حسد اور مسلمانوں کے لیے اتحاد کا قرآنی درس
اہم موضوعات:
سورہ آل عمران کی آیات (98-101) کی تلاوت اور تفسیر۔
مدینہ میں اوس اور خزرج کے مابین یہودیوں کی سازش اور رسول اللہ ﷺ کی حکمت آمیز تنبیہ۔
شیطان اور یہودیوں کے حسد، تکبر اور تفرقہ بازی کا تقابل۔
انسان کے دل، عقل اور نفس کی کشمکش اور اعمالِ صالحہ میں نفس کی رکاوٹ۔
نفسانی سستی کا علاج: زبردستی (مجاہدہ) اور ہمت۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے، اعتکاف اور لیلۃ القدر کی فضیلت اور طاق راتوں میں عبادات کی تلقین۔
خلاصہ:اس بیان میں حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے سورہ آل عمران کی آیات کی روشنی میں اوس اور خزرج کے تاریخی واقعے کو بیان کیا ہے کہ کس طرح یہودیوں نے حسد کی بنا پر مسلمانوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی، جسے نبی کریم ﷺ نے اپنی حکمت سے ناکام بنا دیا۔ حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے شیطان اور یہودیوں کے حسد کا تقابل کرتے ہوئے سمجھایا کہ نفسانی خواہشات اور حسد انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتے ہیں۔ مزید برآں، حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے انسان کے دل، عقل اور نفس کی کشمکش کا ذکر کیا اور بتایا کہ انسان کی عقل اور دل نیکی کرنا چاہتے ہیں مگر نفس سستی پیدا کرتا ہے، لہٰذا اس کا علاج ہمت، زبردستی اور مجاہدے سے ہی ممکن ہے۔ آخر میں، حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتہم نے رمضان المبارک کے آخری عشرے، اعتکاف کی فضیلت اور شبِ قدر کے حوالے سے سامعین کو اپنے نفس پر قابو پا کر عبادات میں مستعد رہنے کی پرزور تلقین فرمائی۔