خانہ کعبہ کی فضیلت، نشانیاں اور حج کی فرضیت

درس نمبر 133: سورۃ ال عمران، آیت نمبر 94 تا 97

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی
  • بیت اللہ کا زمین پر سب سے پہلا عبادت گاہ ہونا۔
    • تحویلِ قبلہ پر یہودیوں کے اعتراضات کا دندان شکن جواب۔
      • خانہ کعبہ میں موجود اللہ کی کھلی نشانیاں (مقامِ ابراہیم، حجرِ اسود، حطیم، ملتزم وغیرہ)۔
        • حضرت ابراہیم علیہ السلام کا لوگوں کو حج کے لیے پکارنا اور عالمِ ارواح میں روحوں کا لبیک کہنا۔
          • حجرِ اسود کی چوری اور قرامطہ کے دھوکے کا تاریخی واقعہ۔
            • بیت اللہ کی برکات، ہدایت کا مرکز ہونا اور ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ کے برابر ہونا۔
              • حقیقتِ کعبہ کا مراقبہ اور خانہ کعبہ سے قلبی تعلق کی اہمیت۔

                الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ:

                فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ،

                بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

                فَمَنِ افْتَرٰی عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ ﴿94﴾ قُلْ صَدَقَ اللّٰهُ ۗ فَاتَّبِعُوْا مِلَّةَ اِبْرٰهِيْمَ حَنِيْفًا ؕ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ ﴿95﴾اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّهُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَ ﴿96﴾ فِيْهِ اٰيٰتٌۢ بَيِّنٰتٌ مَّقَامُ اِبْرٰهِيْمَ ە ۚ وَمَنْ دَخَلَهٗ كَانَ اٰمِنًا ؕ وَلِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا ؕ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ ﴿97﴾

                صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ۔

                پھر ان باتوں کے (واضح ہونے کے) بعد بھی جو لوگ اللہ پر جھوٹا بہتان باندھیں، تو ایسے لوگ بڑے ظالم ہیں ﴿94﴾ آپ کہئے کہ اللہ نے سچ کہا ہے، لہذا تم ابراہیم کے دین کی اتباع کرو جو پوری طرح سیدھے راستے پر تھے، اور ان لوگوں میں سے نہیں تھے جو اللہ کی خدائی میں کسی کو شریک مانتے ہیں ﴿95﴾

                حقیقت یہ ہے کہ سب سے پہلا گھر جو لوگوں (کی عبادت) کے لئے بنایا گیا یقینی طور پر وہ ہے جو مکہ میں واقع ہے (اور) بنانے کے وقت ہی سے برکتوں والا اور دنیا جہان کے لوگوں کے لئے ہدایت کا سامان ہے۔ ﴿96﴾

                یہ خانہ کعبہ کے بارے میں اللہ جل شانہ نے ارشاد فرمایا کہ یہ سب سے پہلے بنایا گیا تھا۔

                یہ یہودیوں کے ایک اور اعتراض کا جواب ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بنی اسرائیل کے تمام انبیائے کرام بیت المقدس کو اپنا قبلہ قرار دیتے آئے ہیں، مسلمانوں نے اسے چھوڑ کر مکہ کے کعبہ کو کیوں قبلہ بنا لیا۔ آیت نے جواب یہ دیا ہے کہ کعبہ تو بیت المقدس کی تعمیر سے بہت پہلے وجود میں آچکا تھا، اور وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نشانی ہے۔ لہٰذا اسے پھر سے قبلہ اور مقدس عبادت گاہ بنانا ہرگز قابلِ اعتراض نہیں۔

                ابراہیم علیہ السلام نے بھی اس کی بنیادوں کو دوبارہ اٹھایا تھا۔ تو اس وجہ سے یہ کعبہ جو ہے، یہ تو بہت پہلے سے بنا ہوا تھا۔ اس وجہ سے اس پر اعتراض کرنا کہ اس کو کیوں قبلہ بنایا گیا، اول تو یہ بات ہے نا کہ اللہ پاک کی مرضی ہے جس جگہ کو بھی بنا دے۔ اگر پہلے ایک تھا بھی، تو اللہ پہ تو پابندی نہیں ہے کہ اللہ پاک خوامخواہ اس کو رکھے گا۔ بس ایک وقت میں یہ تھا، دوسرے وقت میں یہ تھا، یہ بھی جواب تھا۔ لیکن اللہ پاک نے یہاں جو جواب دیا کہ پہلے سے خانہ کعبہ چلا آ رہا ہے۔ عبادت گاہ ہے، ابراہیم علیہ السلام نے اس کی دوبارہ اس کی تعمیر کروائی ہے۔

                تو ایسی صورت میں، اگر پہلے خانہ کعبہ تھا پھر بعد میں بیت المقدس ہوا، بیت المقدس کے بعد پھر دوبارہ خانہ کعبہ بن گیا تو اس میں کیا... اگر پہلا والا حکم ٹھیک تھا، یعنی تبدیل کرنے کا، تو یہ دوسرا حکم کیوں ٹھیک نہیں ہے؟ اللہ ہی نے حکم دیا ہے نا۔ تو اس وجہ سے یہ بات کوئی قابلِ اعتراض نہیں ہے۔ صرف کوئی حسد کی وجہ سے یا کینے کی وجہ سے، یا جس کو کہتے ہیں ڈھیٹ پن کی وجہ سے کوئی اس کی مخالفت کر لے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔

                اس وجہ سے فرمایا کہ اللہ جل شانہ نے اس کو بنایا ہے۔ پھر اس کے بعد اللہ پاک ارشاد فرماتے ہیں،

                اس میں روشن نشانیاں ہیں، جن میں سے ایک مقامِ ابراہیم ہے۔

                یعنی ابراہیم علیہ السلام کے مقام کو اللہ پاک نے محفوظ کر دیا۔ حالانکہ یہ بات ویسے تو عجیب ہے کہ پتھر کے اوپر کسی کے پیر کا نشان بن جائے۔ پتھر تو سخت ہوتا ہے، اس پہ نشان تو نہیں بنتا۔ لیکن اللہ پاک نے چاہا تو بنا دیا۔ اب یہ باقاعدہ محفوظ ہو گیا۔

                اور جو اس میں داخل ہوتا ہے امن پا جاتا ہے۔ اور لوگوں میں سے جو لوگ اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لئے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے۔ اور اگر کوئی انکار کرے تو اللہ دنیا جہان کے تمام لوگوں سے بے نیاز ہے۔ ﴿97﴾

                تو اس کا جو حج ہے، اہلِ استطاعت کے اوپر فرض قرار دیا گیا۔ جس وقت خانہ کعبہ تعمیر ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم ہوا کہ لوگوں کو حج کے لیے بلاؤ، اس کی طرف۔ تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا کہ اس وقت تو خانہ کعبہ کی یہ صورت تھی کہ پہاڑوں کے درمیان، بالکل جیسے پیالے میں، ایک پیندے میں کوئی چیز بنی ہوتی ہے۔ اس طرح یہ خانہ کعبہ کی صورت تھی۔ ہر طرف اونچے اونچے پہاڑ تھے، درمیان میں وادیاں تھیں اور بالکل بیچ میں وہ خانہ کعبہ تھا۔ تو ابراہیم علیہ السلام نے کہا، میری آواز۔ اب دیکھو ارد گرد پہاڑ ہیں، تو قریب کی بھی آواز میری نہیں جائے گی، تو میں کیسے بلاؤں لوگوں کو؟ یعنی یہ اشکال تھا ابراہیم علیہ السلام کو۔ یہ نہیں کہ اللہ پاک کا حکم ماننا نہیں، لیکن وہ پوچھنا چاہتے کہ میں کیسے کروں؟ طریقہ کار کیا ہو؟

                تو اللہ پاک نے فرمایا کہ تیرا کام ہے بلانا، اور تیری آواز کا پہنچانا میرا کام ہے۔ تو علماء کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی اس آواز کو نہ صرف زندوں تک پہنچایا، بلکہ عالمِ ارواح تک پہنچا دیا۔ لہٰذا جس روح نے جتنی مرتبہ لبیك کہا ہے، تو اتنی مرتبہ اس کو حج نصیب ہوتا ہے۔ جس نے جتنی مرتبہ لبیک اللھم لبیك کہا ہے۔ تو اس کو اتنی مرتبہ اس کو حج نصیب ہوگا۔ تو مطلب یہ ہے کہ اللہ پاک نے عالمِ ارواح تک یہ بات پہنچا دی کیونکہ اللہ پاک اس پر قادر ہے۔

                ظاہر ہے اللہ پاک کی نشانیاں ہیں۔ تو ان نشانیوں میں اب دیکھو جیسے حجرِ اسود بھی ہے۔ تو حجرِ اسود وہ پتھر ہے کہ جب اس کو چوری کیا گیا، یعنی لے لیا گیا، تو لے جانے والے جو اونٹ تھے وہ 30 اونٹ درمیان میں مر گئے تھے لے جاتے لے جاتے۔ اور جس وقت واپس لایا جا رہا تھا، تو ایک اونٹ اس کو لے آیا۔ اور ان لوگوں نے دھوکہ کیا تھا، قرامطی جو تھے، انہوں نے ایک اور پتھر حجرِ اسود کے نام پہ واپس دینا چاہا بہت زیادہ پیسوں پر۔ تو اس وقت ایک بزرگ تھے، ایک عالم تھے۔ ان سے پوچھا گیا کہ اس کا کیسے پتہ کریں گے یہ حجرِ اسود ہے یا نہیں ہے؟ تو انہوں نے فرمایا اس کو پانی میں ڈالو تو یہ تیرے گا، اس کو آگ نہیں لگے گی۔ تو ایسے ٹیسٹ کیا گیا تو واقعی بالکل... پتہ چلا کہ یہ ہے، وہ نہیں تھا۔ تو پھر جب وہ دے دیا گیا تو پھر واپس ایک اونٹ اس کو لے آیا۔

                تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ جو اللہ پاک کی نشانیاں ہیں، اللہ پاک نے اس میں رکھی ہیں۔ اب وہاں ملتزم شریف ہے، اس کی اپنی برکات ہیں۔ حطیم ہے، اس کی اپنی برکات ہیں۔ حجرِ اسود ہے، اس کی اپنی برکات ہیں۔ خانہ کعبہ کے اندر کا جو حصہ ہے اس کی اپنی برکات ہیں۔ تو وہاں تو بہت ساری نشانیاں ہیں۔

                تو یہ جو چیز ہے کہ اللہ پاک نے اس کو بابرکت بنایا ہے، ﴿لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكًا وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ﴾۔ دیکھیں نا، اس کو ایک تو مبارک فرمایا اور دوسرا ہدیٰ... مطلب یعنی هُدًى فرمایا۔ یعنی ہدایت کا ذریعہ بھی ہے اور مبارک بھی ہے۔ اب دیکھو اتنی برکت ہے اس میں کہ ایک نماز پڑھو گے تو ایک لاکھ نماز بن جاتی ہے۔ اتنی برکت ہے۔ اور ہدایت سبحان اللہ، یعنی اللہ جل شانہ نے اس کو ایسا بنایا ہوا ہے کہ پوری رحمت جب اس دنیا میں اترتی ہے، سب سے پہلے خانہ کعبہ پہ اترتی ہے پھر اس کے بعد پوری دنیا میں تقسیم ہوتی ہے۔ تو اگر کوئی وہاں پہنچ جاتا ہے، تو اس کو بہت وافر حصہ مل جاتا ہے۔

                تو اس وجہ سے خانہ کعبہ کے ساتھ محبت اور خانہ کعبہ کے ساتھ تعلق یہ ہمیں حاصل ہونے چاہئیں۔ ہمارے مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے مراقبہ بھی اس کا ماشاءاللہ سمجھایا ہے، حقیقتِ کعبہ کا۔ تو وہ تو ان شاءاللہ اپنے وقت پہ بتا دیا جائے گا۔

                وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ۔ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔

                خانہ کعبہ کی فضیلت، نشانیاں اور حج کی فرضیت - درسِ قرآن - پہلا دور