حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفعِ آسمانی، عیسائیت کا بگاڑ اور دجالی فتنے کی حقیقت

درس نمبر 120: سورۃ البقرہ، آیت نمبر 50 تا 54

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• احکامِ شریعت (حلال و حرام) میں تبدیلی کا اختیار اور دین کی تکمیل۔• دین میں مجددین کا کردار اور تجدیدِ دین کا حقیقی مفہوم۔• حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں بعض حرام چیزوں کا حلال کیا جانا۔• یہود کی سازش، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر اٹھایا جانا اور ہم شکل کی سولی۔• ایک یہودی شخص کی سازش سے عیسائیت میں آنے والا بگاڑ اور متفرق عقائد کی شروعات۔• ایک جرمن چرچ کا واقعہ اور عیسائیوں کو یہودیوں (Antichrist کے پیروکاروں) کے خلاف مشترکہ کام کی دعوت۔• قربِ قیامت کے آثار: دجال کی آمد، یہودیوں کا انجام اور 'شجرِ غرقد' کی گواہی۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اَلصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَىٰةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ وَجِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللهَ وَأَطِيعُونِ ﴿50﴾ إِنَّ اللهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ هَذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ﴿51﴾ فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللهِ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللهِ آمَنَّا بِاللهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ﴿52﴾ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ﴿53﴾ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ وَاللهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ﴿54﴾‏

صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ.

اور جو کتاب مجھ سے پہلے آچکی ہے، یعنی تورات، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور (اس لئے بھیجا گیا ہوں) تاکہ کچھ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں، اب تمہارے لئے حلال کردوں

اللہ جل شانہٗ جب چاہے کسی چیز کو حلال قرار دے، جب چاہے کسی چیز کو حرام قرار دے۔ ظاہر ہے، اور شریعت یہی ہے، شریعت پر چلنا کہ جو حکم ہو اس پر عمل کیا جائے یعنی أوامر و نواہی اس کا پورا پورا خیال رکھا جائے۔ جب انبیائے کرام کا سلسلہ جاری تھا، تو یہ ہو سکتا تھا کہ ایک نبی کے ہاں کوئی چیز حرام ہو اور دوسرے نبی کے نزدیک اس کو حلال قرار دیا جائے۔ یہ ہو سکتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کا سلسلہ جاری تھا۔ لیکن آپ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد اور اس آیت کے بعد اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا (المائدۃ: 03)، تو پھر کوئی تبدیلی اب نہیں آ سکتی۔ کیونکہ وجہ یہ ہے کہ دین مکمل ہو چکا ہے اور وحی کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے اب کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ حالات تبدیل ہو جائیں تو اس کا دوسرا حکم، شریعت کا دوسرا حکم سامنے آ جائے۔

مثال کے طور پر جو بھی چیز ہے اس کا بھی حکم موجود ہوتا ہے۔ جب وہ حالت بدل جائے اس کا بھی حکم موجود ہوتا ہے۔ صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ اس کا، اس وقت ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس کا... مثال کے طور پر آپ جو ہے نا بیمار ہو جائیں، تو حالت بدل گئی، اب بیمار کے لیے جو حکم ہے، نماز کا، آپ کے اوپر وہ لاگو ہو جائے گا۔ مثلاً آپ کو پانی تکلیف دیتا ہے تو تیمم کا حکم موجود ہے، لیکن اس وقت آپ کو ضرورت نہیں ہے جس وقت آپ بیمار ہو گئے اور آپ کو پانی نقصان کرتا ہے تو تیمم کا حکم آ گیا۔ یہ میں نے موٹی موٹی مثالیں دیں، ورنہ باریکات بھی ہوتے ہیں۔ تو یہ پھر مفتیوں کا کام، فقہاء کا کام ہوتا ہے کہ کن حالات میں کون سی چیز کیا ہونی چاہیے۔ تو یہ دین میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ دین وہی ہوتا ہے، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کا ظہور میں آنے کا وقت آ جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے اس کو یعنی دیکھا جاتا ہے۔

اسی طریقے سے دین کے اندر وقت کے ساتھ ساتھ Misunderstandings develop ہوتی ہے۔ یا پھر یہ ہے کہ شیطان اور نفس کی کارروائی سے لوگ چیزوں کو غلط سمجھنے لگتے ہیں۔ کچھ سے کچھ ہو جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں مجددین تشریف لاتے ہیں۔ یہ مجددین کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کو پھر دوبارہ اسی حالت میں، جس حالت میں آپ ﷺ نے اس کو چھوڑا تھا، اس طرح اس کو دوبارہ واپس لے آتے ہیں۔ یہ نہیں کہ کوئی نیا دین مطلب لاتے ہیں۔ مجدد کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ کوئی تجدید کرتا ہے دین کا، کوئی نیا دین لاتے ہیں۔ نہیں، وہ صرف صفائی کرتا ہے۔ جو چیزیں اندرون داخل ہو گئی ہیں وہ اس کو remove کر لیتا ہے، جو چیزیں missing ہیں ان کو reinstate کر لیتے ہیں۔ یہ مجدد کا کام ہوتا ہے۔ تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ کوئی نئی بات ہے۔

تو یہاں پر چونکہ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے، اور موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بعض چیزیں حرام کی گئی تھیں، مثلاً اونٹ کا گوشت اور چربی، بعض پرندے اور مچھلیوں کی بعض اقسام۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں انہیں جائز قرار دے دیا گیا۔ چونکہ دونوں بنی اسرائیل کے لیے تھے۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام بھی بنی اسرائیل کے لیے تشریف لائے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام بھی بنی اسرائیل کے لیے تشریف لائے تھے۔ تو اس وجہ سے بنی اسرائیل کے لیے، موسوی شریعت میں جو چیزیں حرام کی گئی تھیں، مثلاً اونٹ کا گوشت اور چربی، اور بعض پرندے اور مچھلیوں کے بعض اقسام وغیرہ، اس کو شریعتِ عیسوی میں جائز قرار دیا گیا۔

اور اچھا، فرمایا کہ، اور میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں،

جو معجزات تھے۔

لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو ﴿50﴾ بیشک اللہ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ یہی سیدھا راستہ ہے (کہ صرف اسی کی عبادت کرو) ﴿51﴾ پھر جب عیسیٰ نے محسوس کیا کہ وہ کفر پر آمادہ ہیں، تو انہوں نے (اپنے پیرووں سے) کہا: حواری پیرووں کو کہتے ہیں

(اپنے پیرووں سے) کہا: "کون کون لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں میرے مددگار ہوں؟" حواریوں نے کہا: "ہم اللہ (کے دین) کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لا چکے ہیں، اور آپ گواہ رہئے کہ ہم فرماں بردار ہیں ﴿52﴾ اے ہمارے رب! آپ نے جو کچھ نازل کیا ہے ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے رسول کی اتباع کی ہے، لہٰذا ہمیں ان لوگوں میں لکھ لیجئے جو (حق کی) گواہی دینے والے ہیں۔" ﴿53﴾

اور ان کافروں نے (عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف) خفیہ تدبیر کی، اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی۔ اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے ﴿54﴾

یہ اصل میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو لوگوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو شہید کرنا چاہا، یعنی یہودیوں نے۔ تو انہوں نے تو سولی پہ چڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔ اور جو لوگ آپ کو گرفتار کرنے آئے تھے، ان میں سے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ تو اس پر قادر ہے۔ اس کا ہم شکل بنا دیا۔ اب وہ کہتا تھا کہ میں نہیں ہوں، میں وہ نہیں ہوں، میں وہ نہیں ہوں، تو ظاہر ہے وہ تو ان کا تھوڑا مانتے تھے۔ وہ تو سمجھتے تھے کہ یہی عیسیٰ علیہ السلام ہے، تو انہوں نے ان کو سولی پہ چڑھا دیا۔

اب وہ تو مر گیا، تو لوگ سمجھے کہ شاید ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو (قتل کردیا) حالانکہ وہ اگر سمجھتے اور دیکھتے تو وہ آدمی نہ ملتا تو پتہ چل جاتا کہ وہ تو دوسرا ہے۔ لیکن بس وہ آنکھیں پھر اللہ پاک اگر یہ کام کر سکتے ہیں کہ شکل بدلوا سکتے ہیں تو ان کے ذہنوں پہ تالے بھی لگا سکتے ہیں۔ تو بہرحال یہ ہے کہ یہ کام اس طرح ہوا، جس سے ایک بہت بڑی confusion وجود میں آئی۔ اور وہ کیا confusion تھی؟ کہ جو عیسائی ہیں، حالانکہ وہ تو عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے تھے۔ تو انہوں نے بھی سمجھا کہ وہ... لیکن وہ عیسائی جو صحیح تھے انہوں نے ایسا نہیں کہا تھا۔ وہ اس وقت بالکل صحیح دین پر جو تھے، انہوں نے ایسا نہیں کہا۔

بعد میں یہ (واللہ اعلم) تفصیل تو بہت مطالعے کے بعد ہی پتہ چلے گی کہ ایک جو تھا یہودی، وہ عیسائی ہو گیا، اور اس نے کہا کہ مجھے عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان سے آواز دی کہ دیکھو تم یہ کرتے ہو، پھر میں تمہارے ساتھ دیکھوں گا۔ تو میں نے توبہ کر لی ہے اور میں عیسائی ہو گیا ہوں۔ تو اسی نے پھر سارا کچھ شامل کر دیا۔ 12 شاگرد بنا دیے اور ان 12 شاگردوں میں ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ story بتائی۔ جس کی وجہ سے عیسائی متفرق ہو گئے، اور یہودی چونکہ تھوڑے ہوتے ہیں نا، یہودی ہر وقت تھوڑے ہوتے ہیں۔ اور عیسائی زیادہ تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم تو ویسے مقابلہ ان کے ساتھ نہیں کر سکتے تو اس طریقے سے ان کا توڑ کر لیا۔

تو عیسائی مختلفُ النّوع، تو ان میں جو اس شخص نے بتائی کہ اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھایا گیا تھا اور اس طرح اور بھی بہت ساری باتیں اس نے شامل کیں۔ نتیجتاً، اب عیسائی ان عقیدوں کو لیے بیٹھے ہیں اور دیکھیں نا عیسیٰ علیہ السلام کو خدا بھی مانتے ہیں اور خدا کا بیٹا بھی مانتے ہیں، عجیب و غریب عقائد ہیں۔ جو اس خبیث کی وجہ سے یہ چیزیں چلی تھیں۔ عیسائیوں پر یہودیوں نے اتنی محنت کی کہ اب وہ ایک تو وہ باتیں بھی ماننے لگے، اور دوسری یہ بات ہے کہ دیکھو، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے شہید کر دیا ان کے خیال میں، لیکن وہ Antichrist، وہ آئے گا دجال، یہ جانتے ہیں نام ہی اس کا Antichrist ہے۔ اور یہودیوں کے ساتھ دوستی ہے ان کی، اب اندازہ کر لیں۔ یہ ہے جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔

ایک دفعہ ایسا ہوا، جرمنی میں ان کا ایک خاص Church تھا جو کہ وہ جو باہر کے لوگ آتے ہیں، Foreigners، ان کی help کے لیے آتے تھے۔ بقول ان کے، ہم لوگوں نے اپنا راستہ بنایا ہوا تھا۔ تو knocking ہو گئی تو میں نے کہا کہ کون؟ دروازہ کھولا تو انہوں نے کہا کہ ہم فلاں Church سے آئے ہیں، تو ہمیں پتہ چلا کہ آپ باہر سے آئے ہوئے ہیں، تو ہمارا Church آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہے؟ اس سلسلے میں ہم حاضر ہوئے ہیں۔ اب میں نے فوراً ذہن بنا لیا، میں نے کہا اب ان کو تو اس طرح انکار کرنا تو مناسب نہیں، ممکن ہے ان پہ محنت ہو جائے۔ تو میں نے فوراً دروازہ کھول دیا اور ان کو اپنے ساتھ بٹھا دیا۔ بچہ بھی تھا ان کے ساتھ، اس کے لیے دودھ کا، باقی دوسرے کے لیے کچھ soft وغیرہ کا۔ بات چیت شروع ہو گئی۔

کہتے ہیں جی ہم آپ کی کچھ help کرنا چاہتے ہیں، اب بتائیے ہم آپ کی کیا help کریں؟ میں نے کہا اچھا، وہ آپ تشریف لائے تو بہت اچھی بات ہو گئی، تو میرے ذہن میں ایک وہ ہے میں نے یہاں آکر دیکھا ہے کہ مسئلہ اس طرح ہے کہ یہ جو یہودی ہیں، یہ عیسائیوں کے بھی دشمن ہیں، مسلمانوں کے بھی دشمن ہیں۔ پھر میں نے عیسیٰ علیہ السلام کے واقعات اور یہ تمام چیزیں ان کے بارے میں بتائیں۔ میں نے کہا ان کو تو ہم پیغمبر مانتے ہیں، اور ہم تو ظاہر ہے عیسیٰ علیہ السلام کے مخالف نہیں ہیں، لیکن وہ تو عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن ہیں۔ Antichrist ان کا سب سے بڑا نجات دہندہ ہو گا۔ تو ایسی صورت میں کیوں نہ ہم مل کر ان کے خلاف کام شروع کریں؟ میں نے بتایا کیوں نہ ہم مل کر ان کے خلاف کام شروع کریں؟

تو وہ سوچنے لگے۔ کہتے ہیں اچھا میں discuss کر کے اپنے بڑوں سے، پھر آپ سے بات کروں گا۔ پھر وہ نہیں آئے۔ اس کے بعد وہ نہیں آئے۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ بیچارے بالکل اب کیا کریں گمراہ ہیں نا، دیکھو نا جس کو کہتے ہیں "مَغْضُوبُٗ عَلَيْهِمْ" وہ تو یہودی ہیں۔ یعنی جن پہ غصہ ہے اللہ تعالیٰ کا، شیطان کی طرح ہیں یہ۔ شیطان بھی جانتا ہے سب کچھ، لیکن یہ اسی طریقے سے کرتے ہیں۔ اور جو یہودی ہیں یہ بھی شیطان کی طرح جانتے ہیں، لیکن اس پہ ڈٹے ہوئے ہیں، اپنے حسد اور کینے کی وجہ سے۔ تو یہ "مَغْضُوبٌ عَلَيْهِمْ" اور "ضَّالِّين" عیسائی ہیں کیونکہ ان لوگوں کو، ان لوگوں نے دھوکہ دیا ہے، گمراہ کیا ہوا ہے۔

تو جس وقت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے ان شاء اللہ، تو اس وقت عیسائی سارے مسلمان ہو جائیں گے۔ اور یہودی ان کے سخت دشمن ہوں گے۔ اور وہ بھی یہودیوں کا دشمن ہو گا۔ یہودیوں کو مارے گا، مارے گا اور ان کے جہاں جہاں تک وہ جائے گا، تو یہ دجال بھاگے گا۔ تو وہ ایسا ہے کہ اس صورت میں ہر شجر حجر گواہی دے گا کہ میرے پیچھے یہودی ہے۔ اگر یہودی اس کے پیچھے چھپا ہو گا۔ سوائے ایک درخت کے، وہ درخت نہیں بتائے گا۔ یہودی بتاتے ہیں کہ یہ ہمارا دوست درخت ہے۔ تو وہ اس کو اگاتے ہیں۔ ابھی آج کل بہت زیادہ اگایا ہوا ہے۔ اسرائیل میں بہت زیادہ اگایا ہوا ہے۔

تو یہ بات ہے کہ وہ ساری چیزیں جانتے ہیں۔ لیکن وہی میں نے آپ کو بتایا نا، ایک صحافی نے اس سے پوچھا Ben-Gurion سے،

Do you believe in last slaughter?

تو اس نے کہا

Yes, but you are not those Muslims and we are not those Jews.

مطلب تم وہ مسلمان نہیں ہو جو ہمیں شکست دو گے، اور ہم وہ Jews نہیں ہیں جو شکست کھائیں گے۔ اس کا مطلب ہے جانتے تو ہیں۔ اور وہ باقاعدہ ہمارے اوپر research کیے ہوئے ہیں انہوں نے اور سارا کچھ، ابھی بھی PhDs کر رہے ہیں ہمارے اوپر۔ اور ان کے تمام چیزیں... لیکن وہی شیطانی چیزوں کے لیے۔ کہ ہمیں کیسے ختم کریں اور کس طریقے سے ہمارے اندر تفرقہ ڈالیں، کیسے کیا کریں، کیسے... یہ سارا کچھ ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہماری حفاظت فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ

وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.



حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا رفعِ آسمانی، عیسائیت کا بگاڑ اور دجالی فتنے کی حقیقت - درسِ قرآن - پہلا دور