الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
وَمُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيَّ مِنَ التَّوْرَاةِ وَلِأُحِلَّ لَكُم بَعْضَ الَّذِي حُرِّمَ عَلَيْكُمْ ۚ وَجِئْتُكُم بِآيَةٍ مِّن رَّبِّكُمْ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُونِ ﴿٥٠﴾ إِنَّ اللَّهَ رَبِّي وَرَبُّكُمْ فَاعْبُدُوهُ ۗ هَٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِيمٌ ﴿٥١﴾ فَلَمَّا أَحَسَّ عِيسَىٰ مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ أَنصَارِي إِلَى اللَّهِ ۖ قَالَ الْحَوَارِيُّونَ نَحْنُ أَنصَارُ اللَّهِ آمَنَّا بِاللَّهِ وَاشْهَدْ بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ﴿٥٢﴾ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ﴿٥٣﴾ وَمَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ ۖ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمَاكِرِينَ ﴿٥٤﴾ صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ.
اور جو کتاب مجھ سے پہلے آ چکی ہے یعنی تورات، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور اس لیے بھیجا گیا ہوں تاکہ کچھ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں، اب تمہارے لیے حلال کر دوں۔
اللہ جل شانہٗ جب چاہے کسی چیز کو حلال قرار دے، جب چاہے کسی چیز کو حرام قرار دے۔ ظاہر ہے اور شریعت یہی ہے، شریعت پر چلنا کہ جو حکم ہو اس پر عمل کرے... کیا جائے یعنی أوامر و نواہی اس کا پورا پورا خیال رکھا جائے۔ جب انبیاء کرام کا سلسلہ جاری تھا، تو یہ ہو سکتا تھا کہ ایک نبی کے ہاں کوئی چیز حرام ہو اور دوسرے نبی کے نزدیک اس کو حلال قرار دیا جائے۔ یہ ہو سکتا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کا سلسلہ جاری تھا۔ لیکن آپ ﷺ کے تشریف لانے کے بعد اور اس آیت کے بعد اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا، تو پھر جو ہے نا مطلب یہ ہے کہ کوئی تبدیلی مطلب اب نہیں آ سکتی۔ کیونکہ وجہ یہ ہے کہ دین مکمل ہو چکا ہے اور وحی کا سلسلہ بند ہو چکا ہے۔ اس وجہ سے اس حوالے سے اب کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ حالات تبدیل ہو جائیں تو اس کا دوسرا حکم، شریعت کا دوسرا حکم سامنے آ جائے۔
مثال کے طور پر مطلب ظاہر ہے کہ، جو بھی چیز ہے وہ مطلب یہ ہے کہ اس کا بھی حکم موجود ہوتا ہے۔ جب حالات بدل جائیں اس کا بھی حکم موجود ہوتا ہے۔ صرف فرق یہ ہوتا ہے کہ اس کا، اس وقت ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ اس کا... مثال کے طور پر آپ جو ہے نا بیمار ہو جائیں، تو حالت بدل گئی، اب بیمار کے لیے جو حکم ہے، نماز کا، آپ کے اوپر وہ لاگو ہو جائے گا۔ ہاں جی، مثلاً فرض کریں آپ کو پانی تکلیف دیتا ہے تو تیمم کا حکم موجود ہے، لیکن اس وقت آپ کو ضرورت نہیں ہے جس وقت آپ بیمار ہو گئے اور آپ کو پانی نقصان کرتا ہے تو تیمم کا حکم آ گیا۔ یہ میں نے موٹی موٹی مثالیں دیں، ورنہ باریکات بھی ہوتے ہیں۔ تو یہ پھر مفتیوں کا کام، فقہاء کا کام ہوتا ہے کہ کن حالات میں کون سی چیز کیا ہونی چاہیے۔ تو یہ دین میں تبدیلی نہیں ہوتی۔ دین وہی ہوتا ہے، فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اس چیز کا ظہور میں مطلب جو ہے نا وہ... مطلب اس وقت آ جاتا ہے، ظہور میں آنے کا وقت آ جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے اس کو یعنی دیکھا جاتا ہے۔
اسی طریقے سے دین کے اندر وقت کے ساتھ ساتھ Misunderstanding develop ہوتی ہے۔ یا پھر یہ ہے کہ شیطان اور نفس کی کارروائی سے لوگ چیزوں کو غلط سمجھنے لگتے ہیں۔ کچھ سے کچھ ہو جاتے ہیں۔ اس صورت میں مجددین تشریف لاتے ہیں۔ یہ مجددین کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ دین کو پھر دوبارہ اسی حالت میں، جس حالت میں آپ ﷺ نے اس کو چھوڑا تھا، اس طرح اس کو دوبارہ واپس لے آتے ہیں۔ یہ نہیں کہ کوئی نیا... نیا دین مطلب لاتے ہیں۔ مجدد کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ کوئی تجدید کرتا ہے، دین کا کوئی نیا دین لاتے ہیں۔ نہیں، وہ صرف صفائی کرتا ہے۔ جو چیزیں اندرون داخل ہو گئی ہیں وہ جو ہے نا مطلب اس کو remove کر لیتا ہے، جن... جو چیزیں missing ہیں ان کو reinstate کر لیتے ہیں۔ یہ مجدد کا کام ہوتا ہے۔ ہاں جی، تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ کوئی نئی بات ہے۔
تو یہاں پر چونکہ عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائے، اور موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بعض چیزیں حرام کی گئی تھیں، مثلاً اونٹ کا گوشت اور چربی، بعض پرندے اور مچھلیوں کے بعض اقسام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شریعت میں انہیں جائز قرار دیا گیا تھا۔ چونکہ بنی اسرائیل کے لیے... دونوں بنی اسرائیل کے لیے تھے۔ یعنی موسیٰ علیہ السلام بھی بنی اسرائیل کے لیے تشریف لائے تھے اور عیسیٰ علیہ السلام بھی بنی اسرائیل کے لیے تشریف لائے تھے۔ تو اس وجہ سے بنی اسرائیل کے لیے، موسوی شریعت میں جو چیزیں حرام کی گئی تھیں، مثلاً اونٹ کا گوشت اور چربی، اور بعض پرندے اور مچھلیوں کے بعض اقسام وغیرہ، اس کو شریعتِ عیسوی میں جائز قرار دیا گیا۔ ہاں جی۔
اور اچھا، فرمایا کہ، اور میں تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں۔ مطلب جو معجزات تھے۔ لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔ بے شک اللہ میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار ہے۔ یہی سیدھا راستہ ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو۔ پھر جب عیسیٰ علیہ السلام نے محسوس کیا کہ وہ کفر پر آمادہ ہیں، تو انہوں نے اپنے پیرووں سے کہا... حواری پیرووں کو کہتے ہیں... پیرووں سے کہا: کون کون لوگ ہیں جو اللہ کی راہ میں میرے مددگار ہوں؟ حواریوں نے کہا: ہم اللہ کے دین کے مددگار ہیں، ہم اللہ پر ایمان لا چکے ہیں اور آپ گواہ رہیے کہ ہم آپ کے فرمانبردار ہیں۔ پھر فرمایا: اے ہمارے رب! آپ نے جو کچھ نازل کیا ہے، ہم اس پر ایمان لائے ہیں اور ہم نے رسول کی اتباع کی ہے، لہٰذا ہم ان لوگوں میں لکھ لیجیے جو حق کی گواہی دینے والے ہیں۔
ہاں جی، یہ مطلب جو ہے نا، اور ان کافروں نے عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف خفیہ تدبیر کی، اور اللہ پاک نے بھی خفیہ تدبیر کی، اور اللہ سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے۔ یہ اصل میں اس طرف اشارہ ہے کہ جو لوگوں نے موسیٰ... عیسیٰ علیہ السلام کو شہید کرنا چاہا، یعنی یہودیوں نے۔ تو انہوں نے تو مطلب جو ہے نا سولی پہ چڑھانے کا منصوبہ بنایا تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھا لیا۔ ہاں جی، اور جو لوگ آپ کو گرفتار کرنے آئے تھے، ان میں سے ایک شخص کو عیسیٰ علیہ السلام کا ہم شکل بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ تو اس پر قادر ہے۔ اس کا ہم شکل بنا دیا۔ اب وہ کہتا تھا کہ میں نہیں ہوں، میں وہ نہیں ہوں، میں وہ نہیں ہوں، اور تو ظاہر ہے وہ تو ان کا تھوڑا مانتے تھے۔ وہ تو سمجھتے تھے کہ یہی عیسیٰ علیہ السلام ہے، تو انہوں نے ان کو سولی پہ چڑھا دیا۔ ہاں جی۔
اب وہ تو مر گیا، تو وہ جو ہے نا مطلب لوگوں نے مطلب سمجھا کہ شاید لوگ سمجھے کہ شاید ہم نے عیسیٰ علیہ السلام کو... حالانکہ وہ اگر سمجھتے اور دیکھتے تو وہ آدمی نہ ملتا تو پتہ چل جاتا کہ وہ تو دوسرا ہے۔ ہاں جی، لیکن... لیکن بس وہ آنکھیں پھر اللہ پاک اگر یہ کام کر سکتے ہیں کہ شکل بدلوا سکتے ہیں تو ان کے ذہنوں پہ تالے بھی لگا سکتے ہیں۔ ہاں جی، تو بہرحال یہ ہے کہ یہ کام اس طرح ہوا، جس سے ایک بہت بڑی confusion وجود میں آئی۔ اور وہ کیا confusion تھی؟ کہ عیسیٰ... جو عیسائی ہیں، حالانکہ وہ تو عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والے تھے۔ ہاں جی، تو انہوں نے بھی سمجھا کہ مطلب جو ہے نا وہ... لیکن وہ عیسائی جو صحیح تھے انہوں نے ایسا نہیں کہا تھا۔ وہ مطلب اس وقت بالکل صحیح دین پر جو تھے، انہوں نے ایسا نہیں کہا۔
بعد میں یہ واللہ اعلم تفصیل تو بہت مطالعے کے بعد ہی پتہ چلے گی کہ ایک جو تھا نا مطلب یہودی، وہ مطلب جو ہے نا عیسائی ہو گیا، اور اس نے کہا کہ مجھے عیسیٰ علیہ السلام نے آسمان سے آواز دی کہ دیکھو تم یہ کرتے ہو، پھر میں تمہارے ساتھ دیکھوں گا۔ تو میں نے توبہ کر لی ہے اور میں عیسائی ہو گیا ہوں۔ تو اسی نے پھر سارا کچھ شامل کر دیا۔ ہاں جی، 12 شاگرد بنا دیے اور ان 12 شاگردوں میں مطلب جو ہے نا ہر ایک کو علیحدہ علیحدہ story بتائی۔ ہاں جی، جس کی وجہ سے مطلب جو ہے نا عیسائی متفرق ہو گئے، اور یہودی مطلب... یہودی چونکہ تھوڑے ہوتے ہیں نا، یہودی ہر وقت تھوڑے ہوتے ہیں۔ تو یہودی اور عیسائی زیادہ تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ ہم تو ویسے مقابلہ ان کے ساتھ نہیں کر سکتے تو اس طریقے سے ان کا توڑ کر لیا۔
تو عیسائی مختلفُ النّوع، تو ان میں جو اس شخص نے بتائیں کہ اس نے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی پر چڑھایا گیا تھا اور اس طرح اور بھی بہت ساری باتیں اس نے مطلب جو ہے نا وہ شامل کیں۔ نتیجتاً، اب عیسائی ان عقیدوں کو لیے بیٹھے ہیں اور دیکھیں نا عیسیٰ علیہ السلام جو عیسائی، جس کو کہتے ہیں نا مطلب جو ان کو خدا بھی مانتے ہیں اور خدا کا بیٹا بھی مانتے ہیں، عجیب و غریب عقائد ہیں۔ جو اس خبیث کی وجہ سے یہ چیزیں چلی تھیں۔ ہاں جی، عیسائیوں پر لوگوں نے یہودیوں نے اتنی محنت کی کہ اب وہ مطلب ایک تو وہ باتیں بھی ماننے لگے، اور دوسری یہ بات ہے کہ دیکھو، یعنی عیسیٰ علیہ السلام کو انہوں نے شہید کر دیا ان کے خیال میں، لیکن وہ Antichrist، وہ آئے گا تو مطلب جو ہے نا وہ... دجال، یہ جانتے ہیں نام ہی اس کا Antichrist ہے۔ اچھا، اور یہودیوں کے ساتھ دوستی ہے ان کی، اب اندازہ کر لیں۔ یہ ہے جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ ہاں جی۔
ایک دفعہ ایسا ہوا، جرمنی میں تھا۔ میں تو وہاں ان کا ایک خاص Church تھا جو کہ وہ جو باہر کے لوگ آتے ہیں، Foreigners، ان کی help کے لیے آتے تھے۔ مطلب بقول ان کے، ہم لوگوں نے اپنا راستہ بنایا ہوا تھا۔ تو knocking ہو گئی تو میں نے کہا کہ کون؟ دروازہ کھولا تو انہوں نے کہا کہ ہم فلاں Church سے آئے ہیں، تو ہمیں پتہ چلا کہ آپ باہر سے آئے ہوئے ہیں، تو ہمارا Church آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہے؟ اس سلسلے میں ہم حاضر ہوئے ہیں۔ اب میں نے فوراً ذہن بنا لیا، میں نے کہا اب ان کو تو اس طرح انکار کرنا تو مناسب نہیں، ممکن ہے مطلب یہ ہے کہ ان پہ محنت ہو جائے۔ تو میں نے فوراً دروازہ کھول دیا اور ان کو اپنے ساتھ بٹھا دیا۔ بچہ بھی تھا ان کے ساتھ، اس کے لیے دودھ کا، باقی دوسرے کے لیے کچھ soft وغیرہ کا۔ بات چیت شروع ہو گئی۔
کہتے ہیں جی ہم آپ کی کچھ help کرنا چاہتے ہیں، اب بتائیے ہم آپ کی کیا help کریں؟ میں نے کہا اچھا، وہ آپ تشریف لائے تو بہت اچھی بات ہو گئی، تو میرے ذہن میں ایک وہ ہے میں آپ سے... کہتے ہیں فرمائیں، بالکل فرمائیں۔ تو میں نے کہا کہ اصل میں میں نے دیکھا ہے کہ وہ مسئلہ اس طرح ہے کہ یہ جو یہودی ہیں، یہ عیسائیوں کے بھی دشمن ہیں، مسلمانوں کے بھی دشمن ہیں۔ پھر میں نے عیسیٰ علیہ السلام کے واقعات اور یہ تمام چیزیں ان کے بارے میں بتائیں۔ میں نے کہا ان کو تو ہم پیغمبر مانتے ہیں، اور ہم تو ظاہر ہے عیسیٰ علیہ السلام کے مخالف نہیں ہیں، لیکن وہ تو عیسیٰ علیہ السلام کے دشمن ہیں۔ Antichrist ان کا سب سے بڑا نجات دہندہ ہو گا۔ تو ایسی صورت میں کیوں نہ ہم مل کر ان کے خلاف کام شروع کریں؟ [ہنسی] میں نے بتایا کیوں نہ ہم مل کر ان کے خلاف کام شروع کریں؟
تو وہ سوچنے لگے۔ کہتے ہیں اچھا میں discuss کر کے اپنے بڑوں سے، پھر آپ سے بات کروں گا۔ پھر وہ نہیں آئے۔ اس کے بعد وہ نہیں آئے۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ بیچارے بالکل اب کیا کریں گمراہ ہیں نا، دیکھو نا جس کو کہتے ہیں الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ، وہ تو یہودی ہیں۔ یعنی جن پہ غصہ ہے اللہ تعالیٰ کا، شیطان کی طرح ہیں یہ۔ شیطان بھی جانتا ہے سب کچھ، لیکن یہ اسی طریقے سے مطلب وہ جو ہے نا کرتے ہیں۔ اور جو یہودی ہیں یہ بھی شیطان کی طرح جانتے ہیں، لیکن اس پہ ڈٹے ہوئے ہیں، اپنے حسد اور کینے کی وجہ سے۔ تو یہ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ اور الضَّالِّينَ جو ہیں نا، وہ عیسائی ہیں کیونکہ ان لوگوں کو، ان لوگوں نے دھوکہ دیا ہے، گمراہ کیا ہوا ہے۔
تو جس وقت عیسیٰ علیہ السلام تشریف لائیں گے انشاءاللہ، تو اس وقت عیسائی سارے مسلمان ہو جائیں گے۔ اور یہودی ان کے سخت دشمن ہوں گے۔ اور وہ بھی یہودیوں کا دشمن ہو گا۔ یہودیوں کو مارے گا، مارے گا اور ان کے جہاں جہاں تک وہ جو ہے نا وہ جائے گا، تو یہ دجال بھاگے گا۔ تو وہ ایسا ہے کہ اس صورت میں ہر پرندہ اور ہر شجر حجر جو ہے نا وہ گواہی دے گا کہ میرے پیچھے یہودی ہے۔ مطلب وہ جب اگر یہودی اس کے پیچھے چھپا ہو گا۔ سوائے ایک درخت کے، وہ درخت جو ہے نا وہ نہیں بتائے گا۔ تو وہ یہودیوں کا گویا ایک، یہودی بتاتے ہیں کہ یہ ہمارا دوست درخت ہے۔ تو وہ اس کو اگاتے ہیں۔ ابھی آج کل بہت زیادہ اگایا ہوا ہے۔ اسرائیل میں بہت زیادہ اگایا ہوا ہے۔
تو یہ بات ہے کہ مطلب گویا کہ وہ ساری چیزیں جانتے ہیں۔ لیکن وہی میں نے آپ کو بتایا نا، ایک صحافی نے اس سے پوچھا Ben-Gurion سے، Do you believe in last... last slaughter? تو اس نے کہا Yes, but you are not those Muslims and we are not those Jews. مطلب تم وہ مسلمان نہیں ہو جو ہمیں شکست دو گے، اور ہم وہ Jews نہیں ہیں جو شکست کھائیں گے۔ اس کا مطلب ہے جانتے تو ہیں۔ اور وہ باقاعدہ ہمارے اوپر research کیے ہوئے ہیں انہوں نے اور سارا کچھ، ابھی بھی PhDs کر رہے ہیں مطلب ہمارے اوپر۔ اور ان کے تمام چیزیں... لیکن وہی شیطانی چیزوں کے لیے۔ کہ ہمیں کیسے ختم کریں اور کس طریقے سے ہمارے اندر تفرقہ ڈالیں، کیسے کیا کریں، کیسے... یہ سارا کچھ ہوتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہماری حفاظت فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ. سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.