اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
كُلُّ الطَّعَامِ كَانَ حِلًّا لِّبَنِيْٓ اِسْرَٓاءِيْلَ اِلَّا مَا حَرَّمَ اِسْرَٓاءِيْلُ عَلٰى نَفْسِهٖ مِنْ قَبْلِ اَنْ تُنَزَّلَ التَّوْرٰىةُ ؕقُلْ فَأْتُوْا بِالتَّوْرٰىةِ فَاتْلُوْهَآ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ ﴿93﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔
تورات کے نازل ہونے سے پہلے کھانے کی تمام چیزیں (جو مسلمانوں کے لئے حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لئے (بھی) حلال تھیں، سوائے اُس چیز کے جو اسرائیل (یعنی یعقوب علیہ السلام) نے اپنے اوپر حرام کر لی تھی۔(اے پیغمبر! یہودیوں سے) کہہ دو کہ: "اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت کرو۔"﴿93﴾
بعض یہودیوں نے مسلمانوں پر یہ اعتراض کیا تھا کہ آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پیروکار ہیں، حالانکہ آپ اونٹ کا گوشت کھاتے ہیں، جو تورات کی رُو سے حرام ہے۔ ان آیات میں اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دین میں حرام نہیں تھا، بلکہ تورات نازل ہونے سے پہلے بنی اسرائیل کے لئے بھی وہ سب چیزیں حلال تھیں جو آج مسلمانوں کے لئے حلال ہیں۔ البتہ ہوا یہ تھا کہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اونٹ کا گوشت اپنے اوپر حرام کر لیا تھا، جس کی وجہ حضرت ابن عباسؓ نے یہ بتائی ہے کہ ان کو عرق النساء کی بیماری تھی، اور انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر مجھے اس بیماری سے شفا ہوگئی تو میں اپنے کھانے کی سب سے پسندیدہ چیز چھوڑ دوں گا۔ انہیں اونٹ کا گوشت سب سے زیادہ پسند تھا، اس لئے شفا حاصل ہونے پر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ (روح المعانی بحوالہ مستدرک حاکم بسند صحیح) اب قرآن کریم نے یہاں صریح الفاظ میں یہ بات نہیں بتائی کہ آیا اس کے بعد یہ گوشت بنی اسرائیل پر بھی حرام کر دیا گیا تھا یا نہیں، لیکن سورہ نساء (4:160) میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر بہت سی اچھی چیزیں بھی حرام کر دی گئی تھیں۔ اور اسی سورت کی آیت نمبر 50 میں گزر چکا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ: "اور جو کتاب مجھ سے پہلے آچکی ہے، یعنی تورات، میں اس کی تصدیق کرنے والا ہوں، اور (اس لئے بھیجا گیا ہوں) تاکہ کچھ چیزیں جو تم پر حرام کی گئی تھیں، اب تمہارے لئے حلال کر دوں۔" نیز یہاں "تورات نازل ہونے سے پہلے" کے الفاظ بھی یہ بتا رہے ہیں کہ اونٹ کا گوشت شاید تورات نازل ہونے کے بعد ان پر حرام کر دیا گیا تھا۔ اب جو چیلنج ان کو دیا گیا ہے کہ "اگر تم سچے ہو تو تورات لے کر آؤ اور اس کی تلاوت کرو۔" اس کا مطلب یہ ہے کہ تورات میں یہ کہیں مذکور نہیں ہے کہ اونٹ کا گوشت حضرت ابراہیم علیہ السلام کے وقت سے حرام چلا آتا ہے۔ اس کے برعکس یہ حکم صرف بنی اسرائیل کو دیا گیا تھا، چنانچہ اب بھی بائبل کی کتاب احبار میں جو یہودیوں اور عیسائیوں کی نظر میں تورات کا ایک حصہ ہے، اونٹ کی حرمت بنی اسرائیل ہی کے لئے بیان ہوئی ہے: "تم بنی اسرائیل سے کہو کہ... تم ان جانوروں کو نہ کھانا، یعنی اونٹ کو... سو وہ تمہارے لئے ناپاک ہے۔" (احبار 11: 1-4) خلاصہ یہ کہ اونٹ کا گوشت اصلاً حلال ہے، مگر حضرت یعقوب علیہ السلام کے لئے ان کی نذر کی وجہ سے اور بنی اسرائیل کے لئے ان کی نافرمانیوں کی بنا پر حرام کیا گیا تھا۔ اب اُمتِ محمدیہ (علیٰ صاحبہا السلام) میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کا اصل حکم لوٹ آیا ہے۔
اصل میں... یہ بات ضروری ہے سمجھنا کہ اللہ جل شانہ نے جو حکم دیا ہوتا ہے وہ تو عام ہوتا ہے لیکن بعض کے لیے کچھ خاص باتیں بھی ہو جاتی ہیں کسی وجہ سے کوئی چیز اگر ان کے لیے مختلف ہو تو ظاہر ہے کہ وہ ایک وقتی چیز ہوتی ہے یا علاقائی چیز ہوتی ہے تو پھر جب اللہ پاک اس کو عام کر دے دوبارہ اور اس چیز کو دور فرما دے تو پھر کسی کو اس پر کیا اعتراض ہے؟ تو اصل بات یہ ہے کہ ابراہیم علیہ السلام کے دین میں تو یہ بات نہیں تھی لیکن اس طرح بنی اسرائیل کے لیے اگر یہ بات آ گئی، تو بعد میں اللہ پاک نے اس کو واپس کر دیا، تو لہذا اس میں کون سی وہ ایسی بات تھی؟ لیکن یہود تو صرف اعتراض کرتے تھے، تو اس کے اعتراض کا جواب دیا گیا۔