الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.
لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰى تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ بِهٖ عَلِیْمٌ ﴿92﴾
صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
تم نیکی کے مقام تک اس وقت تک ہرگز نہیں پہنچو گے جب تک ان چیزوں میں سے (اللہ کے لئے) خرچ نہ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔ اور جو کچھ بھی تم خرچ کرو، اللہ اسے خوب جانتا ہے ﴿92﴾
پیچھے سورہ بقرہ کی آیت نمبر 267 میں یہ حکم گزرا ہے کہ صرف خراب اور ردی قسم کی چیزیں صدقے میں نہ دیا کرو، بلکہ اچھی چیزوں میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا کرو۔ اب اس آیت میں مزید آگے بڑھ کر یہ کہا جارہا ہے کہ صرف یہی نہیں کہ اچھی چیزیں اللہ کی خوشنودی کے لئے دو، بلکہ جن چیزوں سے تمہیں زیادہ محبت ہے، ان کو اس راہ میں نکالو تاکہ صحیح معنی میں اللہ کے لئے قربانی کا مظاہرہ ہو سکے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو صحابہ کرامؓ نے اپنی سب سے زیادہ پسندیدہ چیزیں صدقہ کرنی شروع کر دیں جس کے بہت سے واقعات حدیث اور تفسیر کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ ملاحظہ ہو معارف القرآن جلد دوم ص: 107 اور 108۔
یہ اصل میں انسان کو دنیا کی محبت جو ہے، اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کی محبت کو حاصل کرنا ہوتا ہے۔ دنیا کی محبت اور اللہ کی محبت یہ ضد ہیں۔ اگر دنیا کی محبت ہے تو پھر اللہ کی محبت نہیں، اور اگر اللہ کی محبت ہے تو دنیا کی محبت نہیں۔ اس وجہ سے دنیا کی محبت کو دل سے نکالنے کے لیے انتظام کچھ ہونا چاہیے، اور اس آیت کریمہ میں انتظام یہ بتایا گیا کہ تم اس وقت تک اس نیکی کو، جو اس میں مطلوب ہے، وہ نہیں پا سکتے ہو جب تک کہ ان چیزوں میں سے اللہ کے لیے نہ خرچ کرو جو تمہیں محبوب ہیں۔
یہ اصل میں واقعتاً دل، جگرے کا کام ہے۔ مطلب یہ کہ ایک انسان کو جو چیز زیادہ محبوب ہو وہ اللہ کے راستے میں صدقہ کرے۔ مجھے اس کی ایک نظیر مل گئی تھی۔ یہ وہاں پر سوات میں ہمارے ایک ساتھی ہیں، وہ آئے اور مجھے کہا کہ آپ کے لیے میں نے خانقاہ بنائی ہے وہاں سوات میں، یعنی گرمیوں کے لیے، تو آپ آ کر اس کا افتتاح کریں۔ پھر ہم چلے گئے، ما شاء اللہ انہوں نے اس پُر فضا مقام میں بہت خوبصورت خانقاہ بنائی تھی اور مسجد بھی بنائی تھی۔ اور اس میں واقعی بہت زیادہ ما شاء اللہ اس نے خرچ کیا تھا۔ تو اس نے باتوں باتوں میں یہ بتایا کہ جب میں دیکھتا ہوں کہ میرے گھر میں کوئی چیز اچھی، خوبصورت لگی ہوئی ہے اور مسجد میں وہ نہیں ہے، تو مجھے شرم آتی ہے۔ تو میں پھر یہ کرتا ہوں کہ اس کی طرح میں کوئی چیز پھر لا کر مسجد میں بھی لگا لیتا ہوں اور اگر ایسی پھر نہیں ملے تو پھر میں گھر سے اتار کر ادھر لگا لیتا ہوں۔
مطلب یہ کہ اللہ کے گھر میں میرے گھر سے چیزیں کم ہوں، یہ سمجھ نہیں آتی۔ اللہ تعالیٰ نے ظاہر ہے اس کو اس نعمت سے نوازا تھا۔ بہرحال یہ ہے کہ یہ بات ہے کہ اس طریقہ کار، کیونکہ نفس کا مقابلہ مجاہدہ ہے۔ مجاہدے کے ذریعے سے نفس کا علاج ہوتا ہے۔ اور جو چیز نفس نہیں چاہتا اگر آپ اس کو کرتے ہیں تو نفس کا علاج ہو جاتا ہے۔ تو اب ظاہر ہے نفس تو نہیں چاہتا نا کہ وہ اپنی پسندیدہ چیز، اس کو نکالے، تو پھر آپ جب اس پسندیدہ چیز کو اپنے گھر سے نکالتے ہیں اللہ کے راستے میں، تو یقیناً نفس کا علاج ہو جاتا ہے اور ساتھ دل بھی دنیا کی محبت سے پاک ہو جاتا ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہم سب کو بھی اس کی توفیق عطا فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔