ایمان کی اہمیت، کفر کی ہلاکت اور اللہ کی رحمت سے امید

درس نمبر 129: سورۃ ال عمران، آیت نمبر 88 تا 91

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مکہ مکرمہ - مکہ مکرمہ

• سورہ آل عمران کی آیات کی تلاوت اور ان کی تفسیر۔• ایمان کے بعد کفر میں بڑھنے والوں کی توبہ کی عدم قبولیت۔• حالتِ کفر میں مرنے والوں کے لیے فدیہ (زمین بھر سونے) کا رد ہونا اور دردناک عذاب کی وعید۔• کفریہ باتوں، گمراہ کن صحبت، فتنہ انگیز Literature اور Social media سے بچاؤ کی تلقین۔• اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونے (لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ) اور گناہوں سے فوری توبہ کا حکم۔• مکہ مکرمہ میں نیکیوں اور گناہوں کے اجر و وبال (ایک لاکھ گنا) کی حساسیت اور استغفار کی اہمیت۔

اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ.

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيْمِ.

اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا ۗ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ ﴿89﴾ اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ ۚ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الضَّالُّوْنَ ﴿90﴾

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَمَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْ اَحَدِهِمْ مِّلْءُ الْاَرْضِ ذَهَبًا وَّلَوِ افْتَدٰی بِهٖ ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ وَّمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ ﴿91﴾

صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

البتہ جو لوگ اس سب کے بعد بھی توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں، تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿89﴾ (اس کے برخلاف) جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر کفر میں بڑھتے ہی چلے گئے، ان کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی ، ایسے لوگ راستے سے بالکل ہی بھٹک چکے ہیں ﴿90﴾

یعنی جب تک وہ کفر سے توبہ کر کے ایمان نہیں لائیں گے، دوسرے گناہوں سے ان کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔

جن لوگوں نے کفر اپنایا اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، ان میں سے کسی سے پوری زمین بھر کر سونا بھی قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ اپنی جان چھڑانے کے لئے اس کی پیشکش ہی کیوں نہ کرے۔ ان کو تو دردناک عذاب ہو کر رہے گا، اور ان کو کسی قسم کے مددگار میسر نہیں آئیں گے ﴿91﴾

یہ اصل میں جو لوگ کفر کرتے ہیں۔ یعنی ایمان لانے کے بعد پھر وہ کفر میں بڑھتے جاتے ہیں، ان کی توبہ قبول نہیں ہوتی۔ اور وہ گمراہ ہو چکے ہوتے ہیں، مطلب یہ راستے سے بھٹک چکے ہوتے ہیں۔ کیونکہ اگر کفر پر وہ قائم رہیں، تو پھر ان کے گناہوں کی تو بات دوسری ہے۔ یعنی ان کے گناہوں کو تو نہیں توبہ قبول کی جائے گی۔ سب سے پہلے توبہ کفر سے ہوتی ہے۔ یعنی انسان ایمان لے آئے۔ اگر ایمان نہیں لایا، تو بے شک وہ کتنے ہی نیک اعمال کرے، اجر اس کو نہیں ملے گا۔ اور اگر وہ گناہوں سے توبہ کرنا چاہے، تو وہ توبہ قبول نہیں ہوتی۔

اور وہ لوگ جو کفر اختیار کر چکے ہیں اور توبہ کفر سے نہیں کی، اور اسی حالت میں وہ مر گئے، تو اگر وہ زمین بھر سونا بھی اس میں، اپنی جان چھڑانے کے لیے پیش کر لیں، تو ان سے اس کو قبول نہیں کیا جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ تو ویسے ہی جا رہا ہے۔ تو لہٰذا وہ تو اس کا رہے گا نہیں۔ تو لہٰذا اس سے وہ قبول نہیں ہوگا، اور ایسے لوگوں کو دردناک عذاب ملے گا اور اپنے لیے کوئی مددگار بھی نہیں پائیں گے۔

تو اس وجہ سے ہم لوگوں کو کفر سے تو بہت زیادہ بچنا چاہیے، اور شیطان سب سے زیادہ انسان کو کفر کی طرف ورغلاتا ہے۔ تو کبھی بھی ایسی بات نہیں زبان سے نکالنی چاہیے جس میں کفر کا اندیشہ ہو۔ اور ایسے لوگوں سے بھی نہیں ملنا جلنا چاہیے جن سے اس قسم کی باتیں سرزد ہوتی ہیں اور کبھی ان کے ماحول میں آ کر انسان اس طرح بے احتیاطی سے ایسی باتیں کر لیتا ہے۔ لہٰذا ایسے لوگوں کے ساتھ بھی نہیں بیٹھنا چاہیے، ایسا Literature بھی نہیں پڑھنا چاہیے۔ آج کل Social media پہ یلغار ہے، تو ایسی چیزیں بھی نہیں دیکھنی چاہئیں۔ اپنے ایمانوں کی حفاظت کرنی چاہیے۔

اور یہ گناہ ہو چکے کی جو بات ہے، تو یہ ہے کہ اللہ پاک ہر وقت، اگر ایمان والا ہے، اس کی توبہ قبول فرماتے ہیں۔ ان کے لیے تو حکم ہے: لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا. اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، بے شک اللہ پاک سارے گناہوں کو توبہ سے معاف فرماتے ہیں۔ تو لہٰذا ہمیں اپنے ایمانوں کی قدر کرنی چاہیے اور اپنے ایمانوں پہ جمنا چاہیے۔ اور ہر وقت توبہ کرتے رہنا چاہیے۔

ابھی ہم اس وقت مکہ مکرمہ میں ہیں۔ مکہ مکرمہ میں جو نیکیاں ہیں وہ بھی ایک لاکھ گنا ہیں اور جو گناہ ہے وہ بھی ایک لاکھ گنا ہے۔ ایسی صورت میں ہمیں ہر وقت استغفار کرتے رہنا چاہیے کہ اگر کچھ ایسی بات ہو چکی ہو، تو ساتھ ساتھ ہی معاف ہوتی رہے۔ ورنہ خدا نخواستہ اگر ہم یہاں سے اس حالت میں چلے گئے، تو یہ بہت ہی خطرناک بات ہوگی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح معنوں میں مسلمان بنا دے اور اپنا تعلق نصیب فرما دے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ.

ایمان کی اہمیت، کفر کی ہلاکت اور اللہ کی رحمت سے امید - درسِ قرآن - پہلا دور