الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَلٰمِيْنَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا أُنْزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ عَلٰى إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْمَاعِيْلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوْتِيَ مُوْسَىٰ وَعِيْسَىٰ وَالنَّبِيُّوْنَ مِن رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَ ﴿84﴾ وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِينَ ﴿85﴾ كَيْفَ يَهْدِی اللّٰهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ وَشَهِدُوْا اَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَّجَآءَهُمُ الْبَيِّنٰتُ ؕ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِيْنَ ﴿86﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ.
کہہ دو کہ: "ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر اتاری گئی اس پر، اور اُس (ہدایت) پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور (ان کی) اولاد پر ان کے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی، اور ان باتوں پر جو موسیٰ، عیسیٰ اور (دوسرے) پیغمبروں کو عطا کی گئیں۔ ہم ان (پیغمبروں) میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (ایک اللہ) کے آگے سر جھکائے ہوئے ہیں۔" ﴿84﴾
جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا، تو اس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں۔ ﴿85﴾ اللہ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت دے جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کرلیا؟ حالانکہ وہ گواہی دے چکے تھے کہ یہ رسول سچے ہیں، اور ان کے پاس (اس کے) روشن دلائل بھی آچکے تھے۔ اللہ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیا کرتا ﴿86﴾
﴿اُولٰٓئِكَ جَزَٓاؤُهُمْ اَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَةَ اللّٰهِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِيْنَ﴾﴿87﴾
ایسے لوگوں کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی پھٹکار ہے ﴿87﴾
﴿خٰلِدِيْنَ فِيْهَا ۚ لَا يُخَفَّفُ عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ﴾﴿88﴾
اسی (پھٹکار) میں یہ ہمیشہ رہیں گے۔ نہ ان کے لئے عذاب ہلکا کیا جائے گا، اور نہ انہیں کوئی مہلت دی جائیگی ﴿88﴾
﴿اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا ۚ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ﴾ ﴿89﴾
البتہ جو لوگ اس سب کے بعد بھی توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلیں، تو بیشک اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے ﴿89﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
یہ آپ نے جو ابھی ترجمہ اس کا سنا۔ اصل میں اس میں اللہ جل شانہٗ آپ ﷺ سے خطاب فرماتے ہیں کہ تم یہ کہو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو کتاب ہم پر اتاری گئی اس پر۔ یعنی اس میں گویا کہ ایمانیات کے جو شعبے ہیں وہ بتائے جا رہے ہیں، کہ اللہ پر ایمان لانا اور پیغمبروں پر ایمان لانا اور پیغمبروں پر جو کتابیں اتاری گئیں ان پر ایمان لانا، اور جو باتیں پیغمبروں کو دی گئیں۔ کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کہ کتابیں اتاری جاتی ہیں، ان میں ہدایت کی بات آتی ہے۔ اور بعض دفعہ اللہ تعالیٰ ان کے قلوب پر بات اتار لیتے ہیں، جس کو ہم سنت کہتے ہیں۔ تو وہ آتی ہے۔ تو اس کا مطلب ہے کہ جو پیغمبر اپنی قوم کی طرف لاتا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے، تو اس کے اوپر ان کو ایمان لانا ضروری ہوتا ہے۔
اور پھر یہ بات ہے کہ اصل اسلام تو ایک ہی ہے۔ وہ آدم علیہ السلام سے شروع ہے، اور پھر ابراہیم علیہ السلام تک اور پھر موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام اور پھر آپ ﷺ تک جو آیا ہے، تو یہ ایک ہی اسلام ہے۔ تو وہ جو اصل اسلام ہے، اس کے علاوہ اگر کوئی دین اختیار کرنا چاہے گا کیونکہ دیکھو نا بعد میں لوگوں نے اپنی طرف سے باتیں شامل کیں۔ جیسے ابراہیم علیہ السلام کو ماننے والے یہ یہودی بھی ہیں، عیسائی بھی ہیں، اور جو مشرکینِ مکہ تھے وہ بھی ابراہیم علیہ السلام کو اپنا آباء مانتے تھے۔ لیکن انہوں نے اپنے اپنے طریقے اختیار کر لیے۔ یہودیت میں انہوں نے اپنے طریقے اختیار کیے، عیسائیت میں انہوں نے اپنے طریقے اختیار کیے اور دوسروں نے شرک کا سلسلہ شروع کر لیا۔ تو ابراہیم علیہ السلام تو مشرک نہیں تھے۔ تو اس طرح مطلب یہ ہے کہ یہ جن لوگوں نے اپنے طریقے اختیار کیے ہیں اور انہوں نے اسلام کہ جو اصل بنیاد کو پکڑا نہیں، تو پھر یہ ہے کہ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ ان سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا، اور آخرت میں وہ لوگ سخت خسارے میں ہوں گے، کیونکہ وہاں ان کو پتہ چل جائے گا۔
اور یہ اہل کتاب کے لیے بات آئی ہے، کہ اللہ ایسے لوگوں کو کیسے ہدایت دے جنہوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا یعنی ان کو پتہ ہے، اور پھر انہوں نے کفر اختیار کیا اور گواہی بھی دے چکے تھے کہ یہ نبی سچے ہیں۔ ان کے پاس روشن دلائل بھی آ گئے تھے۔ تو اتنا ظلم انہوں نے اپنے اوپر جو کیا ہے، تو اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔ تو ایسے لوگوں کی سزا یہ ہوگی کہ ان پر اللہ کی طرف سے، فرشتوں کی طرف سے اور تمام انسانوں کی طرف سے پھٹکار پڑے گی۔ اور یہ پھٹکار ان کے اوپر ہمیشہ پڑے گی۔ ان کا عذاب بھی پھر ہلکا نہیں کیا جائے گا اور ان کو کوئی مہلت بھی نہیں دی جائے گی۔
البتہ اللہ پاک راستہ دیتے ہیں، اور راستہ یہ ہے کہ اگر کوئی توبہ کرے۔ تو توبہ کے بعد ان کی تمام چیزیں معاف ہو سکتی ہیں۔ ہاں البتہ اپنی اصلاح پھر بھی ضروری ہوگی۔ توبہ سے تو گزشتہ گناہ معاف ہوں گے، لیکن اگر اصلاح نہیں ہو چکی ہے تو پھر دوبارہ وہی سلسلہ چلے گا۔ تو لہذا اپنی اصلاح اس کو ساتھ شامل کرنا ہوگا، کہ اپنی اصلاح کر لے تو اللہ پاک بہت بیشک بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔ اللہ جل شانہٗ ہمیں سچی توبہ نصیب فرما دے، اور اس پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرما دے۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ۔