تمام انبیاء پر ایمان اور اللہ کی مکمل فرمانبرداری

درس نمبر 127: سورۃ ال عمران، آیت نمبر 82 تا 85

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
مکہ مکرمہ - مکہ مکرمہ
  • یہود کا اپنی خواہشات کے پیچھے لگ کر حق سے منہ موڑنا۔
    • کائنات کی ہر شے کا اللہ کے آگے طوعاً و کرہاً (خوشی سے یا ناچار ہو کر) سر تسلیم خم کرنا۔
      • تکوینی فیصلوں (جن میں انسان کا اختیار نہیں) اور تشریعی فیصلوں (جن میں اختیار دیا گیا ہے) کے درمیان فرق۔
        • تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا اور نبوت کے اعتبار سے ان میں کوئی تفریق نہ کرنا، البتہ ان کے درجات کا مختلف ہونا۔
          • دینِ اسلام کے علاوہ کسی اور دین کا اللہ کے ہاں قابلِ قبول نہ ہونا۔

            الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ، أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

            فَمَنْ تَوَلّٰى بَعْدَ ذٰلِكَ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ(82) اَفَغَیْرَ دِیْنِ اللّٰهِ یَبْغُوْنَ وَ لَهٗۤ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ طَوْعًا وَّ كَرْهًا وَّ اِلَیْهِ یُرْجَعُوْنَ(83) قُلْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰى وَ النَّبِیُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ۪ لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْ٘ وَ نَحْنُ لَهٗ مُسْلِمُوْنَ(84)

            صَدَقَ اللَّهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِیُّ الْكَرِيمُ۔

            اس کے بعد بھی جو لوگ (ہدایت سے) منہ موڑیں گے تو ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔ ﴿82﴾

            اصل میں یہ بھی یہود کی بات جو کہ چل رہی تھی کہ ان لوگوں نے، جو چیزیں پیغمبر ان کے پاس لائے تھے، صحیح باتیں، ان کو چھوڑا تھا، اور اپنے خیالات اور اپنی خواہشات کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ تو جو لوگ بھی ان وجوہات کی وجہ سے ہدایت سے منہ موڑیں گے، یعنی اپنی خواہشات کا اتباع کریں گے اور اپنے خیالات کے پیچھے چلیں گے، تو ظاہر ہے ایسے لوگ نافرمان ہوں گے۔

            اب کیا یہ لوگ اللہ کے دین کے علاوہ کسی اور دین کی تلاش میں ہیں؟ حالانکہ آسمانوں اور زمین میں جتنی مخلوقات ہیں ان سب نے اللہ ہی کے آگے گردن جھکا رکھی ہے، (کچھ نے) خوشی سے اور (کچھ نے) ناچار ہو کر ، اور اسی کی طرف وہ سب لوٹ کر جائیں گے ﴿83﴾

            اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں حکم اللہ تعالیٰ ہی کا چلتا ہے۔ اہلِ ایمان اللہ کے ہر حکم کو دل و جان سے بخوشی قبول کرتے ہیں، اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کو مانتے بھی نہ ہوں ان کو بھی چاروناچار اللہ کے ان فیصلوں کے آگے سر جھکانا پڑتا ہے جو وہ اس کائنات کے انتظام کے لئے کرتا ہے، مثلاً اللہ تعالیٰ اگر کسی کو بیمار کرنے کا فیصلہ فرمالے تو کوئی اسے پسند کرے یا ناپسند، بہرحال میں وہ فیصلہ نافذ ہو کر رہتا ہے، اور کوئی مؤمن ہو یا کافر، اسے فیصلے کے آگے سر جھکائے بغیر کوئی چارہ نہیں۔

            یہ اصل میں دو قسم کے فیصلے ہیں، ایک تو شریعت کے فیصلے ہیں اور ایک تکوینی فیصلے ہوتے ہیں۔ شریعت کا جو فیصلہ ہے وہ تو ظاہر ہے اس پہ آخرت کی کامیابی و ناکامی ہے۔ دنیا میں بھی فائدہ پہنچتا ہے، لیکن، اصل فائدہ اس کا آخرت کا ہی ہوتا ہے۔ تو اگر کوئی شریعت کے فیصلوں پہ نہیں چلتا تو اس کی آخرت خراب ہو جاتی ہے۔ اور جو تکوینی چیزیں ہیں وہ تو اس میں جیسے آگ جلاتی ہے۔ تو یہ تکوینی فیصلہ ہے، جب تک اللہ اس کو تبدیل نہ کرے۔ اس طریقے سے پانی ڈبوتا ہے تو یہ رہے گا، جب تک کہ اللہ پاک اس کو تبدیل نہ کرے۔

            تو یہ جو فیصلے تکوینی ہوتے ہیں اس میں چار و ناچار سب کو ماننا پڑتا ہے کیونکہ اس میں ان کا بس ہی نہیں چلتا۔ جبکہ شریعت کے فیصلوں میں اللہ پاک نے اختیار دیا ہوتا ہے، اور اختیار دینے کے بعد جو لوگ اللہ کا حکم مانتے ہیں ان کو کامیابی ہوتی ہے اور جو اللہ کا حکم نہیں مانتے وہ ناکام ہوتے ہیں۔

            کہہ دو کہ: "ہم ایمان لائے اللہ پر اور جو (کتاب) ہم پر اتاری گئی اس پر، اور اُس (ہدایت) پر جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور (ان کی) اولاد پر ان کے پروردگار کی طرف سے اتاری گئی، اور ان باتوں پر جو موسیٰ، عیسیٰ اور (دوسرے) پیغمبروں کو عطا کی گئیں۔ ہم ان (پیغمبروں) میں سے کسی کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی (ایک اللہ) کے آگے سر جھکائے ہوئے ہیں۔" ﴿84﴾

            اصل میں فرق نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سب پیغمبر ہیں اللہ تعالیٰ کے، اور سب اللہ تعالیٰ کی بات ہم تک پہنچاتے ہیں۔ اس وجہ سے اس بات میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ہاں البتہ ان کے آپس میں جو مقامات ہیں وہ اللہ پاک نے جس کو جو دیا ہوتا ہے وہ ہے۔ جیسے رسول اور نبی میں فرق ہے۔ اس طرح اولوالعزم انبیاء ہیں، ان میں اور عام انبیاء میں فرق ہے۔ لیکن بہرحال یہ ہے کہ پیغمبر ہونے میں کوئی آپس میں فرق نہیں ہے۔ لیکن ان کے آپس میں جو فرق ہے وہ تو اللہ پاک نے (تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ) وہ بھی قرآن پاک سے ثابت ہے۔

            وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ﴿85﴾ ۔

            اور جو کوئی شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین اختیار کرنا چاہے گا تو اس سے وہ دین قبول نہیں کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ان لوگوں میں شامل ہوگا جو سخت نقصان اٹھانے والے ہیں﴿85﴾۔

            اللہ جل شانہ ہم سب کو خیر پر جمع فرمائے۔

            وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعٰلَمِينَ۔