اللہ کا فضل، انسان کی ناشکری اور انفاق فی سبیل اللہ کی حقیقت

درس نمبر 93، سورۃ البقرہ: آیت: 243 تا 245

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• سورۃ البقرہ کی آیات (243-245) کی تلاوت و تفسیر

• انسان کی ناشکری اور اللہ تعالیٰ کا بے پایاں فضل و کرم

• زکوٰۃ کی حقیقت (سو روپے اور ڈھائی روپے کی بہترین اور عام فہم مثال)

• مال اور کمائی کو اپنی ذاتی قابلیت سمجھنا (قارون کا دھوکہ)

• ایمان، کفر اور جہاد کا مفہوم (مسلمان اور کافر کی موت کا فرق)

• قرضِ حسنہ کے احکام اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے آداب

• حقیقی عطا کرنے والی ذات صرف اللہ کی ہے (إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللَّهُ يُعْطِي)

• دکھلاوے (ریاکاری) سے پرہیز اور اخلاص کی اہمیت

• رزق کی تنگی اور وسعت صرف اور صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے


الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على خاتم النبيين، أما بعد:

فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم، بسم الله الرحمن الرحيم۔

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ هُمْ اُلُوْفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللّٰهُ مُوْتُوْا ثُمَّ اَحْيَاهُمْ اِنَّ اللّٰهَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُوْنَ ﴿243﴾ وَ قَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ﴿244﴾

مَنْ ذَا الَّذِيْ يُقْرِضُ اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضٰعِفَهٗ لَهٗ اَضْعَافًا كَثِيْرَةً وَ اللّٰهُ يَقْبِضُ وَ يَبْصُۜطُ وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ﴿245﴾

صدق الله العلي العظيم وصدق رسوله النبي الكريم۔

کیا تمہیں ان لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا جو موت سے بچنے کے لئے اپنے گھروں سے نکل آئے تھے، اور وہ ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ چنانچہ اللہ نے ان سے کہا: ”مر جاؤ“ پھر انہیں زندہ کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بہت فضل فرمانے والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے ﴿243﴾ اور اللہ کے راستے میں جنگ کرو، اور یقین رکھو کہ اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے ﴿244﴾

اس آیت کے پہلے حصے کا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ تک، اس کا تو ترجمہ اور تشریح بھی ہو چکی تھی۔ اس کے بعد یہ فرماتے ہیں کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بہت فضل فرمانے والا ہے، لیکن اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے ﴿243﴾

اللہ اکبر! اس پر ہم جتنا بھی سوچیں تو بات بڑی عجیب سمجھ میں آتی ہے۔ انسان کے بارے میں جو اللہ پاک نے جو ارشاد فرمایا ہے

إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهِ لَكَنُودٌ۔ بے شک انسان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔

اور انسان جو ہے یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کو سمجھ نہیں رہا۔ یعنی اندازہ کر لیں کہ جیسے اگر کوئی شخص مجھے سو روپے دے دے۔ اور پھر سو روپے کے بعد پھر مجھے کہے کہ اچھا اس میں سے ڈھائی روپے مجھے دے دیا کرو، میں آپ کے فائدے کے لیے لگا لیا کروں گا۔

تو اب یہ جو شخص ہے جس کو سو روپے دے دیے ہیں، اس سے ڈھائی روپے اسی کے فائدے کے لیے اگر وہ لے رہا ہے۔ تو اس پر وہ کیا سمجھے؟ ناراض ہو جائے؟ یا خوش ہو جائے؟ وہ جو ڈھائی روپے ہے وہ جو لگانا ہے، اس کا طریقہ اس کو خود نہ آتا ہو۔ بلکہ جو لے رہا ہے، صرف اسی کو آتا ہو۔ اور وہ اس کی ایسی ضرورت ہو کہ وہ اس کے بغیر رہ نہیں سکتا ہو بعد میں۔ تو اب بتاؤ کہ کیا یعنی اس پہ خوش ہونا چاہیے یا ناراض ہونا چاہیے؟ یہ مثال زکوۃ کی ہے۔

دیا ہوا مال اللہ کا ہے۔ اب اگر ایک شخص کہتا ہے کہ میں نے کما لیا تو یہ اپنے لیے بڑا دھوکہ ہے۔ کیونکہ اگر آپ تھوڑا سا سوچیں کہ اگر اللہ پاک کی مدد نہ ہوتی تو یہ کما سکتا تھا؟ یعنی ہم خود دیکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کو اللہ پاک دکھا دیتے ہیں کہ آمنے سامنے دکانیں ہوتی ہیں۔ ایک کا دکان چلتا ہے، دوسرے کا نہیں چلتا۔ ایک کا کام ہوتا ہے، دوسرے کا نہیں ہوتا۔ ایک کا علاج ہوتا ہے، دوسرے کا نہیں ہوتا۔ یہ اللہ تعالیٰ دکھاتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ جو ہمارے کام ہو رہے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ ہی کر رہے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ نہ چاہے تو ہمارے کام ہو ہی نہیں سکتے۔ تو سب سے بڑا دھوکہ تو پہلے یہ ہے کہ میں نے کمایا ہے۔ یہ قارونی دھوکہ ہے۔ قارون کو بھی یہی دھوکہ ہوا تھا۔ اس نے کہا تھا میں نے اپنے علم و ہنر سے یہ خود کمایا ہے۔

تو یہ دھوکہ بھی کھا لیتا ہے۔ اور پھر اس کے بعد وہ سمجھتا ہے جو مجھ سے لیا جا رہا ہے یہ گویا کہ مجھ پہ زیادتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس پہ تنگ ہو رہا ہے، دل تنگ کر رہا ہے۔ تو یہ چیز ایسی ہے کہ جو انسان کو ثابت کر رہی ہے کہ بے وقوف ہے، مطلب ناسمجھ ہے۔

إِنَّ الْإِنْسَانَ لِرَبِّهٖ لَكَنُودٌ، بے شک انسان جو ہے نا، بڑا ہی ناشکرا ہے۔

پھر دوسری بات یہ ہے کہ ہم غلطیوں پہ غلطیاں کرتے ہیں لیکن اللہ جل شانہ ہماری ان غلطیوں کو ٹھیک کر دیں۔ ہماری صحت کی بنیاد پہ دیکھیں۔ کتنی بدپرہیزی ہوتی ہے۔ لیکن اللہ پاک نے ہمارے جسم میں ایسا دفاعی نظام بنایا ہوا ہے کہ اس کو ٹھیک کرتا رہتا ہے۔ تو اللہ جل شانہ تو بہت زیادہ فضل فرمانے والے ہیں۔ ہم ٹھوکروں پہ ٹھوکریں کھاتے ہیں اپنے اعمال کی وجہ سے، اور اللہ پاک پھر ان کو درست کر فرماتے ہیں، وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ، بہت ساری چیزوں کو اللہ معاف کرتے ہیں، بہت تھوڑی سی چیزوں پہ پکڑتے ہیں۔ اس پہ انسان چیخ اٹھتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ بہت زیادہ فضل فرمانے والے ہیں۔ لیکن اللہ پاک فرماتے ہیں اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ اب اکثر کو دیکھو، 84 فیصد لوگ کافر ہیں کم از کم۔ تو اکثر تو ہو گیا نا؟ یعنی انسان اس بات کا سوچتا ہی نہیں ہے کہ میں کیسے آیا ہوں۔

جو Atheist ہیں، ان کے تو خیر کہنا ہی میرا خیال میں وہ ہے کہ، آدمی حیران ہو جاتا ہے۔ کہ وہ خود بڑے بڑے سائنسدان ہوتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے کہ یہ ساری دنیا کیسے خود بخود پیدا ہو گئی۔ خود بخود کون سا کام ہوتا ہے؟ آخر کوئی تو ہے نا جس نے پیدا کیا ہے۔ تو وہ جو کوئی ہے وہ اللہ ہے نا۔ تو سب کچھ اللہ پاک دیتے ہیں لیکن انسان۔۔ فرمایا اب اللہ پاک اب جنگ کی بات۔۔۔

"اور اللہ کے راستے میں جنگ کرو، اور یقین رکھو کہ اللہ خوب سننے والا، خوب جاننے والا ہے" ﴿244﴾

یعنی جو اللہ جل شانہ سے باغی لوگ ہیں اور وہ اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ تو پھر ان کے ساتھ جنگ کرو۔ رشیا اور یوکرین میں لڑائی ہے۔ دونوں کافر ہیں۔ ان میں جو مر رہے ہیں ان کا کیا ہے؟ بس ویسے جا رہے ہیں۔ لیکن جب مسلمانوں کی لڑائی ہوتی ہے کسی کافر کے ساتھ تو کافر تو ویسے ضائع ہوتا ہے اگر مر جاتا ہے۔ اور مسلمان شہید ہو جاتا ہے۔ تو مسلمان کو تو ہر چیز میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔ تو مطلب یہ ہے کہ اس پر ہمیں اللہ پاک کا بہت شکر ادا کرنا چاہیے کیونکہ اللہ پاک نے ہم سب کو بہت نوازا ہے۔ اور ہر چیز میں نوازتے ہیں۔

کون ہے جو اللہ کو اچھے طریقے پر قرض دے، تاکہ وہ اسے اس کے مفاد میں اتنا بڑھائے چڑھائے کہ وہ بہت زیادہ ہو جائے؟ دیکھو یہ وہی بات آ گئی۔ یعنی اللہ جل شانہ نے ہمیں مال دیا۔ اور پھر فرمایا اللہ تعالیٰ کو قرض دو۔ تو اللہ پاک کو تو قرض ظاہر ہے ہم دے ہی نہیں سکتے۔ کیونکہ اللہ پاک کو تو ضرورت ہی نہیں ہے۔ تو ایک تو یہ ہے کہ جو ہم سے لے رہا ہے وہ ہمارے لیے لے رہا ہے۔ وہ ہمارے لیے لے رہا ہے تاکہ ہمارے بعد میں کام آئے۔

اللہ کو قرض دینے سے مراد اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا ہے۔ اس میں غریبوں کی امداد بھی داخل ہے، اور جہاد کے مقاصد میں خرچ کرنا بھی۔ اسے قرض مجازاً کہا گیا ہے، کیونکہ اس کا بدلہ ثواب کی صورت میں دیا جائے گا۔ اور ”اچھے طریقے“ کا مطلب یہ ہے کہ اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے کے لئے دیا...

جائے، دکھاوا یا دُنیا میں بدلہ لینا مقصود نہ ہو،

اب میں نے عرض کیا نا کہ ہم لوگ دھوکہ کھاتے ہیں۔ تو پہلے دھوکے کا تو میں نے ذکر کیا کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ شاید ہم نے کیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ بھی اپنے آپ کو دھوکہ دیتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید کوئی اور ہمیں دے سکتا ہے سوائے اللہ کے۔ اب دیکھو ایک طرف اللہ ہے جو ہمیں سب کچھ دے رہا ہے۔ دوسری طرف انسان ہے جو ہمیں کچھ بھی نہیں دے رہا۔ اور اگر کچھ دے رہا ہے تو وہ بھی اللہ کا دے رہا ہے۔ اب مثال کے طور پر کسی Store پر کوئی آدمی کھڑا ہو۔ اور آپ اس سے کچھ مانگیں۔ اور مالک نے اسے کہا ہو کہ اچھا آپ سے اگر کوئی کچھ مانگے، میرے Store سے لے کے دے دیا کرو۔ ٹھیک ہے نا؟ اب جب اس سے آپ مانگتے ہیں، اور وہ آپ کو Store سے دیتا ہے تو کس نے دیا؟ ہاں جی؟ اس مالک نے دیا نا؟ اگر اس کو اجازت نہ دیتا تو کون کیا وہ دے سکتا تھا؟ تو دیا تو مالک نے ہے۔ اب یہ ہے کہ اس کو کہا ہے، اجازت دی ہے۔ اپنی طرف سے تو کچھ نہیں کر سکتا۔

تو دنیا میں جو مال ہے وہ بھی تو اللہ کا دیا ہوا ہے۔ جب اللہ کا دیا ہوا ہے تو اگر کوئی آپ کو دے رہا ہے تو وہ تو اللہ پاک کا دیا ہوا ہے۔ تو اس کا مطلب ہے ہر صورت میں اللہ ہی دے رہا ہے۔ تو اب بتاؤ کہ کوئی بھی آپ کو اللہ کے علاوہ کوئی بھی آپ کو کچھ نہیں دے سکتا۔ تو جب یہ والی بات ہے، دیکھو نا، آپ ﷺ سے بڑا تو کوئی نہیں ہے نا یعنی اللہ کے بعد جو ہے نا مخلوق میں کوئی نہیں ہے۔ تو آپ ﷺ فرماتے ہیں

إِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللهُ يُعْطِي۔ بے شک میں تقسیم کرنے والا ہوں اور اللہ پاک عطا فرمانے والے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ انسان جتنے بھی اگر کسی کے لیے خیر کا ذریعہ بن رہے ہیں، وہ تقسیم کرنے والے ہیں۔ دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔

تو اب یہ بات ہے کہ میں اگر خوش کرنے کا ارادہ کروں تو کس کو خوش کروں؟ ظاہر ہے اس کو خوش کروں گا جو مجھے دے رہا ہے، تو دے تو مجھے اللہ ہی رہا ہے۔ تو لہٰذا میں اسی اس وجہ سے ہر حال میں اسی کے لیے کام کروں۔ مثلاً میں بیان کر رہا ہوں، اگر میں سمجھوں کہ بھئی یہ مجھے اچھا ہے بیان کرنے والا کہہ دے۔ تو مجھے کیا فائدہ؟ مجھے کیا دے سکتے ہیں؟ لیکن اگر میں یہ کروں کہ اللہ پاک اس پر راضی ہو جائے۔ تو یہ بہت بڑا فائدہ ہے۔ تو یہ اتنا سا کام ہے بس اپنے دماغ کی، کچھ ایک رخ اس طرف کرنا ہے کہ اس کے لیے نہیں، اس کے لیے۔ بس اتنی سی بات ہے۔ تو دوسرا دھوکہ یہ ہے کہ انسان دوسروں سے سمجھتا ہے کہ وہ کچھ کر سکتے ہیں۔ تو اس پر پھر یہ بات ہوتی ہے، ریا اور دکھلاوا، اللہ پاک ہماری حفاظت فرمائے۔

تو ریا اور دکھلاوا سے اور اگر جہاد کے لئے یا کسی غریب کی مدد کے طور پر قرض ہی دیا جائے تو اس پر کسی سود کا مطالبہ نہ ہو۔ کفار اپنی جنگی ضروریات کے لئے سود پر قرض لیتے تھے۔ مسلمانوں کو تاکید کی گئی ہے کہ اول تو وہ قرض کے بجائے چندہ دیں، اور اگر قرض ہی دیں تو اصل سے زیادہ کا مطالبہ نہ کریں، کیونکہ اگرچہ دنیا میں تو انہیں سود نہیں ملے گا، لیکن آخرت میں اللہ تعالیٰ اس کا ثواب اصل سے بدرجہا زیادہ عطا فرمائیں گے۔ جہاں تک اس خطرے کا تعلق ہے کہ اس طرح خرچ کرنے سے مال میں کمی ہو جائے گی، اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ تنگی اور وسعت اللہ ہی کے قبضے میں ہیں۔ جو شخص اللہ کے دین کی خاطر اپنا مال خرچ کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کو تنگی پیش آنے نہیں دیں گے، بشرطیکہ وہ اللہ کے حکم کے مطابق خرچ کرے۔

اور یہ بات بالکل واضح ہے۔ کہ جو اپنا ہاتھ کھلا رکھتے ہیں، ان کو اللہ پاک کھلا دیتے ہیں۔ جو تنگ کرتے ہیں تو ان کے اوپر تنگ کی جاتی ہے۔

اللہ پاک ہم سب کو وہ نصیب فرمائے جس پر اللہ پاک راضی ہو۔ اور عافیت اور دونوں جہان کی کامیابی نصیب فرما دے۔ وآخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين۔


اللہ کا فضل، انسان کی ناشکری اور انفاق فی سبیل اللہ کی حقیقت - درسِ قرآن - پہلا دور