اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
معزز خواتین و حضرات!
اب فضائلِ رمضان سے کچھ حصہ پڑھ لیتے ہیں، جیسے کہ ہمارا معمول ہے۔ اس کو ان شاء اللہ ہم پڑھیں گے۔ یہ اس کی وجہ ہے کہ حضرت نے ماشاءاللہ بہت دل کے ساتھ فضائلِ اعمال لکھے ہیں۔ حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے۔ تو اس کا اثر جو ہے وہ تو پھر ہوتا ہے نا۔
یہ بھی ہم نے اپنا اپنے آپ کو اس کا پابند کیا ہے کہ جو بھی مجلس ہو اس میں فضائلِ رمضان حضرت (مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ) کی، سے کچھ حصہ پڑھتے ہیں ماشاءاللہ۔
روح البیان میں سیوطی رحمہ اللہ کی جامع الصغیر اور سخاوی رحمہ اللہ کی مقاصد سے بروایت حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے، کہ میری امت میں ہر وقت پانچ سو برگزیدہ بندے اور چالیس ابدال رہتے ہیں، جب کوئی شخص ان سے مر جاتا ہے تو فوراً دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ان لوگوں کے خصوصی اعمال کیا ہیں؟ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ظلم کرنے والوں سے درگزر کرتے ہیں، اور برائی کا معاملہ کرنے والوں سے (بھی) احسان کا برتاؤ کرتے ہیں، اور اللہ کے عطا فرمائے ہوئے رزق میں لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور غمخواری کا برتاؤ کرتے ہیں۔
دیکھو نا سارے معاملات یہ معاشرت کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ اخلاق اور معاشرت۔
یہی وہ بات تھی نا جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب غارِ حرا سے تشریف لائے تھے اور پہلی وحی جو آئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کافی رعب تھا اس وحی کا۔ تو زمّلونی زمّلونی، تو اس وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جو تسلی دی تھی، وہ کن اعمال پہ دی تھی؟ کہ آپ یہ کرتے ہیں، آپ یہ کرتے ہیں، آپ یہ کرتے ہیں... سارے اعمال کون سے تھے؟ یہی تھے۔ تو گویا کہ یہ اعمال بہت اونچے اعمال ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
اور اللہ کے عطا فرمائے ہوئے رزق میں لوگوں کے ساتھ ہمدردی اور غمخواری کا برتاؤ کرتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث سے نقل کیا ہے کہ جو شخص بھوکے کو روٹی کھلائے، یا ننگے کو کپڑا پہنائے، یا مسافر کو شب باشی کی جگہ دے، حق تعالیٰ شانہٗ قیامت کے ہولوں سے اس کو پناہ دیتے ہیں۔
یحییٰ بن مکی رحمہ اللہ حضرت سفیان ثوری رحمہ اللہ پر ہر ماہ ایک ہزار درہم خرچ کرتے تھے، تو حضرت سفیان رحمہ اللہ سجدے میں ان کے لئے دعا کرتے تھے کہ یا اللہ! یحییٰ نے میری دنیا کی کفایت کی تو اپنے لطف سے اس کی آخرت کی کفایت فرما۔ جب یحییٰ رحمہ اللہ کا انتقال ہوا تو لوگوں نے خواب میں ان سے پوچھا کہ کیا گزری؟ انہوں نے کہا کہ سفیان رحمہ اللہ کی دعا کی بدولت مغفرت ہوئی۔
اس کے بعد حضور ﷺ نے روزہ افطار کرانے کی فضیلت ارشاد فرمائی۔
ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جو شخص حلال کمائی سے رمضان میں روزہ افطار کرائے، اس پر رمضان کی راتوں میں فرشتے رحمت بھیجتے ہیں، اور شبِ قدر میں جبرئیل علیہ السلام اس سے مصافحہ کرتے ہیں، اور جس سے جبرئیل مصافحہ کرتے ہیں (اس کی علامت یہ ہے کہ) اس کے دل میں رقت پیدا ہوتی ہے اور آنکھوں سے آنسو بہتے ہیں۔ حماد بن سلمہ رحمہ اللہ ایک مشہور محدث ہیں روزانہ پچاس (50) آدمیوں کے روزہ افطار کرانے کا اہتمام کرتے تھے۔ یہاں درمیان میں ایک چیز ہے کہ حلال سے افطار کرانا۔ یہ ذمہ داری کی بات ہے۔ بھئی ایک شخص نے روزہ رکھا ہے پورے دن، آپ اس کو حرام سے روزہ افطار کرائے تو بہت نقصان کی بات ہے۔ لوگ افطار کراتے ہیں لیکن اس چیز کا خیال نہیں رکھتے۔ یہ بہت ضروری ہے کہ میں نے اپنے مسلمان بھائی کو حلال کھلانا ہے۔ حرام نہیں کھلانا۔ اس سے اپنے آپ کو بچانا ہے۔ ورنہ پھر یہ ہے کہ الٹا لینے کے دینے پڑ جاتے ہیں۔
افطار کی فضیلت ارشاد فرمانے کے بعد فرمایا ہے کہ اس مہینہ کا اول حصہ رحمت ہے، یعنی حق تعالیٰ شانہٗ کا انعام متوجہ ہوتا ہے اور یہ رحمت عامہ سب مسلمانوں کیلئے ہوتی ہے، اس کے بعد جو لوگ اس کا شکر ادا کرتے ہیں ان کے لئے اس رحمت میں اضافہ ہوتا ہے۔ ﴿لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ﴾ (ابراہیم: 7) اور اسکے درمیانی حصہ سے مغفرت شروع ہو جاتی ہے، اس لئے کہ روزوں کا کچھ حصہ گزر چکا ہے۔ اس کا معاوضہ اور اکرام مغفرت کے ساتھ شروع ہو جاتا ہے، اور آخری حصہ تو بالکل آگ سے خلاصی ہے ہی۔
اور بھی بہت سی روایات میں ختمِ رمضان پر آگ سے خلاصی کی بشارتیں وارد ہوئی ہیں۔ رمضان کے تین حصے کئے گئے جیسا کہ مضمون بالا سے معلوم ہوا۔ بندہ ناچیز کے خیال میں تین حصے رحمت اور مغفرت اور آگ سے خلاصی کے درمیان میں فرق یہ ہے کہ آدمی تین طرح کے ہیں:
یہ دیکھو نا شیخ الحدیث ہیں۔ شیخ الحدیث کا مطلب کیا ہے؟ یعنی حدیث شریف کی معرفت جس کو حاصل ہوتی ہے۔ تو یہ معرفت ان کو بہت عرصہ حدیث پڑھانے کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک ہوتا ہے میں کبھی کبھی دیکھ لوں تو ایک یہ ہے بات اور ایک جو مسلسل کر رہا ہے، تو اللہ پاک ایسے لوگوں کو پھر چن لیتا ہے، ان کے ذریعے سے پھر اپنی چیزیں دوسروں کو پہنچاتے ہیں۔ تو حضرت نے جو چیزوں کی تشریحات کی ہوتی ہیں اس میں بڑا نور ہوتا ہے اور اس کو پڑھنا چاہیے۔
ایک وہ لوگ جن کے اوپر گناہوں کا بوجھ نہیں، ان کے لئے شروع ہی سے رحمت اور انعام کی بارش شروع ہو جاتی ہے۔ دوسرے وہ لوگ جو معمولی گناہ گار ہیں، ان کے لئے کچھ حصہ روزہ رکھنے کے بعد ان روزوں کی برکت اور بدلہ میں مغفرت اور گناہوں کی معافی ہوتی ہے۔ تیسرے وہ جو زیادہ گناہ گار ہیں، ان کے لئے زیادہ حصہ روزہ رکھنے کے بعد آگ سے خلاصی ہوتی ہے۔ اور جن لوگوں کے لئے ابتداء ہی سے رحمت تھی اور ان کے گناہ بخشے بخشائے تھے، ان کا تو پوچھنا ہی کیا، کہ ان کے لئے رحمتوں کے کس قدر انبار ہوں گے۔ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ وَعِلْمُهٗ أَتَمُّ
اس کے بعد حضور ﷺ نے ایک اور چیز کی طرف رغبت دلائی ہے کہ آقا لوگ اپنے ملازموں پر اس مہینہ میں تخفیف (آسانی) رکھیں، اس لئے کہ آخر وہ بھی روزہ دار ہیں، کام کی زیادتی سے ان کو روزہ میں دقت ہوگی۔ البتہ اگر کام زیادہ ہو تو اس میں مضائقہ نہیں کہ رمضان کیلئے ہنگامی ملازم ایک آدھ بڑھا لے، مگر جب ہی کہ ملازم روزہ دار بھی ہو، ورنہ اس کے لئے رمضان بے رمضان برابر۔ اور اس ظلم و بے غیرتی کا تو ذکر ہی کیا کہ خود روزہ خور ہو کر، بے حیا منہ سے، روزہ دار ملازموں سے کام لے، اور نماز روزہ کی وجہ سے اگر تعمیل میں کچھ تساہل ہو تو برسنے لگے۔
انگریزوں کی فوج میں، یہ واقعہ ہے... ایک دفعہ وہ جو انگریز مطلب تھا جو بھی تھا... تو گرمیوں کے دن تھے، اور ظاہر ہے فوج میں تو فٹیگ (Fatigue) بھی ہوتی ہے مختلف کام ہوتے ہیں، کبھی کھڑا ہونا پڑتا ہے، کبھی کیا کبھی کیا۔ تو اس نے پوچھا کہ کون کون روزہ دار ہیں؟ تو سمجھے کہ یہ تو کافر ہے تو یہ تو اس پر خوش ہو گا کہ مطلب ظاہر ہے کہ ہم روزہ دار نہیں ہیں، تو جو روزہ دار نہیں تھے وہ بڑے فخر سے کھڑے ہو گئے کہ ہمارا روزہ نہیں ہے۔ اور جو روزہ دار تھے وہ ذرا تھوڑے سے آنکھیں جھکا کے… ہاں، وہ کھڑے ہو گئے کہ ہمارا روزہ ہے۔ تو اس انگریز افسر نے کہا، جاؤ جن کا روزہ ہے وہ آرام کریں اور جن کا روزہ نہیں ان کا کام بھی کریں۔
یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوتا ہے، ایسا ہوتا ہے۔ کیونکہ اللہ پاک اکرام کراتے ہیں۔ تو انہوں نے کہا جن کا روزہ ہے وہ تو آرام کرلیں اور جن کا روزہ نہیں ہے وہ ان کا کام بھی کریں۔ تو مطلب یہ ہے کہ واقعتاً ہمیں یہ احساس ہونا چاہیے۔
﴿وَسَيَعْلَمُ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا اَيَّ مُنْقَلَبٍ يَّنْقَلِبُوْنَ﴾ (الشعراء: 227)ترجمہ: "اور عنقریب ظالم لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ کیسی (مصیبت) کی جگہ لوٹ کر جائیں گے (مراد جہنم ہے)۔"
اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک میں چار چیزوں کی کثرت کا حکم فرمایا: اول کلمہ شہادت، احادیث میں اس کو افضل الذکر ارشاد فرمایا ہے۔ مشکوۃ میں بروایت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مرتبہ اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ یا اللہ! تو مجھے کوئی ایسی دعا بتلا دے، کہ اس کے ساتھ میں تجھے یاد کیا کروں اور دعا کیا کروں۔ وہاں سے "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" ارشاد ہوا۔ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ یہ کلمہ تو تیرے سارے ہی بندے کہتے ہیں، میں تو کوئی دعا یا ذکر مخصوص چاہتا ہوں۔ وہاں سے ارشاد ہوا کہ موسیٰ! اگر ساتوں آسمان اور ان کے آباد کرنے والے، میرے سوا، یعنی ملائکہ اور ساتوں زمین ایک پلڑہ میں رکھ دیئے جائیں اور دوسرے میں کلمہ طیبہ رکھ دیا جاوے تو وہی جھک جائے گا۔
سمجھ میں آ گئی نا بات؟ اب اس کا میں آپ کو ایک عجیب واقعہ بتاتا ہوں۔ جب میں جرمنی (Germany) میں تھا تو پاکستانی ساتھی جو وہاں پر تھے ہماری دوستی تھی آپس میں ملنا جلنا ہوتا تھا۔ تو وہاں ترک حضرات کافی تعداد میں ہوتے ہیں۔ مسلمان تھے، ان کی مسجدوں میں ہم نماز پڑھتے ہیں۔ ترکوں کی اپنی طبیعت ہے، ظاہر ہے وہ ان کا اپنا ایک انداز ہے۔ تو بعض لوگوں کے ساتھ ان کی وہ نہیں ہوتی Compatibility۔ تو ذرا اس ساتھی کے ساتھ ان کی کچھ ان بن بن رہی ہو گی۔ تو میں ترکوں کے ساتھ چونکہ محبت رکھتا تھا اور ہم سب کرتے ہیں۔ تو میں نے اس کا ذکر کیا کہ ترک تو ایسے ہیں، ایسے ہیں، ایسے۔ کہنے لگے نہیں ابھی آپ نئے نئے آئے ہیں نا، تو آپ کو جلدی پتہ چل جائے گا کہ اصل میں یہ کیسے ہیں۔ میں نے کہا زیادہ سے زیادہ آپ کیا کہہ سکیں گے؟ کہ گنہگار ہیں۔ اس سے زیادہ تو کچھ کہہ سکتے مسلمان تو ہیں نا۔ زیادہ سے زیادہ آپ یہ کہہ سکیں گے کہ گنہگار ہیں، ٹھیک ہے مان لیا۔
یہ سارے جرمنی (Germany) جو آپ کو ٹاپ (Top) قسم کے لوگ نظر آتے ہیں، بڑے اخلاق کے لحاظ سے اور سارے جتنی اچھی صلاحیتیں ان میں ہیں، سب کو ایک پلڑے میں رکھو، اور ایک گنہگار سے گنہگار ترک کو دوسرے پلڑے میں رکھو، اللہ کے نزدیک وہ بھاری ہے۔ کیونکہ اس کے دل میں جو کلمہ ہے وہ ان کے پاس نہیں ہے۔ کلمہ کو آپ نے کیا سمجھا ہوا ہے؟ یہ بہت بڑی نعمت ہے، اس کی ہمیں قدر کرنی چاہیے۔
اور جو قدر کرتا ہے نا کسی چیز کا اللہ پاک اس کے تمام فوائد اس کو نصیب فرماتے ہیں۔ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ (إبراهيم: 7) کے طفیل۔ تو کلمہ کی جو قدر کرے گا، مثلاً آپ مسلمان بھائی کی اس لیے قدر کریں کہ یہ کلمہ والا ہے، تو اللہ تعالیٰ آپ کو اس قدر دانی کی وجہ سے آپ کے کلمہ کو مضبوط کر دے گا، اس میں زیادہ آپ کو استقامت نصیب فرمائے گا۔ تو یہ بات ہے۔
ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص اخلاص سے اس کلمہ کو کہے، آسمان کے دروازے اس کے لئے فوراً کھل جاتے ہیں۔
اب اخلاص کیا ہے بتاتا ہوں۔ اخلاص یہ ہے کہ اس میں آپ کا اللہ کی رضا کے علاوہ اور کوئی نیت نہ ہو۔ یہ مطلب یہ ہے کہ اخلاص ہے۔ تو اگر آپ اس کے ساتھ کوئی دنیا کی منفعت وابستہ نہیں رکھتے اور آپ اس کو صرف اللہ کو راضی کرنے کے لیے پڑھتے ہیں، تو یہ اخلاص ہے۔ تو اگر آپ اس کو کریں تو فرمایا کہ
اور عرش تک پہنچنے میں کسی قسم کی روک نہیں ہوتی، بشرطیکہ کہنے والا کبائر سے بچے۔
کبائر سے مراد یہ دے کہ میں آپ کو ایک بات بتاؤں۔ لَآ إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ کہنا یہ پرواز ہے۔ یعنی لفٹ (Lift) ہے جو جہاز کو اڑاتا ہے یعنی کہ بلندی پہ۔ اور کبائر جو ہے نا یہ کیا ہے؟ یہ ثقل ہے مطلب یہ ہے کہ یہ نیچے لاتا ہے۔ اب یہ اوپر جانے والی چیز اگر ہے لیکن نیچے جانے والی چیز نہیں ہے تو اوپر ہی جائے گا۔ لیکن نیچے والی چیز ہے تو پھر مقابلہ ہو گا۔ ٹھیک ہے نا، پھر مقابلہ ہو گا۔ تو اس وجہ سے نیچے والی چیز کو کم کرو بلکہ ختم کرو اور جو اوپر جانے والی چیز ہے اس کو زیادہ کرو تو خود بخود آپ لفٹ (Lift) آپ کی ہو گی۔
عادتِ اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ضرورتِ عامہ کی چیز کو کثرت سے مرحمت فرماتے ہیں۔ دنیا میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز جس قدر ضرورت کی ہوتی ہے، اتنی ہی عام ہوتی ہے۔ مثلاً پانی ہے کہ عام ضرورت کی چیز ہے، حق تعالیٰ شانہٗ کی بے پایاں رحمت نے اس کو اس قدر عام کر رکھا ہے۔ اور کیمیا جیسی لغو اور بیکار چیز کو عنقا (کمیاب) کر دیا۔ اسی طرح کلمہ طیبہ افضل الذکر ہے، متعدد احادیث سے اس کی تمام اذکار پر افضلیت معلوم ہوتی ہے، اس کو سب سے عام کر رکھا ہے کہ کوئی محروم نہ رہے، پھر بھی اگر کوئی محروم رہے تو اس کی بہت بڑی بدبختی ہے، بالجملہ بہت سی احادیث اس کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں، جن کو اختصاراً ترک کیا جاتا ہے۔
دوسری چیز جس کی کثرت کرنے کو حدیثِ بالا میں ارشاد فرمایا گیا، وہ استغفار ہے۔ احادیث میں استغفار کی بھی بہت ہی فضیلت وارد ہوئی ہے، ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص استغفار کی کثرت رکھتا ہے، حق تعالیٰ شانہٗ ہر تنگی میں اس کیلئے راستہ نکال دیتے ہیں۔
یہ تو باقاعدہ قرآن پاک سے ثابت ہے۔
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ﴿١٠﴾ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿١١﴾ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا ﴿١٢﴾ (نوح: 10-12)
اور ہر غم سے خلاصی نصیب فرماتے ہیں اور ایسی طرح روزی پہنچاتے ہیں کہ اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آدمی گنہگار تو ہوتا ہی ہے، بہترین گنہگار وہ ہے جو توبہ کرتا رہے۔
یعنی گناہ تو ہم سے ہوتے رہتے ہیں، چھوٹے بڑے جو بھی ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے بچائے۔ لیکن جو توبہ کی عادت والا ہے نا، وہ اس کے گناہ دھلتے رہتے ہیں، ختم ہوتے رہتے ہیں، وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہوتے رہتے ہیں۔
ایک حدیث قریب آنے والی ہے کہ جب آدمی گناہ کرتا ہے تو ایک کالا نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے، اگر توبہ کرتا ہے تو وہ دھل جاتا ہے، ورنہ باقی رہتا ہے۔
اس کے بعد حضور ﷺ نے دو چیز کے مانگنے کا امر فرمایا ہے جن کے بغیر چارہ ہی نہیں: جنت کا حصول اور دوزخ سے امن۔ اللہ اپنے فضل سے مجھے بھی مرحمت فرمائے اور آپ سب کو بھی۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔