نذرِ حنّہ، ولادتِ مریمؑ اور دین کے لیے وقف کرنے کی اہمیت

درس نمبر 117، سورۃ آل عمران: آیات: 32 تا 37

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

اہم موضوعات:

• سورۂ آلِ عمران کی آیاتِ مبارکہ کی تلاوت اور بامحاورہ ترجمہ۔

• اللہ تعالیٰ کا حضرت آدم، نوح، آلِ ابراہیم اور آلِ عمران کو تمام جہانوں پر فضیلت دینا۔

• حضرت عمران اور ان کی اہلیہ حضرت حنّہ کا تذکرہ اور ان کی نذر۔

• ولادتِ مریم علیہا السلام پر والدہ کی کیفیت اور شیطان سے پناہ کی دعا۔

• حضرت زکریا علیہ السلام کی سرپرستی کا قرعہ اندازی کے ذریعے فیصلہ۔

• جہالت پر مبنی منتوں (جیسے بچوں کو مزاروں پر چھوڑنا یا شاہ دولہ کے چوہے بنانا) کی تردید اور اصلاح۔

• ہر حال میں اللہ سے مانگنے اور دین کا کام کرنے والوں کی اللہ کے ہاں قدر و منزلت۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

قُلْ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَالرَّسُوْلَ ۚ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْكٰفِرِيْنَ ﴿32﴾ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰۤی اٰدَمَ وَنُوْحًا وَّاٰلَ اِبْرٰهِيْمَ وَاٰلَ عِمْرٰنَ عَلَی الْعٰلَمِيْنَ ﴿33﴾ ذُرِّيَّةًۢ بَعْضُهَا مِنْۢ بَعْضٍ ؕ وَاللّٰهُ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ﴿34﴾ اِذْ قَالَتِ امْرَاَتُ عِمْرٰنَ رَبِّ اِنِّيْ نَذَرْتُ لَكَ مَا فِيْ بَطْنِيْ مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّيْ اِنَّكَ اَنْتَ السَّمِيْعُ الْعَلِيْمُ ﴿35﴾ فَلَمَّا وَضَعَتْهَا قَالَتْ رَبِّ اِنِّيْ وَضَعْتُهَاۤ اُنْثٰی ؕ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ ؕ وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰی ۚ وَاِنِّيْ سَمَّيْتُهَا مَرْيَمَ وَاِنِّيْۤ اُعِيْذُهَا بِكَ وَذُرِّيَّتَهَا مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ ﴿36﴾ فَتَقَبَّلَهَا رَبُّهَا بِقَبُوْلٍ حَسَنٍ وَّاَنْۢبَتَهَا نَبَاتًا حَسَنًا ۙ وَّكَفَّلَهَا زَكَرِيَّا ؕ كُلَّمَا دَخَلَ عَلَيْهَا زَكَرِيَّا الْمِحْرَابَ ۙ وَجَدَ عِنْدَهَا رِزْقًا ۚ قَالَ يٰمَرْيَمُ اَنّٰی لَكِ هٰذَا ؕ قَالَتْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿37﴾

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ.

کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو۔ پھر بھی اگر منہ موڑو گے تو اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا ﴿32﴾ اللہ نے آدم، نوح، ابراہیم کے خاندان، اور عمران کے خاندان کو چن کر تمام جہانوں پر فضیلت دی تھی ﴿33﴾ یہ ایسی نسل تھی جس کے افراد (نیکی اور اخلاص میں) ایک دوسرے سے ملتے جلتے تھے۔

آیت کا یہ ترجمہ حضرت قتادہؒ کی تفسیر پر مبنی ہے (دیکھئے روح المعانی 172:3) واضح رہے کہ عمران حضرت موسیٰ علیہ السلام کے والد کا بھی نام ہے، اور حضرت مریم علیہا السلام کے والد کا بھی، یہاں دونوں مراد ہو سکتے ہیں، لیکن چونکہ آگے حضرت مریم علیہا السلام کا واقعہ آ رہا ہے، اس لئے ظاہر یہ ہے کہ یہاں حضرت مریم علیہا السلام ہی کے والد مراد ہیں۔

اور اللہ (ہر ایک کی بات) سننے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے ﴿34﴾ (چنانچہ اللہ کے دعا سننے کا وہ واقعہ یاد کرو) جب عمران کی بیوی نے کہا تھا کہ: ”یا رب! میں نے نذر مانی ہے کہ میرے پیٹ میں جو بچہ ہے میں اسے ہر کام سے آزاد کر کے تیرے لئے وقف رکھوں گی۔ میری اس نذر کو قبول فرما۔

بیشک تو سننے والا ہے، ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔“ ﴿35﴾ پھر جب ان سے لڑکی پیدا ہوئی تو وہ (حسرت سے) کہنے لگیں: ”یا رب! یہ تو مجھ سے لڑکی پیدا ہوگئی ہے“۔ حالانکہ اللہ کو خوب علم تھا کہ ان کے یہاں کیا پیدا ہوا ہے — ”اور لڑکا لڑکی جیسا نہیں ہوتا۔ میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی اولاد کو شیطان مردود سے حفاظت کے لئے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔“ ﴿36﴾ چنانچہ اس کے رب نے اس (مریم) کو بطریقِ احسن قبول کیا اور اسے بہترین طریقے سے پروان چڑھایا۔ اور زکریا اس کے سرپرست بنے۔


حضرت عمران (رحمۃ اللہ علیہ) بیت المقدس کے امام تھے؛ ان کی اہلیہ کا نام حنہ تھا۔ ان کے کوئی اولاد نہیں تھی، اس لئے انہوں نے نذر مانی تھی کہ اگر ان کے کوئی اولاد ہوگی تو وہ اسے بیت المقدس کی خدمت کے لئے وقف کر دیں گی۔ جب حضرت مریم پیدا ہوئیں تو حضرت عمران کا انتقال ہو گیا، حضرت حنہ کے بہنوئی زکریا علیہ السلام تھے جو حضرت مریم (علیہا السلام) کے خالو ہوئے۔ حضرت مریم (علیہا السلام) کی سرپرستی کا مسئلہ پیدا ہوا تو قرعہ اندازی کے ذریعے اس کا فیصلہ کیا گیا اور قرعہ حضرت زکریا علیہ السلام کے نام نکلا جس کا ذکر آگے اسی سورت کی آیت نمبر 44 میں آ رہا ہے۔

یہاں پر اللہ جل شانہٗ کا فضل بیان ہو رہا ہے کہ اللہ پاک نے ان پر، ان کے خاندانوں پر فضل فرمایا، ان کو چن لیا تھا۔ اور ان کے آپس میں گویا کہ ایک جیسے ہوتے ہیں، ملتے جلتے حالات۔

تو حضرت عمران رحمۃ اللہ علیہ جو کہ بیت المقدس کے امام تھے۔ ان کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ایسے لوگ آج کل بھی ہیں کہ جب ان کی اولاد نہیں ہوتی تو وہ کسی بزرگ کے ان کو وہ کر لیتے ہیں کہ ہم ان کا اس کو وہ بنا لیں گے، پتہ نہیں وہ چوہا بناتے ہیں کیا، وہ کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں۔

تو بجائے اس کے کہ ایسا بنا دیں، تو دیکھیں پیغمبروں کا طریقہ اور بزرگوں کا طریقہ کیا رہا ہے، تو انہوں نے اس کو اللہ پاک کے لیے وقف کرنے کا ارادہ کیا، کہ ہم اس کو اللہ پاک کے کام کی خدمت کے لیے وقف کر دیں گے۔ تو انہوں نے دعا کی۔ تو اللہ جل شانہٗ نے وہ دعا قبول فرما لی، لیکن ظاہری صورت یہ ہوئی کہ لڑکا کی جگہ لڑکی پیدا ہوئی۔ اب لڑکی تو باہر کیسے خدمت کرے گی؟ مسئلہ ہو گیا۔ تو انہوں نے کہا کہ یا اللہ یہ تو لڑکی ہے، تو کیسے ہو گا؟ اس پر ایسا ہوا کہ، چونکہ نذر مانی تھی، تو نذر تو پورا بھی کرنا ہوتا ہے۔ تو ایسی صورت میں پھر یہ ہوا کہ انہوں نے دعا کی کہ یا اللہ میں اس کی ذریت کو اور اس کو شیطان سے آپ کی پناہ میں دیتی ہوں۔

تو اب دیکھو اللہ پاک نے پھر یہ دعا بھی قبول فرمائی۔ اور یہ دعا ایسے قبول فرمائی کہ واقعی... اللہ اکبر! اللہ پاک نے اس کی کفالت کا بھی انتظام کر دیا۔ چونکہ ان کے والد فوت ہو گئے تھے۔ تو اس کے بعد پھر کفالت کا مسئلہ ہو گیا تو قرعہ نکلا، تو قرعہ ان کے خالو کے نام نکلا۔ تو اس طریقے سے ماشاءاللہ یعنی وہ نظام ہی چل پڑا۔

تو یہاں پر ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ ہر حال میں ہم اللہ پاک سے مانگنے والے بن جائیں۔ اور اللہ کے لیے کام کرنے والے بن جائیں، اور اللہ پاک کے لیے جو کام کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ اس کی بڑی قدردانی فرماتے ہیں۔ یعنی ہمارے لیے یہ سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قبول فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔


نذرِ حنّہ، ولادتِ مریمؑ اور دین کے لیے وقف کرنے کی اہمیت - درسِ قرآن - پہلا دور