اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ ۪ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ؕ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ؕ
اِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ ﴿26﴾ تُوْلِجُ الَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَتُوْلِجُ النَّهَارَ فِي الَّيْلِ ۪ وَتُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَتُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ ۪ وَتَرْزُقُ مَنْ تَشَآءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ ﴿27﴾ لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَآءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَیْءٍ اِلَّاۤ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقٰىةً ؕ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهَ نَفْسَهٗ ؕ وَاِلَی اللّٰهِ الْمَصِيْرُ ﴿28﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ
کہو کہ: ”اے اللہ! اے اقتدار کے مالک! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کر دیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔
یقیناً تو ہر چیز پر قادر ہے ﴿26﴾ تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور تو ہی بے جان چیز میں سے جاندار کو برآمد کر لیتا ہے اور جاندار میں سے بے جان چیز نکال لاتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے ﴿27﴾ مؤمن لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا یار و مددگار نہ بنائیں۔ اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، الّا یہ کہ تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لئے بچاؤ کا کوئی طریقہ اختیار کرو۔ اور اللہ تمہیں اپنے (عذاب) سے بچاتا ہے۔ اور اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے ﴿28﴾
یہ اللہ جل شانه کے بارے میں ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سب چیزوں پہ قادر ہے۔ یقیناً ایک قالی بات ہوتی ہے، ایک حالی بات ہوتی ہے۔ تو عقائد تو مسلمانوں کے سب کے یہی ہیں، البتہ یقین ہر ایک کا اپنا اپنا ہوتا ہے۔ تو یقین بڑھانے کے لیے مثالیں دی جاتی ہیں۔
جب غزوۂ احزاب کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ روم اور ایران کی سلطنتیں مسلمانوں کے قبضے میں آجائیں گی تو کفار نے بڑا مذاق اڑایا کہ ان لوگوں کو اپنے دفاع کے لئے خندق کھودنی پڑ رہی ہے اور ان پر فاقے گزر رہے ہیں، مگر دعوے یہ ہیں کہ یہ روم اور ایران فتح کر لیں گے۔ اس موقع پر یہ آیات نازل ہوئیں جن میں مسلمانوں کو یہ دعا تلقین فرما کر ایک لطیف پیرائے میں ان کا جواب دے دیا گیا۔
یہ واقعتًا بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان سمجھتا ہے کہ بھئی یہ کیسے ہوگا؟ ظاہری اسباب بالکل نظر نہیں آتے۔ لیکن اللہ پاک اس چیز کو پورا کر کے دکھا دیتے ہیں۔ اور ہماری زندگی میں بھی اس قسم کے بے شمار واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ ابھی مسئلہ گزرا ہے افغانستان کا۔ تو یہ تقریباً 40، 42 سال تو ہمارے سامنے گزرے ہیں، جو افغانستان کی جو لڑائی ہوئی ہے۔
اس وقت جس وقت Russia نے حملہ کیا، وہاں ہم اس وقت تبلیغی جماعت میں وقت لگا رہے تھے۔ ہمارے امیر صاحب تھے ڈاکٹر فدا صاحب۔ حالانکہ جماعت میں اس قسم کی سیاسی باتیں نہیں ہوتیں، لیکن بہرحال ڈاکٹر صاحب کا اپنا ایک وہ تھا، تو انہوں نے ہم جماعت والوں کو جمع کیا اور پوچھا کہ اب کیا ہوگا؟ یعنی Russia نے حملہ کیا ہے تو یہ اب کیا ہوگا؟ سب نے کہا جی روس کے بارے میں تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ جہاں جاتا ہے پھر وہاں سے واپس نہیں جاتا۔
تو ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ آپ ﷺ کے وقت میں جب کسریٰ نے آپ ﷺ کے والا نامے کو پھاڑ دیا، اور مٹی سفیر کے سر پہ رکھ کر کہتے ہیں یہ لے جاؤ ہماری طرف سے یہ ہے۔ تو آپ ﷺ کو جب پتہ چل گیا کہ انہوں نے والا نامہ کو پھاڑا ہے، تو آپ ﷺ نے دعا کی کہ یا اللہ! اپنے کتوں میں سے کتے ان پر مسلط کر لے۔ اور یہ بات ارشاد فرمائی۔ خدا کی شان کہ اس کی سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔ اور شیرویہ جو اس کا بیٹا تھا، وہ رات کو اٹھا اور اپنے باپ کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا، ختم کر دیا اس کو۔ تو آپ ﷺ نے جو فرمایا تھا اپنے کتوں میں سے کتے ان پر مسلط کر لے تو وہی اس کا بیٹا تھا۔
تو اس طریقے سے فرمایا کہ انہی Russians میں سے کوئی آدمی اٹھ سکتا ہے اور ان کو ختم کر سکتا ہے، کوئی اللہ کے لیے ناممکن بات نہیں ہے۔ تو یہ بالکل ابتدائی وقت کی بات ہے۔ پھر اللہ پاک نے دکھا دیا کہ Russia کیسے ذلیل وہاں سے نکلا۔
پھر اس کے بعد لوگوں نے کہا کہ یہ Stinger missile یہ ان کا کمال ہے، چونکہ امریکہ نے دیے تھے، اس کی وجہ سے Russia کو شکست ہو گئی اور امریکہ کی وجہ سے ہو گئی۔ لوگوں نے یہ کہا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی بات بھی توڑی۔ اور 28 ممالک، امریکہ سمیت، یہ افغانستان کے اوپر چڑھ دوڑے۔ لیکن وہ 28 ملک بھی ذلیل ہو کر وہاں سے نکلے۔ خود ان کی زبان سے یہ بات نکل رہی تھی کہ، یعنی برطانیہ سب سے بڑا الائی ہے امریکہ کا، کہتا ہے اب امریکہ کو Super power کہنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔ اب امریکہ کو Super power کہنے کی کوئی صورت نہیں ہے۔
تو اب اس کا مطلب یہ ہے کہ دیکھو نا اللہ پاک نے ان سب کو ذلیل کر کے رکھا۔ اور کس کے ہاتھوں؟ اگر کسی بڑے ملک کے ہاتھوں ذلیل ہو جاتے نا تو لوگوں کو یہ یقین نہ بنتا۔ ایسے ملک جس کے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ وہ جس وقت NATO نے حملہ کیا افغانستان پر تو اسلم بیگ نے ایک کمنٹ کیا تھا۔ کہتا ہے افغانستان میں کوئی اتنا قیمتی گھر موجود نہیں ہے جو Cruise missile سے اس کی قیمت زیادہ ہو۔ یعنی اس پر Cruise missile ماریں گے تو اس کا خرچ زیادہ ہوگا اور افغانستان والوں کا خرچ کم ہوگا۔ کیونکہ ظاہر ہے ان کے پاس کوئی ایسی چیز ہے ہی نہیں!
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ پاک نے جو نظام دکھایا، کہ ایسے بے سر و سامان لوگوں کے ہاتھوں اور لوگوں نے دیکھ لیا کہ لڑنے والے جو مجاہدین ہیں، ان کے پیر میں جوتے بھی سائز میں نہیں ہیں۔ ایک پیر میں ایک جوتا ہے دوسرے پیر میں دوسرا ہے۔ اور لڑ کن سے رہے ہیں؟ پورے Kit کے ساتھ، جو امریکہ کے لوگ تھے نا Kit کے ساتھ، کہ پتہ نہیں کیا اور یہ Oxygen کا نظام اور یہ فلانا اور یہ، سارے دور قریب کے آلات سب ساتھ، وہ گرفتاریاں دے رہے ہیں۔ ایسی عجیب بات تھی۔ اللہ پاک نے کر دکھایا، تو إِنَّ اللهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔ اگر کوئی جاننا چاہتا ہے تو دیکھ لے۔ ایسی بات ہے۔ اللہ اکبر۔
تو ہی رات کو دن میں داخل کرتا ہے اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ اور تو ہی بے جان چیز میں سے جاندار کو برآمد کر لیتا ہے اور جاندار میں سے بے جان چیز نکال لاتا ہے،
سبحان اللہ۔
سردیوں میں دن چھوٹا ہوتا ہے تو گرمیوں کے دن کا کچھ حصہ رات بن جاتا ہے، اور گرمیوں میں دن بڑا ہوتا ہے تو سردیوں کی رات کا کچھ حصہ دن میں داخل ہو جاتا ہے۔
یعنی اگر 12 گھنٹے دن اور 12 گھنٹے رات کو Average day night مان لیا جائے، اور ایسے ہی ہوتا ہے جیسے ابھی 23 مارچ کو گزرا ہے۔ تو اب گرمیوں میں جو Sun set ہے، وہ 6 بجے کی بجائے سات، ساڑھے سات تک چلا جاتا ہے تو یہ رات کے اندر گھس گیا۔ اور سردیوں میں پیچھے ہو جاتا ہے۔ تو دن کے اندر گھس گیا۔ تو گویا کہ یہ چیزیں ہوتی رہتی ہیں اللہ پاک اس طرح کرتا رہتا ہے۔ اور کس طرح کرتا ہے؟ کمال کی بات ہے صرف ایک Information change ہونے کی وجہ سے یہ ساری چیزیں Change ہو جاتی ہیں۔ اور وہ کیا ہے؟ وہ جو زمین اپنے محور کے ساتھ Angle بناتی ہے ساڑھے 23 درجے۔ اس کی وجہ سے سارا کچھ ہو رہا ہے۔ اگر یہ نہ ہوتا، بالکل سیدھا ہوتا، تو نہ دن رات تبدیل ہوتے اور نہ موسم تبدیل ہوتے۔ صرف ایک چیز کی تبدیلی سے ساری تبدیلیاں۔
اور کمال کی بات ہے شمالی نصف کرہ میں الگ ہے اور جنوبی نصف کرہ میں الگ ہے۔ یہاں 21 جون کو سب سے زیادہ گرمی پڑتی ہے، اور جنوبی نصف کرہ میں 21 جون کو سب سے زیادہ سردی پڑتی ہے۔ یہاں پر گرمی سے لوگ مر رہے ہوتے ہیں وہاں سردی سے لوگ ٹھٹھر رہے ہوتے ہیں۔ عجیب!
ہم یہاں سے گئے Tour پر کراچی۔ دسمبر کے مہینے میں تقریباً۔ دسمبر تھا یا جنوری کی ابتدا تھی۔ تو یہاں Heater لگے ہوئے تھے نا ہمارے، ظاہر ہے یہاں تو Heater لگے ہوتے ہیں۔ تو وہاں کراچی گئے تو وہاں پنکھے چل رہے تھے۔ خدا کی شان! اب ایک ہی پاکستان ہے، لیکن وہاں پنکھے چل رہے تھے۔ یہاں پر ہم حیران ہو گئے کہ اچھا پنکھے کیسے چل رہے ہیں! ابھی بھی اگر کوئی عمرہ کے لیے جاتے ہیں، تو سردیوں میں ادھر ہم چلے جاتے ہیں تو ہیٹر اور وہاں پر AC چل رہے ہوتے ہیں۔ تو یہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے، اللہ پاک نے بنایا ہوا ہے۔
اللہ اکبر، اللہ اکبر۔
"تو ہی بے جان چیز میں سے جاندار کو برآمد کر لیتا ہے اور جاندار میں سے بے جان چیز نکال لاتا ہے۔"
یہ جو انڈا ہے، انڈا بے جان ہوتا ہے نا، تو اس سے کونسی چیز نکل آتی ہے؟ جاندار چوزہ! چوں چوں کرتے ہوئے نکلتا ہے۔ اور کمال کی بات ہے ایسا Fit ہوتا ہے، ایسا Fit ہوتا ہے کہ انڈے سے نکلتے ہی دانہ چگنے لگتا ہے۔ کوئی سکھانے والا نہیں ہوتا، کوئی Train کرنے والا نہیں ہوتا۔ یہ بلی وغیرہ یہ سب تو Train کرتے رہتے ہیں نا اپنے بچوں کو، چڑیا وغیرہ بھی لیکن مرغی کا یہ حال ہے کہ ادھر انڈے سے نکلا اور بس وہ بس چوں چوں۔ بڑے پیارے ہوتے ہیں وہ جو چوزے ہوتے ہیں۔ آج کل یہ ملتے ہیں نا، 5 روپے کا ملتا تھا وہ، تو یہ احمد چھوٹا سا تھا تو اس کے لیے ہم نے لیے ہوئے تھے۔ تو احمد تو شرارتیں کرتا رہتا ہے، تو وہ بھاگتا تو اس کا چوزہ بھی اس کے پیچھے بھاگتا۔ اور یکدم Break لگاتا تو وہ چوزہ آگے نکل جاتا۔ پھر وہ واپس ہو جاتا۔ تو مطلب یہ ہے کہ یہ ایک چیز ہے بس وہ اللہ پاک نے بس اس میں سے کیا کا کیا نکال لیتا ہے۔
اور جس کو چاہتا ہے بے حساب رزق عطا فرماتا ہے ﴿27﴾ مؤمن لوگ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا یار و مددگار نہ بنائیں۔
مسلمان جیسے بھی ہوں، لیکن ہمارے دین پر ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کے ساتھ جو بھی کرنے۔۔۔ لیکن یہ جو کافروں کو دوست بنا لیتے ہیں نا، وہ نقصان میں چلے جاتے ہیں۔ ہمیشہ مسلمانوں کو اپنے غداروں سے نقصان ہوا ہے۔ کہ جو کافروں کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔
"اور جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں، الّا یہ کہ تم ان (کے ظلم) سے بچنے کے لئے بچاؤ کا کوئی طریقہ اختیار کرو۔"
”یار و مددگار“ عربی لفظ ”ولی“ کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ ”ولی“ بنانے کو ”موالات“ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سے مراد ایسی دوستی اور قلبی محبت کا تعلق ہے جس کے نتیجے میں دو آدمیوں کا مقصدِ زندگی اور ان کا نفع و نقصان ایک ہو جائے۔
تو یہ کافروں کے ساتھ اس طرح نہیں بنانا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: اللہ کی قدرتِ کاملہ: قرآنی عقیدہ اور عصرِ حاضر کی عبرتیں
متبادل عنوان: کائنات پر اللہ کی حاکمیت اور ظاہری اسباب کی حقیقت
اہم موضوعات:
• سورۃ آل عمران (آیات 26-28) کی تلاوت اور تشریح
• غزوہ احزاب کے موقع پر قیصر و کسریٰ کے زوال کی پیشین گوئی
• افغانستان میں روس کی شکست اور تکبر کا انجام
• مجاہدین کی استقامت اور امریکہ (NATO) جیسی سپر پاور (Super power) کا زوال
• اللہ کی قدرت: دن رات کا بدلنا اور زمین کا 23.5 درجے کا زاویہ (Angle)
• بے جان انڈے سے جاندار چوزے کے نکلنے کی تمثیل
• کافروں کے ساتھ قلبی دوستی (موالات) رکھنے کی ممانعت اور نقصانات