اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ
أَمَّا بَعْدُ
فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّبِيّٖنَ بِغَيْرِ حَقٍّ ۙ وَّيَقْتُلُوْنَ الَّذِيْنَ يَاْمُرُوْنَ بِالْقِسْطِ مِنَ النَّاسِ فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ ﴿21﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ ۖ وَمَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِيْنَ ﴿22﴾ اَلَمْ تَرَ اِلَی الَّذِيْنَ اُوْتُوْا نَصِيْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ يُدْعَوْنَ اِلٰی كِتٰبِ اللّٰهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ يَتَوَلّٰی فَرِيْقٌ مِّنْهُمْ وَهُمْ مُّعْرِضُوْنَ ﴿23﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّاۤ اَيَّامًا مَّعْدُوْدٰتٍ ۪ وَّغَرَّهُمْ فِيْ دِيْنِهِمْ مَّا كَانُوْا يَفْتَرُوْنَ ﴿24﴾ فَكَيْفَ اِذَا جَمَعْنٰهُمْ لِيَوْمٍ لَّا رَيْبَ فِيْهِ ۗ وَوُفِّيَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ﴿25﴾ قُلِ اللّٰهُمَّ مٰلِكَ الْمُلْكِ تُؤْتِي الْمُلْكَ مَنْ تَشَآءُ وَتَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشَآءُ ۪ وَتُعِزُّ مَنْ تَشَآءُ وَتُذِلُّ مَنْ تَشَآءُ ؕ بِيَدِكَ الْخَيْرُ ؕاِنَّكَ عَلٰی كُلِّ شَیْءٍ قَدِيْرٌ ﴿26﴾
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
جو لوگ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے ہیں، اور انصاف کی تلقین کرنے والے لوگوں کو بھی قتل کرتے ہیں،
ان کو دردناک عذاب کی ”خوشخبری“ سنا دو۔ ﴿21﴾ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہو چکے ہیں، اور ان کو کسی قسم کے مددگار نصیب نہیں ہوں گے ﴿22﴾ کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کا ایک حصہ دیا گیا تھا کہ انہیں اللہ کی کتاب کی طرف دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، اس کے باوجود ان میں سے ایک گروہ منہ موڑ کر انحراف کر جاتا ہے ﴿23﴾ یہ سب اس لئے ہے کہ انہوں نے یہ کہا ہوا ہے کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے سوا آگ ہرگز نہیں چھوئے گی۔ اور انہوں نے جو جھوٹی باتیں تراش رکھی ہیں انہوں نے ان کے دین کے معاملے میں ان کو دھوکے میں ڈال دیا ہے ﴿24﴾ بھلا اس وقت ان کا کیا حال ہوگا جب ہم انہیں ایک ایسے دن (کا سامنا کرنے) کے لئے جمع کر لائیں گے جس کے آنے میں ذرا بھی شک نہیں ہے، اور ہر ہر شخص نے جو کچھ کمائی کی ہوگی وہ اس کو پوری پوری دے دی جائے گی، اور کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا ﴿25﴾ کہو کہ: ”اے اللہ! اے اقتدار کے مالک! تو جس کو چاہتا ہے اقتدار بخشتا ہے، اور جس سے چاہتا ہے اقتدار چھین لیتا ہے، اور جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے اور جس کو چاہتا ہے رسوا کر دیتا ہے، تمام تر بھلائی تیرے ہی ہاتھ میں ہے۔
یہ دنیا کے جو احوال ہیں نا، اس میں انسان جو فوری چیزیں ہیں ان سے زیادہ اثر لیتے ہیں۔ اور جو بعد میں آنے والی چیزیں ہیں اس کی ان کو پروا نہیں ہوتی۔ عمومی طور پر بات یہ ہوتی ہے۔ ہاں! جو خوش نصیب ہوتے ہیں جن کو اللہ پاک ہدایت دیتے ہیں، تو پھر ان کو وہاں کی باتیں یاد ہوتی ہیں اور یہاں کی باتوں کو برداشت کرتے رہتے ہیں۔ اور وقت گزارتے ہیں اس کے ساتھ کہ چونکہ یہ عارضی دنیا ہے، اس عارضی دنیا میں جو کچھ بھی ہے وہ تو وقت کے ساتھ گزر جائے گا۔ لیکن جو وہاں کی باتیں ہیں وہ گزرنے والی نہیں ہیں، وہ ہمیشہ کے لیے ہیں، لہٰذا وہ ان چیزوں کے بارے میں زیادہ خیال رکھتے ہیں۔
اب اس میں جو اہل کتاب ہیں، یعنی یہود بالخصوص، ان لوگوں نے کچھ باتیں اپنے لیے تراش رکھی تھیں۔ اصل میں بات یہ ہے کہ واقعی ان کو کچھ چیزیں حاصل تھیں، اس میں کوئی شک نہیں۔ لیکن اپنی شامتِ اعمال کی وجہ سے وہ چیزیں ان سے چھین لی گئیں۔ ایک آدمی مثال کے طور پر مالدار ہے تو اس کو مالدار کہنا غلط تو نہیں ہے، لیکن اگر وہ عیش و عشرت میں ایام گزارے اور فضول خرچی کر لے، اسراف کر لے اور وہ قلاش ہو جائے، اس کے پاس بلکل کچھ نہ رہے، تو کیا اس کو پھر بھی مالدار کہا جائے گا؟ ہمارے پشتو میں اس کو ”د اوچے خان“ کہتے ہیں۔ کہتے ہیں نا، ”د اوچے خان“ وہ ویسے بس چونکہ پہلے خانوں میں پیدا ہوتا ہے، تو وہ اپنے آپ کو سمجھتا ہے کہ میں ابھی بھی خان ہوں۔ باقی لوگ اس پر ہنستے ہیں لیکن کیا کہہ سکتے ہیں، ظاہر ہے ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا۔
تو یہ یہود جو تھے نا، یہ واقعی چنے ہوئے تھے۔ اللہ پاک نے قرآن پاک میں بھی بعض جگہوں پر ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ اللہ پاک نے ان کو چنا ہوا تھا۔ لیکن مسلسل نافرمانی، مسلسل بغاوت، مسلسل اللہ تعالیٰ کی باتوں کو نظر انداز کرنا، اپنے آپ کو چنا ہوا سمجھ کر! تو جو اللہ پاک نے ان کو ڈھیل دے دی تھی اور جس کی وجہ سے ان کو اس وقت کچھ نہیں کہا جا رہا تھا، بار بار معاف کیا جا رہا تھا، تو وہ سمجھ گئے کہ ہمیں تو ہمیشہ کے لیے معاف کیا جائے گا، ہم تو ایسے ہیں، لاڈلے ہیں۔ اور اپنے آپ کو لاڈلے کہتے تھے باقاعدہ۔ پھر وہ جو لوگ ہیں نا جو دنیا لے کر دین کو بیچتے ہیں، وہ ہر جگہ ہوتے ہیں۔ تو ان کے اندر جو لوگ، یعنی ان کے علماء تھے؛ بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے نا کہ خان لوگوں کے پاس کچھ لوگ ہوتے ہیں ملازم یا ملازم نہیں ہوتے ان کے مقربین ہوتے ہیں، تو اگر خان کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کے لیے وہ کوئی ضرور دلیل بنا دیتے ہیں کہ یہ اس طرح ہے، یہ اس وجہ سے ہے، اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
تو یہ جو چیز ہوتی ہے نا، یہ اس خان کے اندر پیدا کر دیتی ہے کہ واقعی ایسا کچھ نہیں ہے۔ تو جرم ان لوگوں کا ہوتا ہے جو ان کے علماء ہوتے ہیں، جنہوں نے ان کو جھوٹ کہا ہوتا ہے، غلط باتیں کی ہوتی ہیں، اور ان کے اندر ایک غلط قسم کا دعویٰ پیدا کیا ہوتا ہے۔ وہ چیز پھر ان کے اندر رہتی ہے۔ تو اس قسم کے لوگ ان میں بھی تھے، اور انہوں نے ان کو کچھ سمجھایا تھا مثلاً -نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَالِكَ ثُمَّ نَعُوذُ بِاللهِ-، آدمی حیران ہو جاتا ہے ان کی باتوں کو سن کر، لیکن یہ گزری ہے اور قرآن پاک میں اس کی طرف اشارے بھی موجود ہیں۔ مثلاً -نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ- وہ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ جلّ شانه اور یعقوب عليه السلام کی لڑائی ہوئی۔ یعقوب عليه السلام اپنی قوم کے لیے اللہ تعالیٰ کے ساتھ لڑے، اور پھر اخیر میں اللہ تعالیٰ نے -نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ- ان سے کہا کہ آخر تو کیا چاہتا ہے؟ تو اس نے کہا کہ میں اپنی قوم کو معاف کروانا چاہتا ہوں۔ تو اللہ نے کہا ٹھیک ہے معاف ہے، اگر ان کو تھوڑی سی سزا دی بھی جائے گی تو بس تھوڑی سی، وہ زیادہ نہیں۔ بس یہ بات ان کے نفس کی خواہش کے مطابق تھی، انہوں نے پکڑ لی۔ اور یہاں قرآن پاک میں اس کا ذکر ہے کہ یہ دیکھیں نا، انہوں نے جھوٹی باتیں تراش رکھی ہیں اور اپنے دین کے معاملے میں خود کو دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ اور انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں گنتی کے چند دنوں کے سوا آگ ہرگز نہیں چھوئے گی۔
ان کے ہاں یہ باتیں تھیں۔
یہ ہمارے ہاں بھی ہیں، اللہ تعالیٰ معاف فرمائے، ایسی چیزیں ہوتی ہیں۔ اصل میں ایک یہودی مسلمان ہوئے تھے، ہمارے ایک ساتھی کے ساتھ ان کی بات چیت ہوئی تھی۔ اس یہودی نے اسے عجیب بات کی، کہنے لگا: "جتنے فرقے ہمارے اندر تھے نا، وہ سب تمہارے اندر آ گئے۔" "جتنے فرقے ہمارے اندر تھے نا، وہ سب تمہارے اندر آ گئے۔" تو باقاعدہ انہوں نے شمار کیے کہ دیکھو، تمہارا فلاں فرقہ ہمارے فلاں فرقے کی طرح ہے، تمہارا فلاں فرقہ ہمارے فلاں فرقے کی طرح ہے۔ میں نے ایک دفعہ اس بات پر غور کیا تو ایک حدیث شریف سے اس کی بڑی مماثلت نظر آئی، جیسے کہ وہ اس حدیث شریف کی تشریح کر رہا ہو۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ یہود میں 71 فرقے بن گئے تھے، نصاریٰ میں 72 ہو گئے اور میری امت میں عنقریب 73 ہو جائیں گے، لیکن صرف ایک نجات پائے گا۔ تو آپ ﷺ سے صحابہ کرام نے پوچھا: "وہ کون سے لوگ ہوں گے؟" فرمایا: مَا أَنَا عَلَيْهِ وَأَصْحَابِي (جس پر میں چلا اور جس پر میرے صحابہ چلے)۔
اب ذرا غور فرمائیں! 71 یہود میں تھے، 72 نصاریٰ میں تھے، تو اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ 71 کے 71 نصاریٰ میں تو آ گئے، بہترواں صحیح تھا، وہ اصل عیسائی تھے جو صحیح مذہب پر تھے۔ پھر وہ 72 کے 72 مسلمانوں میں آ گئے۔ وہ تہترواں جو تھا وہ اصل تھا، وہ بچنے والا تھا۔ تو گویا کہ واقعی ہمارے مسلمانوں میں بھی یہ چیزیں آئی ہیں، اللہ معاف فرمائے، اللہ بچائے۔
اُچ شریف کے پاس ایک جگہ ہے، میں اس گاؤں کا نام بھول گیا، پاس ہی ہے۔ تو وہاں استاذوں کی Training ہو رہی تھی۔ مجھے کہا گیا کہ اگر آپ کو Chance دے دیا جائے اور آپ ادھر بیان کر لیں تو اچھی بات ہوگی۔ میں نے کہا ٹھیک ہے، ہم تو ویسے بھی اساتدوں سے ملنا چاہتے ہیں۔ تو میں چلا گیا اور وہاں میں نے بیان کیا۔ ظاہر ہے اس میں اساتذہ ہی تھیں، استانیاں تھیں۔ سوال و جواب کا سیشن شروع ہو گیا۔ ایک استانی اٹھی، اس نے کہا کہ میں سیدہ ہوں، کیا سادات بیعت ہو سکتے ہیں؟ میں نے کہا: "آپ کے آباؤ اجداد سید تھے نا؟" کہنے لگیں: "ہاں"۔ میں نے کہا: "کیا وہ بیعت ہوئے تھے؟" کہنے لگیں: "ہاں"۔ میں نے کہا: "پھر آپ بھی ہو سکتی ہیں"۔ اب دیکھو، سادات کے دماغ میں یہ بات بٹھائی گئی ہے کہ تم تو دوسرے لوگوں کے مقتدیٰ ہو۔ دوسرے لوگ تمہارے پاس آئیں گے کچھ لینے کے لیے، تم تو بنے بنائے ہو۔ یہ چیز ان کے دماغ میں بیٹھ گئی، اور ایسے بیٹھ گئی کہ اب ان کو کسی اور کی ضرورت نہیں ہے۔ اب یہ بات آ گئی یا نہیں آئی؟ چنے ہوئے لوگوں والی بات۔
حالانکہ فاطمہ رضي الله عنها سے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا—دیکھو سادات کی ماں، یعنی سادات سارے انہی سے چلے ہیں نا، ان کی ماں سے آپ ﷺ نے فرمایا—"بیٹی! تو اس وجہ سے نہیں بچے گی کہ میری بیٹی ہو، بلکہ اس وجہ سے کہ تیرا عمل اگر اچھا ہوگا۔" اور حسن رضي الله عنه نے فرمایا کہ سادات کا جو مقام ہے یا جو بھی ہے وہ دنیا کی حد تک ہے، آخرت میں تو اعمال ہیں۔ اور تیسری بات، ظاہر ہے آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم یہ ہے کہ: "جس کو عمل نے پیچھے کیا، اس کو نسب آگے نہیں کر سکتا۔" اس کا مطلب ہے کہ عمل سب کو کرنا پڑے گا۔
ہاں البتہ یہ ضرور ہے، سادات میں اللہ نے صلاحیت رکھی ہے، اس میں کوئی شک نہیں۔ جیسے یہود پیغمبروں کی اولاد تھے، ان میں صلاحیت اللہ نے رکھی ہے اور ابھی تک ہے، یہ نہیں کہ وہ ختم ہو گئی، صلاحیت ابھی بھی ہے ان میں۔ اگر وہ ابھی مسلمان ہو جائیں تو بہت سارے لوگوں سے آگے ہو جائیں گے، کیونکہ صلاحیتیں تو ہیں ان میں۔ تو سادات میں بھی صلاحیت ہے۔ اگر وہ دین پر آ جائیں، تو بہتوں سے آگے نکل جائیں گے، اس میں کوئی شک نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ پاک نے ان کی خمیر میں جو چیزیں رکھی ہیں، وہ تو اثر کریں گی۔ لیکن اگر وہ کہتے ہیں کہ نہیں، صرف اسی وجہ سے ہماری بچت ہو جائے گی، تو وہ بات غلط ہے۔ ایسا نہیں ہے۔
تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیزیں آہستہ آہستہ لوگوں میں آ جاتی ہیں۔ دیکھیں، ایسے لوگ بھی ہمارے اندر ہیں یا نہیں ہیں؟ اللہ معاف فرمائے، اللہ کرے کہ ہم ان میں سے نہ ہوں، جو اولیاء کرام اور پیغمبروں میں خدائی صفات لاتے ہیں، شرک کر لیتے ہیں۔ یہ بھی لوگ ہیں۔ اور ایسے لوگ بھی ہیں جو پیغمبروں کو عام لوگ سمجھتے ہیں۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ عام لوگ سمجھتے ہیں پیغمبروں کو۔ یہ بھی غلط ہے۔ دونوں باتیں غلط ہیں۔ یہ بھی غلط ہے وہ بھی غلط۔ یہ جو عام لوگ سمجھتے ہیں، یہ یہود کی طرح ہیں، اور جو پیغمبروں اور اولیاء کو اللہ کی صفات دے دیتے ہیں، یہ نصاریٰ کی طرح ہیں۔ بالکل یہ چیزیں آ گئیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو دونوں سے بچنا ہے، اعتدال! اللہ پاک نے جو پیغمبروں کو صفات دی ہیں، اس میں ایک ذرہ بھی کم نہ کرنا، یا اولیائے اللہ کو جودی ہیں اس میں ذرہ بھر بھی کمی نہ کرنا، اور ذرہ بھر بھی اس میں اضافہ نہ کرنا۔ یہ دینِ مستقیم ہے۔
حضرت نجاشی رضی الله عنه ان کے دربار میں جب مسلمان گئے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین، تو صحابہ کرام کی طرف سے جنہوں نے بیان کیا، نجاشی نے ان سے پوچھا کہ: "تم عیسیٰ عليه السلام کے بارے میں کیا کہتے ہو؟" تو عیسیٰ عليه السلام کے بارے میں جو قرآن کی آیتیں تھیں، وہ پڑھ لیں۔ نجاشی نے ایک تنکا اٹھایا اور کہا: "عیسیٰ عليه السلام اس سے ذرہ بھر بھی زیادہ نہیں ہیں، جو تم نے بیان کیا ہے اس سے ذرہ بھر بھی زیادہ نہیں ہیں"۔ یہ جو قرآن نے بتایا ہے بس وہی ہے۔ اب دیکھیں، تو اللہ پاک نے ہدایت دے دی ان کو۔ ٹھیک ہے نا؟ تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو پیغمبر ہیں، ان کو اللہ نے جو شان دی ہے اس میں تو ذرہ بھر بھی کمی نہ ہو، اور جو اللہ کی صفات ہیں وہ صرف اللہ کے لیے ہیں، دونوں اپنی اپنی جگہ پر قائم ہیں۔
ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمة الله عليه ایک دفعہ ارشاد فرمانے لگے کہ: "نعت کہنا سب سے مشکل کام ہے، تلوار پر چلنا ہے۔" نعت کہنا سب سے مشکل کام ہے، تلوار پر چلنا ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کا مقام اتنا اونچا ہے کہ ذرہ بھر بھی بڑھاؤ گے تو خدائی صفات میں شامل کر لو گے، اور اگر کم کرو گے تو پھر بھی اپنا کباڑہ ہے۔ کم کرو گے پھر بھی اپنا کباڑہ کرنا ہے، اور بڑھاؤ گے تو پھر بھی۔ اس وجہ سے اس لائن پر لگے رہنا بہت مشکل ہے، صراطِ مستقیم جس کو ہم کہتے ہیں۔ اور عام لوگ ایسے دھڑلے کے ساتھ یہ کرتے ہیں جیسے کہ یہ کوئی مشکل کام ہی نہیں، حالانکہ اگر کسی کو اپنے عقیدے کا پتہ ہو صحیح معنوں میں، تو وہ بہت مشکل سے نعت شریف کہہ سکتا ہے۔
ایک دفعہ ایک ساتھی نے، ہم گاڑی میں دفتر جا رہے تھے وہ بڑے باذوق آدمی ہیں، تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ: "شبیر صاحب! آپ حمد کہتے ہیں نعت نہیں کہتے، کیا وجہ ہے؟ آپ حمد تو زیادہ کہتے ہیں، نعت نہیں کہتے۔" ان دنوں واقعی ایسی ہی بات تھی۔ تو میں نے حضرت کی یہ بات سنائی، میں نے کہا: "حضرت نے فرمایا ہے کہ نعت کہنا بہت مشکل کام ہے، کیونکہ اس میں ذرہ بھر بھی زیادہ کرو گے تو اللہ کی صفات میں شریک کرنا ہو جائے گا اور اگر کم کرو گے تو بھی کباڑہ ہے۔ تو میں اپنا نقصان نہیں کر سکتا۔" اس وجہ سے۔ بس وہ تھوڑی دیر تھی، میرے خیال میں شاید پانچ منٹ بھی نہیں گزرے ہوں گے کہ ایک شعر نعت شریف کا آ گیا۔
اپنے آقا کی تعریف کیسے کروں
جس کے کرنے کو میری زبان ہی نہیں
جس کسی دل میں اس کی محبت نہ ہو
وہ ایک پتھر ہے اس میں جان ہی نہیں
بالکل اس میں کوئی شک نہیں، یہ دونوں باتیں ثابت ہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ کا بیان کوئی نہیں کر سکتا۔ ہمارے شیخ مولانا اشرف صاحب رحمة الله عليه فرماتے تھے: "نبی را نبی می شناسد، ولی را ولی می شناسد، خاتم النبیین را خدا می شناسد"۔ ولی ولی کو جانتا ہے، نبی نبی کو جانتا ہے، اور خاتم النبیین کو صرف خدا ہی جانتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اور خاتم النبیین ہیں نہیں، تو کوئی کیسے جانے گا کہ خاتم النبیین کون ہیں ؟ تو بات تو صحیح ہے کہ آپ ﷺ کی تعریف کرنا ممکن نہیں ہم سب کے لیے۔ وجہ کیا ہے؟ میری زبان ہی اتنی نہیں، مجھ میں اتنی طاقت ہی نہیں کہ میں بیان کر سکوں۔ ہاں البتہ محبت کی بات، وہ پکی بات ہے۔ کیوں؟ آپ ﷺ نے خود فرمایا ہے کہ: "تمہارا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہو سکتا، جب تک مجھ سے اپنے والدین سے زیادہ، اپنی اولاد سے زیادہ، بلکہ سارے لوگوں سے زیادہ محبت نہ کرنے لگو۔" اور بلکہ یہ بھی فرمایا عمر رضي الله عنه سے: "جب تک اپنے آپ سے بھی زیادہ مجھ سے محبت نہ کرنے لگو۔"
اس کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ کے ساتھ محبت، وہ تو اللہ پاک کو مطلوب ہے۔ لہٰذا محبت تو ایسی ہی ہونی چاہیے۔ ہاں البتہ آپ ﷺ کو جو مقام اللہ نے دیا ہے، وہی برحق ہے۔ اور ہمیں نہیں معلوم کہ کتنا دیا ہے! ہمیں نہیں معلوم کہ کتنا دیا ہے، وہ تو اللہ کو پتہ ہے۔ لیکن یقیناً جتنا اللہ نے دیا ہے وہ ایسا ہی ہے، ہم لوگ اس کے بارے میں نہیں جانتے۔ تو یہ محتاط الفاظ ہیں اور اسی طرح کہنا چاہیے۔ بہرحال اللہ پاک ہم سب کو ہدایت پر قائم رکھے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ، سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔