دینِ اسلام کی حقانیت، ختمِ نبوت اور اہل کتاب کی ہٹ دھرمی

درس نمبر 113، سورۃ آل عمران: آیات: 18 تا 20

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

سورہ آل عمران کی ابتدائی آیات کی تلاوت اور پس منظر۔

اللہ تعالیٰ، فرشتوں اور اہل علم کی توحید و ربوبیت پر گواہی۔

اللہ کے نزدیک قابلِ قبول اور معتبر دین صرف اسلام ہے۔

اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کا حق پہچاننے کے باوجود محض نفسانی خواہشات اور ضد کی بنیاد پر حق کو جھٹلانا۔

نبی کریم ﷺ کی لائی ہوئی شریعت تمام سابقہ مذاہب اور پیغمبروں کی تعلیمات کی جامع ہے۔

ہدایت کا واحد راستہ اب صرف رسول اللہ ﷺ کی اتباع میں پوشیدہ ہے۔

حق کو جھٹلانے اور انبیاء کی مخالفت کرنے والوں کے لیے دردناک عذاب کی وعید۔

اعمال صالحہ میں اخلاص اور دین پر استقامت کی دعا۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ


شَهَدَ اللّٰهُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَالْمَلٰٓئِكَةُ وَاُولُوا الْعِلْمِ قَآئِمًۢا بِالْقِسْطِ ؕ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ ﴿18﴾ اِنَّ الدِّيْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ ۗ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًاۢ بَيْنَهُمْ ؕ وَمَنْ يَّكْفُرْ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ ﴿19﴾ فَاِنْ حَآجُّوْكَ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ ؕ وَقُلْ لِّـلَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ وَالْاُمِّيّٖنَ ءَاَسْلَمْتُمْ ؕ فَاِنْ اَسْلَمُوْا فَقَدِ اهْتَدَوْا ۚ وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلٰغُ ؕ وَاللّٰهُ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ ﴿20﴾

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.

اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی ہے، اور فرشتوں اور اہلِ علم نے بھی، کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے انصاف کے ساتھ (کائنات کا) انتظام سنبھالا ہوا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جس کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل ﴿18﴾ بیشک (معتبر) دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے الگ راستہ لاعلمی میں نہیں بلکہ علم آجانے کے بعد محض آپس کی ضد کی وجہ سے اختیار کیا، اور جو شخص بھی اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے تو (اسے یاد رکھنا چاہئے کہ) اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ﴿19﴾ پھر بھی اگر یہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ: ”میں نے تو اپنا رخ اللہ کی طرف کر لیا ہے، اور جنہوں نے میری اتباع کی ہے انہوں نے بھی۔“ اور اہل کتاب سے اور (عرب کے) ان پڑھ (مشرکین) سے کہہ دو کہ کیا تم بھی اسلام لاتے ہو؟ پھر اگر وہ اسلام لے آئیں تو ہدایت پا جائیں گے، اور اگر انہوں نے منہ موڑا تو تمہاری ذمہ داری صرف پیغام پہنچانے کی حد تک ہے، اور اللہ تمام بندوں کو خود دیکھ رہا ہے ﴿20﴾ جو لوگ اللہ کی آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے ہیں، اور انصاف کی تلقین کرنے والے لوگوں کو بھی قتل کرتے ہیں،

بہرحال! اللہ جل شانہ نے جلالی انداز میں یہ فرمایا ہے، چونکہ یہ جو اہل کتاب ہیں، ان کے اوپر تو ساری باتیں کھل چکی تھیں۔ کتاب کا علم ان کو دیا گیا تھا، لہٰذا اس کتاب میں سارا کچھ موجود تھا۔ لیکن دنیاوی چکاچوند کے لیے اور اپنے نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کے لیے، اس علم کو جو علم ان کو دیا گیا تھا، اس کو انہوں نے استعمال نہیں کیا اور انہوں نے غلط راستہ اختیار کیا؛ یعنی وقت کے پیغمبر کی مخالفت کی۔

جب تک آپ ﷺ تشریف نہیں لائے تھے، اس وقت ہر قوم کا اپنا اپنا ہوتا تھا پیغمبر ان کے پاس، وَلِكُلِّ قَوْمٍ هَادٍ (الرعد:7)، ہر قوم کے لیے پیغمبر آتا تھا۔ تو اس وقت ظاہر ہے اگر یہودی یہودیت کے اوپر تھے، تو ٹھیک ہے، صحیح تھے، موسیٰ عليه السلام کے پیروکار تھے۔ عیسیٰ عليه السلام کے پیروکار عیسائی تھے۔ تو جن لوگوں نے عیسیٰ عليه السلام کی مخالفت نہیں کی تھی، تو ظاہر ہے وہ بھی اپنے دین پہ چلے آ رہے تھے۔ لیکن اس صورت میں، جب کہ آپ ﷺ تشریف لائے، تو آپ ﷺ اپنا آخری پیغام جو اللہ پاک نے دیا، جو سب کا جامع تھا، یعنی سارے پیغمبروں کا جامع دین لے کے آئے؛ تو اس صورت میں سب کو آپ ﷺ پر ایمان لانا ضروری تھا۔ اور یہ ان کی کتابوں میں موجود تھا، یعنی جو اہل کتاب تھے، ان کی کتابوں میں یہ بات موجود تھی۔ ابھی تک اس کی نشانیاں موجود ہیں کتابوں میں، جو اشارے ہیں، حتیٰ کہ یہ جو ہندو ہیں، ان کی کتابوں میں بھی آپ ﷺ کی نشانیاں موجود ہیں۔ تو جو بھی اہل علم تھے، ان کو تو معلوم تھا کہ آپ ﷺ آخری پیغمبر ہیں، لیکن انہوں نے صرف اپنے نفس کی خواہشات کی وجہ سے مخالفت کی۔ تو اس وجہ سے یہ آیات آگئیں۔

اللہ نے خود اس بات کی گواہی دی ہے، اور فرشتوں اور اہلِ علم نے بھی، کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں جس نے انصاف کے ساتھ (کائنات کا) انتظام سنبھالا ہوا ہے۔ اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں جس کا اقتدار بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل ﴿18﴾ دین تو اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے۔

یہ جو اسلام اللہ پاک نے آپ ﷺ کو دیا ہے، آخری کتاب اور آخری دین جو آ گیا ہے، یعنی آسمانی؛ تو فرمایا کہ اصل میں تو وہی ہے۔ یعنی اسلام میں سارے پیغمبر شامل ہیں۔ اور تعلیمات جو ہیں، وہ ظاہر ہے اب آپ ﷺ کی تعلیمات پر ہی چلنا ہوگا۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی انہوں نے الگ راستہ لاعلمی میں نہیں بلکہ علم آجانے کے بعد محض آپس کی ضد کی وجہ سے اختیار کیا،

تو ضد بھی تو نفس کی خواہش کی وجہ سے ہوتی ہے۔

اور جو شخص بھی اللہ کی آیتوں کو جھٹلائے تو (اسے یاد رکھنا چاہئے کہ) اللہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ﴿19﴾

یعنی یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے کہ تم لوگ اس کو پی جاو بلکہ اللہ پاک اس کا حساب کرے گا تمہارے ساتھ۔

پھر بھی اگر یہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ: ”میں نے تو اپنا رخ اللہ کی طرف کر لیا ہے، فَقُلْ أَسْلَمْتُ وَجْهِيَ لِلّٰهِ وَمَنِ اتَّبَعَنِ۔ اور جنہوں نے میری اتباع کی ہے انہوں نے بھی۔“ اور اہل کتاب سے اور (عرب کے) ان پڑھ (مشرکین) سے کہہ دو کہ کیا تم بھی اسلام لاتے ہو؟

یعنی یہ پیغام پہنچا دیا، اب سوال ہے کہ کیا تم بھی اسلام لاتے ہو؟

پھر اگر وہ اسلام لے آئیں تو ہدایت پا جائیں گے، اور اگر انہوں نے منہ موڑا تو تمہاری ذمہ داری صرف پیغام پہنچانے کی حد تک ہے، اور اللہ تمام بندوں کو خود دیکھ رہا ہے ﴿20﴾

اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے انجام سے بچا دے، اور دینِ متین اسلام کے اوپر ہمیشہ کے لیے قائم و دائم رکھے، اور اس کی جملہ برکات ہمیں نصیب فرما دے۔ اور ایمان پر قائم رہتے ہوئے، تمام اعمالِ صالحہ کو صحیح طریقے سے کرنے کی توفیق عطا فرما کر، اللہ پاک اس میں اخلاص بھی نصیب فرمائے، اور اس کو قبول فرمائے اور ایسا قبول فرمائے کہ پھر رد نہ ہو۔


دینِ اسلام کی حقانیت، ختمِ نبوت اور اہل کتاب کی ہٹ دھرمی - درسِ قرآن - پہلا دور