کفار کا انجام اور متقی بندوں کی صفات

درس نمبر 112، سورۃ آل عمران: آیات: 10 تا 17

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• کفار کے مال و اولاد کی بے بسی اور ان کا یقینی زوال

• غزوہ بدر میں کفار کی کثرت کے باوجود ان کی عبرتناک شکست اور اللہ کی نصرت

• دنیاوی مال و اسباب (عورتیں، بچے، سونا چاندی) کی حقیقت اور ان کی عارضی حیثیت

• تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے جنت کی نعمتیں اور اللہ کی رضا

• نیک بندوں کی صفات (صبر، سچائی، عبادت اور انفاق فی سبیل اللہ)

• سحری کے وقت استغفار کرنے کی اہمیت اور فضیلت


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَنْ تُغْنِیَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ شَیْئًا ؕ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمْ وَقُوْدُ النَّارِ ۝10

كَـدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ ؕ وَاللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۝11 قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَتُغْلَبُوْنَ وَ تُحْشَرُوْنَ اِلٰی جَهَنَّمَ ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ ۝12 قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَا ؕ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰی كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِ ؕ وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ ۝13

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ.

حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے، اللہ کے مقابلے میں نہ ان کی دولت ان کے کچھ کام آئے گی، نہ ان کی اولاد، اور وہی ہیں جو آگ کا ایندھن بن کر رہیں گے ﴿10﴾

ان کا حال فرعون اور ان سے پہلے کے لوگوں کے معاملے جیسا ہے۔ انہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، چنانچہ اللہ نے ان کو ان کے گناہوں کی وجہ سے پکڑ میں لے لیا، اور اللہ کا عذاب بڑا سخت ہے ﴿11﴾ جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے ان سے کہہ دو کہ تم مغلوب ہو گے۔

اس سے دنیا میں کافروں کے مغلوب ہونے کی پیش گوئی بھی مراد ہو سکتی ہے، اور آخرت میں مغلوب ہونے کی بھی۔ آخرت میں تو یقینی ہے۔ کیونکہ وہاں تو ظاہر ہے انسان کا کوئی بس نہیں چلے گا اور اسباب کی دنیا انسان کی ختم ہو جائے گی۔ البتہ یہ ہے کہ یہاں دنیا میں بھی ایسا ہو سکتا ہے۔ اور تمہیں جمع کر کے جہنم کی طرف لے جایا جائے گا، اور وہ بہت برا بچھونا ہے ﴿12﴾ تمہارے لئے ان دو گروہوں (کے واقعے) میں بڑی نشانی ہے جو ایک دوسرے سے ٹکرائے تھے۔ ان میں سے ایک گروہ اللہ کے راستے میں لڑ رہا تھا، اور دوسرا کافروں کا گروہ تھا جو اپنے آپ کو کھلی آنکھوں ان سے کئی گنا زیادہ دیکھ رہا تھا۔

پیچھے یہ پیش گوئی کی گئی تھی کہ کفار مسلمانوں سے مغلوب ہوں گے۔ اب اس کی ایک مثال دینے کی غرض سے جنگِ بدر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس میں کافروں کا لشکر ایک ہزار مسلح لوگوں پر مشتمل تھا، اور مسلمانوں کی تعداد کل تین سو تیرہ تھی۔ کافر کھلی آنکھوں دیکھ رہے تھے کہ ان کی تعداد کہیں زیادہ ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی مدد فرمائی اور کافروں کو شکستِ فاش کا سامنا کرنا پڑا۔

یعنی یہ چونکہ آیت مبارکہ بدر کے بعد نازل ہوئی ہے۔ لہٰذا بدر کا حوالہ دے دیا گیا کہ بدر میں جس طرح تم یعنی کفار جو تھے وہ مغلوب ہو چکے ہو حالانکہ تم تعداد میں زیادہ تھے۔ اس طریقے سے اللہ پاک تمہیں پھر بھی مغلوب کر دے گا۔

زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوٰتِ مِنَ النِّسَآءِ وَ الْبَنِیْنَ وَ الْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَ الْفِضَّةِ وَ الْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَ الْاَنْعَامِ وَ الْحَرْثِ ؕ ذٰلِكَ مَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ۚ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الْمَاٰبِ ۝14 قُلْ اَؤُنَبِّئُكُمْ بِخَیْرٍ مِّنْ ذٰلِكُمْ ؕ لِلَّذِیْنَ اتَّقَوْا عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ وَّ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِالْعِبَادِ ۝15 اَلَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اِنَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ ۝16 اَلصّٰبِرِیْنَ وَ الصّٰدِقِیْنَ وَ الْقٰنِتِیْنَ وَ الْمُنْفِقِیْنَ وَ الْمُسْتَغْفِرِیْنَ بِالْاَسْحَارِ ۝17

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ.

لوگوں کے لئے ان چیزوں کی محبت خوشنما بنا دی گئی ہے جو ان کی نفسانی خواہش کے مطابق ہوتی ہیں، یعنی عورتیں، بچے، سونے چاندی کے لگے ہوئے ڈھیر، نشان لگائے ہوئے گھوڑے، چوپائے اور کھیتیاں۔ یہ سب دُنیوی زندگی کا سامان ہے (لیکن) ابدی انجام کا حسن تو صرف اللہ کے پاس ہے۔ ﴿14﴾ کہہ دو! کیا میں تمہیں وہ چیزیں بتاؤں جو ان سب سے کہیں بہتر ہیں؟ جو لوگ تقویٰ اختیار کرتے ہیں ان کے لئے ان کے رَبّ کے پاس وہ باغات ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور پاکیزہ بیویاں ہیں، اور اللہ کی طرف سے خوشنودی ہے۔ اور تمام بندوں کو اللہ اچھی طرح دیکھ رہا ہے ﴿15﴾ یہ وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ: "اے ہمارے پروردگار! ہم آپ پر ایمان لے آئے ہیں۔ اب ہمارے گناہوں کو بخش دیجئے، اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجئے" ﴿16﴾ یہ لوگ بڑے صبر کرنے والے ہیں، سچائی کے خوگر ہیں، عبادت گزار ہیں، (اللہ کی خوشنودی کے لئے) خرچ کرنے والے ہیں، اور سحری کے اوقات میں استغفار کرتے رہتے ہیں۔ ﴿17﴾

اس سے یہ بات ہمارے سامنے آگئی کہ نیک لوگوں کی یہ صفات ہیں۔ اللہ پاک نے ان کی تعریف فرمائی ہے۔ ایمان لا چکے ہوتے ہیں، تو وہ پھر دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمارے گناہ معاف فرما دیجیے، بخش دیجیے۔ ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لیجیے۔ تو اللہ پاک نے فرمایا یہ جو لوگ ہیں، یہ صبر کرنے والے ہیں اور سچائی چاہتے ہیں۔ سچائی کے خوگر ہیں اور عبادت گزار ہیں۔ صبر، سچائی اور عبادت۔ اللہ کی خوشنودی کے لیے خرچ کرنے والے ہیں "منفقین" انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے ہیں۔ اور سحری کے وقت میں استغفار کرتے ہیں۔ سحری کے وقت میں استغفار کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ اس وجہ سے سحری کے وقت میں بعض دفعہ اگر انسان بیمار ہو اور اٹھ جائے تو اگر نماز نہ پڑھ سکے تو کم از کم استغفار کر لے۔ یہ بات ہے۔

اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ان اعمال کی توفیق عطا فرمائے۔ اور ہمیں اللہ تعالیٰ بخش دے اور اپنی توفیق سے صحیح کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وَصَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهٖ مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهٖ وَأَصْحَابِهٖ أَجْمَعِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.

تجزیہ اور خلاصہ:

بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)

سب سے جامع عنوان: سورہ آل عمران کی روشنی میں: کفار کا انجام اور متقی بندوں کی صفات

متبادل عنوان: غزوہ بدر کی عبرت، دنیا کی حقیقت اور سحری کے استغفار کی فضیلت

اہم موضوعات:

• کفار کے مال و اولاد کی بے بسی اور ان کا یقینی زوال

• غزوہ بدر میں کفار کی کثرت کے باوجود ان کی عبرتناک شکست اور اللہ کی نصرت

• دنیاوی مال و اسباب (عورتیں، بچے، سونا چاندی) کی حقیقت اور ان کی عارضی حیثیت

• تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے جنت کی نعمتیں اور اللہ کی رضا

• نیک بندوں کی صفات (صبر، سچائی، عبادت اور انفاق فی سبیل اللہ)

• سحری کے وقت استغفار کرنے کی اہمیت اور فضیلت

کفار کا انجام اور متقی بندوں کی صفات - درسِ قرآن - پہلا دور