اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.
معزز خواتین و حضرات! اب ان شاء اللہ تھوڑا سا جو ہے نا وہ بیان کرتے ہیں حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ کے فضائلِ رمضان سے۔
رمضان شریف کے فضائل کے بارے میں حضرت شیخ الحدیث رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے تین حصے فرمائے ہیں۔ تو ہم اس وقت اس کے جو پہلا حصہ ہے، اس کے فصلِ اول میں تھے۔یہ اصل میں... رمضان شریف کے جو فضائل آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے، حدیث شریف میں حضرت سلمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو حدیث شریف، لمبی حدیث شریف مروی ہے۔ تو اس کے ذیل میں حضرت نے کچھ باتیں فرمائی ہیں۔ تو
اس کے بعد نبی کریم ﷺ نے رمضان المبارک میں چار چیزوں کی کثرت کا حکم فرمایا: اول کلمہ شہادت، احادیث میں اس کو افضل الذکر ارشاد فرمایا ہے۔ مشکوۃ میں بروایت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک مرتبہ اللہ جل جلالہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ یا اللہ! تو مجھے کوئی ایسی دعا بتلا دے، کہ اس کے ساتھ میں تجھے یاد کیا کروں اور دعا کیا کروں۔ وہاں سے "لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ" ارشاد ہوا۔ حضرت موسیٰ نے عرض کیا کہ یہ کلمہ تو تیرے سارے ہی بندے کہتے ہیں، میں تو کوئی دعا یا ذکر مخصوص چاہتا ہوں۔ وہاں سے ارشاد ہوا کہ موسیٰ! اگر ساتوں آسمان اور ان کے آباد کرنے والے، میرے سوا، یعنی ملائکہ اور ساتوں زمین ایک پلڑہ میں رکھ دیئے جائیں اور دوسرے میں کلمہ طیبہ رکھ دیا جاوے تو وہی جھک جائے گا۔
مطلب یہ ہے کہ کلمہ طیبہ جو ہے عام کیا گیا ہے لیکن اس کا اثر خاص ہے۔ اور اتنا خاص ہے کہ باقی کوئی چیز اس کے ساتھ مقابلہ نہیں کر سکتی۔ تو یہ بہت بڑی سعادت والی بات ہے۔ کلمہ طیبہ "لَا إِلٰهَ إِلَّا الله"۔ اور اس کی جو کثرت ہے وہ بہت خوش نصیبی ہے۔ بہت بڑی خوش نصیبی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ جس کو بھی کلمہ طیبہ کی کثرت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، یہ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔ بہت بڑا احسان ہے۔
ہمارے ہاں اصل میں یہ آج کل کا دور ہے نا یہ... یہ ہے ہی ایسا دور اب کیا کریں، اس میں یہ مسائل تو ہوں گے۔ مثلاً جس کو جو چیز ملی ہے نا تو بس اسی پر مطمئن ہے اور باقی چیزوں کے بارے میں وہ نہیں کرتا۔ مثلاً یہ کلمہ طیبہ ہی کو ہم لے لیں۔ ایک آدمی اس کو زبانی پڑھتا ہے۔ اب حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو جس وقت ذکر کرتا ہے اللہ پاک فرماتے ہیں میں اس وقت اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ جب اس کی زبان ذکر سے ہلتی ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نا وہ ایک صحابی نے، مفتی صاحب، جو عرض کیا تھا کہ یا رسول اللہ! مجھے کچھ ایسی چیز بتائیں جو میں ہر وقت کروں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ذکر سے رطب اللسان رہو۔ اب ظاہر ہے... یہ جو اس کی جو فضیلت ہے مجھے اس سے تو نہ روکے نا کہ جو قلبی ذکر کرتے ہیں، میں کہوں نہیں یہ، نہیں نہیں... بھئی بس یہی سب سے اصل ہے۔ تو اس طرح جیسے یہ میری یہ بات غلط ہو گی، تو قلبی ذکر کرنے والے جو اس کے بارے میں کہتے ہیں وہ بھی ایسی ہی بات... مطلب وہ... اللہ کا ذکر ہے، اعضاء ہیں، آپ خیال سے بھی ذکر کر سکتے ہیں، زبان سے بھی کر سکتے ہیں، دل سے بھی کر سکتے ہیں، سانس سے بھی کر سکتے ہیں۔ اب جس کے لیے اللہ پاک نے جو مقرر کر لیا اور جو آسانی، جس کی تشکیل جس چیز کی طرف کر دی، تو بس وہ کرتے رہیں۔ اس میں کیا ضرورت ہے کہ خواہ مخواہ آپ اپنی چیز کو سب پر امپوز (Impose) کر لیں کہ نہیں جس طرح میرے ساتھ ہے اس طرح باقیوں کے ساتھ بھی ہو۔
اب میں آپ کو خود اپنا واقعہ بتاؤں۔ میرا کلمہ کے ساتھ بہت زیادہ تعلق ہے۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ۔ اس میں میرا کوئی کمال نہیں ہے، وہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ اچھا، تو باقی حضرات جو ہیں نا جو اسمِ ذات کے بارے میں ماشاءاللہ بہت... تو مجھ پر بھی اس کا اثر تھا۔ تو ایک دن مفتی مختار الدین شاہ صاحب تشریف لائے تھے تو میں نے کہا کہ میں اگر اسمِ ذات کا ذکر کرنا چاہوں تو بے خیالی میں بھی "لَا الٰهَ إالَّا اللهُ" کی طرف چلا جاتا ہوں۔ تو اس کے لیے میں کیا کروں؟ تو انہوں نے فرمایا، تو کیا عجیب باتیں کر رہا ہے، "لَا الٰهَ الَّا اللهُ" میں زیادہ ترقی ہے۔ تو آپ زیادہ ترقی سے کم ترقی چیز کی طرف جا رہے ہیں؟ اس میں تو زیادہ ترقی ہے۔
تو اس کا مطلب ہے کہ وہ بعض دفعہ لوگوں کی باتوں سے متاثر ہو کر آدمی اللہ تعالیٰ کی کسی نعمت کی ناقدری کر لیتا ہے۔ تو یہ ساری نعمتیں ہیں اللہ تعالیٰ کی۔ تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے فرمایا... موسیٰ! اگر ساتوں آسمان اور ان کے آباد کرنے والے، میرے سوا، یعنی ملائکہ اور ساتوں زمین ایک پلڑہ میں رکھ دیئے جائیں اور دوسرے میں کلمہ طیبہ رکھ دیا جاوے تو وہی جھک جائے گا۔
ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص اخلاص سے اس کلمہ کو کہے، آسمان کے دروازے اس کے لئے فوراً کھل جاتے ہیں اور عرش تک پہنچنے میں کسی قسم کی روک نہیں ہوتی، بشرطیکہ کہنے والا کبائر سے بچے۔
عادتِ اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ضرورتِ عامہ کی چیز کو کثرت سے مرحمت فرماتے ہیں۔ دنیا میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو چیز جس قدر ضرورت کی ہوتی ہے، اتنی ہی عام ہوتی ہے۔ مثلاً پانی ہے کہ عام ضرورت کی چیز ہے، حق تعالیٰ شانہٗ کی بے پایاں رحمت نے اس کو اس قدر عام کر رکھا ہے۔ اور کیمیا جیسی لغو اور بیکار چیز کو عنقا (کمیاب) کر دیا۔
بلکہ پانی سے بھی زیادہ ضروری اور اہم چیز ہر وقت رہنے والی چیز ضروری ہے، وہ ہوا ہے۔ ہوا کے بغیر ہم چند لمحے زندہ نہیں رہ سکتے۔ چند لمحے بھی زندہ نہیں رہ سکتے۔ پانی کے بغیر تو ہم کچھ 48، 60 گھنٹے شاید... لیکن ہوا کے بغیر تو چند لمحے زندہ... اور ہوا اتنا اللہ نے اتنا ارزان کر دیا، عام کر دیا کہ شاید غریب کو اچھی Quality کی ہوا مل رہی ہوتی ہے اور مالدار کو... کم Quality کی ہوا مل رہی ہوتی ہے۔ کیونکہ مالدار جو اے سی (AC) میں بیٹھا ہوتا ہے نا تو اس کو وہی ہوا بار بار Circulate کر رہی ہوتی ہے۔ جبکہ جو غریب ہوتا ہے فریش جگہ پر بیٹھا ہوتا ہے، تو اس کے لیے ہوا فریش آ رہی ہوتی ہے، اس کے آکسیجن کے مقدار بھی ٹھیک ہوتی ہے۔ وہ اچھی ہوا میں رہتا ہے۔
تو اس کا مطلب ہے کہ یہ اللہ پاک نے ہوا اور ہوا اتنی ضروری ہے کہ چونکہ چند لمحے بھی زندہ نہیں رہ سکتے، تو اس ہوا کو نکالنا ہی سب سے مشکل کام ہے۔ ہوا کو Technically, mechanically نکالنا سب سے مشکل کام ہے۔ جتنا جتنا آپ ہوا نکالیں گے اتنا اتنا مشکل تر ہوتا جائے گا۔ اور اس کا اثر یہ ہو گا کہ اس کو جتنا جیسا بھی راستہ ملے گا تو ہوا Rush کر کے خود ہی آئے گا۔ آپ سے پوچھے بغیر۔ خود Rush کر کے آئے گا۔ کیونکہ اللہ پاک نے اس کو ہماری زندگی کے لیے لازمی جز بنا دیا ہے۔ تو یہ بات ہے۔
اسی طرح کلمہ طیبہ افضل الذکر ہے، متعدد احادیث سے اس کی تمام اذکار پر افضلیت معلوم ہوتی ہے، اس کو سب سے عام کر رکھا ہے کہ کوئی محروم نہ رہے، پھر بھی اگر کوئی محروم رہے تو اس کی بدبختی ہے، بالجملہ بہت سی احادیث اس کی فضیلت میں وارد ہوئی ہیں، جن کو اختصاراً ترک کیا جاتا ہے۔
دوسری چیز جس کی کثرت کرنے کو حدیثِ بالا میں ارشاد فرمایا گیا، وہ استغفار ہے۔ احادیث میں استغفار کی بھی بہت ہی فضیلت وارد ہوئی ہے، ایک حدیث میں وارد ہوا ہے کہ جو شخص استغفار کی کثرت رکھتا ہے، حق تعالیٰ شانہٗ ہر تنگی میں اس کیلئے راستہ نکال دیتے ہیں اور ہر غم سے خلاصی نصیب فرماتے ہیں اور ایسی طرح روزی پہنچاتے ہیں کہ اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ آدمی گنہگار تو ہوتا ہی ہے، بہترین گنہگار وہ ہے جو توبہ کرتا رہے۔ ایک حدیث قریب آنے والی ہے کہ جب آدمی گناہ کرتا ہے تو ایک کالا نقطہ اس کے دل پر لگ جاتا ہے، اگر توبہ کرتا ہے تو وہ دھل جاتا ہے، ورنہ باقی رہتا ہے۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے دو چیز کے مانگنے کا امر فرمایا ہے جن کے بغیر چارہ ہی نہیں: جنت کا حصول اور دوزخ سے امن۔ اللہ اپنے فضل سے مجھے بھی مرحمت فرمائے اور تمہیں بھی۔
استغفار کے بارے میں قرآن پاک کے جو الفاظ ہیں نا وہ اتنے زیادہ واضح ہیں، نوح علیہ السلام کی زبان سے:{فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا * يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا * وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا * مَّا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا}یعنی اتنا یعنی واضح طور پر فرمایا، یعنی یہ استغفار سے سبحان اللہ کیا کچھ نہیں ملتا۔ بیٹے، مال، یہ سب اللہ پاک کی طرف سے رحمتیں، یہ ساری چیزیں مل رہی ہیں۔
تو ہم نے اس کی ایک Combination بنائی ہے عام دنوں میں۔ رمضان شریف میں تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا نا اس طرح ہی کرنا ہے۔ عام دنوں میں ہم نے ہر 24 گھنٹے کے تین Zone بنائے ہیں۔
پہلا Zone ہے فجر سے لے کر ظہر تک۔ اس میں کلمہ طیبہ کی کثرت۔ کلمہ طیبہ کے فضائل سامنے لائے ہیں نا ابھی۔ پھر اس کے بعد دوسرا جو ہے وہ کیا ہے؟ وہ درود شریف کا، یعنی ظہر سے لے کر مغرب تک۔ اس میں درود شریف۔ اور مغرب کے بعد پھر استغفار۔
اگر کوئی اس ذوق کو پا لے... بعض لوگ کو ہم ذکر دیتے ہیں وہ کہتے ہیں اس کے علاوہ ہم کچھ اور کر سکتے ہیں؟ میں نے کہا یہ کر لیا کرو نا۔ یہ تو بہت بڑی نعمت ہے، آپ کر لیا کرو۔ اور بغیر پوچھے بھی کر سکتے ہیں، یہ تو ماشاءاللہ اللہ پاک نے ہمیں دیے ہوئے ہیں۔ تو ماشاءاللہ جتنا زیادہ سے زیادہ کر سکتے ہو تمہارے لیے اتنا ہی فائدہ ہے۔ ہاں البتہ اس کی وجہ سے کوئی واجب نہ رہ جائے۔ چونکہ مستحب ہے، تو مستحب کی وجہ سے واجب کوئی نہیں رہنا چاہیے۔ ہاں بہرحال یہ ہے کہ اللہ پاک کی نعمتیں بے شمار ہیں، تو ان نعمتوں میں یہ خاص نعمتیں ہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں زیادہ سے زیادہ استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
وَمَا عَلَيْنَا إِلَّا الْبَلَاغُ.رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُسُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، برحمتک یا ارحم الراحمین۔