اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ! فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ،
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
هُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ؕفَاَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ زَیْغٌ فَیَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَآءَ الْفِتْنَةِ وَ ابْتِغَآءَ تَاْوِیْلِهٖ ۚ وَ مَا یَعْلَمُ تَاْوِیْلَهٗ اِلَّا اللّٰهُ ۘ وَ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ یَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِهٖ ۙ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا ۚ وَ مَا یَذَّكَّرُ اِلَّاۤ اُولُوا الْاَلْبَابِ 7 رَبَّنَآ لَا تُزِغْ قُلُوْبَنَا بَعْدَ اِذْ هَدَیْتَنَا وَ هَبْ لَنَا مِنْ لَّدُنْكَ رَحْمَةً ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ 8 رَبَّنَاۤ اِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِیَوْمٍ لَّا رَیْبَ فِیْهِ ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ 9
صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ، وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ.
اب جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے وہ ان متشابہ آیتوں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں تاکہ فتنہ پیدا کریں اور ان آیتوں کی تاویلات تلاش کریں، حالانکہ ان آیتوں کا ٹھیک ٹھیک مطلب اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، اور جن لوگوں کا علم پختہ ہے وہ یہ کہتے ہیں کہ: "ہم اس (مطلب) پر ایمان لاتے ہیں (جو اللہ کو معلوم ہے)۔ سب کچھ ہمارے پروردگار ہی کی طرف سے ہے۔" اور نصیحت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو عقل والے ہیں ﴿7﴾ (ایسے لوگ یہ دعا کرتے ہیں کہ:) "اے ہمارے رب! تو نے ہمیں جو ہدایت عطا فرمائی ہے اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے، اور خاص اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرما۔ بیشک تیری، اور صرف تیری ذات وہ ہے جو بے انتہا بخشش کی خوگر ہے ﴿8﴾ ہمارے پروردگار! تو تمام انسانوں کو ایک ایسے دن جمع کرنے والا ہے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔" بیشک اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ﴿9﴾
دلوں کا ٹیڑھ، اصل میں دیکھیں، ایک شخص کی آنکھ میں کوئی مسئلہ ہو۔ مثلاً وہ ٹیڑھے ہوں، تو ان کو چیزیں ٹیڑھی نظر آتی ہیں۔ کسی کے کان میں کوئی مسئلہ ہو تو اس کو سیٹیاں بجنے لگتی ہیں، اور ہوتی نہیں ہیں۔ کوئی آواز آ رہی ہوتی ہے لیکن آواز ہوتی نہیں، یا آواز آ رہی ہوتی ہے لیکن وہ سنتے نہیں۔ تو ظاہر ہے یہ جو Instruments ہیں، جو آلے ہیں، ان کے اندر اگر گڑبڑ ہو، تو پھر وہ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ صحیح Recognition نہیں کرتے۔ تو دل جو ہے، یہ بھی فہم کا ایک ذریعہ ہے فہم کا۔ یعنی "وَلَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا" ان کے دل ہیں لیکن اس سے وہ سمجھتے نہیں۔ تو اگر اس کے اندر کوئی نفس کی وجہ سے نقصان آ چکا ہو۔ یا یوں سمجھ لیجئے کہ غلط باتیں سن کر Misguide ہو چکے ہوں۔
کیونکہ بقول حضرت شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ کے، یہ تینوں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔ ایک دل، ایک نفس، ایک عقل۔ تو جس طرح دل، عقل اور نفس کے اوپر بھی اثر، ڈالتا ہے۔ یعنی دل اگر اچھا ہو تو یہ چیزیں بھی کام صحیح کرنے شروع کر لیتی ہیں۔ اس طریقے سے یہ دونوں بھی دل کے اوپر اثر ڈالتے ہیں۔ تو نفس کی جو خواہشات ہیں، میں آپ کو اس کی ایک مثال دیتا ہوں۔
وہ ایک پادری اور اس کے ساتھ سفر میں تھے۔ ان کے ہاں یہ دستور تھا کہ ان کا گھوڑا بدک جاتا تو وہ اپنے دشمن کو گالی دیتے۔ تو اس کے بھائی کا گھوڑا بدکا تو اس نے آپ ﷺ کو گالی دی -نَعُوذُ بِاللهِ مِنْ ذَلِكَ- تو اس پادری نے کہا کہ اس کو گالی نہ دو۔ اس نے کہا کیوں نہ دوں؟ ہمارا دشمن ہے۔ اس نے کہا: لیکن وہ نبی ہے۔ یہ اس کی زبان سے سلپ ہو گیا۔ لیکن وہ تو نبی ہے۔ تو اس نے کہا اگر نبی ہے تو پھر آپ مخالفت کیوں کرتے ہیں؟
تو اس نے کہا کہ اگر میں مخالفت نہ کروں تو یہ جو میرے، مجھے Facilities حاصل ہیں، تو یہ تو پھر نہیں رہیں گی۔ پتہ چل گیا کہ کیا چیز تھی؟ یہ سمجھ کا قصور نہیں تھا، سمجھا تو تھا وہ۔ نبی تو مان رہا تھا۔ علم اس کو تھا۔ کس چیز نے اس کو روکا ہوا تھا؟ دنیاوی۔۔۔ جس کی وجہ سے وہ گمراہ ہو گیا تھا۔
دوسری طرف یونانی ہیں۔ اب یونانی جو ہیں، پیغمبروں پر ایمان نہیں لایا، وہ جو افلاطون اور اس قسم کے جو۔ تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیوں ایمان نہیں لاتے؟ تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے نفس کو مہذب کر لیا ہے۔ پیغمبر تو آتے ہیں نفس کو مہذب کرنے کے لیے، ہمیں اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اب یہ سمجھ کا قصور۔ سمجھ میں آ گئی نا بات؟ یعنی وہ عقل کا مسئلہ تھا، یہ دوسری طرف یہ نفس کا مسئلہ تھا۔ تو یہ دونوں جو ہیں، اس کی وجہ سے جو چیز آتی ہے دل پہ، اس کو دل کا ٹیڑھ کہتے ہیں۔
مطلب، یوں کہہ سکتے ہیں، چیزوں کو غلط نگاہ سے دیکھنا۔ مطلب یہ ہے کہ الٹی سوچ کے ساتھ دیکھنا۔ کیڑے ڈال کر نکالنا، جس کہتے ہیں نا وہ کیڑے ڈال کر نکالنا۔ ایک چیز کے اندر واقعی کیڑے ہوں تو پھر نکالنا ہوتا ہے لیکن ایک ہوتا ہے کیڑے ڈال کر نکالنا۔ جیسے آج کل ہماری پارٹیوں میں ہوتا ہے۔ کہ ایک شخص کسی پارٹی کا ہے تو دوسری پارٹی میں چاہے کتنی اچھائی کیوں نہ ہو، وہ اس کے لیے برائی ہوتی ہے۔ بلکہ وہ جانتا بھی ہے، سمجھتا بھی ہے۔ لیکن جب Discussion کرتے ہیں نا تو ان چیزوں کو چھپاتا ہے۔ کہ کہیں اس پر ظاہر نہ ہو جائے۔ یا اس کے لیے کوئی، ایسے الفاظ تاکہ وہ کم نظر آئیں۔
"جو اس کو عالم کہتا ہے وہ گناہ ہے"۔ اب یہ کوئی Concept ہے، یا کوئی چیز ہے، کوئی بات ہے؟ اس کا کوئی تُک ہے؟ بھئی عالم، آپ اس کو مان لیں تو اس سے عالم نہیں بنتا۔ عالم تو عالم ہے، اگر عالم ہے تو ہے اور اگر نہیں ہے تو نہیں ہے۔ اگر نہیں ہے تو چاہے آپ اس کو مان بھی لیں پھر بھی عالم نہیں بنتا، اور اگر ہے تو چاہے اس کو نہ بھی مان لیں پھر بھی عالم ہوگا۔ وہ آپ کی مرضی سے تو عالم نہیں بنتا۔ یہ دل کا ٹیڑھ ہے۔ تو دلوں کا ٹیڑھ جو ہوتا ہے، بہت خطرناک چیز ہے۔ بہت خطرناک چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ بچائے۔
اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، میں اکثر دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ مجھے کسی ولی اللہ کی دنیا کے لحاظ سے مخالف نہ بنا دے۔ انسان کی بالکل سب مت ماری جاتی ہے اگر خدانخواستہ کسی ولی اللہ کا آدمی مخالف ہو جائے۔ دنیا کے لحاظ سے! دین کے لحاظ سے، اختلاف، اس پہ اللہ پاک کے ہاں بڑی گنجائش ہے۔ دین کی وجہ سے۔ مثال کے طور پر ایک شخص ہے، وہ ایک ولی اللہ کی ایک خاص بات کے ساتھ علمی اختلاف رکھتے ہیں مثلاً، ٹھیک ہے۔ اگر اس کے پاس دلائل ہیں، تو وہ ایک اجتہادی اختلاف ہو گیا۔ اجتہادی اختلاف میں سب کچھ ہے۔ حضرت امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ بھی ولی اللہ تھے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ بھی ولی اللہ تھے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے اختلاف کیا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے، تو اس پہ اس کو کوئی نقصان تو نہیں ہوا۔ کیونکہ وہ دین کے لیے تھا۔
تو دین کے لیے اختلاف میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، لیکن دنیا کے لیے جو انسان کرتا ہے نا، یہ کجی ہے۔ اور اس کی وجہ سے بڑا نقصان ہو جاتا ہے۔ انسان کی مت ماری جاتی ہے، نتیجتاً اس ولی اللہ کی ہر چیز کو غلط ثابت کرنے کے لیے پھر کیا ہوتا ہے؟ وہ تحریفات کرتا ہے۔ تحریفات کرتا ہے۔ اپنی طرف سے باتیں بناتا ہے، اور جو صحیح باتیں ہوتی ہیں ان کو چھپاتا ہے۔ اور یہ بہت بڑا جرم ہے۔
یہاں پر اس کے فوراً بعد دعا ہے۔ "رَبَّنَآ لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِن لَّدُنكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْوَهَّابُ"۔
اے رب ہمارے رب، تو نے ہمیں جو ہدایت عطا فرمائی ہے، اس کے بعد ہمارے دلوں میں ٹیڑھ پیدا نہ ہونے دے، اور خاص کر اپنے پاس سے ہمیں رحمت عطا فرما۔ بے شک صرف اور تیری ذات وہ ہے جو بے انتہا بخشش کی خوگر ہے۔
اللہ جل شانہٗ ہم سب کو ہدایت پر قائم رکھے، اور کسی قسم کا ٹیڑھ بھی اللہ پاک ہمارے دلوں میں نہ آنے دے۔ ہدایت بڑی دولت ہے، اللہ پاک اسی پر قائم رکھے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔