اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ،
وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ،
أَمَّا بَعْدُ:
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ.
معزز خواتین و حضرات!
فضائلِ رمضان سے کچھ حصہ پڑھ لیتے ہیں، جیسا کہ ہمارا معمول ہے۔
حضرت نے یہ بہت محبت کے ساتھ یہ فضائلِ رمضان لکھے ہیں۔ ماشاء اللہ بہت اس کا فائدہ ہے۔
یہ میں آپ سے عرض کروں کہ مجددین جو ہوتے ہیں نا مجددین... ان کے ساتھ ایک خاص بات ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ یہ بات ہوتی ہے کہ چونکہ وقت کے ساتھ ساتھ افراط و تفریط آجاتا ہے، خود بخود آتا ہے۔ یہ جیسے مطلب گھر ویران ہو رہا ہے خود بخود، تو اس کو صاف کرنا پڑتا ہے۔ تو مجدد کے اوپر اللہ تعالیٰ اس وقت کے جو افراط و تفریط ہے، وہ کھول لیتے ہیں۔ اور پھر اس کا حل بھی۔ تو وہ بالکل دوبارہ نئے سرے سے نکھار کے لے آتے ہیں۔
تو مجدد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا کام کر لیا، پھر اس کے بعد شاہ ولی اللہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا کام کیا، پھر سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا کام کیا، اور پھر حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنا کام کیا۔
اور دوسرے حضرات جو ہوتے ہیں، جو مشائخ ہوتے ہیں، ان میں جو حضرات قطب ہوتے ہیں، وہ ایک محور بن جاتے ہیں... مطلب ایک خاص۔ تو قطبِ ارشاد جو ہوتا ہے وہ علمی مرکز بن جاتا ہے۔ تو ہمارے حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ قطبِ ارشاد تھے۔
نتیجۃً علمی اشکالات کے جو جوابات اور یہ تمام چیزیں جو ہیں، وہ حضرت کے ذریعے سے بہت ماشاء اللہ یعنی کھلی ہیں عملی طور پر۔ حضرت مولانا الیاس رحمۃ اللہ علیہ کو اللہ تعالیٰ اجر عطا فرمائے کہ انہوں نے حضرت سے فضائلِ اعمال لکھوائی۔ اور واقعتاً بڑی کمال کی چیز ہے یہ۔ اللہ تعالیٰ حضرت کے درجات بلند فرمائے۔
کل ہم نے الحمد للہ اس کا جو ابتدائیہ تھا وہ پڑھا تھا۔ یعنی حضرت نے یہ کتاب کیسے لکھی، اس کے بارے میں جو فرمایا تھا۔ آج فصلِ اول سے شروع کرتے ہیں۔
فصلِ اول: فضائلِ رمضان میں۔
یہ وہی مشہور حدیث شریف ہے جو آپ ﷺ نے اخیر شعبان میں خطبہ دیا تھا، حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی۔ تو وہ حضرت نے پہلے دیا ہے۔
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے شعبان کی آخر تاریخ میں ہم لوگوں کو وعظ فرمایا کہ تمہارے اوپر ایک مہینہ آرہا ہے جو بہت بڑا مہینہ ہے، بہت مبارک مہینہ ہے۔ اس میں ایک رات ہے، (شبِ قدر) جو ہزار مہینوں سے بڑھ کر ہے، اللہ تعالیٰ نے اس کے روزہ کو فرض فرمایا اور اس کے رات کے قیام (یعنی تراویح) کو ثواب کی چیز بنایا ہے، جو شخص اس مہینہ میں کسی نیکی کے ساتھ اللہ کا قرب حاصل کرے، ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں فرض کو ادا کیا اور جو شخص اس مہینہ میں کسی فرض کو ادا کرے وہ ایسا ہے جیسا کہ غیر رمضان میں ستر فرض ادا کرے۔ یہ مہینہ صبر کا ہے اور صبر کا بدلہ جنت ہے اور یہ مہینہ لوگوں کے ساتھ غمخواری کرنے کا ہے۔ اس مہینہ میں مومن کا رزق بڑھا دیا جاتا ہے۔ جو شخص کسی روزہ دار کا روزہ افطار کرائے اس کے لئے گناہوں کے معاف ہونے اور آگ سے خلاصی کا سبب ہو گا اور روزہ دار کے ثواب کی مانند اس کو ثواب ہو گا، مگر اس روزہ دار کے ثواب سے کچھ کم نہیں کیا جائے گا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے ہر شخص تو اتنی وسعت نہیں رکھتا کہ روزہ دار کو افطار کرائے،
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بڑے غریب تھے زیادہ تر، مالدار تو ان میں کم تھے۔
تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ (پیٹ بھر کر کھلانے پر موقوف نہیں) یہ ثواب تو اللہ جل شانہٗ ایک کھجور سے کوئی افطار کرا دے، یا ایک گھونٹ پانی پلا دے، یا ایک گھونٹ لسی پلا دے، اس پر بھی مرحمت فرما دیتے ہیں۔ یہ ایسا مہینہ ہے کہ اس کا اول حصہ اللہ کی رحمت ہے اور درمیانی حصہ مغفرت ہے اور آخری حصہ آگ سے آزادی ہے، جو شخص اس مہینہ میں ہلکا کر دے اپنے غلام (خادم) کے بوجھ کو، حق تعالیٰ شانہٗ اس کی مغفرت فرماتے ہیں اور آگ سے آزادی فرماتے ہیں اور چار چیزوں کی اس میں کثرت رکھا کرو۔ جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضا کے واسطے اور دو چیزیں ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں، پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں کہ جنت کی طلب کرو اور آگ سے پناہ مانگو، جو شخص کسی روزہ دار کو پانی پلائے حق تعالیٰ (قیامت کے دن) میرے حوض سے اس کو ایسا پانی پلائیں گے جس کے بعد جنت میں داخل ہونے تک پیاس نہیں لگے گی۔
فائدہ:
محدثین کو اس کے بعض رُواۃ (راویوں) میں کلام ہے، اول تو فضائل میں اس قدر کلام قابلِ تحمل ہے، دوسرے اس کے اکثر مضامین کی دوسری روایات مؤید ہیں۔ اس حدیث سے چند امور معلوم ہوتے ہیں: اول نبی کریم ﷺ کا اہتمام کہ شعبان کی اخیر تاریخ میں خاص طور سے وعظ فرمایا اور لوگوں کو تنبیہ فرمائی، تاکہ رمضان المبارک کا ایک سیکنڈ بھی غفلت سے نہ گزر جائے۔ پھر اس وعظ میں تمام مہینہ کی فضیلت بیان فرمانے کے بعد چند اہم امور کی طرف خاص طور سے متوجہ فرمایا۔ سب سے اول شبِ قدر کہ وہ حقیقت میں بہت ہی اہم رات ہے، ان اوراق میں اس کا بیان دوسری فصل میں مستقل آئے گا ان شاءاللہ۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اللہ نے اس کے روزہ کو فرض کیا اور اس کے قیام یعنی تراویح کو سنت کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ تراویح کا ارشاد بھی خود حق سبحانہ و تقدس کی طرف سے ہے۔ پھر جن روایات میں نبی کریم ﷺ نے اس کو اپنی طرف منسوب فرمایا کہ میں نے سنت کیا، ان سے مراد تاکید ہے کہ حضور ﷺ اس کی تاکید بہت فرماتے تھے، اسی وجہ سے سب ائمہ اس کے سنت ہونے پر متفق ہیں، برہان میں لکھا ہے کہ مسلمانوں میں روافض کے سوا کوئی شخص اس کا منکر نہیں۔
حضرت مولانا شاہ عبدالحق صاحب دہلویؒ نے "ماثبت بالسنۃ" میں بعض کتبِ فقہ سے نقل کیا ہے کہ کسی شہر کے لوگ اگر تراویح چھوڑ دیں تو اس کے چھوڑنے پر امام ان سے مقاتلہ کرے۔ اس جگہ خصوصیت سے ایک بات کا لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے، وہ یہ کہ بہت سے لوگوں کا خیال ہوتا ہے کہ جلدی سے کسی مسجد میں آٹھ دس دن میں کلام مجید سن لیں پھر چھٹی۔ یہ خیال رکھنے کی بات ہے کہ یہ دو سنتیں الگ الگ ہیں: تمام کلام اللہ شریف کا تراویح میں پڑھنا یا سننا یہ مستقل سنت ہے۔ اور پورے رمضان شریف کی تراویح مستقل سنت ہے۔ پس اس صورت میں ایک سنت پر عمل ہوا اور دوسری رہ گئی، البتہ جن لوگوں کو رمضان المبارک میں سفر وغیرہ یا کسی اور وجہ سے ایک جگہ تراویح پڑھنی مشکل ہو، ان کے لئے مناسب ہے کہ اول قرآن شریف چند روز میں سن لیں تاکہ قرآن شریف ناقص نہ رہے، پھر جہاں وقت ملا اور موقعہ ہوا وہاں تراویح پڑھ لی، کہ قرآن شریف بھی اس صورت میں ناقص نہیں ہوگا اور اپنے کام کا حرج بھی نہ ہوگا۔
حضور ﷺ نے روزہ اور تراویح کا ذکر فرمانے کے بعد عام فرض اور نفل عبادات کے اہتمام کی طرف متوجہ فرمایا کہ اس میں ایک نفل کا ثواب دوسرے مہینوں کے فرائض کے برابر ہے اور اس کے ایک فرض کا ثواب دوسرے مہینوں کے ستر فرائض کے برابر ہے۔ اس جگہ ہم لوگوں کو اپنی اپنی عبادات کی طرف بھی ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس مبارک مہینہ میں فرائض کا ہم سے کس قدر اہتمام ہوتا ہے اور نوافل میں کتنا اضافہ ہوتا ہے۔ فرائض میں تو ہمارے اہتمام کی یہ حالت ہے کہ سحر کھانے کے بعد جو سوتے ہیں تو اکثر صبح کی نماز قضاء ہوگئی اور کم از کم جماعت تو اکثروں کی فوت ہو ہی جاتی ہے، گویا سحر کھانے کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ کے سب سے زیادہ مہتم بالشان فرض کو بالکل قضاء کر دیا یا کم از کم ناقص کر دیا، کہ بغیر جماعت کے نماز پڑھنے کو اہلِ اصول نے اداءِ ناقص فرمایا ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ کا تو ایک جگہ ارشاد ہے کہ مسجد کے قریب رہنے والوں کی تو (گویا) نماز بغیر مسجد کے ہوتی ہی نہیں۔
"مظاہرِ حق" میں لکھا ہے کہ جو شخص بغیر عذر کے بدونِ جماعت نماز پڑھتا ہے اس کے ذمہ فرض تو ساقط ہو جاتا ہے، مگر اس کو نماز کا ثواب نہیں ملتا۔ اسی طرح دوسری نمازِ مغرب کی بھی جماعت اکثروں کی افطار کی نذر ہو جاتی ہے اور رکعتِ اولیٰ یا تکبیرِ اولیٰ کا تو ذکر ہی کیا ہے، اور بہت سے لوگ تو عشاء کی نماز بھی تراویح کے احسان کے بدلے میں وقت سے پہلے ہی پڑھ لیتے ہیں۔
یہ تو بہت بڑا مسئلہ ہے آج کل۔ ہم نمازوں کے اوقات کے نقشے بناتے ہیں نا، تو مجھ پر اتنا Pressure تھا مولوی حضرات کا، مطلب ہے عام لوگوں کا نہیں، کہ اس میں کچھ رعایت کریں۔ کے پی کے (KPK) کی طرف سے بہت زیادہ تھا کہ اس میں کچھ رعایت کریں۔ آپ دیکھو نو بج کر بیس منٹ پہ اگر عشاء داخل ہوتا ہے، یہ تو ہمارے ہاں تو سارے نو بجے نماز پڑھ کے فارغ ہوجاتے ہیں۔
میں نے کہا میں کیا کروں؟ میں تو نہیں کر رہا یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ اب اللہ تعالیٰ کے حکم میں، میں تبدیلی کیسے کروں؟ بھئی میری بات ہو تو میں کچھ اس میں کر لوں۔ میں تو صرف جو اللہ کا حکم ہے اس کا حساب لگاتا ہوں کہ کس وقت، وقت داخل ہوتا ہے۔ میرا کام تو صرف اتنا ہے، میں اس میں کیا رعایت کر لوں؟
پھر ایک بات، بار بار جب پوچھا گیا تو پھر ان کو میں نے ایک بات بتائی۔ جو عمومی طور پر شاید کتابوں میں لکھی نہیں ہے۔ تجربے سے تعلق رکھتا ہے۔
عموماً بعض لوگوں کا خیال ہے کہ شفقِ احمر جو ہے، شفقِ احمر... یہ تقریباً ایک گھنٹہ میں ختم ہو ہی جاتا ہے، شفقِ احمر۔ یہ لوگوں کا خیال ہے۔ اور مفتی رشید احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا تو خیال تھا کہ بارہ درجے پہ ختم ہوجاتا ہے، وہ تو اس سے بھی کم ہوتا ہے۔
تو ایسا ہوا کہ ہم نے مشاہدے کیے۔ چھ مہینے مشاہدات کیے، اب بتائیں! چھ مہینے مشاہدات کی کچھ Value ہوگی یا نہیں ہوگی؟
چھ مہینے مشاہدات کیے، اس میں پہلے مشاہدے نے ہمیں ہلا دیا۔ اور وہ مشاہدہ یہ تھا کہ حضرت تو فرماتے ہیں... (میں حضرت کے طریقے پہ تھا نا پہلے)... تو حضرت نے بارہ درجے کا بتایا تھا، تو اس دن ساڑھے بارہ ہوگیا۔ میں نے کہا شاید مجھے غلطی لگی ہے۔ اگلے دن کیا، ساڑھے تیرہ درجہ تھا۔ پھر اگلے دن تیرہ درجہ تھا۔ پھر کبھی چودہ، کبھی تیرہ، کبھی ساڑھے تیرہ، کبھی پندرہ، کبھی ساڑھے پندرہ... مطلب ٹھہر ہی نہیں رہا ایک جگہ پہ۔ یہ کیا بات ہے؟ بڑی عجیب بات ہے۔
اب چھ مہینے کے مشاہدات اس طرح ہوئے، تو جو بہت زیادہ لیٹ، یعنی ساڑھے پندرہ، ساڑھے سولہ پہ غائب ہوا تھا، اس وقت اتفاق سے میرے پاس حضرت ہی کے ایک مرید، میرے شاگرد تھے، وہ بھی شامل تھے مشاہدے میں۔ جب ہم نے دیکھا شفقِ احمر غائب ہوگیا، تو میں نے کہا عبدالمقتدر دیکھ رہے ہو نا سرخی اب غائب ہوئی ہے؟ جی ہاں بالکل۔ ٹائم نوٹ کرو۔ جی فلاں ٹائم ہے۔ میں نے کہا اس کو لکھ لو اپنے ساتھ، تم میرے گواہ ہوگے۔ تم میرے گواہ ہوگئے۔
خیر بہرحال یہ ہے کہ اس کو تو میں نے گواہ بنا لیا۔ پھر اس کے بعد پھر میں حضرت کے پاس چلا گیا کراچی۔ اور کراچی میں حضرت کو یہ ساری کارگزاری سنائی۔ اور شفقِ احمر کے مشاہدات سنا کر میں نے حضرت سے کہا... مجبوری تھی، کہتے ہیں وہ بات تو حق کہنی پڑتی ہے، کیا کریں حضرت تو بہت بڑے آدمی تھے، مفتی تھے بہت بڑے، لیکن یہ تو مجبوری تھی یہ تو ایک Technical چیز تھی۔
میں نے کہا حضرت! شفقِ احمر کے مشاہدات نے مجھے یہ کہنے پہ مجبور کیا کہ آپ کا وقت تو کم از کم غلط ہے۔ باقی جو اٹھارہ درجے والے لوگ ہیں ان کے اوپر سوچا جاسکتا ہے کہ صحیح ہے یا غلط ہے، وہ تجربے سے معلوم ہوگا۔ لیکن آپ کا تو کم از کم غلط ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ساڑھے پندرہ پر یا ساڑھے سولہ پر اگر شفقِ احمر غائب ہورہا ہے، اور پندرہ پر آپ بتا رہے ہیں کہ شفقِ ابیض غائب ہورہا ہے، تو یہ تو بدیہی بات ہے کہ کبھی بھی شفقِ ابیض، شفقِ احمر سے پہلے غائب نہیں ہوسکتا۔ تو لہذا آپ والا طریقہ تو...
میں نے کہا اب یہ بیشک۔۔۔ کیونکہ یہ تو پہلے ہی دن سے ہمیں پتہ چلا کہ یہ تبدیل ہورہا ہوتا ہے۔ پھر میں نے سائنسدانوں سے معلوم کر لیا اپنے دفتر کے، انہوں نے کہا ہاں یہ ہوسکتا ہے کیونکہ شفقِ احمر ایک خاص رنگ ہے سرخ، جبکہ شفقِ ابیض سات رنگوں کا مجموعہ ہے۔ اس وجہ سے اس پر موسم کا اثر نہیں ہوتا لیکن شفقِ احمر پر ہوتا ہے۔ یعنی گرمی، سردی، خشکی، نمی اس کا اثر ہوتا ہے۔ تو بات بھی سمجھ میں آگئی۔ تو پھر حضرت سے میں نے کہا، تو حضرت نے اپنا جو رجوع کیا تھا سختی سے وہ اسی بنیاد پہ کیا تھا۔
تو خیر یہ تو درمیان کی بات آگئی۔ پھر اس کے بعد میں نے ان سے کہا، میں نے کہا آپ حضرات کہتے ہیں کہ شفقِ احمر شاید ایک گھنٹہ بعد یا پون گھنٹے کے بعد غائب ہوتا ہے، اس کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ ساڑھے سولہ پر میں نے دیکھا ہے، کم سے کم میں نے ساڑھے بارہ پہ دیکھا ہے۔ یعنی ساڑھے بارہ سے لے کر ساڑھے سولہ کے درمیان کسی وقت بھی غائب ہوسکتا ہے۔ تو یا تو مشاہدے پہ عمل کر لو۔ مشاہدہ کرکے آپ بیشک عشاء کی نماز پڑھ لو، میں اس میں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ وہ آپ کا مشاہدہ ہوگا۔ تو مشاہدہ کے سامنے تو حساب نہیں آتا۔ لیکن اگر مشاہدہ نہیں کرتے حساب پہ کرتے ہو تو میں ذمہ داری نہیں لے سکتا۔ کیونکہ میں نے ساڑھے سولہ پر بھی غائب ہوتے دیکھا ہے۔ لہذا ساڑھے سولہ... جس کو ہم کہتے ہیں نا اس میں تو یہی آپ کہیں گے نا کہ وقت تو تب داخل ہوتا ہے جب شک ختم ہوجائے، یہی ہے نا مفتی صاحب؟ جب شک ختم ہوجائے۔ تو شک تب ختم ہوگا جب ساڑھے سولہ گزر جائے، کیونکہ ساڑھے سولہ تک تو میں نے دیکھا ہے۔ تو یہ ہو سکتا ہے۔ تو لہذا میں تو ذمہ داری نہیں لیتا۔
تو ساڑھے سولہ اور اٹھارہ کے درمیان کتنا فرق ہے؟ ایک ڈیڑھ درجہ ہے نا۔ تو ڈیڑھ درجے میں کتنا فرق ہوگا؟ تقریباً ساڑھے سات منٹ گرمیوں میں یا آٹھ منٹ۔ تو آٹھ منٹ پہلے آپ کر بھی لیں گے تو کتنا ہو جائے گا؟ اس سے آپ کو کتنا فائدہ ہوگا؟ اس وجہ سے اسی کو رکھو تو اچھی بات ہے۔
تو خیر بہرحال یہ ہمارے ہاں یہ بات بہت... اللہ کا شکر ہے الحمدللہ کہ وہ علاقے جہاں پر پہلے پڑھا جاتا تھا کافی فرق آگیا۔ مولانا شریف ہزاروی سے میں نے شکایت کی کہ لوگ تو یہ کہتے ہیں، کہتے ہیں آپ کا کام ہے مسجدوں میں نقشے لگانا، یہ لوگ خود بخود آہستہ آہستہ اس پر آجائیں گے۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ اب الحمدللہ ہم سے ہی نقشے بنواتے ہیں اور اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔
تو مقصد یہ ہے کہ یہ چیزیں ہیں کہ لوگوں کی سستی جیسے حضرت نے فرمائی ہے بات، وہ یہی ہے کہ لوگ بس جلدی کے اس میں ہوتے ہیں کہ بس ٹھیک ہے جی ہم عشاء پڑھ لیں، کیونکہ آگے تراویح بھی تو پڑھنی ہے نا۔ تو بس جتنا جلدی ہو سکتا ہے... حالانکہ اس کے بغیر...
یہاں حضرت یہاں پر ایک عیدگاہ شریف... جانتے ہیں آپ؟ عیدگاہ شریف میں وہ... وہ شب بیداری کرتے ہیں۔ اب پتہ نہیں کرتے ہیں یا نہیں کرتے لیکن پہلے کرتے تھے۔ تو جس دن ان کی شب بیداری ہوتی تھی اس دن تہجد کے فوراً بعد وقت داخل ہونے سے پہلے فجر پڑھ لیتے تھے۔ تو میں نے کہا یہ کون سا تہجد ہے؟ بھئی آپ نے نفل کے لیے فرض ہی کو ختم کر دیا، یہ کیا طریقہ ہے؟ تو یہ اصل میں آج کل یہ مسائل ہیں۔
اللہ اکبر!
تو یہ فرمایا کہ۔۔۔ حضرت نے شکایتیں کی ہیں، فرمایا:
تراویح کے احسان کے بدلے میں وقت سے پہلے ہی پڑھ لیتے ہیں۔ یہ تو رمضان المبارک میں ہماری نماز کا حال ہے جو اہم ترین فرائض میں ہے کہ ایک فرض کے بدلے میں تین کو ضائع کیا۔ یہ تین تو اکثر ہیں ورنہ ظہر کی نماز قیلولہ (دوپہر کے آرام) کی نذر اور عصر کی جماعت افطاری کا سامان خریدنے کی نذر ہوتے ہوئے آنکھوں سے دیکھا گیا ہے۔ اسی طرح اور فرائض پر آپ خود غور فرما لیں کہ کتنا اہتمام رمضان المبارک میں ان کا کیا جاتا ہے۔ اور جب فرائض کا یہ حال ہے تو نوافل کا کیا پوچھنا۔ اشراق اور چاشت تو رمضان المبارک میں سونے کی نذر ہو ہی جاتے ہیں اور اوابین کا کیسے اہتمام ہو سکتا ہے، جبکہ ابھی روزہ کھولا ہے اور آئندہ تراویح کا سہم ہے اور تہجد کا وقت تو ہے ہی عین سحر کھانے کا وقت، پھر نوافل کی گنجائش کہاں۔۔۔؟
حالانکہ تہجد بہت آسان ہو جاتا ہے، بھئی آپ اٹھے تو ہیں نا۔ اس میں میرے خیال میں تہجد میں بنیادی طور پر جو مجاہدہ ہے وہ اٹھنے کا ہے۔ باقی مجاہدہ تو بہت کم ہے مطلب ہے آپ نے وضو کرنا ہے یا نماز پڑھنا ہے، وہ تو بہت کم ہے۔ اصل مجاہدہ تو اٹھنے کا ہے کہ انسان بستر سے اٹھ جائے۔ تو وہ آپ اٹھے تو ہیں، تو اب اگر آپ پندرہ منٹ پہلے اٹھ جائیں تو آپ ماشاء اللہ تہجد بھی پڑھ سکتے ہیں، تہجد پڑھ کے آپ سحری کر لیں۔
خیر...
لیکن یہ باتیں بے توجہی اور نہ کرنے کی ہیں کہ "تُو ہی اگر نہ چاہے تو باتیں ہزار ہیں"
کتنے اللہ کے بندے ہیں کہ جن کیلئے انہی اوقات میں سب چیزوں کی گنجائش نکل آتی ہے، میں نے اپنے آقا حضرت مولانا خلیل احمد صاحب نور اللہ مرقدہ کو متعدد رمضانوں میں دیکھا ہے کہ باوجود ضعف اور پیرانہ سالی کے مغرب کے بعد نوافل میں سوا پارہ پڑھنا یا سنانا، اور اس کے بعد آدھ گھنٹہ کھانا وغیرہ ضروریات کے بعد، ہندوستان کے قیام میں تقریباً سوا دو گھنٹے تراویح میں خرچ ہوتے تھے، اور مدینہ پاک کے قیام میں تقریباً تین گھنٹے میں عشاء اور تراویح سے فراغت ہوتی، اس کے بعد آپ حسبِ اختلافِ موسم دو تین گھنٹے آرام فرمانے کے بعد تہجد میں تلاوت فرماتے اور صبح سے نصف گھنٹہ قبل سحر تناول فرماتے۔ اس کے بعد سے صبح کی نماز تک کبھی حفظ تلاوت فرماتے اور کبھی اوراد و وظائف میں مشغول رہتے۔
اسفار یعنی چاندنی میں صبح کی نماز پڑھ کر اشراق تک مراقب رہتے اور اشراق کے بعد تقریباً ایک گھنٹہ آرام فرماتے۔ اس کے بعد سے تقریباً بارہ بجے تک اور گرمیوں میں ایک بجے تک "بَذْلُ الْمَجْهُوْدِ" تحریر فرماتے اور ڈاک وغیرہ ملاحظہ فرما کر جواب لکھواتے۔ اس کے بعد ظہر کی نماز تک آرام فرماتے اور ظہر سے عصر تک تلاوت فرماتے۔ عصر سے مغرب تک تسبیح میں مشغول رہتے اور حاضرین سے بات چیت بھی فرماتے۔ "بَذْلُ الْمَجْهُوْدِ" ختم ہو جانے کے بعد صبح کا کچھ حصہ تلاوت اور کچھ کتب بینی میں "بذل المجہود" اور "وفاء الوفاء" زیادہ تر اس وقت زیرِ نظر رہتی تھی۔ یہ اس پر تھا کہ رمضان المبارک میں معمولات میں کوئی خاص تغیر نہ تھا، کہ نوافل کا یہ معمول دائمی تھا اور نوافلِ مذکورہ کا تمام سال بھی اہتمام رہتا تھا، البتہ رکعات کے طول میں رمضان المبارک میں اضافہ ہو جاتا تھا، ورنہ جن اکابر کے یہاں رمضان المبارک کے خاص معمولات مستقل تھے، ان کا اتباع تو ہر شخص سے نبھنا بھی مشکل ہے۔
حضرت اقدس مولانا شیخ الہند نور اللہ مرقدہ تراویح کے بعد سے صبح کی نماز تک نوافل میں مشغول رہتے تھے۔ اور یکے بعد دیگرے متفرق حفاظ سے کلام مجید ہی سنتے رہتے تھے۔ اور حضرت مولانا شاہ عبدالرحیم صاحب رائے پوری قدس سرہ کے یہاں تو رمضان المبارک کا مہینہ دن و رات تلاوت ہی کا ہوتا تھا، کہ اس میں ڈاک بھی بند اور ملاقات بھی ذرا گوارا نہ تھی۔ بعض مخصوص خدام کو صرف اتنی اجازت ہوتی تھی کہ تراویح کے بعد جتنی دیر حضرت سادہ چائے کے ایک دو فنجان (پیالی) نوش فرمائیں، اتنی دیر حاضرِ خدمت ہو جایا کریں۔
تو بہرحال یہ ہے کہ ہمیں ان سے جو ہے نا وہ... استفادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ رمضان شریف آرہا ہے الحمدللہ، ثم الحمدللہ، ثم الحمدللہ۔ اور اس کا استقبال کرنا چاہیے۔ استقبال کیا ہے؟ ابھی سے دعائیں کرنی چاہیے کہ اے اللہ ہمیں رمضان تک پہنچا دے اور رمضان شریف کی جملہ برکات نصیب فرما دے۔ یہی دعا آپ ﷺ نے فرمائی تھی نا رجب کا چاند دیکھتے ہوئے:
اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي رَجَبٍ وَشَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ
تو یہ ہے کہ ایک تو یہ کر لے، دوسرا رمضان شریف کی تیاری کا مطلب ہے کہ اس کے فضائل ہم پہلے سے اچھی طرح جان لیں اور مسائل اچھی طرح جان لیں۔ ان دو چیزوں کا اہتمام بہت ضروری ہے کہ مسائل بھی اچھی طرح معلوم ہوں اور فضائل بھی اچھی طرح معلوم ہوں۔
تیسری چیز جو اس میں بہت زیادہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ابھی سے ہم نیت کر لیں کہ رمضان شریف میں اپنے اوقات کو ضائع نہیں کریں گے۔
مثلاً اپنے موبائل کو باعزت طریقے سے رخصت کریں گے۔ اس کے لیے پہلے سے کوئی جگہ ڈھونڈ لیں کہ کہاں رکھنا ہے۔ جیسے ہمارے حضرت فرمایا کرتے تھے بھئی اب ڈاک کا جواب نہیں دیا جائے گا، رمضان شریف میں ڈاک کا جواب نہیں دیا جائے گا۔ تو ہم بھی دوستوں سے کہہ دیں بھئی رمضان شریف میں ہمیں فون کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ اگر یہ نہیں ہو سکتا تو چلو پھر وہ جو سادہ فون ہے وہ لے لیں، جس میں صرف میسجنگ ہو سکتی ہے اور ٹیلیفون سنا جا سکتا ہے۔ کم از کم سمارٹ فون نہ ہو تاکہ اس کے ساتھ مشغولی نہ ہو، واٹس ایپ وغیرہ اس قسم کی چیزیں۔ ان سے بالکل... بھئی وہ معلومات فی الحال ایک طرف رکھ دیں، وہ بعد میں حاصل ہو سکتی ہے۔ رمضان شریف میں پھر ہم کیوں اپنے اوقات کو ضائع کریں۔ تو اپنے اوقات کو بچانے کی کوشش کرنا چاہیے۔
سیاسی بحث و مباحثے میں بالکل نہیں پڑنا چاہیے۔ جب ووٹ دینے کا وقت آجائے پھر مجھ سے پوچھ لیا جائے میں ان شاء اللہ بتا دوں گا۔ اس وقت بس سیاست وغیرہ لڑانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اور آپس میں دوسروں کی اصلاح کرنے کی بجائے اپنی اصلاح کی کوشش... سب سے بہتر کام یہی ہے، اپنی اصلاح کی کوشش۔
وہ مثال کے طور پر دیکھو، بھئی سارے بچوں کی آپ اصلاح کریں اور اپنے بچے کو بغیر اصلاح چھوڑ دیں، تو آپ کو لوگ کیا کہیں گے؟ کہیں گے بڑا بیوقوف ہے دیکھو نا اپنے بیٹے کو چھوڑ دیا اور دوسرے لوگوں کے بیٹوں کو پڑھا رہے ہیں، یا ان کو سکھا رہے ہیں، اپنے بیٹے کو نہیں سکھا رہے۔ تو اپنے نفس کا تو اپنے بیٹے سے بھی زیادہ حق ہے۔ اگر یہ ٹھیک نہیں ہوا تو پھر تو اس کا خمیازہ تو بھگتنا پڑے گا۔ تو لہذا اپنے آپ کو سامنے رکھو کہ جو میں ہوں مجھے ٹھیک ہونا چاہیے۔ تو اگر اس میں ہم کامیاب ہو گئے، اللہ ہمیں کامیاب فرمائے، یقین جانیے بغیر کہے دوسروں کی اصلاح ہونی شروع ہو جائے گی، بغیر کہے۔ یہ میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں۔
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کسی سے کچھ نہیں کہتے، لیکن ان کو دیکھتے دیکھتے لوگوں کی اصلاح ہونی شروع ہو جاتی ہے۔ یہ بات ہے۔ کیونکہ ان کے اندر جو روحانیت ہوتی ہے وہ ایک Magnet ہے، وہ کشش ہے، وہ باقاعدہ باقی لوگوں کو کھینچتی ہے۔
میں آپ کو مثال دیتا ہوں۔ یہ ہمارا گھر تعمیر ہو رہا تھا نا ادھر مسجد صدیق اکبر، تو ایک مولوی صاحب تشریف لائے تھے مجھ سے ملنے کے لیے۔ ہم بات ہی کر رہے تھے اور ایک حافظ صاحب میرے شاگرد تھے وہ میرے پاس پہلے سے موجود تھے۔ تو حافظ صاحب نے جب اس مولوی صاحب کو دیکھا نا، مجھے کہا کہ یہ کون بزرگ ہیں؟ اس کو دیکھ کر تو میرا دل جاری ہو گیا۔ اور وہ مولوی صاحب جب آئے نا، مولوی صاحب نے مجھے کہا یہ حافظِ قرآن ہے؟ کہتے ہیں اس پہ قرآن کے انوارات ہیں۔ سبحان اللہ! یعنی قرآن کی برکت مولوی صاحب کو پتہ چل گیا اور مولوی صاحب کی روحانیت کا اس کو پتہ چل گیا۔ کس طریقے سے؟ اثر ہو گیا نا۔ اب کسی کا دل اگر جاری ہوتا ہے کسی کو دیکھ کر، تو اثر ہے نا اور کیا چیز ہے؟ کسی اور کو دیکھ کر کیوں نہیں ہوتا؟
تو اس طریقے سے مطلب یہ ہے کہ اگر ہم لوگ خود اپنے آپ کی اصلاح کر لیں نا، تو ان شاء اللہ دوسروں کو بھی فائدہ ہوگا۔ اور اگر ہم دوسروں کے پیچھے پڑے رہیں اور خود اپنی اصلاح نہیں کی، تو نہ دوسروں کی اصلاح ہوگی نہ اپنی ہوگی۔
جہاز میں جب ہم سفر کرتے ہیں نا تو اس میں ایک چیز بتاتے ہیں کہ اگر پریشر ایک دم کم ہو جائے تو آپ کے سامنے گرے گا ماسک۔ تو اگر آپ کے پاس کوئی Infant ہے، کوئی بچہ ہے گود میں، تو سب سے پہلے اپنے آپ کو ماسک لگائیں پھر اس کے بعد بچے کو لگائیں۔ اس پر غور کریں کیا وجہ ہے اس کی؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر آپ بچے کو لگا رہے ہیں اتنے میں آپ بے ہوش ہو گئے، تو بچہ بھی گیا آپ بھی گئے۔ اور اگر آپ اپنے آپ کو لگا رہے ہیں تو آپ تو محفوظ ہو گئے اور آپ بچے کو بھی کوشش کر سکتے ہیں بچانے کی۔ تو دونوں بچ سکتے ہیں۔ ورنہ کم از کم ایک تو بچ جائے گا۔
تو مسئلہ یہ ہے کہ انسان اپنے آپ پہ ذرا توجہ کرے، اپنے آپ کو ٹھیک کرے اور رمضان شریف اس کے لیے بہت ہی اچھا موقع ہے۔ اللہ پاک ہم سب سے کام لے لے اور ہمیں اس کی برکات نصیب فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ.
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔"