سورۃ آل عمران کا تعارف: محکمات، متشابہات اور فتنہ پروری سے بچاؤ

درس نمبر 110، سورۃ آل عمران: آیات: 1 تا 6

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

سورۃ آل عمران کی ابتدائی آیات کی تلاوت اور تفسیر۔

قرآن مجید بطور 'فرقان' (حق و باطل کی پہچان کرانے والی کتاب)۔

انسانی تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور نجران کے عیسائیوں کے وفد کا واقعہ۔

توحید اور عقلِ انسانی کی حدود اور کمزوریاں۔

آیاتِ محکمات اور متشابہات میں فرق، اور کھوج کرید کی ممانعت۔

فتنہ خلقِ قرآن، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی استقامت اور ابن ابی دؤاد کا عبرتناک انجام۔

سوشل میڈیا کے دور میں شکوک و شبہات (Confusions) اور فتنوں سے بچنے کی تلقین۔


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ!

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

الٓمّٓ ۝1 اللّٰهُ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ ۝2 نَزَّلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ وَ اَنْزَلَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ ۝3 مِنْ قَبْلُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَاَنْزَلَ الْفُرْقَانَ ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ ذُو انْتِقَامٍ ۝4 اِنَّ اللّٰهَ لَا یَخْفٰی عَلَیْهِ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِی السَّمَآءِ ۝5 هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُكُمْ فِی الْاَرْحَامِ كَیْفَ یَشَآءُ ؕ لَآ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ ۝6 هُوَ الَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰیٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ هُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَ اُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ ؕ

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ وَصَدَقَ رَسُولُهُ النَّبِيُّ الْكَرِيمُ۔

معزز خواتین و حضرات! آج الحمدللہ ہم سورۃ آل عمران شروع کر رہے ہیں۔ جو مدنی سورت ہے اور اس میں دو سو آیتیں ہیں اور بیس رکوع ہیں۔

شروع اللہ کے نام سے جو سب پر مہربان ہے بہت مہربان ہے۔ آلٓمٓ ﴿1﴾

(یہ تو حروف مقطعات میں سے ہے اس کا ترجمہ تو نہیں ہو سکتا)

اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، جو سدا زندہ ہے، جو پوری کائنات سنبھالے ہوئے ہے؛ ﴿2﴾ اس نے تم پر وہ کتاب نازل کی ہے جو حق پر مشتمل ہے جو اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرتی ہے، اور اسی نے تورات اور انجیل اتاریں ﴿3﴾ جو اس سے پہلے لوگوں کے لیے مجسم ہدایت بن کر آئی تھیں، اور اسی نے حق و باطل کو پرکھنے کا معیار نازل کیا۔

یہاں قرآن کریم نے لفظ "فرقان" استعمال کیا ہے جس کے معنی ہیں وہ چیز جو صحیح اور غلط کے درمیان فرق واضح کرنے والی ہو۔ قرآن کریم کا ایک نام "فرقان" بھی ہے، اس لئے کہ وہ حق و باطل کے درمیان امتیاز کرنے والی کتاب ہے۔ چنانچه بعض مفسرین نے یہاں "فرقان" سے قرآن ہی مراد لیا ہے۔ دوسرے مفسرین کا کہنا ہے کہ اس سے مراد وہ معجزات ہیں جو انبیائے کرام کے ہاتھ پر ظاہر کئے گئے اور جنہوں نے ان کی نبوت کا ثبوت فراہم کیا۔ نیز اس لفظ سے وہ تمام دلائل بھی مراد ہو سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں

بیشک جن لوگوں نے اللہ کی آیتوں کا انکار کیا ہے ان کے لئے سخت عذاب ہے، اور اللہ زبردست اقتدار کا مالک اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے ﴿4﴾ یقین رکھو کہ اللہ سے کوئی چیز چھپ نہیں سکتی، نہ زمین میں نہ آسمان میں ﴿5﴾

وہی ہے جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہ زبردست اقتدار کا بھی مالک ہے، اعلیٰ درجے کی حکمت کا بھی ﴿6﴾ (اے رسول!) وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے جس کی کچھ آیتیں تو محکم ہیں جن پر کتاب کی اصل بنیاد ہے، اور کچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔


یہاں پر دو باتیں ایسی کی گئی ہیں جن کی تشریح کی ضرورت ہے۔ ایک تو یہ کہ اللہ پاک نے فرمایا کہ جو ماؤں کے پیٹ میں جس طرح چاہتا ہے تمہاری صورتیں بناتا ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہ زبردست اقتدار کا بھی مالک ہے اعلیٰ درجے کی حکمت کا بھی۔

اگر انسان اپنی پیدائش کے مختلف مراحل پر غور کرے کہ وہ ماں کے پیٹ میں کس طرح پرورش پاتا ہے، اور کس طرح اس کی صورت دوسرے اربوں انسانوں سے بالکل الگ بنتی ہے کہ کبھی دو آدمی سو فیصد ایک جیسے نہیں ہوتے تو اسے یہ تسلیم کرنے میں دیر نہ لگے کہ یہ سب کچھ خدائے واحد کی قدرت اور حکمت کے تحت ہو رہا ہے۔ اس آیت میں اس حقیقت کو بیان کر کے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی وحدانیت اور حکمت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔ اس کے ساتھ اس سے ایک اور پہلو کی وضاحت بھی کی گئی ہے۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ شہر نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تھا، اور اس نے اپنے عقائد کے بارے میں آپ سے گفتگو کی تھی۔ سورۂ آل عمران کی کئی آیات اسی پس منظر میں نازل ہوئی ہیں۔ اس وفد نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدا کا بیٹا ہونے پر یہ دلیل بھی دی تھی کہ وہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے۔ یہ آیت اس دلیل کی تردید بھی کر رہی ہے۔ اشارہ یہ کیا گیا ہے کہ ہر شخص کی تخلیق اور صورت گری اللہ تعالیٰ ہی فرماتا ہے۔ اگرچہ اس نے معمول کا طریقہ یہ بنایا ہے کہ ہر بچہ کسی باپ کے ذریعے پیدا ہوتا ہے، لیکن وہ اس طریقے کا نہ پابند ہے نہ محتاج۔ لہٰذا وہ جب چاہے جس کو چاہے بغیر باپ کے پیدا کر سکتا ہے، اور اس سے کسی کا خدا یا خدا کا بیٹا ہونا لازم نہیں آتا۔

اصل میں واقعی لوگ مختلف وجوہات سے شیطان کی وجہ سے گمراہی کے گڑھے میں پڑ جاتے ہیں۔ کچھ زیادہ کچھ کم۔ مثلاً عیسیٰ علیہ السلام کا جو وجود مبارک ہے وہ اللہ جل شانہٗ نے معجزاتی طور پر، جبرائیل علیہ السلام کے نفخ سے بنایا۔ تو اس کا جواب قرآن میں دیا گیا ہے کہ آدم علیہ السلام تو بغیر باپ اور بغیر ماں کے پیدا ہوئے۔ عیسیٰ علیہ السلام کی تو ماں تھی۔ لیکن آدم علیہ السلام کے بارے میں تم لوگ تو یہ نہیں کہتے ہو؟ تو یہ کیا وجہ ہے؟

تو بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ ذرا بھی عجیب بات ہو جائے نا، تو اس کو مافوق الفطرت قرار دے کر اس کو پوجنے لگتے ہیں۔ یہ ہندو لوگ تو یہی کرتے ہیں۔ اب Corona ہے، Corona کے بھی انہوں نے بت بنا لیے۔ اور اس کو بھی پوجتے ہیں۔ وہ جس چیز سے ڈرتے ہیں، اس کو بھی خدا سمجھ لیتے ہیں۔ اور جس چیز کے بارے میں سمجھتے ہیں کہ اس سے ہمیں فائدہ ہوتا ہے، جیسے گائے۔ تو اس کو بھی اس میں شامل کر لیتے ہیں، پوجنے کے لائق ہوتی ہے۔ تو یہ ان کے ہاں یہ ضعیف الاعتقادی بہت زیادہ ہے۔

جبکہ یہود و نصاریٰ میں بھی یہ چیز تھی۔ اب یہود وہ بچھڑے والی بات میں جو پھنس گئے تھے۔ بھئی اس میں کون سی بات تھی؟ مطلب مثال کے طور پر وہ بچھڑا جو تھا وہ کیا کرتا تھا؟ اس سے ایک آواز نکلتی تھی۔ تو آواز نکلنا کوئی ایسی بات تو نہیں ہے نا جس کو خدا بنا۔۔ وہ تو بات بھی نہیں کر سکتا تھا۔ صرف ایک آواز نکلتی تھی تو اس کو خدا بنا لیا۔ تو وہ اس میں پھنس گئے تھے اور عیسائی جو ہیں، وہ اس میں پھنس گئے کہ عیسیٰ علیہ السلام چونکہ بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں تو خدائے یا خدا کا بیٹا۔ یہ اصل میں شیطان لوگوں کو اس طرح ورغلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔ تو یہ اس تناظر میں یہ آیت مبارکہ بعض مفسرین کے نزدیک نازل ہوئی ہے۔

جو دوسری بات اس میں ہوئی ہے کہ، (اے رسول!) وہی اللہ ہے جس نے تم پر کتاب نازل کی ہے جس کی کچھ آیتیں تو محکم ہیں جن پر کتاب کی اصل بنیاد ہے، اور کچھ دوسری آیتیں متشابہ ہیں۔

محکمات اور متشابہات میں کیا فرق ہے؟

اس آیت کو سمجھنے کے لئے پہلے اس حقیقت کا احساس ضروری ہے کہ اس کائنات کی بے شمار چیزیں ایسی ہیں جو انسان کی سمجھ سے بالاتر ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا وجود اور اس کی وحدانیت تو ایک ایسی حقیقت ہے جو ہر انسان اپنی عقل سے معلوم کر سکتا ہے، لیکن اس کی ذات اور صفات کی تفصیلات انسان کی محدود عقل سے ماورا ہیں۔ قرآن کریم نے جہاں اللہ تعالیٰ کی ان صفات کا ذکر فرمایا ہے، ان سے اللہ تعالیٰ کی قدرتِ کاملہ اور حکمتِ بالغہ ظاہر کی گئی ہے بالغہ ظاہر کی گئی ہے، لیکن کوئی شخص ان صفات کی حقیقت اور کنہ کی فلسفیانہ کھوج میں پڑ جائے تو حیرانی یا گمراہی کے سوا اسے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، کیونکہ وہ اپنی محدود عقل سے اللہ تعالیٰ کی ان لامحدود صفات کا احاطہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو اس کے ادراک سے باہر نہیں۔ مثلاً قرآن کریم نے کئی مقامات پر فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ایک عرش ہے، اور یہ کہ وہ اس عرش پر مستوی ہوا۔ اب یہ بات کہ وہ عرش کیسا ہے؟ اس پر اللہ تعالیٰ کے مستوی ہونے کا کیا مطلب ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب انسان کی عقل اور سمجھ سے بالاتر ہے، اور انسان کی زندگی کا کوئی عملی مسئلہ اس پر موقوف بھی نہیں۔ ایسی آیات جن میں اس قسم کے حقائق بیان کئے گئے ہیں متشابہات کہلاتی ہیں۔ اسی طرح مختلف سورتوں کے شروع میں جو حروف الگ الگ نازل کئے گئے ہیں، (مثلاً اسی سورت کے شروع میں الف، لام، میم) اور جنہیں حروفِ مقطعات کہا جاتا ہے وہ بھی متشابہات میں داخل ہیں۔ ان کے بارے میں قرآن کریم نے اس آیت میں یہ ہدایت دی ہے کہ ان کی کھود کرید میں پڑنے کے بجائے ان پر اجمالی طور سے ایمان رکھ کر ان کا صحیح مطلب اللہ تعالیٰ کے حوالے کرنا چاہئے۔ اس کے برعکس قرآن کریم کی دوسری آیتیں ایسی ہیں جن کا مطلب واضح ہے، اور درحقیقت وہی آیات ہیں جو انسان کے لئے عملی ہدایات فراہم کرتی ہیں، انہی آیات کو "محکم" آیتیں کہا گیا ہے۔ ایک مؤمن کو انہی پر خصوصی توجہ دینی چاہئے۔

متشابہات کے بارے میں صحیح طرزِ عمل بتلانا یوں بھی ضروری تھا، لیکن اس سورت میں اس وضاحت کی خاص وجہ یہ بھی تھی کہ نجران کے عیسائیوں کا جو وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا تھا اور جس کا ذکر اوپر کے حاشیہ میں گزرا ہے، اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خدا یا خدا کا بیٹا ہونے پر ایک دلیل یہ بھی پیش کی تھی کہ خود قرآن نے انہیں "کلمۃ اللہ" (اللہ کا کلمہ) اور "روح من اللہ" فرمایا ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی صفتِ کلام اور اللہ کی روح تھے۔ اس آیت نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ قرآن کریم ہی نے جگہ جگہ صاف لفظوں میں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کوئی اولاد نہیں ہو سکتی، اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا یا خدا قرار دینا شرک اور کفر ہے۔ ان واضح آیتوں کو چھوڑ کر "کلمۃ اللہ" کے لفظ کو پکڑ بیٹھنا اور اس کی بنیاد پر ایسی تاویلیں کرنا جو قرآن کریم کی محکم آیات کے بالکل برخلاف ہیں، دل کے ٹیڑھ کی علامت ہے۔ حقیقت میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو "کلمۃ اللہ" کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ باپ کے واسطے کے بغیر اللہ تعالیٰ کے کلمہ "کُن" سے پیدا ہوئے تھے (جیسا کہ قرآن کریم نے اسی سورت کی آیت: 59 میں بیان فرمایا ہے)۔ اور انہیں "روح من اللہ" اس لئے کہا گیا ہے کہ ان کی روح براہِ راست اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائی تھی۔ اب یہ بات انسان کی سمجھ سے بالاتر ہے کہ "کُن" سے پیدا کرنے کی کیفیت کیا تھی؟ اور براہِ راست ان کی روح کس طرح پیدا کی گئی؟ یہ اُمور متشابہات میں سے ہیں، اس لئے ان کی کھود کرید بھی منع ہے، (کیونکہ یہ باتیں انسان کی سمجھ میں آ ہی نہیں سکتیں) اور ان کی من مانی تاویل کر کے ان سے خدا کے بیٹے کا تصور برآمد کرنا بھی کج فہمی ہے۔

اس وقت جو ہماری موجودہ سائنس ہے، بہت ساری باتوں کو نہیں جانتی۔ اور اس کا وہ اقرار کرتے ہیں باقاعدہ۔ مثلاً Black holes، یہ Black holes اس کی جو Theory ہے وہ انسان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ وہ اس کے اندر کوئی گھس گیا تو واپس نہیں آ سکتا اور کسی اور کائنات میں نکل جائے گا اب یہ باتیں کر کے بس فارغ ہو گئے۔ اس سے آگے وہ کہتے ہیں "نہیں"۔ اب دیکھو جو چیزیں اللہ پاک نے پیدا فرمائی ہیں اور ہمارے سامنے ہیں، اس کو بھی ہم Research کرتے کرتے کرتے کرتے کتنے عرصے میں Discover کرتے ہیں۔ مثلاً ڈاکٹر صاحب یہ نیند کی جو Pathology کتنی Clear ہے؟

(ڈاکٹر صاحب: بہت کم Clear ہے)

اس طرح Brain کا کتنا حصہ سمجھا گیا ہے؟

(ڈاکٹر صاحب: بہت کم، بہت کم)

تو یہ تو موجود ہے سامنے۔ لیکن نہیں، مطلب ظاہر ہے وہ آدمی ٹھیک ہے Research کر رہا ہے جتنا جتنا وہ کرسکے۔ تو اس طریقے سے اللہ پاک کی صفات، اس کا جائزہ لینا وہ تو ہماری Range سے ہی باہر ہے۔ تو ہم کیسے اس کی کھوج کرید کر سکتے ہیں کہ یہ کیسا ہوگا؟

اور اس کا ہمیں کوئی حکم بھی نہیں ہے کہ ہم اس کو معلوم کر لیں۔ بلکہ اس میں غور کرنے سے روکا گیا ہے۔ ٹھیک ہے اجمالی طور پر تو ماننا ہے، لیکن اس کی کھوج کرید کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ علمائے راسخین کی تعریف کیا فرمائی گئی ہے؟ وہ تو کہتے ہیں بس جیسے اللہ نے فرمایا ہم اس کو مانتے ہیں۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہم لوگوں کو بھی بس اتنا ہی کرنا چاہیے کہ اللہ نے چونکہ فرمایا ہے تو ایسا ہی ہے۔ "الرَّحْمٰنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَىٰ"۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے کسی نے پوچھا کہ اس کا مطلب کیا ہے؟ فرمایا:"اَلِْاسْتِوَاءُ مَعْلُومٌ وَالْكَيْفُ مَجْهُولٌ وَالسُّؤَالُ عَنْهُ بِدْعَةٌ"۔ اس کے بارے میں سوال کرنا بدعت ہے۔ کیونکہ صحابہ نے نہیں کیا۔ جب نہیں کیا تو بس پھر ٹھیک ہے بس۔ تو اب یہ بات ہے کہ ہم لوگوں کو بھی اسی طرح کرنا چاہیے فتنہ خلقِ قرآن جو بنا ہوا تھا اس پہ کتنے لوگ بھٹک گئے اور کتنے گمراہ ہو گئے، اور امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ جیسے ولی اللہ کو کتنی تکلیفیں دی گئیں۔ وہ صرف اور صرف شیطان کی اس گمراہی پھیلانے کی وجہ سے ہوئی، کہ کچھ الفاظ نہ سمجھ میں آنے کی (وجہ سے کیوں کہ) وہ متشابہات تھے۔ اس پر لوگ گمراہ ہوئے۔ اور یہ فتنہ ختم کیسے ہوا؟ وہ تو چار پشتوں تک رہا تھا، بادشاہیوں تک، چار بادشاہیوں تک رہا تھا۔

تو ایک مجذوب نما عالم تھے۔ تو وہ اس طرح صف بالکل چیرتے ہوئے آ گئے۔ تو واثق باللہ بڑے جابر حکمران تھے لوہے کا خود پہنتے تھے۔ تو لوگوں نے منع کیا تو اس واثق باللہ نے کہا آنے دو، کیا کہہ رہا ہے؟ وہ آیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ابن ابی دؤاد سے ایک سوال کرنا ہے۔ اس نے کہا اے خبیث ابن ابی دؤاد! بتاؤ، تم جو کہتے ہو قرآن مخلوق ہے، اس کا اللہ کو پتہ تھا؟ دو سوال کرتا، اگر اللہ کو پتہ تھا تو کیا بتایا ہے؟ اگر اللہ کو پتہ نہیں تھا تو اے خبیث تجھے کیسے پتہ چلا؟ اور اگر اللہ کو پتہ تھا اور نہیں بتایا تو اے خبیث تو کیسے اس کے بارے میں بات کر رہا ہے؟ اور پھر اس نے کہا کہ کیا حضور ﷺ کو پتہ تھا؟ یہی سوال پھر اس کے بعد، تو اس طرح اس واثق باللہ پہ ایک حال طاری ہو گیا، وہ بس اس نے دربار برخاست کر دیا اور دربار سے اپنے گھر چلا گیا اور گھر جا کر ابن ابی دؤاد کی Termination کا Order issue کر دیا۔ اور ابن ابی دؤاد گھر جا رہا تھا تو گھر پہنچتے ہی اس پہ فالج گرا۔ بس پھر اس کا قصہ ختم۔ اس طریقے سے فتنہ ختم ہو گیا۔ لیکن اتنا بڑا فتنہ کہ پوری خلافت کو لرزا دیا۔ اور وہ چند عیسائیوں کی شرارت۔ تو اس پر عمل نہ کرنے کی وجہ سے کتنی بڑی سزا ملی۔ کہ اللہ پاک نے فرمایا جو علمائے راسخین جو کرتے ہیں بس تم کرو نا اس طرح۔ علمائے راسخین کا طریقہ بتا دیا ہے کہ بھئی ان چیزوں کے بارے میں انکار نہ کرو۔ ہاں! اس کا معاملہ اللہ پہ چھوڑ دو۔

بہت ساری باتیں ایسی ہیں، جیسے "معیتِ الٰہی" ہے۔ اللہ پاک ہمارے ساتھ ہے۔ کیسے ساتھ ہیں؟ نہیں معلوم۔ یقیناً ہمارے ساتھ ہے۔ اللہ پاک نے خود فرمایا کہ میں رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہوں۔ لیکن کیسے ہیں؟ یہ معلوم نہیں۔ تو ایسی چیزوں میں بالکل نہیں پڑنا اور آج کل Social media جو ہے، کوشش میں لگی ہوئی ہے کہ وہ ان چیزوں کی طرف لوگوں کو لارہی ہے پھر، اور لوگوں کو اس پہ Confuse کر رہی۔ اور چونکہ لوگوں کے پاس علم ہوتا نہیں ہے، تو اس پر سوچنے لگتے ہیں۔ جب اس پر سوچنے لگتے ہیں تو گمراہ ہونے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے۔


وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔




سورۃ آل عمران کا تعارف: محکمات، متشابہات اور فتنہ پروری سے بچاؤ - درسِ قرآن - پہلا دور