الحمد للہ رب العالمین، الصلوٰۃ والسلام علیٰ خاتم النبیین، اما بعد! فاعوذ باللہ من الشیطان الرجیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
یَسْأَلُونَکَ عَنِ الشَّہْرِ الْحَرَامِ قِتَالٍ فِیہِ ۖ قُلْ قِتَالٌ فِیہِ کَبِیرٌ ۖ وَصَدٌّ عَن سَبِیلِ اللہِ وَکُفْرٌ بِہِ وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَإِخْرَاجُ أَہْلِہٖ مِنْہُ أَکْبَرُ عِندَ اللہِ ۚ وَالْفِتْنَۃُ أَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ ۗ وَلَا یَزَالُونَ یُقَاتِلُونَکُمْ حَتَّىٰ یَرُدُّوکُمْ عَن دِینِکُمْ إِنِ اسْتَطَاعُوا ۚ وَمَن یَرْتَدِدْ مِنکُمْ عَن دِینِہِ فَیَمُتْ وَہُوَ کَافِرٌ فَأُولٰٓئِکَ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ ۖ وَأُولۤئِکَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ ھُمْ فِیہَا خَالِدُونَ
صدق اللہ العلی العظیم وصدق رسولہ النبی الکریم۔
لوگ آپ سے حرمت والے مہینے کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس میں جنگ کرنا کیسا ہے؟ آپ کہہ دیجیے کہ اس میں جنگ کرنا بڑا گناہ ہے، مگر لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنا، اس کے خلاف کفر کی روش اختیار کرنا، مسجدِ حرام پر بندش لگانا اور اس کے باسیوں کو وہاں سے نکال باہر کرنا اللہ کے نزدیک زیادہ بڑا گناہ ہے۔ اور فتنہ قتل سے بھی زیادہ سنگین چیز ہے۔ اور یہ (کافر) تم لوگوں سے برابر جنگ کرتے رہیں گے، یہاں تک کہ اگر ان کا بس چلے تو یہ تم کو تمہارے دین سے پھیرنے پر آمادہ کر دیں، اور اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا دین چھوڑ دے، اور کافر ہونے کی حالت ہی میں مرے، تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں اکارت ہو جائیں گے۔ ایسے لوگ دوزخ والے ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔
سورۃ توبہ میں چار مہینوں کو "اَشہرِ حُرم" کہا گیا ہے، یعنی "حرمت والے مہینے"۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ یہ چار مہینے رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم ہیں۔ ان مہینوں میں جنگ منع ہے، البتہ اگر کوئی دشمن حملہ کر دے تو اپنا دفاع کیا جا سکتا ہے۔ ایک مرتبہ ایک سفر کے دوران چند صحابہ کی کچھ مشرکین سے جھڑپ ہو گئی، اور مشرکین میں سے ایک آدمی عمرو بن امیہ ضمرى مسلمانوں کے ہاتھوں مارا گیا۔ یہ واقعہ جمادی الثانیہ کی 29 تاریخ کو واقع ہوا، لیکن اس شخص کے قتل ہوتے ہی رجب کا چاند نظر آ گیا۔ اس پر مشرکین نے مسلمانوں کے خلاف ایک طوفان مچا دیا کہ یہ لوگ حرمت والے مہینوں کا بھی پاس نہیں کر رہے ہیں۔ یہ آیت اس پروپیگنڈے کے پس منظر میں نازل ہوئی ہے۔ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ اوّل تو عمرو بن امیہ کا قتل غلط فہمی میں ہوا، جان بوجھ کر حرمت والے مہینے میں قتل نہیں کیا گیا، لیکن جو لوگ اس واقعے پر طوفان کھڑا کئے ہوئے ہیں، انہوں نے اس سے کہیں بڑے گناہوں کا ارتکاب کیا ہوا ہے۔ وہ لوگوں کو نہ صرف مسجدِ حرام سے روکتے ہیں، بلکہ جو لوگ حقیقتِ مسجدِ حرام میں عبادت کے اہل ہیں ان کے لئے زندگی بھی اجیرن بنا کر انہیں یہاں سے نکلنے پر مجبور کرتے ہیں، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں۔
یہ اصل میں ایک چلا آ رہا ہے نظام جو اہلِ باطل ہیں، وہ اہلِ حق کی غلطیوں کو اجاگر کرتے ہیں، بہت زیادہ واضح کرتے ہیں، تاکہ ان کو اپنی غلطیوں کا سپورٹ مل جائے۔ یہودیوں میں یہ چیز بہت زیادہ تھی، وہ جب کوئی غلطی کرتے تھے تو وہ پیغمبروں کے بارے میں کہتے کہ وہ بھی تو اس طرح کرتے تھے۔ ان کے ساتھ بھی ایسی غلط باتیں منسوب کر دی جو کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا، صرف اپنی بات کو بچانے کے لیے۔
حضرت تھانوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر کافی بحث فرمائی، فرمایا کہ ہم لوگ اگر اپنے بڑوں کو ڈھال بنا لیں اپنی غلطیوں کا، یہ بہت بڑا جرم ہے، اس کے بجائے ایسا ہونا چاہیے کہ ہمیں ان کے لیے ڈھال بننا چاہیے۔ یعنی ہم اپنے سر پہ لے لیں، ان کی طرف بات کو نہ جانے دیں۔ لیکن وہ لوگ اس طرح کرتے ہیں۔
تو یہ عادت بری یہ بہت پہلے سے چلی آ رہی ہے۔ مشرکینِ مکہ جو تھے یہ بھی کوئی موقع ایسا ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے، جس میں کوئی پروپیگنڈا کی بات ان کو ہاتھ میں آتی ہو اور وہ اس کو چھوڑ دیں۔ اور اس طرح جو اہلِ کتاب تھے، یہود و نصاریٰ تھے، وہ بھی ایسے ہی کرتے تھے۔ تو یہاں پر اللہ جل شانہ نے واضح فرما دیا کہ جو اشھر حرم ہیں، یہ اس میں واقعتاً تو کوئی مطلب قتال کرنا یہ بڑا گناہ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑے گناہ ہیں۔
تو جو لوگ اس کے مرتکب ہوتے ہیں، تو وہ اس کی بنیاد پر وہ نہ ہی بات کریں، کیونکہ وہ تو اس سے بھی زیادہ غلطی پر ہے۔ مثال کے طور پر ہر مسجدِ حرام سے روکنے والے۔ اور ایسے لوگ جو کہ اس کے اھل ہیں، وہاں ان کو نہ آنے دینا، ان کی زندگی کو اجیرن کرنا یہ تو اس سے بھی زیادہ بڑا جرم ہے۔ تو وہ تو اس جرم کے ارتکاب کر رہے ہیں۔ تو یہ تو صرف ایک غلط فہمی والا واقعہ ہوا تھا کہ اس وقت تو رجب کا چاند نظر نہیں آیا تھا، تو جب تک نظر نہ آئے تو اس وقت تک حکم ہی نہیں لگتا۔ لیکن بہر حال یہ لوگ اس سے بھی زیادہ غلطی کر چکے ہیں۔ اس لیے ہمیں یہ خیال رکھنا چاہیے کہ ان کے اس جرم کو دیکھ کر اس بات کے اوپر زیادہ زور نہیں دینا چاہیے، کیونکہ غلط فہمی کی وجہ سے ہوا ہے، اور غلط فہمی جو ہوتی ہے وہ قابلِ معافی ہوتی ہے۔ لیکن بہر حال یہ ہے کہ اس کے بارے میں صاف واضح اعلان کر دیا گیا کہ ان مہینوں میں قتال کرنا بڑا گناہ ہے۔ اس وجہ سے آئندہ کے لیے اس سے بچتے رہیں۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ، وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔
تجزیہ اور خلاصہ:
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: حرمت والے مہینوں میں جنگ کی ممانعت اور کفار کی مکاری۔
متبادل عنوان: فتنہ و فساد کی سنگینی اور حقائق کی غلط ترجمانی کا انجام۔
اہم موضوعات:
سورہ بقرہ کی آیت (217) کی تفسیر۔
حرمت والے مہینوں (اشھر الحرام) میں جنگ کے احکامات۔
کفار کا پروپیگنڈا اور غلط فہمی پیدا کرنا۔
کفار کے سنگین جرائم (اللہ کے راستے سے روکنا، مسجدِ حرام پر بندش)۔
اپنے بڑوں کی غلطیوں کو اپنی ڈھال بنانے کی مذمت۔
تاریخی پس منظر (عمرو بن امیہ ضمرہ کا واقعہ)۔