استقبالِ رمضان اور فضائلِ رمضان: حضرت شیخ الحدیث کی تعلیمات کی روشنی میں

فضائل رمضان، فصل اول، رمضان کی فضیلت

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

رمضان المبارک کی آمد اور اس کی قدردانی کی اہمیت۔

حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب "فضائلِ رمضان" کا تعارف اور باقاعدہ درس کا آغاز۔

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اکابر کے جذبہِ عبادت کا موجودہ دور کی غفلت سے موازنہ۔

رمضان میں ہدایت پھیلانے اور دینی کتب سنانے کی ترغیب۔

فضائلِ رمضان کے درس کی ترتیب (احادیثِ فضائل، شبِ قدر اور اعتکاف)

ابھی ہم نے ایک سلسلہ شروع کرنا ہے، چونکہ رمضان شریف کی آمد آمد ہے اور یہ بڑے قیمتی دن ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس کی قدر دانی کی توفیق عطا فرمائے۔ تو اس وجہ سے ہمارا خیال یہ ہے کہ ہم جو فضائلِ رمضان ہے، اس کو ابھی سے شروع کر لیں۔ تاکہ ہم سب کے ذہنوں میں یہ بیٹھ جائے۔ تو اس پر بہت زبردست کتاب جو حضرت مولانا زکریا صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی ہے "فضائلِ رمضان"، تو اس کو شروع کرتے ہیں۔ تو اس طرح باقی پروگراموں کے ساتھ ساتھ یہ بھی ساتھ چلائیں گے ان شاءاللہ۔ تاکہ اس سے مستفید ہوں اور ہمارا استحضار ان اعمال کی طرف زیادہ ہو جائے جو رمضان شریف میں کرنے ہیں۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نَحْمَدُهٗ وَنُصَلِّيْ عَلٰى رَسُوْلِهِ الْكَرِيْمِ حَامِدًا وَمُصَلِّيًا وَمُسَلِّمًا

حمد و صلوٰۃ کے بعد یہ چند احادیث کا ترجمہ ہے جو رمضان المبارک کے بارے میں وارد ہوئی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی رحمۃ للعالمین ذات نے مسلمانوں کے لئے ہر باب میں جس قدر فضائل اور ترغیبات ارشاد فرمائی ہیں، ان کا اصل شکریہ اور قدر دانی تو یہ تھی کہ ہم ان پر مر مٹتے، مگر ہماری کوتاہیاں اور دینی بے رغبتیاں اس قدر روز افزوں ہیں کہ ان پر عمل تو درکنار، ان کی طرف التفات اور توجہ بھی نہیں رہی۔ حتیٰ کہ اب لوگوں کو ان کا علم بھی بہت کم ہو گیا ہے۔

ان اوراق کا مقصد یہ ہے کہ اگر مساجد کے ائمہ، تراویح کے حفاظ، اور وہ پڑھے لکھے حضرات، جن کو دین کی کسی درجہ میں بھی رغبت ہے، اوائلِ رمضان میں اس رسالہ کو مساجد اور مجامع میں سنا دیا کریں

جو بھی خطیب حضرات ہیں، ائمہ حضرات ہیں، جن کے ساتھ لوگ بیٹھ سکتے ہیں، تو مطلب یہ ہے کہ وہ کر لیا کریں تو ان شاءاللہ اس سے ان کو بھی فائدہ ہوگا اور باقی لوگوں کو بھی فائدہ ہوگا۔

تو اللہ کی رحمت سے کیا بعید ہے کہ اپنے محبوب کے کلام کی برکت سے ہم لوگوں کو مبارک مہینے کی کچھ قدر اور اس کی برکات کی طرف کچھ توجہ ہو جایا کرے، اور نیک اعمال کی زیادتی اور بداعمالیوں کی کمی کا ذریعہ بن جایا کرے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اگر حق تعالیٰ شانہٗ تیری وجہ سے ایک شخص کو بھی ہدایت فرما دیں، تو تیرے لئے سرخ اونٹوں سے (جو عمدہ مال شمار ہوتا ہے) بہتر اور افضل ہے ۔

رمضان المبارک کا مہینہ مسلمانوں کیلئے حق تعالیٰ شانہٗ کا بہت ہی بڑا انعام ہے، مگر جب ہی کہ اس انعام کی قدر بھی کی جائے، ورنہ ہم سے محروموں کے لئے ایک مہینہ تک رمضان رمضان چلائے جانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔

ایک حدیث میں ہے کہ اگر لوگوں کو یہ معلوم ہو جائے کہ رمضان کیا چیز ہے تو میری امت یہ تمنا کرے کہ سارا سال رمضان ہی ہو جائے۔ ہر شخص سمجھتا ہے کہ سال بھر کے روزے رکھنا کارِ دارد، مگر رمضان المبارک کے ثواب کے مقابلہ میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ لوگ اس کی تمنا کرنے لگیں۔

ایک حدیث میں ارشاد ہے کہ رمضان المبارک کے روزے اور ہر مہینے میں تین روزے رکھنا دل کے کھوٹ اور وساوس کو دور کرتا ہے۔ آخر کوئی بات تو ہے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رمضان کے مہینے میں جہاد کے سفر میں، باوجود نبی کریم ﷺ کے بار بار افطار کی اجازت فرما دینے کے، روزہ کا اہتمام فرماتے، حتیٰ کہ حضور ﷺ کو حکماً منع فرمانا پڑا۔

حدیث میں ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک غزوہ کے سفر میں ایک منزل پر اترے، گرمی نہایت سخت تھی اور غربت کی وجہ سے اس قدر کپڑا بھی سب کے پاس نہ تھا کہ دھوپ کی گرمی سے بچاؤ کر لیں، بہت سے لوگ اپنے ہاتھ سے آفتاب کی شعاع سے بچتے تھے، اس حالت میں بھی بہت سے روزے دار تھے، جن سے کھڑے ہو سکنے کا تحمل نہ ہوا اور گر گئے۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت گویا ہمیشہ تمام سال روزے دار ہی رہتی تھی۔

نبی کریم ﷺ سے سینکڑوں روایات میں مختلف انواع کے فضائل نقل کئے گئے،

میں اکثر یہ حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ اور جیسے ہمارے ایسے اکابر کو جب پڑھتا ہوں ان کے بارے میں، تو میں حیران ہوتا ہوں کہ کیسے یہ اس طرح کرتے تھے۔ تو ان جو کلمات ہیں جو ابھی فرما رہے ہیں، اس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی نظر کن پر تھی؟ ان کی نظر صحابہ پر تھی۔

تو اپنے ان اعمال کو کچھ بھی نہیں سمجھتے تھے۔ ہماری نظر ہم جیسے لوگوں پر ہے، تو مطلب ظاہر ہے پھر تو ویسے ہی ہوگا۔۔۔ بھئی وہ فلاں تو دو نمازیں پڑھتے ہیں میں تو تین پڑھتا ہوں، خدا کے بندے پانچ نمازیں ہیں! مطلب یہ ہے کہ ہم لوگوں کی نظریں اپنے جیسے لوگوں پر ہے، ان کی نظریں صحابہ پر تھیں، اب دیکھو نا کیا فرما رہے ہیں۔۔۔ اللہ اکبر۔

نبی کریم ﷺ سے سینکڑوں روایات میں مختلف انواع کے فضائل نقل کئے گئے، جن کا احاطہ تو مجھ جیسے ناکارہ کے امکان سے خارج ہے،

یہ حضرت ویسے نہیں فرما رہے تھے، بالکل دل کے اندر سے فرماتے تھے کہ ناکارہ۔

لیکن میرا یہ بھی خیال ہے کہ اگر ان کو کچھ تفصیل سے لکھوں تو دیکھنے والے اکتا جائیں گے، کہ اس زمانہ میں دینی امور میں جس قدر بے التفاتی کی جا رہی ہے وہ محتاجِ بیان نہیں۔ علم و عمل دونوں میں جس قدر بے پرواہی دین کے بارے میں بڑھتی جا رہی ہے وہ ہر شخص اپنی ہی حالت میں غور کرنے سے معلوم کر سکتا ہے، اس لئے اکیس حدیث پر اکتفا کرتا ہوں اور ان کو تین فصلوں پر منقسم کرتا ہوں۔

فصلِ اول: رمضان المبارک کے فضائل میں، جس میں دس (10) احادیث مذکور ہیں۔ دوسری فصل: شبِ قدر کے بیان میں، جس میں سات (7) حدیثیں ہیں۔ تیسری فصل: میں اعتکاف کا ذکر ہے، جس میں تین (3) حدیثیں ہیں، اس کے بعد خاتمہ میں ایک طویل حدیث پر اس رسالہ کو ختم کر دیا۔ حق تعالیٰ شانہٗ اپنی کریم ذات اور اپنے محبوب ﷺ کے طفیل اس کو قبول فرماویں اور مجھ سیاہ کار کو بھی اس کی برکات سے انتفاع کی توفیق عطا فرماویں۔

فَإِنَّهٗ بَرٌّ جَوَادٌ كَرِيْمٌ

تو یہ ماشاءاللہ آج الحمدللہ شروعات تو ہو گئی، اور اس پر ان شاءاللہ ہم عمل کریں گے کہ ہر Program کے ساتھ ہم کچھ حصہ فضائلِ رمضان کا ان شاءاللہ پڑھیں گے۔ تو اس کی برکت سے ہمارا جو معمول ہے وہ بھی جاری رہے گا ان شاءاللہ۔ لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی کہ جو فضائلِ رمضان ہے، وہ بھی سلسلہ چل پڑے گا۔

تو اللہ جل شانہٗ ہم سب کو قبول فرمائے۔ اور جیسے حضرت نے ماشاءاللہ اتنے پیارے انداز سے اس کو شروع کروایا، اس طرح اس کو پیار سے ہم سنیں بھی اور اس کا اثر بھی لیں۔ ہمارے مشائخ نے الحمدللہ بہت محنت کی ہے، الحمدللہ۔ اور اللہ نے ان کو بہت نوازا تھا۔ وہ جو عاجزی ان میں تھی اور جو تقویٰ ان میں تھا اور جو بصیرت ان میں تھی، یہ بہت قیمتی چیزیں ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ ان کی برکت سے ہمیں بھی عطا فرمائے۔

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ


استقبالِ رمضان اور فضائلِ رمضان: حضرت شیخ الحدیث کی تعلیمات کی روشنی میں - فضائل رمضان