اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیِّیْنَ اَمَّا بَعْدُ
فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ، بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔
لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَمَا فِي الْاَرْضِ ؕ وَاِنْ تُبْدُوْا مَا فِيْٓ اَنْفُسِكُمْ اَوْ تُخْفُوْهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللّٰهُ ؕ فَيَغْفِرُ لِمَنْ يَّشَآءُ وَيُعَذِّبُ مَنْ يَّشَآءُ ؕ وَاللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ ﴿284﴾ اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُوْنَ ؕ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلٰٓئِكَتِهٖ وَكُتُبِهٖ وَرُسُلِهٖ ۟ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۟ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا ٭ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ ﴿285﴾
لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا ؕ لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ ؕ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَآ اِنْ نَّسِيْنَآ اَوْ اَخْطَاْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَآ اِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهٖ ۚ وَاعْفُ عَنَّا ۪ وَاغْفِرْ لَنَا ۪ وَارْحَمْنَا ۪ اَنْتَ مَوْلٰىنَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِيْنَ ﴿286﴾
صَدَقَ اللہُ الْعَلِیُّ الْعَظِیْمُ، وَصَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْمُ۔
جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ اور جو باتیں تمہارے دلوں میں ہیں، خواہ تم ان کو ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ تم سے ان کا حساب لے گا۔
آگے آیت نمبر 286 (یعنی جو اس کے بعد آنے والی ہے) کے پہلے جملے نے واضح کر دیا کہ انسان کے اختیار کے بغیر جو خیالات اس کے دل میں آ جاتے ہیں، ان پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ لہٰذا اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان جان بوجھ کر جو غلط عقیدہ دل میں رکھے، یا کسی گناہ کا سوچ سمجھ کر بالکل پکا ارادہ کر لے تو اس کا حساب ہو گا۔
اصل میں ایک ہوتا ہے وسوسہ۔ وسوسہ وہ ہوتا ہے جو انسان کے ارادے کے بغیر آتا ہے۔ یعنی انسان کا اس پہ کوئی کنٹرول نہیں ہوتا۔ تو وہ معاف ہے۔ لیکن جو بات انسان اپنے ارادے سے لائے، یعنی کوئی ارادہ کر لے ابھی اس نے ظاہر نہیں کیا لیکن اس کے دل کے اندر وہ ارادہ موجود ہے۔ تو اس کا پھر حساب ہو گا کیونکہ اگر وہ غلط ہے تو غلط ہو گا اور اگر صحیح ہے تو اس پر ثواب ہو گا۔
مثال کے طور پر ایک آدمی مسجد بنانے کا ارادہ کر لے۔ تو اس کی نیت ہے، بعد میں پورا نہیں ہو سکا لیکن اس نیت کا بھی اس کو اجر ملے گا۔ لیکن اگر کسی گناہ کا ارادہ کر لیا کہ میں نے جا کر فلاں کرنا ہے، تو وہ پھر یہ ہے کہ اس پہ ہو سکتی ہے پکڑ۔
پھر جس کو چاہے گا معاف کر دے گا اور جس کو چاہے گا سزا دے گا۔ اور اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ﴿284﴾ یہ رسول (یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اور (ان کے ساتھ) تمام مسلمان بھی۔ یہ سب اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں۔ (وہ کہتے ہیں کہ) ہم اس کے رسولوں کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے (کہ کسی پر ایمان لائیں، کسی پر نہ لائیں) اور وہ یہ کہتے ہیں کہ: "ہم نے (اللہ اور رسول کے احکام کو توجہ سے) سن لیا ہے، اور ہم خوشی سے (ان کی) تعمیل کرتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار! ہم آپ کی مغفرت کے طلب گار ہیں۔ اور آپ ہی کی طرف ہمیں لوٹ کر جانا ہے۔" ﴿285﴾
اللہ کسی بھی شخص کو اس کی وسعت سے زیادہ ذمہ داری نہیں سونپتا۔ اس کو فائدہ بھی اسی کام سے ہو گا جو وہ اپنے ارادے سے کرے، اور نقصان بھی اسی کام سے ہو گا جو اپنے ارادے سے کرے۔
یعنی دیکھیں لَا يُكَلِّفُ اللهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا، "اللہ پاک کسی کو ذمہ دار نہیں بناتے مگر وہ جو اس کی وسعت ہو"۔ لَهَا مَا كَسَبَتْ یعنی اس کے لیے وہی ہے جو اس نے ارادہ کر لیا جس کا۔ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ "اور اس کے اوپر وہی ہے یعنی اس کا نقصان اس کو ہو گا جس کا وہ ارادہ کرے"۔ مطلب یہ ہے کہ اپنے ارادے سے جو نیک کام کا ہو گا وہ اس کا فائدہ ہو گا اور جو برائی کا ارادہ ہو گا تو اس کا نقصان ہو گا۔
(مسلمانو! اللہ سے یہ دعا کیا کرو کہ:) "اے ہمارے پروردگار! اگر ہم سے کوئی بھول چوک ہو جائے تو ہماری گرفت نہ فرمائیے۔ اور اے ہمارے پروردگار! ہم پر اس طرح کا بوجھ نہ ڈالئے جیسا آپ نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالا تھا۔ اور اے ہمارے پروردگار! ہم پر ایسا بوجھ نہ ڈالئے جسے اٹھانے کی ہم میں طاقت نہ ہو۔ اور ہماری خطاؤں سے درگزر فرمائیے، ہمیں بخش دیجئے، اور ہم پر رحم فرمائیے۔ آپ ہی ہمارے حامی و ناصر ہیں، اس لئے کافر لوگوں کے مقابلے میں ہمیں نصرت عطا فرمائیے۔" ﴿286﴾
چونکہ یہاں پر اللہ پاک کی طرف سے اس دعا کے لیے یہ فرمایا گیا ہے، تو اس وجہ سے ہمیں بھی یہ دعا کرنا چاہیے کہ اللہ پاک ہم سب ہم پر وہ کام نہ ڈالے جو ہم کر نہ سکیں۔
رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِن نَّسِيْنَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهٗ عَلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنتَ مَوْلَانَا فَانصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ۔ آمین۔
اللہ کا شکر ہے الحمدللہ کہ اس کے ساتھ سورہ بقرہ پورا ہو گیا ترجمے کے ساتھ۔ اللہ جل شانہٗ قرآن پاک کے جملہ برکات عطا فرمائے اور باقی قرآن اس کو بھی صحیح طریقے سے سمجھ کے ساتھ پڑھنے کی اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اس کے جملہ انوارات ہم کو نصیب فرما دے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔
رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
وَتُبْ عَلَیْنَا اِنَّکَ اَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ
سُبْحٰنَ رَبِّکَ رَبِّ الْعِزَّۃِ عَمَّا یَصِفُوْنَ وَسَلَامٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ
وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ بِرَحْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ۔
تجزیہ اور خلاصہ
بمقام: خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ، راولپنڈی (www.tazkia.org)
سب سے جامع عنوان: سورہ بقرہ کی آخری آیات کی تفسیر اور ارادے کی اہمیت
متبادل عنوان: وسعتِ انسانی اور اللہ کی رحمت: سورہ بقرہ کا اختتام
اہم موضوعات:
دل کے خیالات کا محاسبہ: وسوسہ اور ارادی گناہ کے درمیان فرق کی وضاحت۔
ایمانِ کامل: رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین کے ایمان کی بنیادیں اور تمام انبیاء پر ایمان۔
انسانی وسعت: اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی نفس پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالنے کا اصول۔
جامع قرآنی دعا: سورہ بقرہ کی آخری آیات میں موجود دعاؤں کی اہمیت اور ان کا پس منظر۔
سورہ بقرہ کی تکمیل: سورہ بقرہ کے ترجمہ و تفسیر کے مکمل ہونے پر شکرانہ اور دعائیہ کلمات