اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ
وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِيِّيْنَ
اَمَّا بَعْدُ
فَاَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا تَدَايَنْتُمْ بِدَيْنٍ اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى فَاكْتُبُوْهُ ؕ وَلْيَكْتُبْ بَّيْنَكُمْ كَاتِبٌۢ بِالْعَدْلِ ۪ وَلَا يَاْبَ كَاتِبٌ اَنْ يَّكْتُبَ كَمَا عَلَّمَهُ اللّٰهُ فَلْيَكْتُبْ ۚ وَلْيُمْلِلِ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ وَلَا يَبْخَسْ مِنْهُ شَيْـًٔا ؕ فَاِنْ كَانَ الَّذِيْ عَلَيْهِ الْحَقُّ سَفِيْهًا اَوْ ضَعِيْفًا اَوْ لَا يَسْتَطِيْعُ اَنْ يُّمِلَّ هُوَ فَلْيُمْلِلْ وَلِيُّهٗ بِالْعَدْلِ ؕ وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِيْدَيْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْ ۚ فَاِنْ لَّمْ يَكُوْنَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ اَنْ تَضِلَّ اِحْدٰىهُمَا فَتُذَكِّرَ اِحْدٰىهُمَا الْاُخْرٰى ؕ وَلَا يَاْبَ الشُّهَدَآءُ اِذَا مَا دُعُوْا ؕ وَلَا تَسْـَٔمُوْٓا اَنْ تَكْتُبُوْهُ صَغِيْرًا اَوْ كَبِيْرًا اِلٰٓى اَجَلِهٖ ؕ
ذٰلِكُمْ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِ وَاَقْوَمُ لِلشَّهَادَةِ وَاَدْنٰىٓ اَلَّا تَرْتَابُوْٓا اِلَّآ اَنْ تَكُوْنَ تِجَارَةً حَاضِرَةً تُدِيْرُوْنَهَا بَيْنَكُمْ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ اَلَّا تَكْتُبُوْهَا ؕ وَاَشْهِدُوْٓا اِذَا تَبَايَعْتُمْ ۪ وَلَا يُضَآرَّ كَاتِبٌ وَّلَا شَهِيْدٌ ۬ؕ وَاِنْ تَفْعَلُوْا فَاِنَّهٗ فُسُوْقٌۢ بِكُمْ ؕ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ؕ وَيُعَلِّمُكُمُ اللّٰهَ ؕ وَاللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ ﴿282﴾ وَاِنْ كُنْتُمْ عَلٰى سَفَرٍ وَّلَمْ تَجِدُوْا كَاتِبًا فَرِهٰنٌ مَّقْبُوْضَةٌ ؕ فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُكُمْ بَعْضًا فَلْيُؤَدِّ الَّذِي اؤْتُمِنَ اَمَانَتَهٗ وَلْيَتَّقِ اللّٰهَ رَبَّهٗ ؕ وَلَا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ ؕ وَمَنْ يَّكْتُمْهَا فَاِنَّهٗٓ اٰثِمٌ قَلْبُهٗ ؕ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِيْمٌ ﴿283﴾
صَدَقَ اللّٰهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ و صدق رسوله النبی الکریم۔
ایک آیت ہے۔ اور یہ میرے خیال میں قرآن پاک کی سب سے لمبی آیت ہے۔
اے ایمان والو! جب تم کسی معین میعاد کے لئے اُدھار کا کوئی معاملہ کرو تو اسے لکھ لیا کرو، اور تم میں سے جو شخص لکھنا جانتا ہو انصاف کے ساتھ تحریر لکھے، اور جو شخص لکھنا جانتا ہو، لکھنے سے انکار نہ کرے۔ جب اللہ نے اسے یہ علم دیا ہے تو اسے لکھنا چاہئے۔ اور تحریر وہ شخص لکھوائے جس کے ذمے حق واجب ہو رہا ہو، اور اسے چاہئے کہ وہ اللہ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے اور اس (حق) میں کوئی کمی نہ کرے۔
یہ قرآن کریم کی سب سے طویل آیت ہے، اور اس میں سود کی حرمت بیان کرنے کے بعد اُدھار خرید و فروخت کے سلسلے میں اہم ہدایات دی گئی ہیں، جن کا مقصد یہ ہے کہ تمام معاملات صفائی کے ساتھ ہوں۔ اگر کوئی اُدھار کسی کے ذمے واجب ہو رہا ہو تو اسے ایسی تحریر لکھنی یا لکھوانی چاہئے جو معاملے کی نوعیت کو واضح کر دے۔ اس تحریر میں پوری بات لاگ لپیٹ کے بغیر لکھنی چاہئے اور کسی کا حق مارنے کے لئے تحریر میں کتر بیونت سے پرہیز کرنا چاہئے۔
معاملے کا بہت اہم اصول یہ ہے، معاملات کا، کہ اس میں Clarity ہو، Transparency ہو۔ ساری چیز واضح ہو۔ اس میں کوئی چیز چھپی ہوئی نہ ہو، ذو معنی بات نہ ہو، بلکہ واضح بات ہو۔
قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا، اس میں یہ بھی بات آ جاتی ہے۔ تو سب سے بڑی بات یہ ہے کہ معاملات میں چونکہ مالیات کا مسئلہ بھی ہوتا ہے، تو اس وجہ سے نفس حق کی طرف جانے میں کافی پس و پیش کرتا ہے۔ جہاں دو روپے کا مسئلہ آ جاتا ہے تو بہت سارے لوگوں کے نیتوں میں فتور آ جاتا ہے۔ تو اس وجہ سے بعد میں لڑائی کے سامان سے بچنے کے لیے اس میں ایسا انتظام کیا جاتا ہے کہ ایسا واقعہ نہ ہو سکے۔
مثلاً یہ فرمایا کہ اگر کوئی ادھار کا لین دین ہو، تو لکھ لیا کرو۔ لکھنے میں یہ بات ہے کہ وہ ریکارڈ ہوگا۔ اور بوقتِ نزاع اس کو دیکھا جائے گا کہ کیا ہوا تھا۔ لکھنے سے کافی چیزیں کلیئر ہوتی ہیں۔ جو ہمارے دفتروں میں File work ہوتا ہے، تو انسان بہت بھی چھپ جاتا ہے نا، لیکن اگر منصف آدمی ہو، صحیح فیصلہ کرنا چاہتا ہو، تو فائلوں سے صحیح بات نکل آتی ہے۔ پتہ چل جاتا ہے کہ کہاں پر گڑبڑ ہوئی ہے۔ تو لکھنے میں بڑا فائدہ ہے۔ تو فرمایا کہ لکھ لیا کرو۔
اور لکھنا اس کے ذمے واجب ہے جس کے ذمے کوئی چیز واجب ہو رہی ہو، مثلاً کوئی قرض لے رہا ہو، تو اس کو لکھنا چاہیے یا لکھوانا چاہیے۔ ایک تو یہ بات ہے اور دوسری اس میں یہ بات ہے کہ تحریر بالکل واضح لکھنی چاہیے، اس میں کوئی اپنی طرف سے لاگ لپیٹ نہیں کرنی چاہیے، جو بات ہو اسی طریقے سے لکھنی چاہیے۔ یہ اصل میں واقعی بہت بڑا اصول ہے جس کو کہتے ہیں معاملات کا، کہ اس میں کوئی چیز ذو معنی نہ لکھی جائے جس کے دو معنی ہو سکتے ہوں۔
ہاں اگر وہ شخص جس کے ذمے حق واجب ہو رہا ہے ناسمجھ یا کمزور ہو یا (کسی اور وجہ سے) تحریر نہ لکھوا سکتا ہو تو اس کا سرپرست انصاف کے ساتھ لکھوائے۔ اور اپنے میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو، ہاں اگر دو مرد موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ان گواہوں میں سے ہو جائیں جنہیں تم پسند کرتے ہو، تاکہ اگر ان دو عورتوں میں سے ایک بھول جائے تو دوسری اسے یاد دلا دے۔
یہ وہ شہادت کا قانون ہے جس پہ کافی نزاع بعض لوگ کرتے ہیں، خصوصاً خواتین۔ اصل میں کوئی اپنی کمزوری کو خود تسلیم نہیں کرتا۔ اور اللہ جل شانہٗ حق بتانے میں، جیسے پہلے ارشاد ہوا ہے کہ، شرماتے نہیں۔ تو اس وجہ سے جو چیز ہے وہی بتائی جاتی ہے۔ تو عورتوں میں کچھ کمزوریاں ہیں اور کچھ نزاکتیں ہیں، اس وجہ سے ان کو ایسی چیزوں سے دور رکھا جاتا ہے بلاوجہ کے۔ تاکہ ان کو کوئی پریشانی لاحق نہ ہو۔ ایک بات۔ یعنی ذمہ داری ان پہ زیادہ نہیں ڈالی جاتی۔ ایسی چیزوں کی جس میں لڑائی وڑائی کا خطرہ ہو۔
تو یہ کام مردوں کے حوالے کیے جاتے ہیں۔ تو شہادت دینے میں بھی یہ بات ہوتی ہے کہ اس میں کافی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر حق بتایا نہ جائے تو اپنا جرم، اور بتایا جائے تو دشمن ہو جاتے ہیں لوگ۔ تو اس وجہ سے ان کے بارے میں، ایک تو یہ بات ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر ایک بھول جائے تو دوسرا اس کو یاد دلائے، دوسری اس کو یاد دلائے۔ یعنی بعض دفعہ عورتیں جذباتیت میں کوئی چیز بھول جاتیں ہیں۔ تو جب دوسری بھی ہوگی تو اس کو یاد دلا دے گی۔
اور جب گواہوں کو (گواہی دینے کے لئے) بلایا جائے تو وہ انکار نہ کریں۔
مطلب یہ ہے کہ یہ ان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ صحیح بات بتائیں۔
اور جو معاملہ اپنی میعاد سے وابستہ ہو، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا، اسے لکھنے سے اکتاؤ نہیں۔
یہ بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف اور گواہی کو درست رکھنے کا بہتر ذریعہ ہے، اور اس بات کی قریبی ضمانت ہے کہ تم آئندہ شک میں نہیں پڑو گے۔ ہاں اگر تمہارے درمیان کوئی نقد لین دین کا سودا ہو تو اس کو نہ لکھنے میں تمہارے لئے کچھ حرج نہیں ہے۔ اور جب خرید و فروخت کرو تو گواہ بنا لیا کرو۔ اور نہ لکھنے والے کو کوئی تکلیف پہنچائی جائے، نہ گواہ کو۔ اور اگر ایسا کرو گے تو یہ تمہاری طرف سے نافرمانی ہو گی۔ اور اللہ کا خوف دل میں رکھو۔ اللہ تمہیں تعلیم دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ﴿282﴾
یعنی ایک طرف تو ذمہ داری گواہوں کی ہو گئی، اور لکھنے والوں کی، کہ انکار نہ کریں۔ اور دوسری طرف سب کی ذمہ داری ہو گئی کہ ان کو کوئی تکلیف نہ پہنچائی جائے۔
اور اگر تم سفر پر ہو اور تمہیں کوئی لکھنے والا نہ ملے تو (ادائیگی کی ضمانت کے طور پر) رہن قبضے میں رکھ لئے جائیں۔ ہاں اگر تم ایک دوسرے پر بھروسہ کرو تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے وہ اپنی امانت ٹھیک ٹھیک ادا کرے اور اللہ سے ڈرے جو اس کا پروردگار ہے۔ اور گواہی کو نہ چھپاؤ۔ اور جو گواہی کو چھپائے وہ گنہگار دل کا حامل ہے۔ اور جو عمل بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے ﴿283﴾
اللہ جل شانہٗ ہمارے معاملات کو صحیح کر دے، اور اس میں کوئی بھی یعنی غلط حرکت کرنے سے ہمیں محفوظ فرمائے۔
وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔