سود کی حرمت، اعلانِ جنگ اور قرض کے شرعی احکامات

درس نمبر 107، سورۃ البقرہ: آیت: 278 تا 281

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• سود (Riba) کی قطعی حرمت اور اللہ و رسول ﷺ کی طرف سے اعلانِ جنگ۔

• توبہ کی صورت میں صرف اصل مال (راس المال) کی وصولی کا حق اور ظلم سے ممانعت۔

• نزولِ قرآن سے قبل کے سودی معاملات کی معافی۔

• تنگدست مقروض کو قرض کی ادائیگی کے لیے مہلت دینے کا حکم۔

• مقروض کو قرض معاف کر کے اسے صدقہ شمار کرنے کی ترغیب اور اس کا مستحب ہونا۔

• آخرت کی جوابدہی، اعمال کے پورے بدلے کا یقین اور حقوق العباد کی ادائیگی کی فکر


اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ

فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ. بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.


يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَذَرُوْا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبٰوٓا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ ﴿278﴾ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا فَاْذَنُوْا بِحَرْبٍ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ۚ وَاِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُؤُوْسُ اَمْوَالِكُمْ ۚ لَا تَظْلِمُوْنَ وَلَا تُظْلَمُوْنَ ﴿279﴾ وَاِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَيْسَرَةٍ ۗ وَاَنْ تَصَدَّقُوْا خَيْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿280﴾ وَاتَّقُوْا يَوْمًا تُرْجَعُوْنَ فِيْهِ اِلَى اللّٰهِ ۗ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ﴿281﴾

صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ.

اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اگر تم واقعی مؤمن ہو تو سود کا جو حصہ بھی (کسی کے ذمے) باقی رہ گیا ہو اسے چھوڑ دو ﴿278﴾ پھر بھی اگر تم ایسا نہ کرو گے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو۔ اور اگر تم (سود سے) توبہ کر لو تو تمہارا اصل سرمایہ تمہارا حق ہے۔ نہ تم کسی پر ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے ﴿279﴾ اور اگر کوئی تنگدست (قرض دار) ہو تو اس کا ہاتھ کھلنے تک مہلت دینی ہے۔ اور صدقہ ہی کر دو تو یہ تمہارے حق میں کہیں زیادہ بہتر ہے، بشرطیکہ تم کچھ سمجھ ہو ﴿280﴾ اور ڈرو اس دن سے جب تم سب اللہ کے پاس لوٹ کر جاؤ گے، پھر ہر ہر شخص کو جو کچھ اس نے کمایا ہے پورا پورا دیا جائے گا، اور ان پر کوئی ظلم نہیں ہو گا ﴿281﴾


جیسا کہ کل بھی اس پر بات ہوئی تھی سود کے بارے میں کہ سود جو لیتا ہے گویا کہ اس کی طرف اللہ پاک کا اعلانِ جنگ ہے۔ تو یہ بہت خطرناک بات ہے، اپنے آپ کو ہر طرح کے سود سے بچانا چاہیے۔

البتہ چونکہ یہ آیتیں مبارکہ جب اتر رہی تھیں، تو ان کے آیات کے اترنے سے پہلے اگر کسی نے سود لیا تھا تو وہ تو معاف تھا، جیسے کہ پچھلی دفعہ گزر گیا ہے۔ لیکن اب اس کے بعد جب یہ آیات اتر گئیں تو سود نہیں لے سکتے تھے، البتہ اصل جو راس المال جس کو کہتے ہیں جو اصل مال ہے وہ آپ لے سکتے تھے۔ اور یہ قانون اس طرح بنا کہ نہ کسی پر ظلم کیا جائے اور نہ وہ کسی پر ظلم کرے۔

اور یہ بات بھی فرمائی کہ اگر کوئی تنگدست ہے، یعنی ادا نہیں کر سکتا، تو ان کے لیے معاف کرنا زیادہ بہتر ہے، یہ مستحب ہے۔ کیونکہ ویسے بھی انسان صدقہ تو کرتا ہے نا، تو صدقہ کس پہ کرتا ہے؟ جو تنگدست ہو۔ تو وہ تنگدست تو ہے، تو اس کے اوپر صدقہ کرو تو زیادہ بہتر ہے۔ لیکن اگر کوئی صدقہ نہیں کرتا تو گناہ کوئی نہیں کیونکہ مستحب عمل ہے۔ البتہ یہ ہے کہ وہ جو اس کا اصل جتنا اس نے دیا ہے وہ اس سے لے سکتا ہے۔

اور اگر کوئی یعنی سمجھانے کے لیے فرمایا کہ اس دن سے ڈرو، کیونکہ اصل میں وہ دن آنے والا تو ہے، کہ جب تم سب اللہ کے پاس لوٹ کر جاؤ گے۔ پھر جس نے جو کچھ کمایا ہے اس کو پورا پورا دیا جائے گا اور اس پر کوئی ظلم نہیں ہوگا۔

اللہ جل شانہٗ ہمیں ہر طرح کے اپنے اوپر ظلم کرنے سے بچائے۔ بہت خطرناک وقت ہوگا اور اس کے لیے تیاری ابھی سے کرنی ہے کہ کہیں کسی کا حق ہمارے اوپر رہ نہ جائے۔ اللہ اپنے فضل و کرم سے ہم سب کو ہر قسم کے نقصان سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔



سود کی حرمت، اعلانِ جنگ اور قرض کے شرعی احکامات - درسِ قرآن - پہلا دور