اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ:فَأَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وَعَلَی الَّذِیْنَ یُطِیْقُوْنَهٗ فِدْیَةٌ طَعَامُ مِسْكِیْنٍؕ فَمَنْ تَطَوَّعَ خَیْرًا فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗؕ وَ اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ﴿184﴾ شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ فِیْهِ الْقُرْاٰنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْهُدٰی وَ الْفُرْقَانِۚ فَمَنْ شَهِدَ مِنْكُمُ الشَّهْرَ فَلْیَصُمْهُؕ وَ مَنْ كَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ٘ وَ لِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ وَ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰی مَا هَدٰىكُمْ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ ﴿185﴾صَدَقَ اللهُ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ۔
اور جو لوگ اس کی طاقت رکھتے ہوں وہ ایک مسکین کو کھانا کھلا کر (روزے کا) فدیہ ادا کر دیں۔یعنی اگر کسی۔۔۔ کوئی مطلب جو ہے نا وہ۔۔۔ روزہ نہیں رکھ سکتا، اس کو نقصان ہوتا ہے یا بہت بوڑھا ہو جاتا ہے نا مثال کے طور پر، تو اگر پھر وہ کبھی نہیں روزہ رکھ سکتا تو پھر جو ہے نا اس کا وہ فدیہ، ایک مسکین کو کھانا کھلا کر، وہ جو ہے نا وہ اس کا کر سکتے ہیں۔
شروع میں جب روزے فرض کئے گئے تو یہ آسانی بھی دی گئی تھی کہ اگر کوئی شخص روزہ رکھنے کے بجائے فدیہ ادا کر دے تو یہ بھی جائز ہے۔ بعد میں آیت نمبر 185 نازل ہوئی جو آگے آ رہی ہے، اس آیت نے اس سہولت کو واپس لے لیا، اور یہ حتمی حکم دے دیا گیا کہ جو شخص بھی رمضان کا مہینہ پائے وہ روزے ضرور رکھے۔ تاہم فدیہ کی سہولت ان لوگوں کے لئے اب بھی باقی رکھی گئی ہے جو نہایت بوڑھے ہوں اور ان میں روزہ رکھنے کی بالکل طاقت نہ ہو، اور آئندہ ایسی طاقت پیدا ہونے کی اُمید بھی نہ ہو۔یعنی اس وقت یہ سہولت تو سب کے لیے تھی لیکن بعد میں یہ سہولت صرف ان لوگوں کے لیے رہ گئی جو کہ بہت بوڑھے ہوں، یعنی دوبارہ ان میں اتنی طاقت آنے کا امکان نہ ہو کہ وہ روزے رکھ سکیں، یا پھر کوئی ایسی بیماری ہو جس میں بعد میں وہ روزہ نہیں رکھ سکتے تو پھر اس صورت میں وہ فدیہ ادا کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ اگر کوئی شخص اپنی خوشی سے کوئی نیکی کرے تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر تم سمجھو ہو تو روزے رکھنے میں تمہارے لئے زیادہ بہتری ہے ﴿184﴾ رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو لوگوں کے لئے سراپا ہدایت، اور ایسی روشن نشانیوں کا حامل ہے جو صحیح راستہ دکھاتی اور حق و باطل کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دیتی ہیں، لہٰذا تم میں سے جو شخص بھی یہ مہینہ پائے، وہ اس میں ضرور روزہ رکھے۔ اور اگر کوئی شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو تو وہ دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے۔ اللہ تمہارے ساتھ آسانی کا معاملہ کرنا چاہتا ہے، اور تمہارے لئے مشکل پیدا کرنا نہیں چاہتا، تاکہ (تم روزوں کی) گنتی پوری کر لو، اور اللہ نے تمہیں جو راہ دکھائی اس پر اللہ کی تکبیر کہو، اور تاکہ تم شکر گزار بنو ﴿185﴾
اس آیت میں ایک لطیف اشارہ ان تکبیرات کی طرف بھی ہے جو رمضان کے فوراً بعد عید کی نماز میں کہی جاتی ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا اعلان۔ کیونکہ اللہ جل شانہ نے تمہیں اتنی بڑی نعمت عطا فرمائی روزوں کی صورت میں جو ماشاءاللہ نفس کی اصلاح کے لیے بہت ضروری ہے اور نفس کی اصلاح کے لیے بہت بڑا ذریعہ ہے۔ تو مطلب جس وقت یہ پورے ہو جائیں تو شکرانے کے طور پر وہ جو ہے نا وہ جو۔۔۔ مطلب نماز ہوتی ہے اس میں تکبیریں کہی جاتی ہیں زائد تکبیریں۔ تو وہ جو زائد چھ زائد تکبیریں ہیں وہ اس پر مطلب جو ہے نا اس کا حکم اس سے ثابت ہوا کہ اللہ پاک کی تکبیر کہو تاکہ ہم شکر ادا کر سکیں۔اللہ جل شانہ ہم سب کو صحیح معنوں میں شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ جتنی بھی چیزیں اللہ پاک عطا فرماتے ہیں وہ اس کی طرف سے بڑی نعمتیں ہوتی ہیں اور اس پر شکر کرنا لازم ہوتا ہے اور ہم سے سستی ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ ہماری سستی کو معاف فرما دے۔وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔