نیکی کا اصل مفہوم، قصاص کا قانون اور وصیت کے شرعی احکام

درس نمبر 66: سورۃ البقرہ، آیت نمبر 177 تا 180

حضرت شیخ سید شبیر احمد کاکاخیل صاحب دامت برکاتھم
خانقاہ رحمکاریہ امدادیہ راولپنڈی - مکان نمبر CB 1991/1 نزد مسجد امیر حمزہ ؓ گلی نمبر 4، اللہ آباد، ویسٹرج 3، راولپنڈی

• نیکی کی حقیقت (آیت البر): ایمان اور اعمال کا مجموعہ، صرف رخ پھیرنا کافی نہیں۔• شان نزول کی اہمیت: سیاق و سباق کے بغیر قرآن فہمی میں مشکلات۔• قصاص اور دیت: انسانی جان کی برابری اور جاہلیت کے ظالمانہ رواج کا خاتمہ۔• قانونِ وصیت: میراث کی آیات سے قبل اور بعد کے احکام میں فرق۔• وصیت کے جدید مسائل: غیر وارث کے لیے ایک تہائی تک وصیت کی اجازت اور مغربی قوانین کا تقابل۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ.

لَيْسَ الْبِرَّ اَنْ تُوَلُّوْا وُجُوْهَكُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلٰكِنَّ الْبِرَّ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَالْمَلٰٓئِكَةِ وَالْكِتٰبِ وَالنَّبِيّٖنَ ۚ وَاٰتَى الْمَالَ عَلٰى حُبِّهٖ ذَوِی الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ وَالسَّآئِلِيْنَ وَفِی الرِّقَابِ ۚ وَاَقَامَ الصَّلٰوةَ وَاٰتَى الزَّكٰوةَ ۚ وَالْمُوْفُوْنَ بِعَهْدِهِمْ اِذَا عٰهَدُوْا ۚ وَالصّٰبِرِيْنَ فِی الْبَأْسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِيْنَ الْبَأْسِ ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ صَدَقُوْا ؕ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُتَّقُوْنَ ﴿177﴾

نیکی بس یہی تو نہیں ہے کہ اپنے چہرے مشرق یا مغرب کی طرف کر لو، بلکہ نیکی یہ ہے کہ لوگ اللہ پر، آخرت کے دن پر، فرشتوں پر اور اللہ کی کتابوں اور اس کے نبیوں پر ایمان لائیں، اور اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، مسافروں اور سائلوں کو دیں، اور غلاموں کو آزاد کرانے میں خرچ کریں، اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں، اور جب کوئی عہد کریں تو اپنے عہد کو پورا کرنے کے عادی ہوں، اور تنگی اور تکلیف میں، نیز جنگ کے وقت، صبر و استقلال کے خوگر ہوں۔ ایسے لوگ ہیں جو سچے (کہلانے کے مستحق) ہیں، اور یہی لوگ ہیں جو متقی ہیں ﴿177﴾

اصل میں قبلہ کی تبدیلی جب ہوئی تھی، تو اہل کتاب کی طرف سے یہ بحث و مباحثہ شروع ہو چکا تھا کہ

دین میں اس سے زیادہ اہم کوئی اور مسئلہ نہیں ہے۔ مسلمانوں نے کہا جا رہا ہے کہ قبلے کے مسئلے کی جتنی وضاحت ضروری تھی وہ ہو چکی ہے۔ اب آپ کو دین کے دوسرے اہم مسائل کی طرف توجہ دینی چاہئے، اور اہل کتاب سے بھی یہ کہنا چاہئے کہ قبلے کے مسئلے پر بحث سے زیادہ ضروری بات یہ ہے کہ اپنا ایمان درست کرو، اور وہ صفات پیدا کرو جو ایمان کو مطلوب ہیں۔ اس سلسلے میں آگے قرآن کریم نے نیکی کے مختلف شعبے بیان فرمائے ہیں، اور اسلامی قانون کے مختلف احکام کی وضاحت کی ہے جو ایک ایک کر کے آگے آ رہے ہیں۔

شانِ نزول جو ہوتا ہے یہ اصل میں بہت اہم ہوتا ہے قرآن پاک کی تفسیر کے لحاظ سے۔ کیونکہ بعض دفعہ اگر شانِ نزول معلوم نہیں ہے تو پھر بہت سارے سوالات اٹھتے ہیں کہ ایسا کیوں کیا گیا اور اس کی درجہ بندی میں، تمام چیزوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔ تو اب یہاں پر قبلے کی بات ہو رہی ہے اور قبلے کی بات سے فوراً ایمان کی بات ہو گئی اور کچھ خصوصی اعمال کی بات ہو گئی۔

تو اس میں گویا کہ اول تو مسلمانوں کو بھی یاد دلایا جا رہا ہے کہ اگر کوئی شخص ایمان نہیں لاتا، تو اس کا قبلے کی طرف رخ کرنے کا کیا مطلب ہوتا ہے... صحیح قبلے... یعنی ظاہر ہے وہ تو ایک عمل ہے۔ تو عمل کا درجہ تو ایمان کے بعد ہے۔ ایمان جب کوئی لائے گا تو عمل کا حساب شروع ہو جائے گا۔ تو اس وجہ سے سب سے پہلے تو ایمان کی فکر کرنی چاہیے۔ تو جو لوگ آپ ﷺ پر ایمان نہیں لا رہے تو باقی باتیں وہ تو بعد کی باتیں ہیں... مطلب اس کا تو اس سے زیادہ آگے کی بات نہیں ہے۔

تو پہلے ایمان کی بات کی۔ ظاہر ہے ایمانیات اس میں آتے ہیں نا کہ اللہ پر، آخرت پر، فرشتوں پر، اللہ کی کتاب اور نبیوں پر یہ ایمان لانا۔ تو اب ظاہر ہے نبیوں میں آپ ﷺ جب آئے تو اگر کسی نے ان کی نبوت کو نہیں مانا تو بس اس نے پھر کچھ بھی نہیں مانا۔ اس طرح کتابوں میں قرآن۔ اگر قرآن پر ایمان نہیں لایا تو بس وہ کچھ بھی نہیں رہا اس کے پاس۔ تو سب سے پہلے تو اس چیز کو ٹھیک کر لیں۔

پھر اس کے بعد کچھ اور باتیں ہیں جو بہت اہم ہیں۔ جیسے اللہ کی محبت میں اپنا مال رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں، غریبوں، مسافروں، سائلوں کو دینا، غلاموں کو آزاد کرانا، نماز قائم کرنا، زکوٰۃ ادا کرنا، جب کوئی عہد لے تو اپنے عہد کو پورا کرنا، اور تنگی اور تکلیف میں اور نیز جنگ کے وقت صبر و استقلال کے خوگر ہو... یہ تمام لوگ جو ہیں نا اصل میں اپنے ایمان کی عملی گواہی دے رہے ہیں۔ مطلب ایمان ایک لفظ نہیں ہے، ایک وہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے پورا ایک نظام ہے۔ تو وہ نظام کی بات ہو رہی ہے کہ وہ کیا چیز ہے۔

تو دیکھیں اس میں کس حد تک اہم باتیں ہیں کہ اللہ پاک کی محبت... اس میں پھر اپنا سارا کچھ لٹانا اور جو اللہ پاک کا حکم ہو اس کو پورا کرنا اور اگر اس میں کوئی مشکل آ جائے تو اس پر صبر کرنا، یہ ساری باتیں ان کے ساتھ ضروری ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَیْكُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰیؕ اَلْحُرُّ بِالْحُرِّ وَ الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَ الْاُنْثٰی بِالْاُنْثٰیؕ فَمَنْ عُفِیَ لَهٗ مِنْ اَخِیْهِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌۢ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْهِ بِاِحْسَانٍؕ ذٰلِكَ تَخْفِیْفٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ رَحْمَةٌؕ فَمَنِ اعْتَدٰی بَعْدَ ذٰلِكَ فَلَهٗ عَذَابٌ اَلِیْمٌ ﴿178﴾ وَ لَكُمْ فِی الْقِصَاصِ حَیٰوةٌ یّٰۤاُولِی الْاَلْبَابِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ﴿179﴾ كُتِبَ عَلَیْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ اِنْ تَرَكَ خَیْرَا ۖۚ اَلْوَصِیَّةُ لِلْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ بِالْمَعْرُوْفِۚ حَقًّا عَلَی الْمُتَّقِیْنَ ﴿180﴾

اے ایمان والو! جو لوگ (جان بوجھ کر ناحق) قتل کر دیئے جائیں ان کے بارے میں تم پر قصاص (کا حکم) فرض کر دیا گیا ہے۔ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، اور عورت کے بدلے عورت (ہی کو قتل کیا جائے)، پھر اگر قاتل کو اس کے بھائی (یعنی مقتول کے وارث) کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے تو معروف طریقے کے مطابق (خوں بہا کا) مطالبہ کرنا (وارث کا) حق ہے، اور اسے خوش اسلوبی سے ادا کرنا (قاتل کا) فرض ہے۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک آسانی پیدا کی گئی ہے اور ایک رحمت ہے۔ اس کے بعد بھی کوئی زیادتی کرے تو وہ دردناک عذاب کا مستحق ہے ﴿178﴾ اور اے عقل رکھنے والو! تمہارے لئے قصاص میں زندگی (کا سامان ہے) اُمید ہے کہ تم (اس کی خلاف ورزی سے) بچو گے۔ ﴿179﴾ تم پر فرض کیا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی اپنے پیچھے مال چھوڑ کر جانے والا ہو تو جب اس کی موت کا وقت قریب آ جائے، وہ اپنے والدین اور قریبی رشتہ داروں کے حق میں دستور کے مطابق وصیت کرے۔ یہ متقی لوگوں کے ذمے ایک لازمی حق ہے ﴿180﴾

یہاں پر دو باتیں جو آئی ہیں فوراً۔ ایک تو قصاص اور دوسرا جو بعد میں جو کوئی چھوڑ گیا اس میں وصیت۔

قصاص کا مطلب ہے برابر کا بدلہ لینا۔ اس آیت میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص کو جان بوجھ کر ناحق قتل کر دیا جائے اور قاتل کا جرم ثابت ہو جائے تو مقتول کے وارث کو حق حاصل ہے کہ وہ قاتل سے قصاص کا مطالبہ کرے۔ جاہلیت کے زمانے میں اگرچہ قصاص تو لیا جاتا تھا، لیکن اس میں نا انصافی یہ تھی کہ انہوں نے مختلف انسانوں کے جو درجے اپنے خیال میں مقرر کر رکھے تھے، ان کے لحاظ سے اگر نچلے درجے کے کسی شخص نے اونچے درجے کے کسی آدمی کو قتل کر دیا تو ورثاء کا مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ قاتل کے بجائے اس کے قبیلے کے کسی دوسرے آدمی کو قتل کیا جائے جو رتبے میں مقتول کے برابر ہو۔ چنانچہ اگر ایک غلام نے کسی آزاد آدمی کو قتل کر دیا ہو تو مطالبہ یہ ہوتا تھا کہ ہم قاتل غلام کے بجائے کسی آزاد آدمی کو قتل کریں گے، اسی طرح اگر قاتل عورت ہو اور مقتول مرد، تو کہا جاتا تھا کہ قاتل عورت کے بجائے قبیلے کا کوئی مرد قتل کیا جائے۔ اس کے برعکس اگر قاتل مقتول سے اوپر کے درجے کا ہو، مثلاً قاتل مرد ہو اور مقتول عورت، تو قاتل کا قبیلہ کہتا تھا کہ ہماری کسی عورت کو قتل کر دو، قاتل مرد سے قصاص نہیں لیا جائے گا۔ اس آیت نے جاہلیت کی اس ظالمانہ رسم کو ختم فرما دیا اور اعلان کیا کہ جان ہر ایک کی برابر ہے، اور قصاص ہر صورت میں قاتل ہی سے لیا جائے گا، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، غلام ہو یا آزاد۔۔

ویسے کتنا ظلم تھا کہ قتل ایک نے کیا اس کے بدلے میں دوسرے آدمی کو... لیکن ان کا یہ کلچر (Culture) تھا تو یہ ان کے لیے کوئی عیب ان کو نظر نہیں آ رہا تھا اس میں۔

بنی اسرائیل کے قانون میں قصاص تو تھا، لیکن دیت یا خوں بہا کا کوئی تصور نہیں تھا۔ اس آیت نے مقتول کے ورثاء کو یہ حق دیا کہ اگر وہ چاہیں تو مقتول کا قصاص معاف کر کے خوں بہا کے طور پر کچھ رقم کا مطالبہ کریں۔ ایسی صورت میں ان کو چاہئے کہ رقم کی مقدار معقولیت کی حد میں رکھیں، اور قاتل کو چاہئے کہ خوش اسلوبی سے اس کی ادائیگی کرے۔

مطلب یہ ہے کہ اگر خوں بہا لے کر وارثوں نے قصاص معاف کر دیا ہو تو اب ان کے لئے قاتل کی جان لینا جائز نہیں ہے۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو یہ زیادتی ہو گی جس کی بناء پر وہ دنیا اور آخرت دونوں میں سزا کے مستوجب ہوں گے۔

ابھی جو میراث والی بات ہے تو

یہ آیت اس دور میں نازل ہوئی تھی جب مرنے والے کے ترکے میں وارثوں کے حصے متعین نہیں ہوئے تھے، چنانچہ سارا ترکہ مرنے والے کے لڑکوں کو مل جاتا تھا۔ اس آیت نے یہ فرض قرار دیا کہ ہر انسان مرنے سے پہلے اپنے والدین اور دوسرے رشتہ داروں کے حق میں وصیت کر کے جائے، اور یہ واضح کرے کہ ان میں سے کس کو کتنا حصہ دیا جائے گا۔ بعد میں سورۂ نساء کی آیات نمبر 11 تا 13 میں تمام وارثوں کی تفصیل اور ان کے حصے خود اللہ تعالیٰ نے مقرر فرما دیئے۔ اس کے بعد جس وصیت کا اس آیت میں ذکر ہے وہ فرض تو نہیں رہی، البتہ اگر کسی شخص کے ذمے کوئی حق ہو تو اس کی وصیت کرنا اب بھی فرض ہے۔ نیز جو لوگ شرعی اعتبار سے وارث نہیں ہیں، ان کے لئے اپنے ترکے کے ایک تہائی کی حد تک وصیت کرنا اب بھی جائز ہے۔

اس وقت جو یورپ وغیرہ میں اور امریکہ میں اور اس قسم کے لوگوں میں جو قانون چل رہا ہے وہ وصیت کا ہی ہے۔ لوگ وصیت کرتے ہیں اپنے مال کے بارے میں۔ وہ وصیت کر کے سربمہر کر کے وکیل کے حوالے کر لیتے ہیں، پھر جس وقت وہ فوت ہو جاتے ہیں تو اس کو نکالا جاتا ہے، تو اس میں جس کے لیے وصیت کی گئی ہو تو اس کو پھر اس کا مال دیا جاتا ہے۔ تو یہاں تک کہ بعض لوگ اب بلی کے نام کر لیتے ہیں، کوئی کتے کے نام کر لیتے ہیں، عجیب و غریب تماشے ہیں۔

تو ہمارے ہاں وصیت کا گویا کہ اُس وقت بات تھی جس وقت میراث کے حصے بتائے نہیں گئے تھے، مطلب وہ ابھی نہیں نازل ہوئے تھے۔ تو اس وقت وہ جو ظالمانہ طریقہ تھا اُس سے بہتر تھا کہ لوگ خود ہی وصیت کر لیں۔ تو وہ وصیت والا طریقہ اللہ پاک نے اتارا کہ وصیت کر لیا کریں۔ لیکن بعد میں اللہ پاک نے خود ہی سارے حصے بتا دیے کہ فلاں کو اتنا، فلاں کو اتنا، فلاں کو اتنا... کنڈیشنل (Conditional) ساری چیزیں بتا دیں۔ تو اس کے بعد پھر اس چیز کی ضرورت نہیں رہی۔

اب وصیت کی جا سکتی ہے لیکن دو صورتوں میں۔ یا تو کسی پر کوئی حق ہو کسی کا، تو اس کی وصیت وہ کرے گا کیونکہ اس کے علاوہ تو کسی کو معلوم نہیں ہوگا، تو وہ وصیت کر کے جائے۔ تو سب سے پہلے وہ جو کسی کا حق ہے وہ ان کو دیا جائے گا، قرض وغیرہ یا جو بھی ہوگا، یا پھر یہ کہ مہر یا پھر وہ اس قسم کے... تو یہ تمام چیزیں پہلے، پھر اس کے بعد باقی تقسیم ہوگا۔ گویا کہ وہ اس کا مال ہی نہیں ہے۔ تو اس صورت میں تو وصیت کرنا ضروری ہے۔

دوسری بات جو وصیت کی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ آپشنلی (Optionally) انسان اگر اپنی مرضی سے کسی کو کچھ دینا چاہے تو وہ ایک تہائی حصے میں دے سکتا ہے۔ ایک تہائی میں وہ وصیت کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ وصیت وارث کے لیے نہیں کی جا سکتی، لَا وَصِیَّۃَ لِوَارِثٍ۔ وارث کا جو حق اللہ نے دیا ہے وہی بس ہوگا اس سے زیادہ اس کو نہیں ملے گا۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ وہ صرف اس چیز کا ہوگا جو اس کے ذمے ہے۔ اللہ جل شانہ ہم سب کو شریعت کے تمام قوانین کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔

نیکی کا اصل مفہوم، قصاص کا قانون اور وصیت کے شرعی احکام - درسِ قرآن