الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى خَاتَمِ النَّبِيِّينَ، أَمَّا بَعْدُ: فَأَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ، بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ.
اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْتُمُوْنَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَيَشْتَرُوْنَ بِهٖ ثَمَنًا قَلِيْلًا ۙ اُولٰٓئِكَ مَا يَأْكُلُوْنَ فِیْ بُطُوْنِهِمْ اِلَّا النَّارَ وَلَا يُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وَلَا يُزَكِّيْهِمْ ۚ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ ﴿174﴾ اُولٰٓئِكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى وَالْعَذَابَ بِالْمَغْفِرَةِ ۚ فَمَاۤ اَصْبَرَهُمْ عَلَى النَّارِ ﴿175﴾ ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ نَزَّلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ ؕ وَاِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِی الْكِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍۭ بَعِيْدٍ ﴿176﴾
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب کو چھپاتے ہیں اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت وصول کر لیتے ہیں، وہ اپنے پیٹ میں آگ کے سوا کچھ نہیں بھر رہے۔ قیامت کے دن اللہ ان سے کلام بھی نہیں کرے گا، اور نہ ان کو پاک کرے گا، اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے ﴿174﴾ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی، اور مغفرت کے بدلے عذاب کی خریداری کر لی ہے۔ چنانچہ (اندازہ کرو کہ) یہ دوزخ کی آگ سہنے کے لئے کتنے تیار ہیں! ﴿175﴾ یہ سب کچھ اس لئے ہو گا کہ اللہ نے حق پر مشتمل کتاب اتاری ہے، اور جن لوگوں نے ایسی کتاب کے بارے میں مخالفت کا رویہ اختیار کیا ہے وہ ضدا ضدی میں بہت دُور نکل گئے ہیں ﴿176﴾
اللہ پاک ہم سب کی حفاظت فرمائے۔ اصل میں، واقعتاً جو لوگ جانتے ہوں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اور پھر اللہ جل شانہ کی کتاب کی کوئی چیز اپنے دنیاوی مفاد کے لیے چھپاتے ہیں۔ یعنی دنیاوی مفاد ان کا ایسا ہے کہ وہ اگر اس کو ظاہر کریں گے تو پھر ان کے دنیاوی مفاد پر زد پڑے گی۔ ایسی صورت میں اگر وہ اس پر کچھ فائدہ اٹھائیں گےدنیا کا، کچھ پیسے لیں گے یا کچھ اور فائدہ اٹھائیں، تو یہ جو دنیا کا فائدہ یہ حاصل کر رہے ہیں، یہ اصل میں اپنے پیٹ میں آگ کے سوا اور کچھ نہیں بھر رہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ چیز وہاں آگ کی صورت اختیار کر لے گی۔ تو یہ بہت ہی خطرناک عمل ہے کیونکہ اللہ پاک فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن اللہ ان سے کلام بھی نہیں کرے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا۔ تو اس صورت میں دردناک عذاب جو ہے وہ جاری رہے گا۔ اللہ جل شانہ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب۔ یعنی دنیا میں اپنے آپ کو، یعنی گویا کہ گمراہی سے نہیں بچایا اور ہدایت کو چھوڑ دیا۔ اور مغفرت، جو اللہ پاک کی عظیم صفت ہے، اس سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ اللہ پاک کے عذاب کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں، ان کو پتا ہے کہ ایسا ہو گا، اس کے باوجود انہوں نے ایسا کیا تو یہ بہت خطرناک ہے۔
تو یہ گویا کہ انسان کو پھر خود اندازہ کرنا چاہیے کہ دوزخ کی آگ کے لیے وہ کتنا تیار ہے۔ اور اللہ جل شانہ نے... اللہ اکبر... اپنے کلام میں حق کو نازل فرمایا۔ تو اگر کوئی شخص اس کی مخالفت کرتا ہے، تو حق کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ ضد کی وجہ سے کر رہا ہے، جیسے شیطان ضد کی وجہ سے کر رہا ہے اور یہود یہ بھی حق کی مخالفت کر رہے ہیں، ان کو پتہ ہے۔ صرف ضدا ضدی میں اتنے دور نکل گئے کہ یہ لوگ سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ان کی مفقود ہو گئیں۔
اصل بات یہ ہے کہ اگر انسان سوچے تو... انسان کو یہاں کی زندگی کا تو کچھ پتا ہی نہیں ہے کہ کتنی زندگی باقی ہے۔ کسی کو بھی علم نہیں ہے۔ تو اتنی Uncertainty کے ساتھ ایک انسان کیسے اتنا بڑا بوجھ اٹھا سکتا ہے؟ وہ زندگی بالکل یقینی ہے، یہ زندگی بالکل کچھ پتا نہیں کس وقت ختم ہو گی۔
تو اس زندگی کے لیے جو کہ یقینی زندگی ہے اور ہمیشہ کے لیے پھر ہو گی، تو اس میں جو حالت ہو سکتی ہے کسی وجہ سے، اس کو دیکھنا چاہیے کہ میں یہاں پر کون سا عمل کر لوں کہ وہاں مجھے راحت ملے، وہاں مجھے فائدہ ملے، وہاں مجھے آسانی ملے، اللہ کی مغفرت ملے۔ تو اس کے لیے پھر وہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ اور اگر وہ صرف دنیا کے چند ٹکوں کے لیے اور لوگوں سے کچھ دنیاوی مفادات حاصل کرنے کے لیے اگر وہ ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ وہ اللہ کے مقابلے میں آتا ہے، حق کے مقابلے میں آتا ہے، تو یہ بہت ہی خطرناک سودا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی حفاظت فرمائے۔
وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ۔