نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم، اما بعد!
فاعوذ باللہ من الشیطٰن الرجیم۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔
يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِى الْاَرْضِ حَلَالًا طَيِّبًاۖ وَّلَا تَتَّبِعُوْا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِيْنٌ (168) اِنَّمَا يَاْمُرُكُمْ بِالسُّوٓءِ وَالْفَحْشَآءِ وَاَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ (169) وَاِذَا قِيْلَ لَـهُـمُ اتَّبِعُوْا مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ قَالُوْا بَلْ نَتَّبِــعُ مَآ اَلْفَيْنَا عَلَيْهِ اٰبَآءَنَا ۗ اَوَلَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُ ـمْ لَا يَعْقِلُوْنَ شَيْئًا وَّلَا يَـهْتَدُوْنَ (170) وَمَثَلُ الَّـذِيْنَ كَفَرُوْا كَمَثَلِ الَّـذِىْ يَنْعِقُ بِمَا لَا يَسْـمَعُ اِلَّا دُعَآءً وَّنِدَآءً ۚ صُمٌّ بُكْمٌ عُمْىٌ فَهُـمْ لَا يَعْقِلُوْنَ (171) يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا كُلُوْا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُـمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ (172) اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْـمَ الْخِنزِيْـرِ وَمَآ اُهِلَّ بِهٖ لِغَيْـرِ اللّٰهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْـرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَلَآ اِثْـمَ عَلَيْهِ ۚ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ (173)
صدق اللہ العلی العظیم۔ و صدق رسولہ النبی الکریم۔
اے لوگو! زمین میں جو حلال پاکیزہ چیزیں ہیں وہ کھاؤ، اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ یقین جانو کہ وہ تمہارے لئے ایک کھلا دشمن ہے ﴿168﴾ وہ تو تم کو یہی حکم دے گا کہ تم بدی اور بے حیائی کے کام کرو اور اللہ کے ذمے وہ باتیں لگاؤ جن کا تمہیں علم نہیں ہے ﴿169﴾
مشرکین عرب کی ایک گمراہی یہ تھی کہ انہوں نے کسی آسمانی تعلیم کے بغیر مختلف چیزوں کے بارے میں حلال و حرام کے فیصلے خود گھڑ رکھے تھے۔ مثلاً مردار جانور کو کھانا ان کے نزدیک جائز تھا، مگر بہت سے حلال جانوروں کو انہوں نے اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا، جس کی تفصیل ان شاء اللہ سورہٴ انعام میں آئے گی۔ یہ آیات ان کی اسی گمراہی کی تردید میں نازل ہوئی ہیں۔
اصل میں اللہ جل شانہ ہی کسی چیز کے حلال اور حرام کا فیصلہ کر سکتے ہیں، اور نیکی اور بدی کا فیصلہ فرما سکتے ہیں۔ ہم کسی چیز کو نہ حلال کہہ سکتے ہیں نہ حرام اپنی مرضی سے، اور نہ کسی چیز کو نیکی یا بدی کہہ سکتے ہیں اپنی مرضی سے۔ اس وجہ سے جب تک ہمیں اللہ تعالیٰ کے حکم کا پتہ نہ چلے، اس وقت تک ہم لوگ کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے ان چیزوں میں۔
لیکن وہ لوگ چونکہ آہستہ آہستہ دور ہوئے تھے دینِ ابراہیمی سے، تو آہستہ آہستہ انہوں نے اس میں تصرفات کر لیے تھے اور اپنی طرف سے باتیں بنائی ہوئی تھیں۔
یہ اصل میں شیطان کی کارروائی ہوتی ہے، شیطان آہستہ آہستہ انسان کو دور لے جاتا ہے اور وہ دشمنی پہ ہمارے اترا ہوا ہے، اس میں اس کو کوئی دوسری بات سامنے نہیں ہے۔ اور ہم بھی اس کی دشمنی کو جانتے ہیں۔ لیکن وہ چونکہ ہمارے یعنی اندر کی چیز یعنی نفس کو اپنے ساتھ لیے ہوئے ہوتا ہے، تو نفس کی خواہش کے مطابق وہ وسوسہ بناتا ہے، لہذا وہ ہمارے لیے ایسا ہوتا ہے کہ جیسے یہ ہماری بات ہو، تو وہ نقصان کا باعث بن جاتا ہے۔
شیطان کا ہمیشہ یہ طریقہ ہوتا ہے کہ وہ بدی اور بے حیائی کے کاموں میں لگاتا ہے۔ بدی میں اس کا اپنا نقصان ہے اور بے حیائی میں پھر یہ چیز پھیلتی ہے، اور دوسرے لوگ بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ اور بے حیائی کی باتوں کو وہ ان کے لیے اچھا کر کے دکھاتے ہیں۔
یہ حکیموں... حکیموں پہ چونکہ مذہبِ اسلام کا اثر زیادہ تھا یعنی ہندوستان میں، پاکستان میں جو حکیم تھے، ان لوگوں نے جو تحقیقات کی ہیں وہ زیادہ تر اسلامی تعلیمات کے قریب قریب ہیں۔ لیکن ڈاکٹر لوگ جو ہیں ناں یہ... ان کی جڑیں یورپ اور امریکہ میں ہیں یا ظاہر ہے دوسرے ملکوں میں، غیر مسلم ملکوں میں۔ مطلب ان کے جو Top کے لوگ ہیں وہ ہمارے نہیں ہیں، جبکہ حکیموں کے Top کے لوگ ہمارے ہیں، جیسے حکیم اجمل خان ہو گیا یا دوسرے ہمارے حکیم حضرات ہو گئے۔
تو جو برائی کی اور بے حیائی کی چیزیں ہیں ناں وہ ڈاکٹر لوگ منع نہیں کرتے۔ ان کا آپ Literature دیکھیں ناں، وہ اس کو Allow کریں گے اور کہیں گے اس میں کچھ حرج نہیں ہے اور ایسا نہیں ہے اور ایسا نہیں ویسا... میں نام نہیں لینا چاہتا کیونکہ ظاہر ہے یہ Forum اس کا نہیں ہے۔ لیکن ان کے Literature میں مطلب ہے اس کی... حالانکہ اس کی برائی بالکل واضح ہوتی ہے، ظاہر ہوتی ہے۔ لیکن وہ اپنے دلائل جو دیتے ہیں، اس کے حساب سے وہ کہتے ہیں جی اس میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، یہ تو اس طرح ہے، تو یہ اس طرح ہے، تو اس طرح ہے۔
جبکہ حکیم لوگ اس کے خلاف سخت باتیں کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بھئی اس طرح نہیں ہونا چاہیے، یہ اس میں یہ ہو گا، اس میں یہ بیماری بن جائے گی، یہ بیماری بن جائے گی اور باقاعدہ پوری تفصیلات بتاتے ہیں اور وہ لوگوں کو پتہ بھی ہے اور وہ ہو بھی جاتی ہے اس طرح۔ یعنی ایسی کوئی بات نہیں۔
تو یہ میں نے اس پر بہت کوشش کی ہے، وہ اللہ کرے کہ مجھے اس پہ کچھ... خود تو کرنا مشکل ہے کیونکہ میں اس Field کا نہیں ہوں، لیکن جو اس Field کے ہیں وہ ذرا اس پہ تھوڑا سا Study کریں اور لکھیں کہ ایسا کیوں ہے؟ کیونکہ ایک دنیا کو یہ لوگ گمراہ کر رہے ہیں۔ ایک دنیا کو!
اور تو چھوڑیں یہ نفسیاتی امراض جو ہوتے ہیں، نفسیاتی بیماریاں۔ تو حضرت مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ کے بیان میں گزرا ہے کہ کوئی حکیم تھے ناں تو ان کے پاس کوئی گیا تو وہ بالکل ہی تباہ ہونے والا تھا، مرنے والا تھا، اس کا کوئی علاج نہیں تھا۔ تو اس نے اس کو کہا کہ آپ جو مرضی کھاؤ۔ اور اس بات پر کہ کہیں ایسا اس کو محسوس نہ ہو جائے، یعنی ایسا نہ ہو کہ میں لاعلاج ہوں تو اور خراب ہو جائے گا، اس نے کہا کہ اصل میں اگر آپ اپنی طبیعت کے خلاف بات کریں گے تو اس سے آپ کی بیماری بڑھے گی اس وجہ سے میں نے آپ کو یہ بات بتائی۔ تو اس نے اس کو واقعی مان لیا اور پھر وہ کرنے لگا جو بھی اس کی طبیعت چاہتی تھی۔
تو یہ نفسیاتی... (ڈاکٹر صاحب آپ لکھ لیں)، یہ سارے آج کل کے نفسیاتی جو علاج ہیں ناں ہمارے ڈاکٹروں کے، وہ اس بنیاد پر ہیں۔ وہ جو بھی نفس کی خواہش ہوتی ہے ناں وہ روکتے نہیں ہیں۔ وہ کہتے ہیں نہیں طبیعت پھر خراب ہو جائے گی، اثر پڑ جائے گا، یہ ہو جائے گا، وہ ہو جائے گا۔ وہ ایسی ایسی چیزوں کا بتاتے ہیں کہ انسان کانوں کو ہاتھ لگا دیتا ہے کہ یا اللہ یہ انسان ہے یا جانور ہے؟ ایسی ایسی باتیں مریضوں کو بتاتے ہیں! کہ یہ کرو، یہ کرو، یہ کرو۔
مطلب Television دیکھنا اور فلمیں دیکھنا یہ تو معمولی چیز ہے، یہ تو وہ... کہتے ہی ہیں ناں۔ اس میں تو کوئی وہ بات نہیں کرتے۔ تو یہ اصل میں ان کے اوپر اثر وہاں کے لوگوں کا ہے۔ ہمارے جو الفریڈ اللہ تعالیٰ ان کی بخشش فرمائے، رحمۃ اللہ علیہ... وہ فرماتے تھے "These perverted ideas"۔ وہ دانتوں کو اس طرح بھینچ کر نا وہ کہتے "These perverted ideas"۔ تو وہ اس کو Perverted ideas کہتے تھے مطلب ہے ڈاکٹروں کی۔ یہ Perversion کے مریض ہیں۔ یہ ان چیزوں کو Enjoy کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کو باتیں بتاتے ہیں۔
تو یہ اصل میں شیطان کی پوری وہ ہے۔ آج کل بے حیائی جتنی ہمارے Literature پہ پھیلی ہوئی ہے، ہمارے Social Media پر جو پھیلی ہوئی ہے، ہمارے Internet پر جو پھیلی ہوئی ہے، یقین جانیے بالکل جانور اور انسان میں فرق کرنا مشکل ہے! یہ جانور کیا ہوتا ہے اور انسان کیا ہوتا ہے؟ اور یہ ان Perverted لوگوں کی وجہ سے ہے، کہ یہ لوگوں کو اس طرح بتاتے ہیں اور آہستہ آہستہ، آہستہ آہستہ وہ ان کی طرف لے جاتے ہیں۔
تو اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے ان کے شرور سے۔ شیطان تو ہمارا کھلا دشمن ہے، وہ تو کرے گا، لیکن ہمیں تو اپنے آپ کو بچانا ہے ناں۔
یا اللہ! یا کریم!
** وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّٰـهُ قَالُوا بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَيْنَا عَلَيْهِ آبَاءَنَا ۗ أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَلَا يَهْتَدُونَ۔**
اور جب ان (کافروں) سے کہا جاتا ہے کہ اُس کلام کی پیروی کرو جو اللہ نے اتارا ہے، تو وہ کہتے ہیں کہ نہیں! ہم تو ان باتوں کی پیروی کریں گے جن پر ہم نے اپنے باپ دادوں کو پایا ہے۔
یہ ہمارے مسلمانوں میں بھی آج کل کافی تعداد میں ایسے لوگ ہیں جو اپنے آباؤ اجداد کے دین کو لیے ہوئے ہوتے ہیں۔ رسومات اور یہ تمام چیزیں۔ جب ان کو کہتے ہیں... کہتے ہیں نہیں نہیں ہمارے آباؤ اجداد کیا غلط تھے؟ وہ یہی تو کرتے ہیں، ہم تو ان کو یہی کرتے دیکھا ہے۔ اور باقاعدہ اس پر جو ہے۔۔۔
زیارت کاکا صاحب میں کچھ ظاہر ہے چونکہ اتنے بڑے بزرگ کا مزار جب ہوتا ہے تو ان کے ساتھ پھر کچھ لوگ وابستہ کر لیتے ہیں چیزیں۔ تو وابستہ کی ہوئی تھیں چیزیں تو ہمارے چچا مولانا انوار الحق صاحب رحمۃ اللہ علیہ فاضلِ دیوبند تھے، تو جمعہ کے بیان میں انہوں نے خوب اس کا رد کیا۔ تو وہیں دیوبند کے ایک اور مولوی صاحب بیٹھے ہوئے تھے، ان کا نام بھی انوار الحق تھا۔ اور ان کے والد صاحب کھڑے ہو گئے، کہتے ہیں: "کیا ہمارے آباؤ اجداد جو کر رہے تھے غلط کر رہے تھے؟ آپ یہ کہاں سے سیکھے ہوئے ہیں؟" وہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ بوڑھے آدمی تھے۔
تو انوار الحق صابر صاحب جو تھے یہ کھڑے ہو گئے، کہتے ہیں: "بحیثیتِ دیوبند کے فاضل کے میں فتویٰ دیتا ہوں کہ میرے والد صاحب جو کہہ رہے ہیں ٹھیک کہہ رہے ہیں۔" ادھر اس کے استاد بھی موجود تھے، مولانا عبد الحق نافع صاحب رحمۃ اللہ علیہ، جو دونوں کے استاد تھے، دونوں انوار الحق کے استاد تھے دیوبند میں۔ وہ چیخے، کہتے ہیں: "چپ ہو جا انوار الحق! کیا تو نے بکواس بنائی، کہاں سے تم فاضلِ دیوبند بنے ہوئے ہو؟ جو انوار الحق کہتا ہے بالکل ٹھیک کہہ رہا ہے۔" بس وہ چپ ہو گیا۔ اس کے بعد تو اس کی آواز تو نہیں اٹھی۔ اس کی آواز نہیں اٹھی تو خیر بہرحال جب لوگ چلے گئے تو پھر اس کو بلایا، کہتے ہیں: "خبیث یہ تو نے کیا حرکت کی؟ کیوں اس طرح بات کی؟" کہتے ہیں: "بس میں والد کی محبت میں گمراہ ہو گیا۔" یہ بات ہوتی ہے۔ یعنی یہ دیکھو یہ تو ہمارے گاؤں کی بات ہے۔
اس قسم کی چیزیں آج کل بھی ہمارے ہاں بھی ہیں، لوگ اپنے آباؤ اجداد کے دین پر چلتے ہیں۔ حالانکہ بھئی آباؤ اجداد والی بات ٹھیک ہے، اس میں ساری باتیں غلط نہیں ہوتی آباؤ اجداد کی، جو صحیح ہے وہ صحیح ہوتی ہے، اور جو غلط ہوتی ہے وہ غلط ہوتی ہے۔ لیکن اس صحیح اور غلط کا فیصلہ کون کرے گا؟ اس کا فیصلہ نہ آپ کریں گے، نہ آپ کے آباؤ اجداد کریں گے، وہ علماء کریں گے، اور جو علمائے حق ہیں وہ کریں گے۔
اب دیکھو وہیں پر ایک ہی مسجد میں ایک عالم حق تھے اور ایک اس وقت عالم سوء بنے ہوئے تھے، اگرچہ بعد میں ٹھیک ہو گئے لیکن مطلب ہے کہ اس وقت تو اس نے شیطان کے اس پر عمل کر لیا ناں۔ تو اس قسم کے ہوتے ہیں جو متاثرین ہوتے ہیں، کچھ اپنے گھر سے متاثر ہوتے ہیں، کچھ اپنے خاندان سے متاثر ہوتے ہیں، کچھ اپنے دوستوں سے متاثر ہوتے ہیں اور وہ حق کو اور باطل کو آپس میں ملا دیتے ہیں۔
تو یہ بات نہیں، تو یہاں پر فرمایا:
أَوَلَوْ كَانَ آبَاؤُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَّلَا يَهْتَدُونَ۔
ہاں بھلا کیا؟ اس صورت میں بھی ان کو یہی کرنا چاہیے جب ان کے باپ دادے دین کی ذرہ بھی سمجھ نہ رکھتے ہوں اور انہوں نے کوئی آسمانی ہدایت بھی حاصل نہ کی ہو؟
دیکھو یہاں پر دو لفظ ہیں، سبحان اللہ! لَا يَعْقِلُونَ شَيْئًا وَّلَا يَهْتَدُونَ۔
عقل انسان کے اندر اللہ پاک کی پیدا کردہ وجود ہے، وہ خود اس سے سوچ سکتا ہے عقل کے مطابق۔ ہدایت یہ عقل کے مطابق نہیں ہے، یہ اللہ پاک کی طرف سے آتی ہے۔ پیغمبر کو اللہ پاک فرماتے ہیں تُو ہدایت نہیں دیتا، ہدایت میں دیتا ہوں۔ تو باقی اور کیا کون کہہ سکتا ہے۔ تو ہدایت اللہ کی طرف سے آتا ہے۔ تو جن کے پاس نہ اللہ کی طرف سے ہدایت ہو نہ ان کی عقل کام کر رہا ہو تو پھر ان کے بارے میں آپ کیا ان کی بات مانیں گے؟ ظاہر ہے اس وقت تو آپ ان کی بات نہیں مانیں گے۔
اللهُ أَكْبَرُ، اللهُ أَكْبَرُ۔
اور جن لوگوں نے کفر کو اپنا لیا ہے ان (کو حق کی دعوت دینے) کی مثال کچھ ایسی ہے جیسے کوئی شخص ان (جانوروں) کو زور زور سے بلائے جو ہانک پکار کے سوا کچھ نہیں سنتے۔ یہ بہرے، گونگے، اندھے ہیں، لہذا کچھ نہیں سمجھتے ﴿171﴾
یعنی جو کفر پر جمے ہوئے ہیں At any cost and any condition، ان کو آپ ہدایت نہیں دے سکتے، وہ ان کی مثال تو گونگے بہرے اندھوں کی ہے، ہاں وہ تو کچھ نہیں کہہ سکتے۔
يَآأَ يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِن طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلّٰهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ ﴿172﴾
اے ایمان والو! جو پاکیزہ چیزیں ہم نے تمہیں رزق کے طور پر عطا کی ہیں، ان میں سے (جو چاہو) کھاؤ، اور اللہ کا شکر ادا کرو، اگر واقعی تم صرف اُسی کی بندگی کرتے ہو﴿172﴾
یعنی اگر تم اللہ کی بندگی کرنا چاہتے ہو تو تمہیں وہی کھانا چاہیے جو اللہ تمہیں کھانے کی اجازت دے رہا ہے، اور وہ نہیں کھانا چاہیے جو تمہیں اللہ پاک کھانے کی اجازت نہیں دے رہا۔ نفس کا فیصلہ نہ مانو۔ نفس کا فیصلہ نہ مانو، اس میں اللہ پاک کی بات مانو۔
اُس نے تو تمہارے لئے بس مردار جانور، خون، اور سور کا گوشت حرام کیا ہے، نیز وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا گیا ہو
اس آیت میں تمام حرام چیزوں کا احاطہ کرنا مقصود نہیں بلکہ مقصد یہ جتلانا ہے کہ جن جانوروں کو تم حرام سمجھ رہے ہو وہ تو اللہ نے حرام نہیں کیے، تم خواہ مخواہ ان کی حرمت اللہ کے ذمے لگا رہے ہو۔ سو البتہ کئی چیزیں ایسی ہیں جن کو تم حرام نہیں سمجھتے مگر اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے۔ حرام چیزیں وہ نہیں جو تم سمجھ رہے ہو، حرام تو وہ ہے جنہیں تم نے حلال سمجھا ہوا ہے۔
مطلب یہ ہے کہ بس اس میں صرف یہ مقصود ہے کہ انسان اپنے فیصلے پہ خود عمل نہ کرے بلکہ اللہ پاک سے فیصلہ چاہے۔ اللہ نے جس چیز کو حلال کیا ہے وہ حلال ہے، جو حرام کیا ہے وہ حرام ہے۔ اس کے لیے جو وسائل ہیں، ذرائع ہیں، ان ذرائع کو استعمال کرنا پڑے گا۔ چاہے وہ کتابیں ہیں، چاہے علماء ہیں، جو بھی ہیں، اس کے ذریعے سے ہمیں معلوم کر کے اس پر عمل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عمل کرنے کی دے۔
و آخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین۔